ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے جو اس کی راہ میں نکلے، اور اسے اس کی راہ میں صرف جہاد اور اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کے رسولوں کی تصدیق ہی نے نکالا ہو، (تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) میں اس کے لیے ضمانت لیتا ہوں کہ اسے جنت میں داخل کروں، یا اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اس منزل تک لوٹا دوں جہاں سے وہ گیا تھا ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر مجھے مسلمانوں کے مشقت میں پڑجانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں کسی بھی سریہ (لشکر) کا جو اللہ کے راستے میں نکلتا ہے ساتھ نہ چھوڑتا، لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ سب کی سواری کا انتظام کرسکوں، نہ لوگوں کے پاس اتنی فراخی ہے کہ وہ ہر جہاد میں میرے ساتھ رہیں، اور نہ ہی انہیں یہ پسند ہے کہ میں چلا جاؤں، اور وہ نہ جاسکیں، پیچھے رہ جائیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کروں، اور قتل کردیا جاؤں، پھر جہاد کروں، اور قتل کردیا جاؤں، پھر جہاد کروں، اور قتل کردیا جاؤں ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: " Allah has prepared (reward) for those who go out (to fight) in His cause: And do not go out except (to fight) lor Jihad in My cause, out of faith in Me and beliel in My Messengers, but he has a guarantee from Me that I will admit him to Paradise, or I will return him to his dwelling from which he set out, with the reward that he attained, or the spoils that he acquired. Then he said: By the One in Whose Hand is my soul, were it not that it would be too difficult for the Muslims, I would never have stayed behind from any expedition that went out in the cause of Allah. But I could not find the resources to give them mounts and they could not find the resources to follow me, nor would they be pleased to stay behind if I went. By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, I wish I could fight in the cause of Allah and be killed, then fight and be killed, then fight and be killed." (Sahih)
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے شخص کا اللہ تعالیٰ ضامن ہے، یا تو اسے اپنی رحمت و مغفرت میں ڈھانپ لے، یا ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اسے (گھر) واپس کرے، اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی مثال نہ تھکنے والے صائم تہجد گزار کی ہے یہاں تک کہ وہ مجاہد گھر لوٹ آئے ۔
It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Prophet ﷺ said: "The one who fights in the ca use of Allah has a guarantee from Allah. Either He will raise him to His forgiveness and mercy, or He will send him back with reward and spoils of war. The likeness of the one who fights in the cause of Allah is that of one who fasts and prays at night without ceasing, until he returns." (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٢٢٤، ومصباح الزجاجة: ٩٧٣) (صحیح) (سند میں عطیہ العوفی ضعیف ہے، لیکن اصل حدیث ابوہریرہ ؓ سے متفق علیہ وارد ہے، ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب: ١٣٠٤ و ١٣٢٠ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام (کا وقت گزارنا) دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Going out in the morning in the cause of Allah, or . the evening, is more virtuous than the world and what is in it." (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل الجہاد ١٧ (١٦٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٢٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد ٥ (٢٧٩٢)، مسند احمد (٢/٥٣٢، ٥٣٣) (صحیح )
سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام (کا وقت گزارنا) دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ۔
It was narrated from SahI bin Sa’d As-Sâ’idi that the Messenger of Allah ﷺ said: “Going out in the morning in the cause of Allah, or in the evening, is better than the world and what is in it.” (Sahih)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام (کا وقت گزارنا) دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ۔
It was narrated from Anas bin Mâlik that the Messenger of Allah ﷺ said: “Going out in the morning in the cause of Allah, or in the evening, is better than the World and what is in it.” (Sahih)
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو شخص اللہ کی راہ کے کسی مجاہد کو ساز و سامان سے لیس کر دے یہاں تک کہ اسے مزید کسی چیز کی ضرورت نہ رہ جائے تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا مجاہد کو، یہاں تک کہ وہ مرجائے یا اپنے گھر لوٹ آئے ۔
It was narrated that Umar bin Khattab said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Whoever equips a warrior in the cause of Allah until he is fully equipped, he will have a reward like his, until he dies or returns.(Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٦٠٥، ومصباح الزجاجة: ٩٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٠، ٥٣) (ضعیف) (سند میں ولید بن أبو ولید ضعیف ہے، اور عثمان بن عبد اللہ کی عمر ؓ سے رو ایت مرسل و منقطع ہے )
زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی مجاہد فی سبیل اللہ کو ساز و سامان سے لیس کر دے، اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس مجاہد کو ملے گا، بغیر اس کے کہ اس کے ثواب میں کچھ کمی کی جائے ۔
It was narrated from Zaid bin Khalid Al-juhani that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever equips a warrior in the cause of Allah, he will have a reward like his, without that detracting from the warrior s reward in the slightest." (Sahih)
ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے بہترین دینار جسے آدمی خرچ کرتا ہے وہ دینار ہے جسے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، اور وہ دینار ہے جسے وہ اپنے جہاد فی سبیل اللہ کے گھوڑے پر خرچ کرتا ہے، نیز وہ دینار ہے جسے وہ اپنے مجاہد ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے ۔
It was narrated from Thawban that the Messenger of Allah ﷺ said: "The best Dinar " that a man can spend is a Dinar that he spends on his family, a ,Dinar that he spends on a horse in the cause of Allah, and a Dinar that a man spends on his companions in the cause of Allah." (Sahih)
علی بن ابی طالب، ابوالدرداء، ابوہریرہ، ابوامامہ باہلی، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عمرو بن العاص، جابر بن عبداللہ اور عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص فی سبیل اللہ (اللہ کی راہ میں) خرچ بھیجے، اور اپنے گھر بیٹھا رہے تو اس کے لیے ہر درہم کے بدلے سات سو درہم ہیں، اور جو شخص فی سبیل اللہ (اللہ کے راستے میں) بذات خود جہاد کرنے نکلے، اور خرچ کرے، تو اسے ہر درہم کے بدلے سات لاکھ درہم کا ثواب ملے گا، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: والله يضاعف لمن يشاء اور اللہ تعالیٰ جیسے چاہے دو گنا کر دے (سورۃ البقرہ: ٢٦١ ) ۔
It was narrated from Ali bin Abu Talib, Abu Darda, Abu Hurairah (RA) h, Abu Umamah AIBahili, Abdullah bin Umar, Abdullah bin Amr, Jabir bin Abdullah and Imran bin Husain, all of them narrating that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever sends financial support in the cause of Allah and stays at home, for every Dirham he will have (the reward of) seven hundred Dirham. Whoever fights himself in the cause of Allah, and spends on that, for every Dirham he will have (the reward of) seven hundred thousand Dirham." Then he recited this Verse: "Allah gives manifold increase to whom He wills." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٢٢٧، ٨٦١٧، ١٠٠٦٨، ١٠٧٩٤، ١٠٩٢٩، ١٢٢٦١، ومصباح الزجاجة: ٩٧٥) (ضعیف) (سند میں خلیل بن عبداللہ مجہول راوی ہے )
ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص نہ غزوہ کرے، نہ کسی غازی کے لیے سامان جہاد کا انتظام کرے، اور نہ ہی کسی غازی کی غیر موجودگی میں اس کے گھربار کی بھلائی کے ساتھ نگہبانی کرے، تو اللہ تعالیٰ قیامت آنے سے قبل اسے کسی مصیبت میں مبتلا کر دے گا ۔
It was narrated from Abu Umamah that the Prophet ﷺ said: "Whoever does not fight, or equip a fighter, or stay behind to look after a fighters family, Allah will strike him with a calamity before the Day of Resurrection." (Hasan)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ اس پر جہاد فی سبیل اللہ کا کوئی نشان نہ ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس میں نقصان ہوگا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever meets Allah with no mark on him (as a result of fighting) in His cause, he will meet Him with a deficiency." (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل الجہاد ٢٦ (١٦٦٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٦٠، ٢١٤) (ضعیف) (سند میں ابو رافع ضعیف راوی ہیں )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک سے لوٹے، اور مدینہ کے نزدیک پہنچے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جس راہ پر تم چلے اور جس وادی سے بھی تم گزرے وہ تمہارے ہمراہ رہے ، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا: مدینہ میں رہ کر بھی وہ ہمارے ساتھ رہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، مدینہ میں رہ کر بھی، عذر نے انہیں روک رکھا تھا ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ was returning from the campaign of Tabuk, and had drawn close to Al-Madinah, he said: In AIMadinah there are people who, as you traveled and crossed valleys, were with you. They said: 0 Messenger of Allah, even though they were in AI-Madinah? He said: Even though they were in Al-Madinah. They were kept behind by (legitimate) excuses. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً بیماری وغیرہ تو ایسے شخص کو جہاد کا ثواب ملے گا جب اس کی نیت جہاد کی ہو، لیکن عذر کی وجہ سے مجبور ہو کر رک جائے۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ تم جس وادی سے بھی گزرے، یا جس راہ پر چلے ثواب میں ہر جگہ وہ تمہارے شریک رہے، انہیں عذر نے روک رکھا تھا ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: ایسا ہی کچھ احمد بن سنان نے کہا میں نے اسے لفظ بلفظ لکھ لیا۔
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ said: "In Al-Madinah there are men who, every time you crossed a valley or traveled a road. They shared with you in the reward They were kept behind by (legitimate) excuses." (Sahih) Abu Abdullah bin Majah said: "Or as he said: I have written it with the (exact) wording."
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٤٨ (١٩١١)، (تحفة الأشراف: ٢٣٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠٠) (صحیح )
عبداللہ بن زبیر ؓ کہتے ہیں کہ عثمان بن عفان ؓ نے لوگوں میں خطبہ دیا اور فرمایا: لوگو! میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث سنی ہے جو میں نے تم سے صرف اس لیے نہیں بیان کی کہ میں تمہارا اور تمہارے ساتھ رہنے کا بہت حریص ہوں ١ ؎، اب اس پر عمل کرنے اور نہ کرنے کا اختیار ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جس نے اللہ کے راستے میں ایک رات بھی سرحد پر پڑاؤ ڈالا، تو اسے ہزار راتوں کے صیام و قیام کے مثل ثواب ملے گا ۔
It was narrated that Abdullah bin Zubair said: "Uthman bin "Affan addressed the people and said: O people! I heard a Hadith from the Messenger of Allah ﷺ and nothing kept me from narrating it to you except for the fact that I did not want to lose you and your companionship. So it is up to you. I heard the Messenger of Allah ﷺ saying: "Whoever spends a night guarding the frontier in the cause of Allah, it will be lIke a thousand nights spent in fasting and prayer." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ حدیث سنتے ہی تم جہاد کے لئے نکل جاؤ اور میں اکیلا رہ جاؤں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٨١٦، ومصباح الزجاجة: ٩٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٦١، ٦٤) (ضعیف جدا) (عبدالرحمن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں، ترمذی اور نسائی کے یہاں یہ روایت صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا کے بغیر موجود ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ کے راستے میں رباط (سرحد پر پڑاؤ ڈالے ہوئے) مرجائے، تو جو وہ نیک عمل کرتا تھا اس کا ثواب اس کے لیے جاری رہے گا، جنت میں سے اس کا رزق مقرر ہوگا، قبر کے فتنہ سے محفوظ رہے گا، اور اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ہر ڈر اور گھبراہٹ سے محفوظ اٹھائے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever dies being prepared in the cause of Allah will be given continuously the reward for the good deeds that he used to do, and he will be reward with provision, and he will be kept safe from Fattan, and Allah will raise him on the Day of Resurrection free of fright.” (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٦١٧، ومصباح الزجاجة: ٩٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٠٤) (صحیح )
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ثواب کی نیت سے مسلمانوں کے ناکے پر (جہاں سے دشمن کے حملہ آور ہونے کا ڈر ہو) اللہ کی راہ میں سرحد پر ایک دن پڑاؤ کی حفاظت کا ثواب غیر رمضان میں سو سال کے روزوں، اور ان کے قیام اللیل صیام سے بڑھ کر ہے، اور اللہ کے راستے میں مسلمانوں کے ناکے پر ثواب کی نیت سے رمضان میں ایک دن کی سرحد کی نگرانی کا ثواب ہزار سال کے نماز سے بڑھ کر ہے، پھر اگر اللہ تعالیٰ نے اسے صحیح سالم گھر لوٹا دیا تو ایک ہزار سال تک اس کی برائیاں نہیں لکھی جائیں گی، نیکیاں لکھی جائیں گی، اور قیامت تک رباط کا ثواب جاری رہے گا ۔
It was narrated that Ubayy bin Kab said: "The Messenger of Allah ﷺ said: For guarding the frontier for a day in the cause of Allah, defending the Muslims, seeking reward, apart from in the month of Ramadan, there is a reward granted greater than worshipping for a hundred years, fasting and praying. Guarding the frontier for a day in the cause of Allah, defending the Muslims. seeking reward, in the month of Ramadan, is better before Allah and brings a greater reward" - I think he said _ U than worshipping for a thousand years, fasting and praying. If Allah returns him to his family safe and sound, no bad deed will be recorded for him for a thousand years, but his good deeds will be recorded, and the reward for guarding the frontier will come to him until the Day of Resurrection." (Maudu)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٥، ومصباح الزجاجة: ٩٧٩) (موضوع) (سند میں عمر بن صبح ہے، جو وضع حدیث کرتا تھا، نیز محمد بن یعلی ضعیف راوی ہے، اور مکحول کی أبی بن کعب ؓ سے ملاقات نہیں ہے )
عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ لشکر کے پہرہ دار پر رحم فرمائے ١ ؎۔
It was narrated from Uqbah bin Amir AI-Juhani that the Messenger of Allah ﷺ said: "May Allah have mercy on the one who keeps watch over the troops." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٩٤٥، ومصباح الزجاجة: ٩٨٠)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الجہاد ١١ (٢٤٤٥) (ضعیف) (سند میں صالح بن محمد بن زائدہ ضعیف راوی ہے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوے سنا: اللہ کی راہ میں ایک رات پہرہ دینا، کسی آدمی کے اپنے گھر میں رہ کر ایک ہزار سال کے صوم و صلاۃ سے بڑھ کر ہے، سال تین سو ساٹھ دن کا ہوتا ہے، جس کا ہر دن ہزار سال کے برابر ہے ۔
It was narrated that Saeed bin Khalid bin Abu Tuwail said: I heard Anas bin Malik (RA) saying: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Standing guard one night in the cause of Allah is better than a man fasting and praying, among his family, for a thousand years. The year is three hundred and sixty days and a day is like a thousand years." (Maudu)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٦٠، ومصباح الزجاجة: ٩٨١) (موضوع) (سند میں سعید بن خالد الطویل ہے، جو وضع حدیث کرتا تھا، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٢٣٤ ، اس موضوع پر صحیح حدیث کے لئے ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٨٦٦ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے، اور ہر اونچی زمین پر اللہ اکبر کہنے کی وصیت کرتا ہوں ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said to a man: “I advise you to fear Allah and to say the Takbir (Allahu Akbar) in every high place.” (Hasan)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: آپ سب سے زیادہ خوبصورت، سخی اور بہادر تھے، ایک رات مدینہ والے گھبرا اٹھے، اور سب لوگ آواز کی جانب نکل پڑے تو راستے ہی میں رسول اللہ ﷺ سے ملاقات ہوگئی، آپ ان سے پہلے اکیلے ہی آواز کی طرف چل پڑے تھے ١ ؎، اور ابوطلحہ ؓ کے ننگی پیٹھ اور بغیر زین والے گھوڑے پر سوار تھے، اور اپنی گردن میں تلوار ٹکائے ہوئے تھے، آپ ﷺ فرما رہے تھے: لوگو! ڈر کی کوئی بات نہیں ہے ، یہ کہہ کر آپ لوگوں کو واپس لوٹا رہے تھے، پھر آپ ﷺ نے گھوڑے کے متعلق فرمایا: ہم نے اسے سمندر پایا، یا واقعی یہ تو سمندر ہے ۔ حماد کہتے ہیں: مجھ سے ثابت نے یا کسی اور نے بیان کیا کہ وہ گھوڑا ابوطلحہ ؓ کا تھا، جو سست رفتار تھا لیکن اس دن کے بعد سے وہ کبھی کسی گھوڑے سے پیچھے نہیں رہا ٢ ؎۔
It was narrated from Hammad bin Zaid from Thabit, that the Prophet ﷺ was mentioned before Anas bin Malik (RA) and he said: "He was the best of people, the most generous of people, the most courageous of people. The people of Al-Madinah became alarmed one night, and he was the first of them to investigate the noise and din. He was riding a horse belonging to Abu Talhah, bareback, with saddle. His sword was hanging from his neck and he was saying: people, do not be afraid sending them back to their houses. Then he said of the horse , We found it like a sea, or, It is a sea. (Sahih) Hammad said . Thabit or someone else narrated to saying. Abu Talhah s horse was, slow, but it was never left behind after that day."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب امام یا حاکم جہاد کے لئے نکلنے کا اعلان عام کر دے تو ہر ایک مسلمان جس کو کوئی عذر نہ ہو، کا جہاد کے لیے نکلنا واجب ہے۔ ٢ ؎: یہ برکت تھی آپ ﷺ کے فرمانے کی، آپ ﷺ کی زبان سے جو نکلا حق تعالیٰ ویسا ہی کردیا ایک سست رفتار اور خراب گھوڑا دم بھر میں عمدہ گھوڑوں سے زیادہ تیز اور چالاک ہوگیا۔