Sunan Ibne-Majah 599

تیمم کا بیان

599Sunan Ibne-Majah

ہر بال کے نیچے جنابت ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْزَاذَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعَرَةٍ مِنْ جَسَدِهِ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يَغْسِلْهَا فُعِلَ بِهِ كَذَا وَكَذَا مِنَ النَّارِ، قَالَ عَلِيٌّ: فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ شَعَرِي وَكَانَ يَجُزُّهُ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے غسل جنابت کے وقت اپنے جسم سے ایک بال کی مقدار بھی چھوڑ دیا اور اسے نہ دھویا، تو اس کے ساتھ آگ سے ایسا اور ایسا کیا جائے گا ۔ علی ؓ کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے میں نے اپنے بالوں سے دشمنی کرلی، وہ اپنے بال خوب کاٹ ڈالتے تھے ١ ؎۔

It was narrated from Ali bin Abu Talib that the Prophet ﷺ said: "Whoever leaves an area the size of a hair on his body and does not cleanse it from sexual impurity, such and such will be done to him in the Fire." Ali said: Because of that I am hostile toards my hair," and he used to shave his head.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ جب بال بڑے ہوں تو اکثر احتمال رہ جاتا ہے کہ شاید سارا سر نہ بھیگا ہو، کوئی مقام سوکھا رہ گیا ہو، علی ؓ بالوں کو کترتے تھے، بال کاٹنا سارے سر کے منڈانے سے افضل ہے، مگر حج میں پورے بال منڈانا افضل ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٩٨ (٢٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٩٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٤، ١٠١، ١٣٣)، سنن الدارمی/الطہارة ٦٩ (٧٧٨) (ضعیف) (سند میں عطاء بن سائب ضعیف ہیں )