Sunan Ibne-Majah 606

تیمم کا بیان

606Sunan Ibne-Majah

جنبی ٹھہرے ہوئے پانی میں غو طہ لگائے تو اس کے لئے یہ کافی ہے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَخَرَجَ رَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَقَالَ: لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ، قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِذَا أُعْجِلْتَ، أَوْ أُقْحِطْتَ فَلَا غُسْلَ عَلَيْكَ، وَعَلَيْكَ الْوُضُوءُ.

ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر قبیلہ انصار کے ایک شخص کے پاس ہوا، آپ نے اسے بلوایا، وہ آیا تو اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: شاید ہم نے تم کو جلد بازی میں ڈال دیا ، اس نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم جلد بازی میں ڈال دئیے جاؤ، یا جماع انزال ہونے سے قبل موقوف کرنا پڑے تو تم پر غسل واجب نہیں بلکہ وضو کافی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Messenger of Allah ﷺ passed by (the house of) one of the Ansar and sent word for him to come out. He came out with his head dripping and (the Prophet) said: "Perhaps we made you hurry?" He said: "Yes, O Messenger of Allah." He said, "If you are hurried (by someone) or obstructed (from orgasm) and do not ejaculate, then you do not have to take a bath, but you "should perform ablution."

Notes · وضاحت
١ ؎: آگے آنے والی احادیث سے یہ حدیث منسوخ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣٤ (١٨٠)، صحیح مسلم/الحیض ٢١ (٣٤٥)، (تحفة الأشراف: ٣٩٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢١، ٢٦، ٩٤) (صحیح )