تیمم کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 3 · 102 hadiths · Page 2 of 6

585Sunan Ibne-Majah

اس بیان میں کہ جنبی نماز کی طرح وضو کئے بغیر نہ سوئے۔

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَر، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيَرْقُدُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ: نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کیا کوئی شخص حالت جنابت میں سو سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، جب وضو کرلے ۔

It was narrated from Ibn Omar that Umar bin Khattab said to the Messenger of Allah: "Can anyone of us sleep if he is sexually impure?" He said: "Yes, if he performs ablution."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٠١٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل ٢٧ (٢٨٨)، صحیح مسلم/الحیض ٦ (٣٠٦)، سنن ابی داود/الطہارة ٨٨ (٢٢٢)، سنن الترمذی/الطہارة ٨٨ (١٢٠)، سنن النسائی/الطہارة ١٦٦ (٢٦٠)، موطا امام مالک/الطہارة ١٩ (٧٦)، مسند احمد (٢/١٧)، سنن الدارمی/الطہارة ٧٣ (٧٨٣) (صحیح )
586Sunan Ibne-Majah

اس بیان میں کہ جنبی نماز کی طرح وضو کئے بغیر نہ سوئے۔

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ كَانَ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ بِاللَّيْلِ فَيُرِيدُ أَنْ يَنَامَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ يَنَامَ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ انہیں رات میں جنابت لاحق ہوتی اور سونا چاہتے تو رسول اللہ ﷺ انہیں حکم دیتے کہ وہ وضو کر کے سوئیں۔

It was narrated from Abu Saeed Khudri that he used to become sexually impure at night, then he would want to sleep. The Messenger of Allah ﷺ told him to perform ablution and then go to sleep.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤١٠١، ومصباح الزجاجة: ٢٣٢)، مسند احمد (٢/٧٥، ٣/٥٥) (صحیح )
587Sunan Ibne-Majah

جنبی دوبارہ جماع کرنا چاہے تو وضو کر لے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی بیوی سے جماع کرے پھر دوبارہ ہمبستری کرنا چاہے، تو وضو کرلے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Saeed said: "The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone of you has intercourse with his wife, then he wants to do it again, let him perform ablution.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں نفاست، نظافت، صفائی اور لذت سب کچھ ہے، علماء نے کہا ہے کہ جنبی جب کھانے یا پینے یا جماع یا سونے کا ارادہ کرے، تو اپنا عضو تناسل دھو ڈالے، اور نماز کا سا وضو کرلے، اور بعضوں نے کہا کہ جنبی جب کھانے یا پینے کا ارادہ کرے تو صرف ہاتھ دھو لینا کافی ہے، اور وضو سے یہی مراد ہے، اور جمہور کا یہی قول ہے واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٦ (٣٠٨)، سنن ابی داود/الطہارة ٨٦ (٢٢٠)، سنن الترمذی/الطہارة ١٠٧ (١٤١)، سنن النسائی/الطہارة ١٦٩ (٢٦٣)، (تحفة الأشراف: ٤٢٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٧، ٢١، ٢٨) (صحیح )
588Sunan Ibne-Majah

سب بیویوں سے صحبت کر کے ایک ہی غسل کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَأَبُو أَحْمَدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْأَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنی ساری بیویوں کے پاس ہو آنے کے بعد آخر میں ایک غسل کرلیتے تھے۔

It was narrated from Anas that Prophet ﷺ used to go round to all his wives with one bath.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ١٠٦ (١٤٠)، سنن النسائی/الطہارة ١٧٠ (٢٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل ١٢ (٢٦٨)، ١٧ (٢٧٥)، النکاح ٤ (٥٠٦٨)، ١٠٢ (٥٢١٥)، صحیح مسلم/الحیض ٦ (٣٠٩)، سنن ابی داود/الطہارة ٨٥ (٢١٨)، مسند احمد (٣/ ١٦١، ١٨٥، ٢٢٥)، سنن الدارمی/الطہارة ٧١ (٧٨٠) (صحیح )
589Sunan Ibne-Majah

سب بیویوں سے صحبت کر کے ایک ہی غسل کرنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: وَضَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا، فَاغْتَسَلَ مِنْ جَمِيعِ نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے غسل کا پانی رکھا تو آپ نے رات میں اپنی ساری بیویوں سے صحبت کے بعد (ایک ہی) غسل کیا ١ ؎۔

It was narrated that Anas said: "I put out water for the Messenger of Allah ﷺ for a bath, and he hade a bath after going to all of his wives in one night."

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ باری کے خلاف نہیں ہے کیونکہ باری میں ایک عورت کے پاس رات کو صرف رہنا کافی ہے صحبت کرنا ضروری نہیں، دوسرے یہ کہ جب عورتوں سے صحبت کی تو یہ بھی باری کی طرح ہوگیا، اور بعضوں نے کہا کہ آپ ﷺ پر باری واجب نہ تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٤) (صحیح) (اگلی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں صالح بن أبی الأخضر ضعیف ہیں )
590Sunan Ibne-Majah

جو ہر بیوی کے پاس الگ غسل کرے

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَمَّتِهِ سَلْمَى، عَنْ أَبِي رَافِعٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَطَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ، وَكَانَ يَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَجْعَلُهُ غُسْلًا وَاحِدًا؟ فَقَالَ: هُوَ أَزْكَى وَأَطْيَبُ وَأَطْهَرُ.

ابورافع ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس ہو آئے ١ ؎، اور ہر ایک کے پاس غسل کرتے رہے، آپ سے پوچھا گیا: اللہ کے رسول! آپ آخر میں ایک ہی غسل کیوں نہیں کرلیتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: یہ طریقہ زیادہ پاکیزہ، عمدہ اور بہترین ہے ٢ ؎۔

It was narrated from Abu Rafi that the Prophet ﷺ went around to all of his wives in one night, and he had a bath after each one of them. It was said to him: "O Messenger of Allah, why not make it one bath?" He said: "This is purer, better and cleaner."

Notes · وضاحت
١ ؎: سبحان اللہ ہمارے نبی ﷺ نہایت نفیس مزاج اور صفائی پسند تھے، اور اسی وجہ سے آپ کو خوشبو بہت پسند تھی، اور بدبو سے بڑی نفرت تھی، آپ کو اپنے لباس، گھر، بدن اور ہر چیز کی طہارت اور پاکیزگی کا بڑا خیال رہتا تھا جیسے دوسری حدیثوں سے ثابت ہے، یہاں تک کہ آپ ﷺ ان چیزوں کے کھانے سے بھی پرہیز کرتے تھے جن کی بو ناگوار ہوتی، جیسے: کچے پیاز یا لہسن وغیرہ۔ ٢ ؎: ممکن ہے ایسا نبی اکرم ﷺ نے سفر سے آنے پر یا ایک باری پوری ہوجانے، اور دوسری باری کے شروع کرنے سے پہلے کیا ہو، یا تمام بیویوں کی رضا مندی سے ایسا کیا ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٨٦ (٢١٩)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٨، ١٠، ٣٩١) (حسن) (سند میں سلمی غیر معروف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے)۔
591Sunan Ibne-Majah

جنبی کھاپی سکتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، وَغُنْدَرٌ، وَوَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِالْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کھانے کا ارادہ کرتے اور جنبی ہوتے، تو وضو کرلیتے۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "If the Messenger of Allah ﷺ wanted to eat when he was sexually impure, he would perform ablution."

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٦ (٣٠٥)، سنن ابی داود/الطہارة ٨٩ (٢٢٤)، سنن النسائی/الطہارة ١٦٣ (٢٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٢٦، ١٣٤، ١٩١، ١٩٢، ٢٣٥، ٢٦٠، ٢٧٣)، سنن الدارمی/الطہارة ٧٣ (٧٨٤) (صحیح )
592Sunan Ibne-Majah

جنبی کھاپی سکتا ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ صُبَيْحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجُنُبِ هَلْ يَنَامُ، أَوْ يَأْكُلُ، أَوْ يَشْرَبُ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِذَا تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے جنبی کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ (بحالت جنابت) سو سکتا ہے، یا کھا پی سکتا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، جب وہ نماز جیسا وضو کرلے ۔

It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The Prophet ﷺ was asked about whether a person who is sexually impure can sleep, or eat, or drink. He said: Yes, if he does ablution as for the prayer.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٢٨٠) (صحیح) (سند میں شرحبیل ہیں، جن کو آخری عمر میں اختلاط ہوگیا تھا، لیکن سابقہ حدیث ام المومنین عائشہ ؓ سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
593Sunan Ibne-Majah

جنبی کے لئے ہاتھ دھو نا کافی ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْعَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ وَهُوَ جُنُبٌ غَسَلَ يَدَيْهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب کھانے کا ارادہ کرتے اور آپ جنبی ہوتے، تو اپنے ہاتھ دھو لیتے ١ ؎۔

It was narrated from Aisha (RA) that if the Prophet ﷺ wanted to eat when he was sexually impure, he would wash his hands.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس سے پہلے والے باب کی حدیث سے بظاہر متعارض ہے، مگر تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ کبھی بیان جواز کے لئے صرف دونوں ہاتھ دھونے پر اکتفا کرتے، اور کبھی مکمل وضو کرتے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٥٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٦٩) (صحیح )
594Sunan Ibne-Majah

ناپا کی کی حالت میں قرآن پڑھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَأْتِي الْخَلَاءَ فَيَقْضِي الْحَاجَةَ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَأْكُلُ مَعَنَا الْخُبْزَ، وَاللَّحْمَ، وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ، وَلَا يَحْجُبُهُ، وَرُبَّمَا قَالَ: لَا يَحْجُزُهُ عَنِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ إِلَّا الْجَنَابَةُ.

عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں علی بن ابی طالب ؓ کے پاس گیا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم ﷺ بیت الخلاء جاتے اور اپنی حاجت پوری فرماتے، پھر واپس آ کر ہمارے ساتھ روٹی اور گوشت کھاتے، قرآن پڑھتے، آپ کو قرآن پڑھنے سے جنابت کے سوا کوئی چیز نہ روکتی تھی ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Salamah said: "I entered upon Ali bin Abu Talib and he said: The Messenger of Allah ﷺ used to go to the lavatory and relieve himself, then come out, and he would eat bread and meat with us and recite Quran, nothing stopped him or perhaps he said: prevented him from doing so except sexual impurity.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ صرف جنابت کی حالت میں قرآن نہیں پڑھتے تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٩١ (٢٢٩)، سنن الترمذی/الطہارة ١١١ (١٤٦)، سنن النسائی/الطہارة ١٧١ (٢٦٦)، (تحفة الأشراف: ١٠١٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٤، ١٢٤) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن سلمہ ضعیف ہیں، امام بخاری نے ان کے بارے میں کہا: لا يتابع على حديثه ان حدیث کی متابعت نہیں ہوگی )
595Sunan Ibne-Majah

ناپا کی کی حالت میں قرآن پڑھنا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ الْجُنُبُ، وَلَا الْحَائِضُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنبی اور حائضہ قرآن نہ پڑھیں ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: No one who is sexually impure and no woman who is menstruating should recite Quran."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نہ کم نہ زیادہ، امام شافعی کا یہی قول ہے، لیکن ذکر و دعا کے مقصد سے بسم اللہ یا الحمد للہ کہنا درست اور جائز ہے، تلاوت کے مقصد سے نہیں اور امام مالک نے حائضہ عورت کے لئے قرآن کی تلاوت کو جائز کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ٩٨ (١٣١)، (تحفة الأشراف: ٨٤٧٤) (منکر) (سند میں اسماعیل بن عیاش کی روایت اہل حجاز سے ضعیف ہے، اور موسیٰ بن عقبہ حجازی ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٩٢ )
596Sunan Ibne-Majah(595)

ناپا کی کی حالت میں قرآن پڑھنا

قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَقْرَأُ الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنبی اور حائضہ کچھ بھی قرآن نہ پڑھیں ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: No one who is sexually impure and no woman who is menstruating should recite anything of the Quran."

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (منکر) (سابقہ حدیث ملاحظہ ہو )
597Sunan Ibne-Majah

ہر بال کے نیچے جنابت ہے

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ تَحْتَ كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةً، فَاغْسِلُوا الشَّعَرَ، وَأَنْقُوا الْبَشَرَةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر بال کے نیچے جنابت ہے، لہٰذا تم بالوں کو دھویا کرو، اور بدن کی جلد کو صاف کیا کرو ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Under every hair there is the state of sexual impurity, so wash the hair and cleanse the skin."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٩٨ (٢٤٨)، سنن الترمذی/الطہا رة ٧٨ (١٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٥٠٢) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں حارث بن وجیہ ضعیف ہیں )
598Sunan Ibne-Majah

ہر بال کے نیچے جنابت ہے

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَأَدَاءُ الْأَمَانَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهَا، قُلْتُ: وَمَا أَدَاءُ الْأَمَانَةِ؟ قَالَ: غُسْلُ الْجَنَابَةِ فَإِنَّ تَحْتَ كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةً.

ابوایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: روزانہ پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک، اور امانت کی ادائیگی ان کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہیں ، میں نے پوچھا: امانت کی ادائیگی سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: غسل جنابت، کیونکہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے ۔

Abu Ayyub Al-Anari narrated that the Prophet ﷺ said: "The five daily prayers, from one Friday to the next, and fulfilling the trust are all expiation for whatever (sins) come between them." I said: "What is fulfilling the trust?" He said: Having a bath to cleanse oneself from sexual impurity, for under every hair there is the state of sexual impurity."

Notes · وضاحت
١ ؎: (فواد عبدالباقی کے نسخہ میں بينها ہے )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٤٦١، ومصباح الزجاجة: ٢٣٣) (ضعیف) (طلحہ بن نافع کا سماع ابو ایوب ؓ سے ثابت نہیں ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٣٨٠١ ، و ضعیف ابی داود: ٣٧ )
599Sunan Ibne-Majah

ہر بال کے نیچے جنابت ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْزَاذَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعَرَةٍ مِنْ جَسَدِهِ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يَغْسِلْهَا فُعِلَ بِهِ كَذَا وَكَذَا مِنَ النَّارِ، قَالَ عَلِيٌّ: فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ شَعَرِي وَكَانَ يَجُزُّهُ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے غسل جنابت کے وقت اپنے جسم سے ایک بال کی مقدار بھی چھوڑ دیا اور اسے نہ دھویا، تو اس کے ساتھ آگ سے ایسا اور ایسا کیا جائے گا ۔ علی ؓ کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے میں نے اپنے بالوں سے دشمنی کرلی، وہ اپنے بال خوب کاٹ ڈالتے تھے ١ ؎۔

It was narrated from Ali bin Abu Talib that the Prophet ﷺ said: "Whoever leaves an area the size of a hair on his body and does not cleanse it from sexual impurity, such and such will be done to him in the Fire." Ali said: Because of that I am hostile toards my hair," and he used to shave his head.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ جب بال بڑے ہوں تو اکثر احتمال رہ جاتا ہے کہ شاید سارا سر نہ بھیگا ہو، کوئی مقام سوکھا رہ گیا ہو، علی ؓ بالوں کو کترتے تھے، بال کاٹنا سارے سر کے منڈانے سے افضل ہے، مگر حج میں پورے بال منڈانا افضل ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٩٨ (٢٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٩٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٤، ١٠١، ١٣٣)، سنن الدارمی/الطہارة ٦٩ (٧٧٨) (ضعیف) (سند میں عطاء بن سائب ضعیف ہیں )
600Sunan Ibne-Majah

عورت خواب میں وہ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا أَمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَسَأَلَتْهُ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ قَالَ: نَعَمْ إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ، فَقُلْتُ: فَضَحْتِ النِّسَاءَ، وَهَلْ تَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَرِبَتْ يَمِينُكِ، فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا إِذًا.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ ام سلیم ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں، اور آپ سے پوچھا کہ اگر عورت خواب میں ویسا ہی دیکھے جیسا مرد دیکھتا ہے تو کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، جب پانی (منی) دیکھے تو غسل کرے ، میں نے ام سلیم ؓ سے کہا: تم نے تو عورتوں کو رسوا کیا یعنی ان کی جگ ہ نسائی کا سامان مہیا کرا دیا، کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارا بھلا ہو، اگر ایسا نہیں ہوتا تو کس وجہ سے بچہ اس کے مشابہ ہوتا ہے؟ ١ ؎۔

It was narrated from Zainab, the daughter of Umm Salamah, that her mother Umm Salamah said: "Umm Sulaim came to the Prophet ﷺ and asked him about a woman who sees in her dream something like a man sees. He said: Yes, if she sees water (discharge), let her take a bath. I said: You have embarrassed the women. Do women experience wet dreams? The Prophet ﷺ said: May your hands be rubbed with dust, how else does her child resemble her?"

Notes · وضاحت
١ ؎: تو معلوم ہوا کہ بچہ کی پیدائش میں مرد اور عورت دونوں کا نطفہ شریک ہوتا ہے، اور جب عورت کی منی بھی ثابت ہوئی تو خواب میں اس کی منی کا نکلنا کیا بعید ہے، جیسے مرد کی منی نکلتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٥٠ (١٣٠)، الغسل ٢٢ (٢٨٢)، الأنبیاء ١ (٣٣٢٨)، الأدب ٦٨ (٦٠٩١)، ٧٩ (٦١٢١)، صحیح مسلم/الحیض ٧ (٣١٣)، سنن الترمذی/الطہارة ٩٠ (١٢٢)، سنن النسائی/الطہارة ١٣١ (١٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٦٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ٢١ (٨٥)، مسند احمد (٦/ ٢٩٢، ٣٠٢، ٣٠٦) (صحیح )
601Sunan Ibne-Majah

عورت خواب میں وہ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى، عَنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَأَتْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَتْ فَعَلَيْهَا الْغُسْلُ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَكُونُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ، فَأَيُّهُمَا سَبَقَ أَوْ عَلَا أَشْبَهَهُ الْوَلَدُ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ ام سلیم ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا کہ عورت اپنے خواب میں وہی چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب وہ ایسا دیکھے اور اسے انزال ہو، تو اس پر غسل ہے ، ام سلمہ ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ایسا بھی ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، مرد کا پانی سفید اور گاڑھا ہوتا ہے، اور عورت کا پانی زرد اور پتلا ہوتا ہے، ان دونوں میں سے جس کا پانی پہلے ماں کے رحم (بچہ دانی) میں پہنچ جائے یا غالب رہے، بچہ اسی کے ہم شکل ہوتا ہے ۔

It was narrated from Anas that Umm Sulaim asked the Messenger of Allah ﷺ about a woman who sees in her dream something like that which a man sees. The Messenger of Allah ﷺ said: "If she sees that and has a discharge then let her perform a bath.” Umm Salamah said: “O Messenger of Allah, does that really happen?" He said: "Yes, the water of a man is thick and white and the water of a woman is thin and yellow. Whichever of them comes first or predominates, the child will resemble (that parent)."

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٧ (٣١١)، سنن النسائی/الطہارة ١٣١ (١٩٥)، (تحفة الأشراف: ١١٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٢١، ١٩٩، ٢٨٢)، سنن الدارمی/الطہارة ٧٦ (٧٩١) (صحیح )
602Sunan Ibne-Majah

عورت خواب میں وہ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ، أَنَّهَاسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ فَقَالَ: لَيْسَ عَلَيْهَا غُسْلٌ حَتَّى تُنْزِلَ، كَمَا أَنَّهُ لَيْسَ عَلَى الرَّجُلِ غُسْلٌ حَتَّى يُنْزِلَ.

خولہ بنت حکیم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عورت کے اپنے خواب میں اس چیز کے دیکھنے سے متعلق سوال کیا جو مرد دیکھتا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تک انزال نہ ہو اس پر غسل نہیں، جیسے مرد پر بغیر انزال کے غسل نہیں ١ ؎۔

It was narrated from Khawlah bin Hakim that she asked the Messenger of Allah ﷺ about a woman that sees in her dream that which a man sees. He said: “She does not have to take a bath unless she has an orgasm, just as man does not have to take a bath unless he has an orgasm.”

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مرد کو اگر صرف خواب دکھائی دے لیکن منی نہ نکلے تو غسل لازم نہیں ہے، اسی طرح عورت اگر خواب دیکھے اور منی نہ نکلے تو غسل لازم نہیں، اور تری یا پانی سے دوسری حدیث میں منی ہی مراد ہے، اگر منی کے سوا کسی اور چیز کی تری ہے تب غسل لازم نہ ہوگا، اکثر علماء کا یہی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٨٢٧، ومصباح الزجاجة: ٢٣٤)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الطہارة ١٣١ (١٩٨)، مسند احمد (٦/٤٠٩)، سنن الدارمی/الطہارة ٧٦ (٧٨٩) (حسن) (سند میں علی بن زید ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢١٨٧ )
603Sunan Ibne-Majah

عورتوں کا غسل جنابت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي أَفَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَيْهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ تُفِيضِي عَلَيْكِ مِنَ الْمَاءِ فَتَطْهُرِينَأَوْ قَالَ: فَإِذَا أَنْتِ قَدْ طَهُرْتِ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں چوٹی کو مضبوطی سے باندھنے والی عورت ہوں، کیا اسے غسل جنابت کے لیے کھولوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں یہی کافی ہے کہ تین چلو پانی لے کر اپنے سر پر بہا لو پھر پورے بدن پر پانی ڈالو، پاک ہوجاؤ گی ، یا آپ ﷺ نے فرمایا کہ: اس وقت تم پاک ہوگئیں ١ ؎۔

It was narrated that Umm Salamah said: "I said, O Messenger of Allah! ﷺ I am a woman with tight braids. Should Iundo them when I take a bath to cleanse myself from the state of sexual impurity?" He said: "Rather it is sufficient for you to pour three handfuls of water over them, then pour water over yourself, and you will be purified," or he said: "In that case you would have become purified."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب ایسا کیا تو پاک ہوگئی کیونکہ مقصود سارے سر کا بھیگ جانا ہے، اور تین لپوں میں یہ سارا کام پورا ہوجاتا ہے، اگر پورا نہ ہو تو اس سے زیادہ بھی ڈال سکتی ہے، مگر بندھی ہوئی چوٹی کا کھولنا ضروری نہیں، اکثر علماء کے نزدیک رفع تکلیف کا یہ حکم عورتوں کے لئے خاص ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ١٢ (٣٣٠)، سنن ابی داود/الطہارة ٩٩ (٢٥١)، سنن الترمذی/الطہارة ٧٧ (١٠٥)، سنن النسائی/الطہارة ١٥٠ (٢٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٨١٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ٢٨٩، ٣١٥)، سنن الدارمی/الطہارة ١١٥ (١١٩٦) (صحیح )
604Sunan Ibne-Majah

عورتوں کا غسل جنابت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: بَلَغَ عَائِشَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَأْمُرُ نِسَاءَهُ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ، فَقَالَتْ: يَا عَجَبًا لِابْنِ عَمْرٍو هَذَا، أَفَلَا يَأْمُرُهُنَّ أَنْ يَحْلِقْنَ رُءُوسَهُنَّ، لَقَدْكُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، فَلَا أَزِيدُ عَلَى أَنْ أُفْرِغَ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ إِفْرَاغَاتٍ.

عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کو یہ خبر پہنچی کہ عبداللہ بن عمرو ؓ اپنی بیویوں کو غسل کے وقت چوٹی کھولنے کا حکم دیتے ہیں، تو فرمایا: عبداللہ بن عمرو پر تعجب ہے، وہ عورتوں کو سر منڈانے کا حکم کیوں نہیں دے دیتے، بیشک میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے، میں اپنے سر پر تین چلو سے زیادہ پانی نہیں ڈالتی تھی۔

It was narrated that Ubaid bin Umair said: " Aisha (RA) heard that Abdullah bin Amr was telling his wives to undo their braids (when they bathed). She said: How odd that Ibn Amr would do that! Why does he not tell them to shave their heads? The Messenger of Allah ﷺ and I used to bathe from a single vessel, and I never did more than pour three handfuls of water over my head."

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ١٢ (٣٣١)، سنن النسائی/الغسل ١٢ (٤١٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤)، سنن الدارمی/الطہارة ٦٨ (٧٧٦) (صحیح )