عبداللہ بن مغفل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا، پھر آپ نے فرمایا: انہیں کتوں سے کیا مطلب ؟ پھر آپ نے انہیں شکاری کتے رکھنے کی اجازت دے دی ١ ؎۔
It was narrated from, ‘Abdullah bin Mughaffal that the Messenger of Allah ﷺ commanded that dogs be killed, then he said: "What do they use dogs for?" Then he permitted them to keep hunting dogs.
Notes · وضاحت
١ ؎: کتوں سے کیا مطلب یعنی کتا پالنا بےفائدہ ہے بلکہ وہ نجس جانور ہے، اندیشہ ہے کہ برتن یا کپڑے کو گندہ کر دے، لیکن کتوں کا قتل صحیح مسلم کی حدیث سے منسوخ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتوں کے قتل سے منع کیا، اس کے بعد اور فرمایا: کالے کتے کو مار ڈالو وہ شیطان ہے (انجاح)۔
عبداللہ بن مغفل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتوں کے قتل کا حکم دیا، پھر فرمایا: لوگوں کو کتوں سے کیا مطلب ہے ؟ پھر آپ نے کھیت اور باغ کی رکھوالی کرنے والے کتوں کی اجازت دے دی۔ بندار کہتے ہیں: عین سے مراد مدینہ کے باغات ہیں۔
It was narrated from Abdullah bin Mughaffal that the Messenger of Allah ﷺ commanded that dogs be killed, then he said: “What do they use dogs for?” Then he permitted them to keep farming dogs and dogs of ‘Ein. Bundar said: “The ‘Ein refers to the walls of Al-Madinah.”
Notes · وضاحت
١ ؎: مسلم اور نسائی کی روایت میں ہے: ثم رخص في كلب الصيد والغنم اس لئے ابن ماجہ کا لفظ تصحیف ہے، صواب الغنم ہے۔ (ملاحظہ ہو: حیاۃ الحیوان للدمیری)۔ جو کتے کھیت اور باغ کی حفاظت کے لئے پالے جاتے ہیں ان کا پالنا جائز ہے، دوسری روایت میں ریوڑ یعنی جانوروں کی حفاظت کے لئے بھی پالنا آیا ہے، شریعت سے صرف تین ہی کتوں کا جواز ثابت ہے، ایک شکاری کتا، دوسرے باغ یا کھیت کی حفاظت کا، تیسرے ریوڑ کا، اور اس پر قیاس کر کے دوسری ضرورتوں کے لیے کتوں کو بھی پالا جاسکتا ہے، جیسے جنگل میں چور سے حفاظت کے لئے، اور آج کل جاسوسی کے لیے، امید ہے کہ یہ بھی جائز ہو، لیکن بلاضرورت کتا پالنا ہماری شریعت میں جائز نہیں، بلکہ اس سے اجر اور ثواب میں نقصان پڑتا ہے، جیسے دوسری حدیث میں وارد ہے، اور ایک حدیث میں ہے کہ فرشتے اس مکان میں نہیں جاتے جہاں مورت ہو، یا کتا یعنی رحمت کے فرشتے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو بلند آواز سے کتوں کے قتل کا حکم فرماتے ہوئے سنا: اور کتے قتل کئیے جاتے تھے بجز شکاری اور ریوڑ کے کتوں کے۔
It was narrated from Salim that his father said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ raising his voice and commanding that dogs be killed, and dogs were killed, except for hunting dogs or dogs kept for herding livestock.”
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کتا پالے گا اس کے عمل میں سے ہر روز ایک قیراط کم ہوگا، سوائے کھیت یا ریوڑ کے کتے کے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever keeps a dog, one Qirat will be deducted from his (good) deeds everyday, except a dog for farming or herding livestock.”
Notes · وضاحت
١ ؎: دوسری روایت میں روزانہ دو قیراط کی کمی کا ذکر ہے، تطبیق کی صورت یہ ہے شاید کتوں کی دو قسمیں ہیں، ایک قسم وہ ہے جس میں ایک قیراط کی کمی ہوتی ہے، اور دوسری وہ ہے جس میں دو قیراط کی کمی ہوتی ہے، بعض لوگوں نے اختلاف مقامات کا اعتبار کیا ہے، اور کہا کہ اگر بےضرورت مکہ یا مدینہ میں کتا پالے تو دو قیراط کی کمی ہوگی اور اس کے علاوہ دیگر شہروں میں ایک قیراط کی کمی ہوگی کیونکہ مکہ اور مدینہ کا افضل اور اعلی مقام ہے، وہاں کتا پالنا زیادہ غیر مناسب ہے۔
عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر کتے اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق نہ ہوتے، تو میں یقیناً ان کے قتل کا حکم دیتا، پھر بھی خالص کالے کتے کو قتل کر ڈالو، اور جن لوگوں نے جانوروں کی حفاظت یا شکاری یا کھیتی کے علاوہ دوسرے کتے پال رکھے ہیں، ان کے اجر سے ہر روز دو قیراط کم ہوجاتے ہیں ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Mughafflal that the Messenger of Allah ﷺ said: “Were it not that dogs form one of the communities (or nations - of creatures), I would have commanded that they be killed. But kill those that are all black. There are no people who keep a dog, except for dogs used for herding livestock, hunting or farming, but two Qirat will be deducted from their reward each day.”
Notes · وضاحت
١ ؎: امام نووی فرماتے ہیں کہ کاٹنے والے کتوں کو قتل کردینے پر اجماع ہے، امام الحرمین کہتے ہیں کہ پہلے رسول اللہ ﷺ نے سب کتوں کے مارنے کا حکم دیا، پھر یہ منسوخ ہوگیا، اور کالا سیاہ اسی حکم پر باقی رہا، بعد اس کے یہ ٹھہرا کہ جب تک وہ نقصان نہ پہنچائے کسی قسم کا کتا نہ مارا جائے یہاں تک کالا بھجنگ بھی، اور ثواب کم ہونے کا سبب یہ ہوگا کہ فرشتے اس کے گھر میں نہیں جاسکتے جس کے پاس کتا ہوتا ہے، اور بعضوں نے کہا کہ اس وجہ سے کہ لوگوں کو اس کے بھونکنے اور حملہ کرنے سے ایذا ہوتی ہے اور یہ جو فرمایا: اگر مخلوق نہ ہوتی مخلوقات میں سے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کتا بھی کائنات کی مخلوقات میں سے ایک ایسی مخلوق ہے جس ختم کرنا ممکن نہیں، اس لئے قتل کا حکم دینا بےکار ہے، کتنے ہی قتل کرو لیکن جب تک دنیا باقی ہے، دنیا میں کتے ضرور باقی رہیں گے، آپ دیکھئے کہ سانپ، بچھو، شیر اور بھیڑئیے، لوگ سیکڑوں اور ہزاروں سال سے جہاں پاتے ہیں مار ڈالتے ہیں، مگر کیا یہ حیوانات دنیا سے مٹ گئے؟ ہرگز نہیں۔
سفیان بن ابی زہیر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: جو شخص کتا پالے اور وہ اس کے کھیت یا ریوڑ کے کام نہ آتا ہو تو اس کے عمل (ثواب) سے ہر روز ایک قیراط کم ہوتا رہتا ہے ، لوگوں نے سفیان ؓ سے پوچھا: آپ نے خود اسے نبی اکرم ﷺ سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں قسم ہے اس مسجد کے رب کی۔
It was narrated that Sufyan bin Abu Zuhair said: "I heard the prophet say: Whoever keeps a dog that he does not need for farming or herding, one Qirat will be deducted from his (good) deeds each day." It was said to him: "Did you hear this from the Prophet? He said: “Yes, by the Lord of this Masjid.”
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحرث ٣ (٢٣٢٣)، بدء الخلق ١٧ (٣٣٢٥)، صحیح مسلم/المساقاة ١٠ (١٥٧٦)، سنن النسائی/الصید ١٢ (٤٢٩٠)، (تحفة الأشراف: ٤٤٧٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الإستئذان ٥ (١٢)، مسند احمد (٥/٢١٩، ٢٢٠)، سنن الدارمی/الصید ٢ (٢٠٤٨) (صحیح )
ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب (یہود و نصاری) کے ملک میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا سکتے ہیں؟ اور ہم اس ملک میں رہتے ہیں جہاں شکار بہت ہے، میں اپنی کمان اور سدھائے ہوئے کتوں سے شکار کرتا ہوں، اور ان کتوں سے بھی جو سدھائے ہوئے نہیں ہوتے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رہی یہ بات جو تم نے ذکر کی کہ ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں تو تم ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ، اِلا یہ کہ کوئی چارہ نہ ہو، اگر اس کے علاوہ تم کوئی چارہ نہ پاؤ تو پھر انہیں دھو ڈالو، اور ان میں کھاؤ، رہا شکار کا معاملہ جو تم نے ذکر کیا تو جو شکار تم اپنے کمان سے کرو اس پر اللہ کا نام لے کر شکار کرو اور کھاؤ، اور جو شکار سدھائے ہوئے کتے سے کرو تو کتا چھوڑتے وقت اللہ کا نام لو اور کھاؤ، اور جو شکار ایسے کتے کے ذریعہ کیا گیا ہو جو سدھایا ہوا نہ ہو تو اگر تم اسے ذبح کرسکو تو کھاؤ (ورنہ نہیں) ١ ؎۔
It was narrated that Abu Tha’labah Al-Khushani said: "I came to the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah, We live in a land of the People of the Book and we eat from their vessels. And we live in a land (where there is) game, so I hunt with my bow and with my trained dog and with my untrained dog: The Messenger of Allah ﷺ said: As for what you say about living in a land of the people of the Book, do not eat from their vessels unless you can find no alternative. If you can find no alternative then wash them and eat from them. With regard to what you say about hunting, whatever you catch with your bow, say the Name of Allah over it and eat. Whatever you catch with you trained dog, say the Name of Allah over it and eat. But whatever you catch with your untrained dog, then catch it and slaughter it, then eat."
Notes · وضاحت
١ ؎: اہل حدیث کے نزدیک جو جانور ہتھیار سے شکار کیا جائے (جیسے تیر تلوار، برچھا، بھالا، بندوق وغیرہ سے) یا ان جانوروں کے ذریعہ سے جو زخمی کرتے ہیں (جیسے کتا، چیتا، بازہجری، عقاب وغیرہ) تو حلال ہے، اگرچہ شکار کا جانور ذبح کرنے سے پہلے مرجائے، بشرطیکہ مسلمان شکار کرے، اور جانور یا ہتھیار کو شکار پر چلاتے وقت بسم اللہ کہے، یہی جمہور علماء اور فقہا کی رائے ہے۔
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: ہم ایک ایسی قوم ہیں جو کتوں سے شکار کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم سدھائے ہوئے کتوں کو بسم الله کہہ کر چھوڑو، تو ان کے اس شکار کو کھاؤ جو وہ تمہارے لیے روکے رکھیں، چاہے انہیں قتل کردیا ہو، سوائے اس کے کہ کتے نے اس میں سے کھالیا ہو، اگر کتے نے کھالیا تو مت کھاؤ، اس لیے کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں کتے نے اسے اپنے لیے پکڑا ہو، اور اگر اس سدھائے ہوئے کتوں کے ساتھ دوسرے کتے بھی شریک ہوگئے ہوں تو بھی مت کھاؤ ١ ؎۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن منذر کو کہتے سنا کہ میں نے اٹھاون حج کیے ہیں اور ان میں سے اکثر پیدل چل کر۔
It was narrated that Adi bin Hatim said: "I asked the Messenger of Allah: We are people who hunt with these dogs. He said: If you send out your trained dogs and mention the Name of Allah over them, then eat whatever they catch even if they kill it, unless the dog has eaten any of it. If the dog has eaten any of it then do not eat it, for I fear that it will have caught it for itself. And if another dog joins it, then do not eat it." Ibn Majah said: "I heard him, meaning Ali bin Mundhir (the narrator), saying: I performed Hajj fifty-eight times, most of them walking."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے کئی مسئلے معلوم ہوئے: ( ١ ) سدھائے ہوئے کتے کا شکار مباح اور حلال ہے، ( ٢ ) کتا مُعَلَّم ہو یعنی اسے شکار کی تعلیم دی گئی ہو، ( ٣ ) اس سدھائے ہوئے کتے کو شکار کے لیے بھیجا گیا ہو پس اگر وہ خود سے بغیر بھیجے شکار کر لائے تو اس کا کھانا حلال نہیں ہے، یہی جمہور علماء کا قول ہے، ( ٤ ) کتے کو شکار پر بھیجتے وقت بسم الله کہا گیا ہو، ( ٥ ) معلّم کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا شکار میں شریک نہ ہو، اگر دوسرا شریک ہے تو حرمت کا پہلو غالب ہوگا، اور یہ شکار حلال نہ ہوگا، ( ٦ ) کتا شکار میں سے کچھ نہ کھائے بلکہ اپنے مالک کے لیے محفوظ رکھے، تب یہ شکار حلال ہوگا ورنہ نہیں۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں ان کے یعنی مجوسیوں کے کتے، یا ان کے پرندوں کے شکار (کھانے) سے منع کردیا گیا ہے۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "We were forbidden (to eat) the game caught by their dogs and birds - meaning the Zoroastrians."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٢٧١، ومصباح الزجاجة: ١١٠٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصید ٢ (١٤٦٦) (ضعیف الإسناد) (سند میں حجاج بن أرطاہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے ترمذی میں، وطائر ھم کا لفظ نہیں ہے نیز ترمذی نے اسے ضعیف کہا ہے )
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم تیر انداز لوگ ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: جب تیر مارو اور وہ (شکار کے جسم میں) گھس جائے، تو جس کے اندر تیر پیوست ہوجائے اسے کھاؤ ۔
It was narrated that Adi bin Hatim said: "I said: “O Messenger of Allah, we are people who shoot (arrows). He said: If you shoot and pierce (the game), then eat what you pierced."
Takhrij · تخریج
تفرد ابن ماجة بھذا السیاق (تحفة الأشراف: ٩٨٦٨، ومصباح الزجاجة: ١١٠٤)، قد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ٣ (٢٠٥٤)، الذبائح ٣ (٥٤٧٧)، صحیح مسلم/الصید ١ (١٩٢٩)، سنن ابی داود/الصید ٢ (٢٨٤٧)، سنن الترمذی/الصید ١ (١٤٦٥)، ٣ (١٤٦٧)، سنن النسائی/الصید ٣ (٤٢٧٠)، مسند احمد (٤، ٢٥٦، ٢٥٨، ٣٨٠)، سنن الدارمی/الصید ١ (٢٠٤٦) (صحیح) (سند میں مجالد بن سعید ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق سے حدیث صحیح ہے )
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ میں شکار کرتا ہوں اور شکار مجھ سے پوری رات غائب رہتا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم اس شکار میں اپنے تیر کے علاوہ کسی اور کا تیر نہ پاؤ تو اسے کھاؤ۔
It was narrated that Adi bin Hatim said: "I said: O Messenger of Allah, what if I shoot the game but it vanishes at night? He said: If you find your arrow in it and you do not find anything else, then eat it."
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ہتھیار کی چوڑان سے شکار کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو تیر کی نوک سے مرے اسے کھاؤ، اور جو اس کے عرض (چوڑان) سے مرے وہ مردار ہے ۔
It was narrated that Adi bin Hatim said: "I asked the Messenger of Allah ﷺ about hunting with Mirad. He said: ‘Whatever is struck with its sharp edge, then eat it, but what is struck with its side is something that has been killed by a violent blow.’”
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ہتھیار کی چوڑان سے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: جس شکار میں تیر پیوست ہوا ہو صرف اسی کو کھاؤ۔
It was narrated that Adi bin Hatim said: "I asked the Messenger of Allah ﷺ about Mi’rad. He said: Do not eat unless you pierce (the game).”
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: زندہ جانور سے جو حصہ کاٹ لیا جائے تو کاٹا گیا حصہ مردار کے حکم میں ہے ۔
It was narrated from Ibn Umar that the Prophet ﷺ said: “Whatever is cut from an animal when it still alive, what is cut from it is Maitah (Dead Meat).”
تمیم داری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اخیر زمانہ میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو اونٹوں کی کوہان اور بکریوں کی دمیں کاٹیں گے، آ گاہ رہو! زندہ جانور کا جو حصہ کاٹ لیا جائے وہ مردار کے (حکم میں) ہے۔
It was narrated that Tamim Dari said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘At the end of time there will be people who will cut off camels’ humps and sheep’s tails. But what is cut from a living animal is dead.’”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٠٦٠، ومصباح الزجاجة: ١١٠٦) (ضعیف جدا) (سند میں ابوبکر الہذلی سخت ضعیف، اور شہر بن حوشب متکلم فیہ راوی ہیں )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارے لیے دو مردار: مچھلی اور ٹڈی حلال ہیں ۔
It was narrated from Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Two kinds of dead meat have been permitted to us: fish and locusts."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٧٣٨، ومصباح الزجاجة: ١١٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٩٧) (صحیح) (عبدالرحمن ضعیف راوی ہیں، لیکن ان کے اخوان اسامہ و عبداللہ نے ان کی متابعت کی ہے، اس لئے حدیث صحیح ہے )
سلمان فارسی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ٹڈی کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ٹڈی اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا لشکر ہے، نہ تو میں اسے کھاتا ہوں، اور نہ ہی اسے حرام قرار دیتا ہوں ۔
It was narrated that Salman said: "The Messenger of Allah ﷺ was asked about locusts. He said: ‘(They are) the most numerous troops of Allah. I neither eat them nor forbid them.’”
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأطعمة ٣٥ (٣٨١٣، ٣٨١٤)، (تحفة الأشراف: ٤٤٩٥) (ضعیف) (حدیث کے موصول اور مرسل ہونے میں اختلاف ہے، اور اصل یہ ہے کہ یہ مرسل ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٥٣٣ )