ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل جنابت نہ کرے ، پھر کسی نے کہا: ابوہریرہ! تب وہ کیا کرے؟ کہا: اس میں سے پانی لے لے کر غسل کرے ١ ؎۔
It was narrated from Bukair bin Abdullah bin Ashajj that Abu Saib, the freed slave of Hisham bin Zuhrah told him that he heard Abu Hurairah (RA) say: "The Messenger of Allah ﷺ said: No one of you should bathe in standing water when he is sexually impure." He (Abu Saib) said: "What should he do, O Abu Hurairahh?" He said: "Let him take some out (and pour it over himself)."
Notes · وضاحت
١ ؎: ٹھہرے ہوئے پانی میں غوطہ لگانا منع ہے کیونکہ اس سے دوسرے لوگوں کو کراہت ہوگی، اس کا یہ مطلب نہیں کہ پانی ناپاک ہوجائے گا، اس لئے منع ہے کیونکہ پانی اگر دو قلہ سے زیادہ ہو تو وہ اس طرح کی نجاست سے ناپاک نہیں ہوتا۔
ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر قبیلہ انصار کے ایک شخص کے پاس ہوا، آپ نے اسے بلوایا، وہ آیا تو اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: شاید ہم نے تم کو جلد بازی میں ڈال دیا ، اس نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم جلد بازی میں ڈال دئیے جاؤ، یا جماع انزال ہونے سے قبل موقوف کرنا پڑے تو تم پر غسل واجب نہیں بلکہ وضو کافی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Messenger of Allah ﷺ passed by (the house of) one of the Ansar and sent word for him to come out. He came out with his head dripping and (the Prophet) said: "Perhaps we made you hurry?" He said: "Yes, O Messenger of Allah." He said, "If you are hurried (by someone) or obstructed (from orgasm) and do not ejaculate, then you do not have to take a bath, but you "should perform ablution."
Notes · وضاحت
١ ؎: آگے آنے والی احادیث سے یہ حدیث منسوخ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣٤ (١٨٠)، صحیح مسلم/الحیض ٢١ (٣٤٥)، (تحفة الأشراف: ٣٩٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢١، ٢٦، ٩٤) (صحیح )
ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانی (غسل) پانی (منی نکلنے) سے ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Ayyub said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Water (of bath) is for water (of seminal discharge)."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کے دو معنی بیان کئے گئے ہیں: ایک یہ کہ انزال کے بغیر غسل واجب نہیں اس صورت میں إذا التقى الختانان والی روایت سے یہ روایت منسوخ ہوگی، دوسرے یہ کہ حدیث خواب کے متعلق ہے، بیدار ہونے کے بعد جب تک تری نہ دیکھے تو صرف خواب میں کچھ دیکھنے سے غسل واجب نہیں ہوتا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطہارة ١٣٢ (١٩٩)، (تحفة الأشراف: ٣٤٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤١٦، ٤٢١)، سنن الدارمی/الطہارة ٧٤ (٧٨٥) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہے، ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے اور رسول اللہ ﷺ نے ایسا کیا، تو ہم نے غسل کیا۔
It was narrated that Aisha (RA) the wife of the Prophet ﷺ said: "When the two circumcised parts meet, then bath is obligatory. The Messenger of Allah ﷺ and I did that, and we bathed."
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ٨٠ (١٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٩٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ١٨ (٧٢)، مسند احمد (٦/ ١٦١، ١٦١، ٢٣٩) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: جب مرد عورت کے چار زانوؤں کے درمیان بیٹھے، پھر مجامعت کرے، تو غسل واجب ہوگیا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When a man sits between the four parts (arms and legs of his wife) and has intercourse with her, then bath is obligatory."
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جائیں اور حشفہ (سپاری) چھپ جائے، تو غسل واجب ہوگیا ١ ؎۔
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When the two circumcised parts meet, and (the tip of the penis) disappears, then bath is obligatory."
Notes · وضاحت
١ ؎: ابتداء اسلام میں انزال کے بغیر غسل واجب نہ تھا، اس کے بعد محض التقى الختانان یعنی شرمگاہوں کے ملنے سے غسل واجب کردیا گیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٦٧٦، ومصباح الزجاجة: 235)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٨) (صحیح) (سند میں حجاج بن أرطاة ضعیف ہیں، لیکن حدیث صحیح مسلم وغیرہ میں متعدد طرق سے وارد ہے، اس لئے یہ حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی ٣ /٢٦٠ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو، اور تری دیکھے، لیکن احتلام یاد نہ ہو تو غسل کرلے، اور اگر احتلام یاد ہو لیکن تری نہ دیکھے تو اس پر غسل نہیں ١ ؎۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet ﷺ said: "If anyone of you wakes up and sees some wetness, but he does not think that he had an erotic dream, let him have a bath. But if he thinks that he had an erotic dream but he does not see any wetness, then he does not have to take a bath."
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن تری سے مراد منی ہے، اگر تری محسوس نہ ہو تو اکثر اہل علم کے نزدیک غسل واجب نہ ہوگا، اگر گرمی یا دیری کے سبب منی خشک ہوجائے، تو غسل ضروری ہوگا۔
ابوالسمح ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا، جب آپ غسل کا ارادہ کرتے تو فرماتے: میری طرف پیٹھ کرلو تو میں پیٹھ آپ کی طرف کرلیتا، اور کپڑا پھیلا کر پردہ کردیتا۔
Abu Samh said: "I used to serve the Prophet, and when he wanted to take a bath he would say: Turn your back to me. So I would turn my back and hung up a cloth, and concealed him with it."
عبداللہ بن عبداللہ بن نوفل کہتے ہیں: میں نے پوچھا رسول اللہ ﷺ نے سفر میں نفل نماز پڑھی ہے؟ تو مجھے کوئی بتانے والا نہیں ملا، یہاں تک کہ مجھے ام ہانی بنت ابی طالب ؓ نے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ فتح مکہ کے سال آئے، پھر آپ نے ایک پردہ لگانے کا حکم دیا، پردہ کردیا گیا، تو آپ نے غسل کیا، پھر نفل کی آٹھ رکعتیں پڑھیں ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah bin Harith bin Nawfal said: “I asked whether the Messenger of Allah ﷺ prayed voluntary prayer when travelling, but I could not find anyone to tell me until Umm Hani’ bint Abu Talib told me that he had come in the year of the conquest (of Makkah). He ordered that a screen be held up, and that was done, and he took a bath; then he prayed eight Rak’ah (units) of voluntary prayer.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب کی احادیث سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ غسل کرتے وقت پردہ کرلینا چاہیے، لیکن اگر کوئی کپڑے پہنے ہوئے ہے، تو بلا پردہ غسل کرنے کی اجازت ہے، نیز اس حدیث سے تو سفر میں نفل پڑھنا ثابت ہوا بعضوں نے کہا یہ نماز الضحیٰ نہیں تھی بلکہ یہ مکہ فتح ہونے پر نماز شکر تھی، اور سعید بن ابی وقاص نے جب کسریٰ کا خزانہ فتح کیا تو ایسا ہی کیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ١٦ (٣٣٦)، المسافرین ١٣ (٣٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٠٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل ٢١ (٢٨٠)، الصلاة ٤ (٣٥٧)، الأدب ٩٤ (٦١٥٨)، سنن الترمذی/الاستئذان ٣٤ (٢٧٣٤)، سنن النسائی/الطہارة ١٤٣ (٢٢٥)، موطا امام مالک/قصر الصلاة ٨ (٢٨)، مسند احمد (٦/٣٤٢، ٤٢٥) سنن الدارمی/الصلاة ١٥١ (١٤٩٤) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ١٣٧٩) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کھلے میدان میں یا چھت پر بغیر پردہ کے کوئی شخص ہرگز غسل نہ کرے، اگر وہ کسی کو نہ دیکھتا ہو تو اسے تو کوئی دیکھ سکتا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah bin Masud said: "The Messenger of Allah ﷺ said: No one of you should bathe in open land or on a roof where he is not concealed; even if he does not see anyone, he can still be seen."
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر ایسے مقام میں غسل کی ضرورت پڑے تو کسی چیز کی آڑ کرلے تاکہ ستر پر لوگوں کی نگاہیں نہ پڑیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٦٣٢، ومصباح الزجاجة: ٢٣٦) (ضعیف جدًا) (حسن بن عمارة متروک الحدیث ہے، بلکہ حدیث گھڑا کرتا تھا، اور عبد الحمید ضعیف الحدیث ہیں، نیز أبو عبیدہ کا سماع ابن مسعود سے ؓ سے نہیں ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٨١٨ )
عبداللہ بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص قضائے حاجت کا ارادہ کرے، اور نماز کے لیے اقامت کہی جائے، تو پہلے قضائے حاجت سے فارغ ہو لے ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Arqam said: "The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone of you needs to defecate and the immediate call to prayer (Iqamah) is given, let him start with it (relieving himself)."
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ آدمی نماز پڑھے اور وہ پیشاب یا پاخانہ روکے ہوئے ہو۔
It was narrated from Abu Umamah that the Messenger of Allah ﷺ forbade a man to perform prayer when he was suppressing (the urge to urinate or defecate).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٣٢، ومصباح الزجاجة: ٢٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٥٠، ٢٦٠، ٢٦١) (صحیح) (سند میں بشر بن آدم، سفر بن نسیر ضعیف ہیں، لیکن حدیث دوسرے طرق سے صحیح ہے، دیکھئے اوپر کی حدیث ( ٦١٦ ) نیز ملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: ١١ ، ١٢ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی پیشاب یا پاخانہ کی اذیت و تکلیف کی حالت میں نماز کے لیے نہ کھڑا ہو ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said, No one of you should stand to pray when he feels some discomfort (because of needing to urinate or defecate)."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٨٥٠، ومصباح الزجاجة: ٢٣٨)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ٤٣ (٨٩)، مسند احمد (٢/٤٤٢، ٤٧١) (صحیح )
ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی مسلمان پیشاب یا پاخانہ روکے ہوئے نماز کے لیے نہ کھڑا ہو جب تک کہ وہ قضائے حاجت کر کے ہلکا نہ ہوجائے ۔
It was narrated from Thawban that the Messenger of Allah ﷺ said: "No one among the Muslims should stand to pray when he is suppressing (the need to urinate or defecate), until he has relieved himself."
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٤٣ (٩٠)، سنن الترمذی/الصلا ة ١٤٨ (٣٥٧)، (تحفة الأشراف: ٢٠٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٨٠) (صحیح) (اس سند میں بقیہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز اور بھی کلام ہے لیکن دوسرے طرق سے یہ ثابت ہے)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٩٢٣ )
فاطمہ بنت ابی حبیش ؓ کہتی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، اور آپ سے (کثرت) خون کی شکایت کی، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ رگ کا خون ہے، تم دیکھتی رہو جب مدت حیض آئے تو نماز نہ پڑھو، اور جب حیض گزر جائے تو غسل کرو، پھر دوسرے حیض کے آنے تک نماز پڑھتی رہو ١ ؎۔
It was narrated from Urwah bin Zubair that Fatimah bint Abi Hubaish narrated to him that she went to the Messenger of Allah ﷺ and complained to him about bleeding. The Messenger of Allah ﷺ said: "Rather that is a vein, so look and see when your period comes, then do not perform the prayer. When the period is over, then purify yourself and perform the prayer between one period to the next."
Notes · وضاحت
١ ؎: استحاضہ ایک بیماری ہے جس میں عورت کا خون ہمیشہ جاری رہتا ہے، جس عورت کو یہ بیماری ہو اس کو مستحاضہ کہتے ہیں، اس کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ مستحاضہ: جس کے حیض کی مدت اس بیماری کے شروع ہونے سے پہلے متعین اور معلوم ہو، دوسرے وہ جس کو شروع ہی سے یہ بیماری ہوجائے، اور حیض کی مدت متعین نہ ہوئی ہو۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے مسلسل خون آتا رہتا ہے اور میں پاک نہیں ہو پاتی ہوں، تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، یہ رگ کا خون ہے، حیض نہیں ہے جب حیض آئے تو نماز ترک کر دو، اور جب وہ ختم ہوجائے تو خون دھو کر (یعنی غسل کر کے) نماز پڑھو ۔ یہ وکیع کی حدیث ہے۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "Fatimah bint Abi Hubaish came to the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah ﷺ I am a woman who bleeds continuously and never becomes pure, should I give up the prayer? He said: No, rather that is a vein and it is not menstruation. When the time of your period comes, leave off the prayer, and when it is over, take a bath and wash the blood from yourself and perform the prayer." This is the Hadith of Waki.
Takhrij · تخریج
حدیث عبد اللہ بن الجراح قد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة ١٤ (٣٣٣)، سنن النسائی/الطہارة ١٣٨ (٢١٨)، (تحفة الأشراف: ١٦٨٥٨)، وحدیث أبوبکر بن أبي شیبة أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة ١٤ (٣٣٣)، سنن الترمذی/الطہارة ٩٣ (١٢٥)، سنن النسائی/الطہارة ١٣٥ (٢١٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٢٥٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء ٦٤ (٢٢٨)، الحیض ٩ (٣٠٦)، ٢ (٣٢٠)، ٢٥ (٣٢٥)، سنن ابی داود/الطہارة ١٠٩ (٢٨٢) (صحیح )
ام حبیبہ بنت جحش ؓ کہتی ہیں کہ مجھے بہت لمبا استحاضہ کا خون آیا کرتا تھا، میں نبی اکرم ﷺ کے پاس اس سے متعلق بتانے اور فتوی پوچھنے کے لیے آئی، میں نے آپ کو اپنی بہن زینب ؓ کے پاس پایا، میں نے عرض کیا: اے رسول اللہ! مجھے آپ سے ایک کام ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اے خاتون! تجھے کیا کام ہے؟ میں نے کہا: مجھے ایک لمبے عرصہ تک خون آتا رہتا ہے جو نماز اور روزہ میں رکاوٹ کا سبب ہے، آپ اس سلسلے میں مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے لیے روئی تجویز کرتا ہوں (اس کو شرمگاہ پہ رکھ لیا کرو) کیونکہ یہ خون جذب کرلے گی ، میں نے عرض کیا: خون اس سے بھی زیادہ ہے، پھر راوی نے شریک کے ہم معنی حدیث بیان کی۔
It was narrated that Umm Habibah bint Jahsh said: "I used to bleed continuously and heavily. I went to the Prophet ﷺ asking him for advice and telling him (about my situation). I found him with my sister Zainab and said: O Messenger of Allah! ﷺ I need to ask you something. He said: What is it? I said: I bleed continuously and heavily, and that is keeping me from prayer and fasting. What do you command me to do about it? He said: I advise you to use a piece of cotton, for that will take away the blood. I said: It is more than that." And he mentioned something like the Hadith of Sharik (below).
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١١٠ (٢٨٧)، سنن الترمذی/الطہارة ٩٥ (١٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٨٢، ٤٣٩، ٤٤٠)، سنن الدارمی/الطہارة ٨٤ (٨٠٩) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٦٢٧) (حسن) (سند میں عبد اللہ بن محمد بن عقیل کی وجہ سے بعض کلام ہے کیونکہ ان کو مقارب الحدیث بلکہ منکر الحدیث کہا گیا ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے، پاک نہیں رہتی ہوں، تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ جن دنوں میں تمہیں حیض آتا ہے اتنے دن نماز چھوڑ دو ، ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی حدیث میں کہا: ہر مہینہ سے بقدر ایام حیض نماز چھوڑ دو، پھر غسل کرو، اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ کر نماز ادا کرو ١ ؎۔
It was narrated that Umm Salamah said: A woman asked the Prophet: I bleed continuously and do not become pre. Should I give up the prayer? He said: No, but leave off praying for the number of dys and nights that you used to menstruate." (One of the narrators) Abu Bakr (RA) (Ibn Abu Shaibah) said in his Hadith: “(Estimate the number of days in the month, then take a bath and cover your private part with a cloth and perform prayer."
Notes · وضاحت
١ ؎: اگرچہ خون آیا کرے، کیونکہ وہ حیض کا خون نہیں ہے، اس حدیث سے اور حدث والوں کا بھی حکم نکلا جیسے کسی کو پیشاب کی بیماری ہوجائے یا ریاح (ہوا خارج ہونے) کی، وہ بھی نماز ترک نہ کرے بلکہ ہر نماز کے لئے وضو کرے، اور جب تک وقت باقی رہے ایک ہی وضو سے فرض اور نفل ادا کرے، گو حدث ہوتا رہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں اور کہا: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آتا رہتا ہے جس سے میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، یہ رگ کا خون ہے حیض نہیں ہے، اپنے حیض کے دنوں میں نماز نہ پڑھو، پھر غسل کرو اور ہر نماز کے لیے الگ وضو کرو، (اور نماز پڑھو) خواہ خون چٹائی ہی پر کیوں نہ ٹپکے ۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "Fatimah bint Abi Hubaish came to the Prophet ﷺ and said: O essenger of Allah! I am a woman who bleeds continuously and never becomes pure. Should I give up prayer? He said: No, that is just a vein and is not menstruation. Do not perform prayer during the days of your period, then take a bath, and perform ablution for each prayer, even if drops of blood fall on the mat.
Notes · وضاحت
١ ؎: ہر نماز کے لئے وضو کرنا زیادہ صحیح طریقہ ہے، اور اگر مستحاضہ دوسری نمازوں کو ملا کر پڑھنا چاہے، تو اس طرح کرے کہ ایک نماز میں دیر کرے، اس کو اخیر وقت پر ادا کرے، اور دوسری میں جلدی کرے، اس کو اول وقت پر ادا کرے، اور دونوں نمازوں کے لئے ایک ہی وضو کرلے، اور کسی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ ہر نماز کے لئے غسل کرنا واجب ہے یا ہر دو نماز کے لئے یا ہر روز ایک بار بلکہ غسل اسی وقت کافی ہے جب عادت کے موافق حیض سے پاک ہونے کا وقت آئے یا خون کی رنگت کے لحاظ سے معلوم ہوجائے کہ اب حیض کا خون جا چکا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١١٣ (٢٩٨)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٧٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء ٦٤ (٢٢٨)، سنن النسائی/الطہارة ١٣٨ (٢١٩)، موطا امام مالک/الطہارة ٢٩ (١٠٤)، مسند احمد (٦/٤٢، ٢٠٤، ٢٦٢)، سنن الدارمی/الطہارة ٨٤ (٨٠١) (صحیح) (آخری ٹکڑا: وإن قطر الدم على الحصير کے علاوہ بقیہ حدیث صحیح ہے )