فیصلوں کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 15 · 67 hadiths · Page 1 of 4

2308Sunan Ibne-Majah

قاضیوں کا ذکر

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْالْمَقْبُريِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص لوگوں کا قاضی (فیصلہ کرنے والا) بنایا گیا تو وہ بغیر چھری کے ذبح کردیا گیا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Whoever is appointed judge between the people, he has been slaughtered without a knife."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بن مارے اس کی موت ہوئی، مطلب یہ ہے کہ قضا کا عہدہ بڑے خطرے اور مواخذے کا کام ہے، اور اس میں عاقبت کے خراب ہونے کا ڈر ہے مگر جس کو اللہ تعالیٰ بچائے، اور اسی واسطے اکثر اسلاف نے تکلیفیں برداشت کیں اور ذلت کو گوارا کیا، لیکن قضا کا عہدہ نہ قبول کیا، چناچہ امام ابوحنیفہ (رح) کو خلیفہ منصور نے مارا پیٹا اور قید کیا، لیکن انہوں نے قاضی بننا قبول نہ کیا، تاکہ اپنے آپ کو حدیث میں وارد وعید سے بچا سکیں، اور جن علماء نے یہ ذمہ داریاں قبول کیں انہوں نے ایک دینی فریضہ پورا کیا، ان کو اللہ کے فضل سے اپنے اوپر اعتماد تھا کہ وہ اس عہدے کے ذریعے سے ملک اور عوام کی خدمت کریں گے، اور اللہ رب العزت کے یہاں اجر کے مستحق ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: ١٢٩٥٥)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأقضیة ١ (٣٥٧١)، سنن الترمذی/الأحکام ١ (١٣٢٥)، مسند احمد (٢/٣٦٥) (صحیح )
2309Sunan Ibne-Majah

قاضیوں کا ذکر

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَأَلَ الْقَضَاءَ وُكِلَ إِلَى نَفْسِهِ وَمَنْ جُبِرَ عَلَيْهِ نَزَلَ إِلَيْهِ آلِكْ فَسَدَّدَهُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے عہدہ قضاء کا مطالبہ کیا، وہ اپنے نفس کے حوالہ کردیا جاتا ہے، اور جو اس کے لیے مجبور کیا جائے تو اس کے لیے ایک فرشتہ اترتا ہے جو اسے درست بات کی رہنمائی کرتا ہے ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever asks to be appointed a judge, will be entrusted to himself, but whoever is forced to accept the position, an angel will come down to him and guide him."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ١ (٣٥٧٨)، سنن الترمذی/الأحکام ١ (١٣٢٣)، (تحفة الأشراف: ٢٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١٨، ٢٢٠) (ضعیف) (سند میں عبدالأعلی ضعیف راوی ہے )
2310Sunan Ibne-Majah

قاضیوں کا ذکر

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَعْلَى، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَبْعَثُنِي وَأَنَا شَابٌّ أَقْضِي بَيْنَهُمْ وَلَا أَدْرِي مَا الْقَضَاءُ، قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ اهْدِ قَلْبَهُ وَثَبِّتْ لِسَانَهُ، قَالَ: فَمَا شَكَكْتُ بَعْدُ فِي قَضَاءٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن بھیجا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے (قاضی بنا کر) یمن بھیج رہے ہیں، اور میں (جوان) ہوں، لوگوں کے درمیان مجھے فیصلے کرنے ہوں گے، اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ فیصلہ کیا ہوتا ہے، تو آپ ﷺ نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا پھر فرمایا: اے اللہ! اس کے دل کو ہدایت فرما، اور اس کی زبان کو ثابت رکھ ، پھر اس کے بعد مجھے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں کبھی کوئی تردد اور شک نہیں ہوا ١ ؎۔

It was narrated that Ali said: "The Messenger of Allah ﷺ sent me to Yemen. I said: O Messenger of Allah, you are sending me to judge between them while I am a young man, and I do not know how to judge. He struck me on the chest with his hand and said: O Allah, guide his heart and make his tongue steadfast. And after that I never doubted in passing judgment between two people."

Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ نے محبت سے علی ؓ کے سینے پر جب ہلکی سی ضرب لگائی اور دعا فرمائی تو اس معجزے کا ظہور ہوا اور دعا کی قبولیت کی مثال سامنے آئی، یہ محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے ساتھی کے سینے پر ہاتھ رکھا اور دعا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے سینے کو علم قضا کے لیے کھول دیا، ایسا ہی معجزہ ابوہریرہ ؓ کے ساتھ پیش آیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے سینے کو علم حدیث کے لیے کھول دیا، اور خود ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ سے حدیث بھول جانے کی شکایت کی تو آپ نے ان کو ایک چادر دی جسے انہوں نے اپنے جسم سے لپیٹ لیا، اور نبی اکرم ﷺ نے آپ کے حافظے کے تیز ہونے کی دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ ظاہر کیا اور اپنے محبوب نبی کی ایسی دعا قبول کی کہ ابوہریرہ صحابہ کرام میں احادیث شریفہ کے سب سے بڑے حافظ قرار پائے، جب کہ آپ کو نبی اکرم ﷺ کی مصاحبت کا شرف بہت مختصر ملا کہ آپ غزوہ خیبر کے وقت محرم سن ٧ ہجری کو مدینہ آئے، اس طرح سے تقریباً سوا چار سال کی مدت آپ نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ گزاری، اور پھر اللہ کا فضل ان پر اور اہل اسلام پر یہ ہوا کہ وہ یکسوئی کے ساتھ پوری زندگی حدیث کی خدمت کرتے رہے، یہاں تک کہ ٥٧ یا ٥٨ ہجری میں آپ کی وفات ہوئی ؓ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠١١٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأقضیة ٦ (٣٥٨٢)، سنن الترمذی/الأحکام ٥ (١٣٣١)، مسند احمد (١/٨٣، ١٤٩) (صحیح) (سند میں ابو البختری سعید بن فیروز کا سماع علی ؓ سے نہیں ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر حسن یا صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٦٠٠ ، ابوداود: ٣٥٨٢ )
2311Sunan Ibne-Majah

ظلم اور رشوت سے شدید ممانعت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ حَاكِمٍ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَلَكٌ آخِذٌ بِقَفَاهُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَإِنْ قَالَ: أَلْقِهِ أَلْقَاهُ فِي مَهْوَاةٍ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو حاکم بھی لوگوں کے درمیان فیصلے کرتا ہے، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ ایک فرشتہ اس کی گدی پکڑے ہوئے ہوگا، پھر وہ فرشتہ اپنا سر آسمان کی طرف اٹھائے گا، اگر حکم ہوگا کہ اس کو پھینک دو، تو وہ اسے ایک ایسی کھائی میں پھینک دے گا جس میں وہ چالیس برس تک گرتا چلا جائے گا ۔

It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: There is no judge who judges between the people but on the Day of Resurrection an angel will come and take hold of the back of his head and raise his head towards the sky and if it said: "Throw him," he will throw him into an abyss the depth of forty autumns (years).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٥٦٦، ومصباح الزجاجة: ٨١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٣٠) (ضعیف) (سند میں مجالد بن سعید ضعیف راوی ہے )
2312Sunan Ibne-Majah

ظلم اور رشوت سے شدید ممانعت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ، عَنْ حُسَيْنٍ يَعْنِي ابْنَ عِمْرَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَجُرْ فَإِذَا جَارَ وَكَّلَهُ إِلَى نَفْسِهِ.

عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی مدد قاضی (فیصلہ کرنے والے) کے ساتھ اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ ظلم نہ کرے، جب وہ ظلم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے نفس کے حوالے کردیتا ہے ۔

It was narrated from Abdullah bin Abu Awfa that the Messenger of Allah ﷺ said: "Allah is with the judge so long as he is not unjust, but if he rules unjustly, He entrusts him to himself."

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ٤ (١٣٣٠)، (تحفة الأشراف: ٥١٦٧) (حسن )
2313Sunan Ibne-Majah

ظلم اور رشوت سے شدید ممانعت

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah bin ‘Amr that the Messenger of Allah ﷺ said: "The curse of Allah is upon the one who offers a bribe and the one who takes it."

Notes · وضاحت
١ ؎: رشوت لینے والے پر تو ظاہر ہے کہ وہ رشوت لے کر ضرور اس فریق کی رعایت کرے گا جس سے رشوت کھائے گا، اور رشوت دینے والے پر اس واسطے کہ وہ رشوت دے کر اس کو ظلم اور ناحق پر مائل کرے گا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ اگر اس کا مقدمہ حق ہو اور کوئی حاکم بغیر رشوت لئے حق فیصلہ نہ کرتا ہو تو ظلم کو دفع کرنے کے لئے اگر رشوت دے تو گناہ گار نہ ہوگا، پس ضروری ہے کہ آدمی رشوت دینے اور لینے والے دونوں برے کاموں سے پرہیز کرے، اسی طرح رشوت دلانے اور اس کی دلالی کرنے سے بھی دور رہے کیونکہ ان امور سے ڈر ہے کہ وہ اللہ کی لعنت کا مستحق ہوگا، نسأل الله العافية۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ٤ (٣٥٨٠)، سنن الترمذی/الأحکام ٩ (١٣٣٧)، (تحفة الأشراف: ٨٩٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٤، ١٩٠، ١٩٤، ٢١٢، ٥/٢٧٩) (صحیح )
2314Sunan Ibne-Majah

حاکم اجتہاد کرکے حق کو سمجھ لے۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ، قَالَ يَزِيدُ: فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَقَالَ: هَكَذَا حَدَّثَنِيهِ أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .

عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جب حاکم فیصلہ اجتہاد سے کرے اور صحیح بات تک پہنچ جائے تو اس کو دہرا اجر ملے گا، اور جب فیصلہ کی کوشش کرے اور اجتہاد میں غلطی کرے، تو اس کو ایک اجر ملے گا ۔ یزید بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کو ابوبکر بن عمرو بن حزم سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: اسی طرح اس کو مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا ہے، اور انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے۔

It was narrated from Amr bin As that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: "When the judge passes a judgment and does his best and gets it right, he will have two rewards, and if he passes a judgement and does his best and gets it wrong, he will have one reward." Yazid (one of the narrators) said: "So I narrated it to Abu Bakr (RA) bin Amr bin Hazm. He said: This is how it was narrated to me by Abu Salamah from Abu Hurairah (RA) h. "

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتصام ٢١ (٧٣٥٢)، صحیح مسلم/الأقضیة ٦ (١٧١٦)، سنن ابی داود/الأقضیة ٢ (٣٥٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٩٨، ٢٠٤) (صحیح )
2315Sunan Ibne-Majah

حاکم اجتہاد کرکے حق کو سمجھ لے۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ، قَالَ: لَوْلَا حَدِيثُ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: اثْنَانِ فِي النَّارِ، وَوَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ رَجُلٌ عَلِمَ الْحَقَّ فَقَضَى بِهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ وَرَجُلٌ قَضَى لِلنَّاسِ عَلَى جَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ جَارَ فِي الْحُكْمِ فَهُوَ فِي النَّارِ لَقُلْنَا إِنَّ الْقَاضِيَ إِذَا اجْتَهَدَ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ.

ابوہاشم کہتے ہیں کہ اگر ابن بریدہ کی یہ روایت نہ ہوتی جو انہوں نے اپنے والد (بریدہ ؓ) سے روایت کی ہے، اور وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: قاضی تین طرح کے ہیں: ان میں سے دو جہنمی ہیں اور ایک جنتی، ایک وہ جس نے حق کو معلوم کیا اور اسی کے مطابق فیصلہ دیا، تو وہ جنت میں جائے گا، دوسرا وہ جس نے لوگوں کے درمیان بغیر جانے بوجھے فیصلہ دیا، تو وہ جہنم میں جائے گا، تیسرا وہ جس نے فیصلہ کرنے میں ظلم کیا (یعنی جان کر حق کے خلاف فیصلہ دیا) تو وہ بھی جہنمی ہوگا (اگر یہ حدیث نہ ہوتی) تو ہم کہتے کہ جب قاضی فیصلہ کرنے میں اجتہاد کرے تو وہ جنتی ہے۔

Abu Hashim said: "Were it not for the Hadith of Ibn Buraidah from his father, from the Prophet ﷺ who said: Judges are of three types, two of whom will be in Hell and one will be in Paradise. The man who knows the truth and rules in accordance with it, will be in Paradise. The man who passes judgment on the people in ignorance will be in Hell, and the man who is unjust in judgment will be in Hell - we would have said that if the judge does his best he will be in Paradise."

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف اجتہاد کافی نہیں ہے بلکہ حق کا علم یعنی یقین ضروری ہے، علماء کے نزدیک یہ حدیث تہدید و تشدید پر محمول ہے، اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ قضا کے لئے صرف اجتہاد یعنی غلبہ ظن کافی ہے، اس میں غلطی کا احتمال رہتا ہے، اور دوسری حدیث سے ثابت ہے کہ مجتہد اگر خطا بھی کرے گا تو اسے ایک اجر ملے گا، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ قاضی کا مجتہد ہونا ضروری ہے، اور مقلد کا قاضی ہونا صحیح نہیں ہے کیونکہ کتاب و سنت کے علم کا اطلاق صرف مجتہد پر ہوتا ہے، اور مقلد تو کتاب و سنت اور دلیل سے بیخبر ہوتا ہے، صرف اپنے امام کا قول معلوم کرلیتا ہے، لہذا مجتہد کتاب و سنت کی روشنی میں اس بات کا فیصلہ کرے گا جو اللہ تعالیٰ اس کو دکھائے ہیں، مقلد تو اپنے امام کی رائے کے مطابق فیصلہ کرے گا، اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ (سورة المائدة: 44) وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (سورة المائدة 45) وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (سورة المائدة:47) اور اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ کرنا مجتہد کی شان ہے مقلد کی نہیں، اور معاذ ؓ کی رائے سے متعلق مشہور حدیث جس کی صحت میں بعض علماء نے کلام کیا ہے، میں ان کا قول ہے کہ (میں اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا، اگر اس میں نہ ملے گا تو حدیث سے اور اگر اس میں نہ ملے گا تو پھر اپنی رائے سے فیصلہ کروں گا) یہ بھی مجتہد کی شان ہے، مقلد تو نہ قرآن کو دیکھتا ہے نہ حدیث کو، صرف درمختار، کنز اور وقایہ پر عمل کرتا ہے، اور اس کو یہ بھی خبر نہیں ہوتی کہ یہ حکم کتاب وسنت میں موجود بھی ہے یا نہیں۔ (ملاحظہ ہو: الروضۃ الندیۃ )
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ٢ (٣٥٧٣)، (تحفة الأشراف: ٢٠٠٩)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأحکام ١ (١٣٢٢) (صحیح )
2316Sunan Ibne-Majah

حاکم غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرے

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَقْضِي الْقَاضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ، قَالَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ: لَا يَنْبَغِي لِلْحَاكِمِ أَنْ يَقْضِيَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قاضی غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے ١ ؎۔ ہشام کی روایت کے الفاظ ہیں: حاکم کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرے ۔

It was narrated from Abdul-Malik bin Umair that he heard Abdur-Rahman bin Abu Bakrah (narrate) from his father that the Messenger of Allah ﷺ said: "Let the judge (Qadi) not pass a judgment when he is angry." In his narration, (one of the narrators) Hisham said: "The judge (ruler) should not judge between two people when he is angry."

Notes · وضاحت
١ ؎: نبی کریم ﷺ نے جو غصہ کی حالت میں زبیر ؓ کا فیصلہ ایک انصاری کے ساتھ کیا تو یہ آپ ﷺ کی خصوصیت تھی کیونکہ آپ حالت غضب اور رضا دونوں میں معصوم تھے، اور ظاہر یہ ہے کہ ممانعت تحریمی ہے، اس پر جمہور علماء نے یہ کہا ہے کہ اگر کوئی غصہ کی حالت میں فیصلہ کرے اور وہ فیصلہ حق ہو تو صحیح ہوگا، علامہ ابن القیم کہتے ہیں کہ مفتی سخت غصہ، یا زیادہ بھوک، یا زیادہ قلق، یا پریشان کن خوف و ڈر، یا نیند کا غلبہ، یا پاخانہ پیشاب کی حاجت میں فتوی نہ دے، اسی طرح جب دل اور طرف لگا ہوا ہو، بلکہ جب آدمی یہ محسوس کرے کہ مذکورہ امور کی وجہ سے وہ اعتدال کی حالت سے باہر چلا گیا ہے، اور اس کی تحقیق و جستجو کی قدرت متاثر ہوگئی ہے، تو اس کو فتویٰ سے رک جانا چاہیے، اس پر بھی اگر وہ ان حالتوں میں فتویٰ دیتا ہے تو اس کا فتویٰ صحیح ہے لیکن اگر ایسی حالت میں فیصلہ کرتا ہے، تو کیا اس کا فیصلہ نافذ ہوگا، یا نہیں نافذ ہوگا؟ اس بارے میں امام احمد کے مذہب میں تین اقوال ہیں: پہلا یہ کہ نافذ ہوگا، دوسرا یہ کہ نافذ نہیں ہوگا، تیسرا یہ کہ مسئلہ کو سمجھنے کے بعد اگر غصہ ہو تو اس میں نافذ ہوگا، اور اگر مسئلہ کے سمجھنے سے پہلے غصہ ہو تو نافذ نہیں ہوگا۔ (ملاحظہ ہو: الروضۃ الندیۃ ٣ /٢٣٣ )
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأحکام ١٣ (٧١٥٨)، صحیح مسلم/الأقضیة ٧ (١٧١٧)، سنن ابی داود/الأقضیة ٩ (٣٥٨٩)، سنن الترمذی/الأحکام ٧ (١٣٣٤)، سنن النسائی/آداب القضاة ١٧ (٥٤٠٨)، ٣١ (٥٤٢٣)، (تحفة الأشراف: ١١٦٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٦، ٣٧، ٣٨، ٤٦، ٥٢) (صحیح )
2317Sunan Ibne-Majah

حاکم کا فیصلہ حرام کو حلال اور حلال کو حرام نہیں کرسکتا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ وَإِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلَى نَحْوٍ مِمَّا أَسْمَعُ مِنْكُمْ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ يَأْتِي بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ میرے پاس جھگڑے اور اختلافات لاتے ہو اور میں تو ایک انسان ہی ہوں، ہوسکتا ہے تم میں سے کوئی اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ چالاک ہو، اور میں اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں جو تم سے سنتا ہوں، لہٰذا اگر میں کسی کو اس کے بھائی کا کوئی حق دلا دوں تو وہ اس کو نہ لے، اس لیے کہ میں اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا دلاتا ہوں جس کو وہ قیامت کے دن لے کر آئے گا ۔

It was narrated from Umm Salamah that the Messenger of Allah ﷺ said: "You refer your disputes to me and I am only human. Perhaps some of you may be more eloquent in presenting your case than others, so I rule in your favor because of what I hear from you. If I pass a judgment in favor of one of you that detracts from his brothers rights, then he should not take it, because it is a piece of fire that is given to him which he will bring forth on the Day of Resurrection."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المظالم ١٦ (٢٤٥٨)، الشہادات ٢٧ (٢٦٨٠)، الحیل ١٠ (٦٩٦٧)، الأحکام ٢٠ (٧١٦٩)، ٢٩ (٧١٨١)، ٣١ (٧١٨٥)، صحیح مسلم/الأقضیة ٣ (١٧١٣)، سنن ابی داود/الأقضیة ٧ (٣٥٨٣)، سنن الترمذی/الأحکام ١١ (١٣٣٩)، سنن النسائی/آداب القضاة ١٢ (٥٤٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٦١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ١ (١)، مسند احمد (٦/٣٠٧، ٣٢٠) (صحیح )
2318Sunan Ibne-Majah

حاکم کا فیصلہ حرام کو حلال اور حلال کو حرام نہیں کرسکتا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَمَنْ قَطَعْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ قِطْعَةً فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تو ایک انسان ہی ہوں، ہوسکتا ہے تم میں کوئی اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ چالاک ہو، تو جس کے لیے میں اس کے بھائی کے حق میں سے کوئی ٹکڑا کاٹوں تو گویا میں اس کے لیے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "I am only human, and some of you may be more eloquent in presenting your case than others. If I pass a judgment in his favor that detracts from his brothers rights, I am giving him a piece of fire."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٩٥، ومصباح الزجاجة: ٨١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٣٢، ٦/٣٠٧) (حسن صحیح )
2319Sunan Ibne-Majah

پرائی چیز کا دعوی کرنا اور اس میں جھگڑا کرنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ أَبُو عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ، أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ الدِّيلِيّ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنِ ادَّعَى مَا لَيْسَ لَهُ فَلَيْسَ مِنَّا وَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو کسی ایسی چیز پر دعویٰ کرے جو اس کی نہیں ہے، تو وہ ہم میں سے نہیں، اور اسے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لینا چاہیئے ۔

It was narrated from Abu Dharr (RA) that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Whoever claims something that does not belong to him; he is not one of us, so let him take his place in Hell."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٩٣٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المناقب ٥ (٣٥٠٨)، صحیح مسلم/الإیمان ٢٧ (٦١)، مسند احمد (٥/١٦٦) (صحیح )
2320Sunan Ibne-Majah

پرائی چیز کا دعوی کرنا اور اس میں جھگڑا کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَاءٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ بِظُلْمٍ أَوْ يُعِينُ عَلَى ظُلْمٍ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی جھگڑے میں کسی کی ناحق مدد کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس سے ناراض رہے گا یہاں تک کہ وہ (اس سے) باز آجائے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever takes the wrongdoers side in a dispute or supports wrongdoing, he will remain subject to the wrath of Allah until he gives it up."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کام سے توبہ کرلے اور اس کو چھوڑ دے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ١٤ (٣٥٩٨)، (تحفة الأشراف: ٨٤٤٥) (صحیح) (سند میں مطر الوارق ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث متابعات کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٧ / ٣٥٠ و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٤٣٧ ، ١٠٢١ )
2321Sunan Ibne-Majah

مدعی پر گواہ ہیں مدعی علیہ پر قسم

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمُ ادَّعَى نَاسٌ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ وَلَكِنْ الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر لوگوں کو ان کے دعویٰ کے مطابق دے دیا جائے، تو لوگ دوسروں کی جان اور مال کا (ناحق) دعویٰ کر بیٹھیں گے، لیکن مدعیٰ علیہ کو قسم کھانا چاہیئے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "If the people were given what they claimed, some would have claimed the lives and property of men. But the one the claim is made against is obliged to swear an oath.

Notes · وضاحت
١ ؎: جب مدعی کے پاس گواہ نہ ہو اور مدعی علیہ قسم کھالے تو وہ دعویٰ سے بری ہوگیا، اگر مدعی علیہ قسم اٹھانے پر تیار نہ ہو تو وہ دعویٰ کے مطابق مدعی کا حق ادا کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرہن ٦ (٢٥١٤)، الشہادات ٢٠ (٢٦٦٨)، تفسیر سورة آل عمران ٣ (٤٥٥٢)، صحیح مسلم/الاقضیة ١ (١٧١١)، سنن ابی داود/الاقضیة ٢٣ (٣٦١٩)، سنن الترمذی/الاحکام ١٢ (١٣٤٢)، سنن النسائی/آداب القضاة ٣٥ (٥٤٢٧)، (تحفة الأشراف: ٥٧٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٥٣، ٢٨٨، ٣٤٣، ٣٥١، ٣٥٦، ٣٦٣) (صحیح )
2322Sunan Ibne-Majah

مدعی پر گواہ ہیں مدعی علیہ پر قسم

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ لِلْيَهُودِيِّ: احْلِفْ، قُلْتُ: إِذًا يَحْلِفَ فِيهِ فَيَذْهَبَ بِمَالِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.

اشعث بن قیس ؓ کہتے ہیں کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی، اس نے میرے حصہ کا انکار کردیا، تو میں اس کو نبی اکرم ﷺ کے پاس لے کر آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس گواہ ہیں ؟ میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ ﷺ نے یہودی سے کہا: تم قسم کھاؤ، میں نے عرض کیا: تب تو وہ قسم کھالے گا اور میرا مال ہڑپ کر جائے گا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا (سورة آل عمران: 77) جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑا مال لیتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے بات تک نہیں کرے گا، نہ قیامت کے دن ان پر رحمت کی نگاہ ڈالے گا، نہ گناہوں سے ان کو پاک کرے گا، اور ان کو نہایت درد ناک عذاب ہوتا رہے گا ۔

It was narrated that Ashath bin Qais said: "There was a dispute between myself and a Jewish man concerning some land, and he denied me my rights so I brought him to the Prophet. The Messenger of Allah ﷺ said to me: Do you have proof? I said: No: He said to the Jews, Swear an oath: I said: If he swears an oath he will take my property: Then Allah, Glorious is He, revealed: Verily, those who purchase a small gain at the cost of Allahs covenant and their oaths, they shall have no portion in the Hereafter (Paradise). Neither will Allah speak to them nor look at them on the Day of Resurrection nor will He purify them, and they shall have a painful torment. "

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المسافات ٤ (٢٣٥٦، ٢٣٥٧)، الرہن ٦ (٢٥١٥، ٢٥١٦)، الخصومات ٤ (٢٤١٦، ٢٤١٧)، الأحکام ٣٠ (٧١٨٣، ٧١٨٤)، صحیح مسلم/الایمان ٦١ (١٣٨)، سنن ابی داود/الأقضیة ٢٥ (٣٦٢١)، سنن الترمذی/البیوع ٤٢ (١٢٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٨، ٩٢٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢١١) (صحیح )
2323Sunan Ibne-Majah

جھوٹی قسم کھا کر مال حاصل کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی چیز کے لیے قسم کھائے اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہو، اور اس کے ذریعہ وہ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کرلے، تو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوگا ۔

It was narrated from Abdullah bin Masud that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever swears a false oath in order to seize the wealth of a Muslim unlawfully, he will meet Allah when He is angry with him."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشرب والمساقات ٤ (٢٣٥٦)، صحیح مسلم/الإیمان ٦١ (١٣٨)، سنن ابی داود/الأقضیة ٢٥ (٣٦٢١)، سنن الترمذی/البیوع ٤٢ (١٢٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٧٧) (صحیح )
2324Sunan Ibne-Majah

جھوٹی قسم کھا کر مال حاصل کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَخَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْحَارِثِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا يَقْتَطِعُ رَجُلٌ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَأَوْجَبَ لَهُ النَّارَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا؟ قَالَ: وَإِنْ كَانَ سِوَاكًا مِنْ أَرَاكٍ.

ابوامامہ حارثی ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو شخص بھی قسم کے ذریعہ کسی مسلمان آدمی کا حق مارے گا، تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دے گا، اور جہنم کو اس کے لیے واجب کر دے گا، لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ معمولی چیز ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، خواہ وہ پیلو کی ایک مسواک ہی ہو ۔

Abu Umamah Al-Harithi narrated that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: "No man seizes the wealth of a Muslim unlawfully by means of his (false) oath, but Allah will deny Paradise to him and will doom him to Hell." A man among the people said: "O Messenger of Allah, even if it is something small?" He said: "Even if it is a twig of an Ardk tree."

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٦١ (١٣٧)، سنن النسائی/آداب القضاة ٢٩ (٥٤٢١)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٦٠) (صحیح )
2325Sunan Ibne-Majah

قسم کہاں کھائے؟

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ بِيَمِينٍ آثِمَةٍ عِنْدَ مِنْبَرِي هَذَا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ أَخْضَرَ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص میرے اس منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائے، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے، خواہ وہ ایک ہری مسواک ہی کے لیے ہو ١ ؎۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: Whoever swears a false oath near this pulpit of mine, let him take his place in Hell, even if it is for a green twig."

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جھوٹی قسم متبرک مقام میں کھانا اور زیادہ سخت گناہ ہے، اگرچہ ہر جگہ جھوٹی قسم کھانا خود ایک سخت گناہ ہے، بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ مدعی کو اختیار ہے جہاں پر چاہے اور جن الفاظ سے چاہے مدعی علیہ سے قسم لے سکتا ہے، اور بعضوں نے کہا: صرف عدالت میں قسم ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم کھانا کافی ہے، اس سے زیادہ کے لئے مدعی جبر نہیں کرسکتا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأیمان ٣ (٢٣٤٦)، (تحفة الأشراف: ٢٣٧٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ٨ (١٠)، مسند احمد (٣/٣٤٤) (صحیح )
2326Sunan Ibne-Majah

قسم کہاں کھائے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ فَرُّوخَ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَهُوَ أَبُو يُونُسَ الْقَوِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحْلِفُ عِنْدَ هَذَا الْمِنْبَرِ عَبْدٌ وَلَا أَمَةٌ عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ رَطْبٍ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس منبر کے پاس کوئی غلام یا لونڈی جھوٹی قسم نہیں کھاتا، اگرچہ وہ قسم ایک تازہ مسواک ہی کے لیے ہو، مگر جہنم کی آگ اس پر واجب ہوجاتی ہے ۔

Muhammad bin Yahya who is Abu Yunus Al-Qawi, said: I heard Abu Salamah say: I heard Abu Hurairah (RA) say: "The Messenger of Allah ﷺ said: No man or woman swears a false oath beside this pulpit, even if it is for a fresh twig, but he will be doomed to Hell."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٩٤٩، ومصباح الزجاجة: ٨١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥١٨) (صحیح )
2327Sunan Ibne-Majah

اہل کتاب سے کیا قسم لی جائے؟

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا رَجُلًا مِنْ عُلَمَاءِ الْيَهُودِ فَقَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى.

براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی عالم کو بلایا، اور فرمایا: میں تم کو اس ذات کی قسم دلاتا ہوں جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات اتاری ١ ؎۔

It was narrated from Bara’ bin ‘ Azib (RA) that the Messenger of Allah ﷺ called one of the Jewish scholars and said: "Swear by the One Who sent the Torah (Tawrah) down to Musa."

Notes · وضاحت
١ ؎: ایسا کہنے سے یہودی کے دل پر زیادہ اثر ہوتا ہے، اور نصرانی سے یوں کہیں گے قسم کھا اس اللہ کی جس نے عیسیٰ (علیہ السلام) پر انجیل اتاری۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحدود ٦ (١٧٠٠)، سنن ابی داود/الحدود ٢٦ (٤٤٤٧، ٤٤٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٧٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٨٦، ٢٩٠، ٣٠٠) (صحیح )