شفعہ کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 19 · 9 hadiths

2492Sunan Ibne-Majah

غیر منقولہ جائیداد فروخت کرے تو اپنے شریک کو اطلاع دے

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ نَخْلٌ أَوْ أَرْضٌ فَلَا يَبِيعُهَا حَتَّى يَعْرِضَهَا عَلَى شَرِيكِهِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس کھجور کے درخت ہوں یا زمین ہو تو وہ اسے اس وقت تک نہ بیچے، جب تک کہ اسے اپنے شریک پر پیش نہ کر دے ۔

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever has a date-palm tree or land, should not sell it until he has offered it to his partner."

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/البیوع ٧٨ (٤٦٥٠)، (تحفة الأشراف: ٢٧٦٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساقاة ٢٨ (١٦٠٨)، سنن ابی داود/البیوع ٧٥ (٣٥١٣)، مسند احمد (٣/٣١٢، ٣١٦، ٣٥٧) (صحیح )
2493Sunan Ibne-Majah

غیر منقولہ جائیداد فروخت کرے تو اپنے شریک کو اطلاع دے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانَ، وَالْعَلَاءُ بْنُ سَالِمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَأَرَادَ بَيْعَهَا فَلْيَعْرِضْهَا عَلَى جَارِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو اور وہ اس کو بیچنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ وہ اسے اپنے پڑوسی پر پیش کرے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Prophet ﷺ said: “Whoever has land and wants to sell it let him offer it to his neighbour."

Notes · وضاحت
١ ؎: باب کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر پڑوسی یا شریک نہ خریدنا چاہے تب دوسروں کے ہاتھ بیچے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦١٣١، ومصباح الزجاجة: ٨٨٣) (صحیح) (سند میں سماک ہیں، جن کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے، لیکن سابق شواہد سے تقویت پاکر حدیث صحیح ہے )
2494Sunan Ibne-Majah

پڑوس کی وجہ سے شفعہ کا استحقاق

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْجَارُ أَحَقُّ بِشُفْعَةِ جَارِهِ يَنْتَظِرُ بِهَا وَإِنْ كَانَ غَائِبًا إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پڑوسی اپنے پڑوسی کے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے، اس کا انتظار کیا جائے گا اگر وہ موجود نہ ہو جب دونوں کا راستہ ایک ہو ۔

It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ said: "The neighbor has more right to preemption of his neighbor, so let him wait for him even if he is absent, if they share a path."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٧٥ (٣٥١٨)، سنن الترمذی/الأحکام ٣٢ (١٣٦٩)، (تحفة الأشراف: ٢٤٣٤)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/البیوع ٨٣ (٢٦٦٩) (صحیح )
2495Sunan Ibne-Majah

پڑوس کی وجہ سے شفعہ کا استحقاق

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْعَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ.

ابورافع ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پڑوسی اپنے نزدیکی مکان کا زیادہ حقدار ہے ۔

It was narrated from Abu Rafi that the Prophet ﷺ said: "The neighbor has more right to property that is near."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشفعة ٢ (٢٢٥٨)، الحیل ١٤ (٦٩٧٧)، ١٥ (٦٩٨١، ٦٩٧٨)، سنن ابی داود/البیوع ٧٥ (٣٥١٦)، سنن النسائی/البیوع ١٠٧ (٤٧٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٨٩، ٣٩٠، ٦/١٠، ٣٩٠) (صحیح )
2496Sunan Ibne-Majah

پڑوس کی وجہ سے شفعہ کا استحقاق

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضٌ لَيْسَ فِيهَا لِأَحَدٍ قِسْمٌ وَلَا شِرْكٌ إِلَّا الْجِوَارُ، قَالَ: الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ.

شرید بن سوید ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک زمین ہے جس میں کسی کا حصہ نہیں اور نہ کوئی شرکت ہے، سوائے پڑوسی کے (تو اس کے بارے میں فرمائیے؟!) آپ ﷺ نے فرمایا: پڑوسی اپنی نزدیکی زمین کا زیادہ حقدار ہے ۔

It was narrated that Sharid bin Suwaid said: "I said: O Messenger of Allah, (what do you think of) land owned by only one person but this land has nieghbours? He said: The neighbor has more right to property that is near.

Notes · وضاحت
١ ؎: جابر ؓ کی حدیث اور اس حدیث میں بظاہر تعارض ہے، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے ان دونوں میں تطبیق دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ شفعہ کی دو قسمیں ہیں: ایک شعفہ یہ ہے کہ مالک کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ شفیع پر پیش کرے، اور دوسروں پر اسے ترجیح دے، اور اس شفعہ پر قضاء میں وہ مجبور نہ کیا جائے، اور یہی اس پڑوسی کا حق ہے جو شریک نہیں ہے، اور دوسری قسم یہ ہے کہ اس شفعہ پر اسے قضاء میں مجبور کیا جائے گا، اور یہ اس پڑوسی کے حق میں ہے جو شریک بھی ہے، (حجۃ اللہ البالغۃ ٢ /١١٣)۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/البیوع ١٠٧ (٤٧٠٧)، (تحفة الأشراف: ٤٨٤٠) (حسن صحیح )
2497Sunan Ibne-Majah

جب حد مقرر ہوجائے تو شفعہ نہیں ہوسکتا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَضَى بِالشُّفْعَةِ فِيمَا لَمْ يُقْسَمْ فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ فَلَا شُفْعَةَ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عَاصِمٍ: سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ مُرْسَلٌ، وَأَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مُتَّصِلٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسی جائیداد میں شفعہ کا حکم دیا ہے جو تقسیم نہ کی گئی ہو، لیکن جب تقسیم ہوجائے اور حد بندی ہو تو شفعہ نہیں ہے۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ ruled concerning preemption of land that has not been divided; if the boundaries have been set then there is no preemption.(sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٢٤١، ١٥٢٤٩)، مصباح الزجاجة: ٨٨٤)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/البیوع ٧٥ (٣٥١٥) (صحیح ) اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے اسی طرح مروی ہے۔ ابوعاصم کہتے ہیں: سعید بن مسیب کی روایت مرسل ہے، اور ابوسلمہ کی روایت ابوہریرہ ؓ سے متصل ہے۔ تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٢٤١، ١٥٢٤٩، ومصباح الزجاجة: ٨٨٥ )
2498Sunan Ibne-Majah

جب حد مقرر ہوجائے تو شفعہ نہیں ہوسکتا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشَّرِيكُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا كَانَ.

ابورافع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شریک (ساجھی دار) اپنی قریبی جائیداد کا زیادہ حقدار ہے، خواہ کوئی بھی چیز ہو ۔

It was narrated from Abu Rafi that the Messenger of Allah ﷺ said: "The partner has more right to what is near him, so long as he is still a partner."

Takhrij · تخریج
انظرحدیث رقم: (٢٤٩٥) (صحیح )
2499Sunan Ibne-Majah

جب حد مقرر ہوجائے تو شفعہ نہیں ہوسکتا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّمَا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ، وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شفعہ ہر اس جائیداد میں ٹھہرایا ہے جو تقسیم نہ کی گئی ہو، اور جب حد بندی ہوجائے اور راستے جدا ہوجائیں تو اب شفعہ نہیں ہے ١ ؎۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ ruled that preemption takes effect in all cases where land has not been divided. But if the boundaries have been set and the roads laid out, then there is no preemption."

Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ وہ جائیداد جو تقسیم کے قابل نہ ہو، اس میں بھی شفعہ نہیں ہے، جیسے حمام اور کنواں وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٩٦ (٢٢١٣)، ٩٧ (٢٢١٤)، الشفعة ٢ (٢٢٥٧)، الحیل ١٤ (٧٦ ٦٩)، الشرکة ٨ (٩٥ ٢٤)، سنن ابی داود/البیوع ٧٥ (٣٥١٤)، سنن الترمذی/الأحکام ٣٣ (١٣٧٠)، (تحفة الأشراف: ٣١٥٣)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/البیوع ١٠٧ (٤٧٠٨)، موطا امام مالک/الشفعة ١ (١)، مسند احمد (٣/٣٧٢، ٣٩٩)، سنن الدارمی/البیوع ٨٣ (٢٦٧٠) (صحیح )
2500Sunan Ibne-Majah

طلب شفعہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشُّفْعَةُ كَحَلِّ الْعِقَالِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شفعہ اونٹ کی رسی کھولنے کے مانند ہے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn "Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Preemption is like undoing the Iqal."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جیسے اونٹ کے کھٹنے کی رسی کھول دی جائے تو اونٹ فوراً اٹھ کھڑا ہوتا ہے اسی طرح بیع کی خبر ہوتے ہی اگر شفیع شفعہ لے تو ٹھیک ہے، اور اگر دیر کرے تو شفعہ کا حق باطل ہوگیا، یہ حدیث حنفیہ کی دلیل ہے جن کے نزدیک شفیع کو جب بیع کی خبر پہنچے تو فوراً اس کو طلب کرنا چاہیے، فقہ حنفی میں ہے کہ مجلس علم میں شفعہ طلب کرنا کافی ہے، اگرچہ مجلس دیر تک رہے، پس احناف کے نزدیک اگر شفیع فوراً یا اس مجلس میں شفعہ کا مطالبہ نہ کرے تو اس کا حق باطل ہوجاتا ہے۔ اور اہل حدیث کے نزدیک دیر کرنے سے شفعہ کا حق باطل نہیں ہوتا کیونکہ شفعہ کی احادیث مطلق ہیں، اور ابن عمر ؓ سے مروی یہ حدیث جس سے حنفیہ نے استدلال کیا ہے سخت ضعیف ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٢٩٢، ومصباح الزجاجة: ٨٨٦) (ضعیف جدا) (سند میں محمد بن الحارث ضعیف ہے، اور محمد بن عبد الرحمن البیلمانی متہم بالکذب ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٥٤٢ )