فیصلوں کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 15 · 67 hadiths · Page 2 of 4

2328Sunan Ibne-Majah

اہل کتاب سے کیا قسم لی جائے؟

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، أَنْبَأَنَا عَامِرٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِيَهُودِيَّيْنِ: نَشَدْتُكُمَا بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو یہودیوں سے فرمایا: میں تم دونوں کو اس اللہ کی قسم دلاتا ہوں جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات اتاری ۔

It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said to two Jews: wear by Allah Who sent the Tawrah down to Musa, peace be upon him."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ٢٦ (٤٤٥٢، ٤٤٥٣، ٤٤٥٤ مختصراً )، (تحفة الأشراف: ٢٣٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٨٧) (صحیح )
2329Sunan Ibne-Majah

دو مرد کسی سامان کا دعوی کریں اور کسی کے پاس ثبوت نہ ہو۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا دَابَّةً وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَأَمَرَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ذکر کیا کہ ایک جانور پر دو آدمیوں نے دعویٰ کیا، اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس گواہ نہیں تھے، تو نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کو قسم پر قرعہ اندازی کا حکم دیا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that he said that two men laid claim to an animal, and neither of them had any proof, so the Prophet ﷺ commanded them to cast lots as to which of them should swear an oath.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی صورت یہ ہے کہ جانور ایک تیسرے شخص کے پاس ہو اور دو شخص اس کا دعوی کریں، اور تیسرا شخص کہے کہ میں اصل مالک کو نہیں پہچانتا، علی ؓ کا یہی قول ہے، اور شافعی کے نزدیک وہ جانور تیسرے کے پاس رہے گا، اور ابوحنیفہ کے نزدیک دونوں دعوے داروں کو آدھا آدھا بانٹ دیں گے، اسی طرح اگر دو شخص ایک چیز کا دعوی کریں، اور دونوں گواہ پیش کریں اور کوئی ترجیح کی وجہ نہ ہو تو اس چیز کو آدھا آدھا بانٹ دیں گے، (ابوداود، حاکم، بیہقی)۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ٢٢ (٣٦١٦، ٣٦١٧)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٦٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشہادات ٢٤ (٢٦٧٤)، مسند احمد (٢/٤٨٩، ٥٢٤) (صحیح )
2330Sunan Ibne-Majah

دو مرد کسی سامان کا دعوی کریں اور کسی کے پاس ثبوت نہ ہو۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْقَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْتَصَمَ إِلَيْهِ رَجُلَانِ بَيْنَهُمَا دَابَّةٌ وَلَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَجَعَلَهَا بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دو آدمی جھگڑا لے کر آئے، اور ان دونوں کے درمیان ایک جانور تھا (جس پر دونوں اپنا اپنا دعویٰ کر رہے تھے) اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہ تھا، تو آپ نے اسے دونوں کو آدھا آدھا بانٹ دیا۔

It was narrated from Abu Musa that two men referred a dispute to the Messenger of Allah ﷺ concerning an animal, and neither of them had proof, so he ruled that it should be divided in half.

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ٢٢ (٣٦١٣، ٣٦١٤، ٣٦١٥)، سنن النسائی/آداب القضاة ٣٤ (٥٤٢٦)، (تحفة الأشراف: ٩٠٨٨)، مسند احمد (٤/٤٠٣) (ضعیف) (قتادہ سے مروی ان احادیث میں روایت ابوموسیٰ اشعری سے ہے، اور بعض رواة نے اسے سعید بن ابی بردہ عن أبیہ مرسلاً روایت کیا ہے، اور بعض حفاظ نے اسے سماک بن حرب سے مرسلاً صحیح مانا ہے، ملاحظہ ہو: تحفة الأشراف: ٩٠٨٨ و الإرواء: ٢٦٥٦ )
2331Sunan Ibne-Majah

دو مرد کسی سامان کا دعوی کریں اور کسی کے پاس ثبوت نہ ہو۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا ضَاعَ لِلرَّجُلِ مَتَاعٌ أَوْ سُرِقَ لَهُ مَتَاعٌ فَوَجَدَهُ فِي يَدِ رَجُلٍ يَبِيعُهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ وَيَرْجِعُ الْمُشْتَرِي عَلَى الْبَائِعِ بِالثَّمَنِ.

سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب آدمی کا کوئی سامان کھو جائے یا چوری ہوجائے، پھر وہ کسی آدمی کو اسے بیچتے ہوئے پائے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے، اور جس نے خریدا وہ اس کے بیچنے والے سے قیمت واپس لے لے ١ ؎۔

It was narrated from Samurah bin Jundub that the Messenger of Allah ﷺ said: "If a man loses something, or it is stolen from him, and he finds it in the possession of a man who bought it, then he has more right to it, and the one who bought it should ask for his money back from the one who sold it to him."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اصل مالک جس کا مال چوری ہوگیا تھا، وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: ٤٦٢٩، ومصباح الزجاجة: ٨١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٣، ١٨) (ضعیف) (حجاج بن أرطاہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے )
2332Sunan Ibne-Majah

جومال جانور خراب کردیں اس کا حکم

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ ابْنَ مُحَيِّصَةَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُأَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ كَانَتْ ضَارِيَةً دَخَلَتْ فِي حَائِطِ قَوْمٍ فَأَفْسَدَتْ فِيهِ فَكُلِّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَقَضَى أَنَّ حِفْظَ الْأَمْوَالِ عَلَى أَهْلِهَا بِالنَّهَارِ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي مَا أَصَابَتْ مَوَاشِيهِمْ بِاللَّيْلِ. حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةَ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ نَاقَةً لِآلِ الْبَرَاءِ أَفْسَدَتْ شَيْئًا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.

ابن محیصہ انصاری ؓ کہتے ہیں کہ براء ؓ کی ایک اونٹنی کو لوگوں کا کھیت چرنے کی عادی تھی، وہ لوگوں کے باغ میں چلی گئی، اور اسے نقصان پہنچا دیا، رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ دن کو اپنے مال کی حفاظت کی ذمہ داری مال والوں کی ہے، اور رات کو جانور جو نقصان پہنچا جائیں اسے جانوروں کے مالکوں کو دینا ہوگا ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Shihab that lbn Muhayyisah Al- Ansari told him that a she-camel belonging to Bara used to wander free. It entered a garden belonging to some people and caused some damage. The Messenger of Allah ﷺ was told of that, and he ruled that property was to be protected by its Owners during the day, but the owners of livestock were responsible for any damage caused by their animals during the night. Another chain from Haram bin Muhayyisah, from Bara bin Azib, that a she-camel belonging to the family of Bara damaged something, and the Messenger of Allah ﷺ issued a similar ruling.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے کہ رات کو جانور والوں کو چاہیے کہ اپنے جانور باندھ کر رکھیں، جب انہوں نے چھوڑ دیا اور کسی کا نقصان کیا تو نقصان ان کو بھرنا پڑے گا۔ براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ براء کے گھر والوں کی ایک اونٹنی نے کسی کا نقصان کردیا تو رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ اسی کے برابر واپس لوٹانے کا فرمایا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٩٢ (٣٥٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاقضیة ٢٨ ( (٣٧)، مسند احمد (٤/٢٩٥، ٥/٤٣٦) (صحیح ) انظرماقبلہ (صحیح )
2333Sunan Ibne-Majah

کوئی شخص کسی چیز کو توڑ ڈالے تو اس کا حکم

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُوءَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَخْبِرِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَوَ مَا تَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ سورة القلم آية 4 قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَصْحَابِهِ فَصَنَعْتُ لَهُ طَعَامًا وَصَنَعَتْ لَهُ حَفْصَةُ طَعَامًا، قَالَتْ: فَسَبَقَتْنِي حَفْصَةُ، فَقُلْتُ لِلْجَارِيَةِ: انْطَلِقِي فَأَكْفِئِي قَصْعَتَهَا فَلَحِقَتْهَا وَقَدْ هَمَّتْ أَنْ تَضَعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكْفَأَتْهَا فَانْكَسَرَتِ الْقَصْعَةُ وَانْتَشَرَ الطَّعَامُ، قَالَتْ: فَجَمَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِيهَا مِنَ الطَّعَامِ عَلَى النِّطَعِ فَأَكَلُوا ثُمَّ بَعَثَ بِقَصْعَتِي فَدَفَعَهَا إِلَى حَفْصَةَ، فَقَالَ: خُذُوا ظَرْفًا مَكَانَ ظَرْفِكُمْ وَكُلُوا مَا فِيهَا، قَالَتْ: فَمَا رَأَيْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

قبیلہ بنی سوءۃ کے ایک شخص کا بیان ہے کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے کہا: مجھ سے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کا حال بیان کیجئیے، تو وہ بولیں: کیا تم قرآن (کی آیت) : وإنک لعلى خلق عظيم یقیناً آپ بڑے اخلاق والے ہیں نہیں پڑھتے؟ ایک بار رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے، میں نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا، اور حفصہ ؓ نے بھی آپ کے لیے کھانا تیار کیا، حفصہ ؓ مجھ سے پہلے کھانا لے آئیں، میں نے اپنی لونڈی سے کہا: جاؤ ان کے کھانے کا پیالہ الٹ دو، وہ حفصہ ؓ کے پاس آئی، اور جب انہوں نے اپنا پیالہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھنا چاہا، تو اس نے اسے الٹ دیا جس سے پیالہ ٹوٹ گیا، اور کھانا بکھر گیا، رسول اللہ ﷺ نے اس گرے ہوئے کھانے کو اور پیالہ میں جو بچا تھا سب کو دستر خوان پر اکٹھا کیا، اور سب نے اسے کھایا، پھر آپ ﷺ نے میرا پیالہ اٹھایا، اور اسے حفصہ کو دے دیا، اور فرمایا: اپنے برتن کے بدلے میں برتن لے لو ، اور جو کھانا اس میں ہے وہ کھالو، ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک پر اس کا کوئی اثر نہیں دیکھا۔

It was narrated that a man from Banu Suwaah said: "I said to Aisha (RA) : Tell me about the character of the Messenger of Allah. She said: Have you not read the Quran: "And verily, you ( O Muhammad ﷺ ) are on an exalted (standard of) character? She said: The Messenger of Allah ﷺ was with his Companions, and I made some food for him, and Hafsah made some food for him, but Hafsah got there before me. So I said to the slave girl: "Overturn her bowl." She went and caught up with her, and she was about to put (the bowl) in front of the Messenger of Allah. She overturned it and the bowl broke, scattering the food. The Messenger of Allah ﷺ gathered the pieces and the food on the leather mat, and they ate. Then he sent for my bowl and gave it to Hafsah, and said: "Take this pot in place of your pot, and eat what is in it" And I did not see any expression of anger on the face of the Messenger of Allah.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: ١٧٨١٣، ومصباح الزجاجة: ٨١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١١١) (ضعیف الإسناد) (سند میں رجل من بنی سوء ة مبہم ہے، لیکن ام المومنین عائشہ ؓ سے دوسری روایت نبوی میں اخلاق والا ٹکڑا ثابت ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ١٢١٣ )
2334Sunan Ibne-Majah

کوئی شخص کسی چیز کو توڑ ڈالے تو اس کا حکم

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَأَرْسَلَتْ أُخْرَى بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ فَضَرَبَتْ يَدَ الرَّسُولِ فَسَقَطَتِ الْقَصْعَةُ فَانْكَسَرَتْ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِسْرَتَيْنِ فَضَمَّ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى فَجَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ وَيَقُولُ: غَارَتْ أُمُّكُمْ كُلُوا، فَأَكَلُوا حَتَّى جَاءَتْ بِقَصْعَتِهَا الَّتِي فِي بَيْتِهَا فَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَى الرَّسُولِ وَتَرَكَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِ الَّتِي كَسَرَتْهَا.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ امہات المؤمنین ؓن میں سے ایک کے پاس تھے، آپ کی کسی دوسری بیوی نے ایک کھانے کا پیالہ بھیجا، پہلی بیوی نے (غصہ سے کھانا لانے والے) کے ہاتھ پر مارا، اور پیالہ گر کر ٹوٹ گیا، رسول اللہ ﷺ نے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا کر ایک کو دوسرے سے جوڑا اور اس میں کھانا اکٹھا کرنے لگے اور فرماتے جاتے تھے: تمہاری ماں کو غیرت آگئی ہے (کہ میرے گھر اس نے کھانا کیوں بھیجا) ، تم کھانا کھاؤ، لوگوں نے کھایا، پھر جن کے گھر میں آپ ﷺ تھے اپنا پیالہ لائیں، تو آپ نے یہ صحیح سالم پیالہ قاصد کو عنایت کردیا، اور ٹوٹا ہوا پیالہ اس بیوی کے گھر میں رکھ چھوڑا جس نے اسے توڑا تھا۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Prophet ﷺ was with one of the Mothers of the Believers (his wives) and another (wife) sent a bowl containing food. She (the first wife) struck the hand of the Messenger and the bowl fell and broke. The Messenger of Allah ﷺ took the two pieces and put them back together. then he started gathering up the food and putting it in (the bowl). He said: Your mother was jealous. Eat’ So they ate, and she (the wife who broke the bowl) brought the bowl that was in her house and gave the intact bowl to the Messenger, who left the broken bowl in the house of the one who broke it"

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٩١ (٣٥٦٧)، سنن الترمذی/الأحکام ٢٣ (١٣٥٩)، سنن النسائی/عشرة النکاح ٤ (٣٤٠٧)، (تحفة الأشراف: ٦٣٣، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المظالم ٣٤ (٢٤٨١)، النکاح ١٠٧ (٥٢٢٥)، مسند احمد (٣/١٠٥، ٢٦٣)، سنن الدارمی/البیوع ٥٨ (٢٦٤٠) (صحیح )
2335Sunan Ibne-Majah

مرد اپنے ہمسایہ کی دیوار پر چھت رکھے

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدَكُمْ جَارُهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ فَلَا يَمْنَعْهُ، فَلَمَّا حَدَّثَهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ طَأْطَئُوا رُءُوسَهُمْ فَلَمَّا رَآهُمْ قَالَ: مَا لِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ وَاللَّهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی سے اس کا پڑوسی اس کی دیوار پر شہ تیر (دھرن یا کڑی) رکھنے کی اجازت مانگے، تو اس کو منع نہ کرے ، جب ابوہریرہ ؓ نے یہ حدیث لوگوں سے بیان کی تو لوگوں نے اپنے سروں کو جھکا لیا، یہ دیکھ کر ابوہریرہ رضی اللہ ؓ نے ان سے کہا: کیوں، کیا ہوا؟ میں دیکھتا ہوں کہ تم اس حدیث سے منہ پھیر رہے ہو، اللہ کی قسم! میں تو اس کو تمہارے شانوں کے درمیان مار کر رہوں گا ١ ؎۔

It was narrated that, Abdur-Rahman Al-Araj said: "I heard Abu Hurairah (RA) narrating that the Prophet ﷺ said: When anyone of you asks his neighbor for permission to fix a piece of wood to his wall, he should not refuse him. When Abu Hurairah (RA) told them this, they lowered their heads, and when he saw them he said: Why do I see you turning away from it? By Allah, I will force you to accept it."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہر وقت تم کو سناؤں گا، یا تمہارے مونڈھوں کے بیچ میں اس حدیث کو لکھ کر لگا دوں گا، تاکہ ہر وقت ہر شخص دیکھے، یا تم اس کو چھپا نہ سکو، یا یہ مطلب ہے کہ تم تو دیوار پر کڑی رکھنے اور لکڑی گاڑ لینے کو گوارہ نہیں کرتے، میں تمہارے کندھوں پر بھی رکھوں گا، بعض روایتوں میں اکنافکم نون سے ہے یعنی تمہارے ہر طرف اس حدیث کو پھیلا دوں گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المظالم ٢٠ (٢٤٦٣)، صحیح مسلم/المساقاة ٢٩ (١٦٠٩)، سنن ابی داود/الأقضیة ٣١ (٣٦٣٤)، سنن الترمذی/الأحکام ١٨ (١٣٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٥٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ٢٦ (٣٢)، مسند احمد (٢/٣٩٦، ٢٤٠، ٢٧٤، ٣٩٦، ٤٦٣) (صحیح )
2336Sunan Ibne-Majah

مرد اپنے ہمسایہ کی دیوار پر چھت رکھے

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ يَحْيَىأَخْبَرَهُ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنْ بَلْمُغِيرَةِ أَعْتَقَ أَحَدَهُمَا أَنْ لَا يَغْرِزَ خَشَبًا فِي جِدَارِهِ، فَأَقْبَلَمُجَمِّعُ بْنُ يَزِيدَ وَرِجَالٌ كَثِيرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَمْنَعْ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ. فَقَالَ: يَا أَخِي إِنَّكَ مَقْضِيٌّ لَكَ عَلَيَّ وَقَدْ حَلَفْتُ فَاجْعَلْ أُسْطُوَانًا دُونَ حَائِطِي أَوْ جِدَارِي فَاجْعَلْ عَلَيْهِ خَشَبَكَ.

عکرمہ بن سلمہ کہتے ہیں بلمغیرہ (بنی مغیرہ) کے دو بھائیوں میں سے ایک نے یہ شرط لگائی کہ اگر میری دیوار میں تم دھرن لگاؤ تو میرا غلام آزاد ہے، پھر مجمع بن یزید ؓ اور بہت سے انصار آئے اور کہنے لگے: ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی (دھرن) گاڑنے سے منع نہ کرے ، یہ سن کر وہ کہنے لگا: میرے بھائی! شریعت کا فیصلہ تمہارے موافق نکلا لیکن چونکہ میں قسم کھاچکا ہوں اس لیے تم میری دیوار کے ساتھ ایک ستون کھڑا کر کے اس پر لکڑی رکھ لو ١ ؎۔

Ikrimah bin Salamah narrated that there were two brothers from among the sons of Mughirah. One of them swore an oath to set a slave free if the other one fixed a piece of wood to his wall. Mujammi bin Yazid and many men from among the Ansar came and said: "We bear witness that the Messenger of Allah ﷺ said: None of you should refuse to let his neighbor fix a piece of wood to his wall" He said: O my brother, judgment has been passed in your favor against me, but I have sworn an oath.’ So go ahead and fix your wood to my wall.”

Notes · وضاحت
١ ؎: بلمغیرة یعنی بني المغیرة اس میں ایک لغت یہ بھی ہے۔ تاکہ تمہارا کام نکل جائے اور میرا نقصان نہ ہو، ورنہ میرا غلام آزاد ہوجائے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٢١٧، ومصباح الزجاجة: ٨٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧٩، ٤٨٠) (حسن) (سند میں ابن جریج مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اور ہشام بن یحییٰ مستور لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، اور عکرمہ بن سلمہ مجہول ہیں )
2337Sunan Ibne-Majah

مرد اپنے ہمسایہ کی دیوار پر چھت رکھے

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَمْنَعْ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً عَلَى جِدَارِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی (دھرن) گاڑنے سے منع نہ کرے ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "There should be neither harming nor reciprocating harm."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٢١١، ومصباح الزجاجة: ٨١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٥٥) (صحیح) (سند میں ابن لھیعہ ہیں، اور عبد اللہ بن وہب کی ان سے روایت صحیح ہے، نیز ابن وہب کی متابعت بھی موجود ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٩٤٧ )
2338Sunan Ibne-Majah

راستہ کی مقدار میں اختلاف ہوجائے تو؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ الضُّبَعِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلُوا الطَّرِيقَ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: راستہ کو سات ہاتھ رکھو ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Make the path seven forearms length wide.”

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ وہاں ہے جہاں ایک جگہ پر کئی لوگ رہتے ہوں اور راستہ کی لمبائی چوڑائی پہلے سے معلوم نہ ہو۔ اب اس میں جھگڑا کریں تو سات ہاتھ کے برابر راستہ چھوڑ دینا چاہیے، لیکن جو راستے پہلے سے بنے ہوئے ہیں اور ان کی لمبائی چوڑائی معلوم ہے، ان میں کسی کو تصرف کرنے مثلاً عمارت بنانے اور راستہ کی زمین تنگ کردینے کا اختیار نہیں ہے، اور سات ہاتھ کا راستہ ضرورت کے لئے کافی ہے، نبی کریم ﷺ کے عہد میں صرف آدمی، گھوڑے اور اونٹ راستوں پر چلتے تھے، ان کے لئے اتنا لمبا چوڑا راستہ کافی تھا، لیکن عام راستے جہاں آمد و رفت عام ہو اور گاڑیاں اور بگھیاں بہت چلتی ہوں وہاں اگر یہ لمبائی اور چوڑائی تنگ ہو تو حاکم کو اختیار ہے جتنا راستہ ضروری معلوم ہو اس کی تحدید کر دے۔
Takhrij · تخریج
دالأقضیة ٣١ (٣٦٣٣)، سنن الترمذی/الأحکام ٢٠ (١٣٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٢٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المظالم ٢٩ (٢٤٧٣)، صحیح مسلم/المساقاة ٣١ (١٦١٣)، مسند احمد (٢/٤٦٦، ٤٧٤) (صحیح )
2339Sunan Ibne-Majah

راستہ کی مقدار میں اختلاف ہوجائے تو؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاجْعَلُوهُ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم راستے کے سلسلہ میں اختلاف کرو تو اسے سات ہاتھ کا کر دو ۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "When you dispute concerning a path, make it seven forearms length wide.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦١٢٨، ومصباح الزجاجة: ٨٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٥، ٣٠٣، ٣١٧) (صحیح )
2340Sunan Ibne-Majah

اپنے حصہ میں ایسی چیز بنانا جس سے ہمسایہ کا نقصان ہو

حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ أَبُو الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَاإِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنْ: لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ.

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا: کسی کو نقصان پہنچانا جائز نہیں نہ ابتداء ً نہ مقابلۃ ً ١ ؎۔

It was narrated from Ubadahh bin Samit that the Messenger of Allah ﷺ ruled: "There should be neither harming nor reciprocating harm."

Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً پڑوسی کے مکان کی طرف ایک نئی کھڑکی یا روشندان کھولے، یا پرنالہ یا نالی نکالے یا ایک پاخانہ گھر بنائے، ان امور میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر پڑوسی کو اس سے نقصان ہوتا ہو تو یہ تصرف صحیح نہ ہوگا، ورنہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٠٦٥، ومصباح الزجاجة: ٨٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٢٦، ٣٢٧) (صحیح) (سند میں اسحاق مجہول الحال راوی ہے، اور اسحاق اور عبادہ ؓ کے مابین انقطاع ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٥٠ و الإرواء: ٨٩٦ ، و غایة المرام ٦٨ )
2341Sunan Ibne-Majah

اپنے حصہ میں ایسی چیز بنانا جس سے ہمسایہ کا نقصان ہو

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی کو نقصان پہنچانا جائز نہیں نہ ابتداء ً نہ مقابلۃ ً ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "There should be neither harming nor reciprocating harm."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٠١٦، ومصباح الزجاجة: ٨٢٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣١٣) (صحیح) (اس سند میں جابر جعفی ضعیف روای ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
2342Sunan Ibne-Majah

اپنے حصہ میں ایسی چیز بنانا جس سے ہمسایہ کا نقصان ہو

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ لُؤْلُؤَةَ، عَنْأَبِي صِرْمَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ضَارَّ أَضَرَّ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ شَاقَّ شَقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ.

ابوصرمہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی کو نقصان پہنچائے گا اللہ تعالیٰ اسے نقصان پہنچائے گا، اور جو کسی پر سختی کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر سختی کرے گا ۔

It was narrated from Abu Sirmah that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever harms others, Allah will harm him; and whoever causes hardship to others Allah will cause hardship to him."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ٣١ (٣٦٣٥)، سنن الترمذی/البروالصلة ٢٧ (١٩٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٥٣) (حسن )
2343Sunan Ibne-Majah

دو مرد ایک جھونپڑی کے دعویدار

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَعَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانٍ، عَنْنِمْرَانَ بْنِ جَارِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ قَوْمًا اخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُصٍّ كَانَ بَيْنَهُمْ فَبَعَثَ حُذَيْفَةَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ فَقَضَى لِلَّذِينَ يَلِيهِمُ الْقِمْطُ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ فَقَالَ: أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ.

جاریہ ؓ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ ایک جھونپڑی کے متعلق جو ان کے بیچ میں تھی جھگڑا لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے، تو آپ ﷺ نے حذیفہ ؓ کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بھیجا، انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جھونپڑی ان کی ہے جن سے رسی قریب ہے، پھر جب وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس آئے، اور انہیں بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے ٹھیک اور اچھا فیصلہ کیا ۔

It was narrated from Nimran bin Jariyah, from his father, that some people referred a dispute to the Prophet ﷺ about a hut, so that he could judge between them. He sent Hudhaifah to judge between them, and he ruled in favor of those who had the rope (with which the hut was binded together). When he went back to the Prophet ﷺ he told him (what he had done) and he said: "You did the right thing, and you did well."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: ٣١٨١، ومصباح الزجاجة: ٨٢٣) (ضعیف جدا) (سند میں نمران بن جاریہ مجہول الحال، اور دھشم بن قران متروک راوی ہیں )
2344Sunan Ibne-Majah

قبضہ کی شرط لگانا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا بِيعَ الْبَيْعُ مِنْ رَجُلَيْنِ فَالْبَيْعُ لِلْأَوَّلِ، قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: إِبْطَالُ الْخَلَاصِ.

سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب مال دو آدمیوں کے ہاتھ بیچا جائے تو وہ مال اس شخص کا ہوگا جس نے پہلے خریدا ١ ؎۔ ابوالولید کہتے ہیں کہ اس حدیث سے خلاصی کی شرط باطل ہوتی ہے۔

It was narrated from (Uqbah bin Amir or) Samurah bin Jundub that the Messenger of Allah ﷺ said: "If a product is sold to two men, it is for the one who was first.” (One of the narrators) Abu Al- Walid said: "This Hadith shows that Khalas is invalid."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر دوسرے خریدار نے اپنے بائع سے یہ شرط لگائی تھی کہ جس طرح تم سے ہو سکے یہ مال چھڑا کر مجھ کو دینا تو یہ شرط مفید نہ ہوگی اور بائع پہلے خریدار سے اس کے چھڑانے پر مجبور نہ کیا جائے گا، مسئلہ کی صورت یہ ہے کہ مثلاً زید کے پاس ایک گھوڑا تھا، زید نے اس کو عمرو کے ہاتھ بیچ دیا، اس کے بعد زید کے وکیل (ایجنٹ) نے اس کو بکر کے ہاتھ بیچ دیا اور بکر نے وکیل سے شرط لگائی کہ اس گھوڑے کو چھڑا کر میرے حوالہ کرنا تمہارے ذمہ ہے، اس نے قبول کیا جب بھی وہ گھوڑا عمرو ہی کو ملے گا کیونکہ اس کی بیع پہلی تھی اور بکر کی بیع دوبارہ صحیح نہیں ہوئی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٥٨٢، ٩٩١٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح ٢٠ (١١١٠)، سنن النسائی/البیوع ٩٤ (٤٦٨٦)، مسند احمد (٥/٨، ١١، ١٢، ١٨، ٢٢)، سنن الدارمی/النکاح ١٥ (٢٢٣٩) (ضعیف) (سند میں حسن بصری مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اور عقیقہ کی حدیث کے علاوہ سمرہ ؓ سے ان کا سماع ثابت نہیں ہے )
2345Sunan Ibne-Majah

قرعہ ڈال کر فیصلہ کرنا

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ لَهُ سِتَّةُ مَمْلُوكِينَ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَأَعْتَقَهُمْ عِنْدَ مَوْتِهِ فَجَزَّأَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً.

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص کے چھ غلام تھے، ان غلاموں کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا، مرتے وقت اس نے ان سب کو آزاد کردیا، رسول اللہ ﷺ نے ان کے حصے کئے (دو دو کے تین حصے) (اور قرعہ اندازی کر کے) دو کو (جن کے نام قرعہ نکلا) آزاد کردیا، اور چار کو بدستور غلام رکھا ١ ؎۔

It was narrated from Imran bin Husain that a man had six slaves, and he did not have any other wealth apart from them, and he set them free when he died. The Messenger of Allah ﷺ divided them into groups, set two free and left four as slaves.

Notes · وضاحت
١ ؎: جب آدمی بیمار ہو تو اس کو چاہیے کہ وارثوں کا خیال رکھے، اور اپنی ساری دولت تقسیم نہ کر دے، اگر ایسا ہی ضروری ہو تو تہائی مال تک اللہ کی راہ میں دے دے، اور دو تہائی دولت وارثوں کے لئے چھوڑ دے، اگر ساری دولت کے صدقہ کی وہ وصیت کرے تو یہ وصیت تہائی مال ہی میں نافذ ہوگی۔ نبی کریم ﷺ نے ایسا ہی کیا، دو غلاموں کو قرعہ ڈال کر آزاد کرایا، اور قرعہ اس واسطے ڈالا کہ وہ جھگڑا نہ کریں، اور وہ وارثوں کی ملکیت میں بدستور غلام رہے، دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس شخص کے حق میں سخت کلمہ کہا کیونکہ اس نے وارثوں کا خیال نہیں رکھا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحدود ٥ (١٦٦٨)، سنن ابی داود/الحدود ٢٥ (٣٩٥٨، ٣٩٥٩)، سنن الترمذی/الأحکام ٢٧ (١٣٦٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٨٠)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجنائز ٦٥ (١٩٦٠)، مسند احمد (٤/٤٢٠، ٤٣٥، ٤٣٧، ٤٤٠) (صحیح )
2346Sunan Ibne-Majah

قرعہ ڈال کر فیصلہ کرنا

حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلَيْنِ تَدَارَءَا فِي بَيْعٍ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ أَحَبَّا ذَلِكَ أَمْ كَرِهَا.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک بیع کے متعلق دو آدمیوں نے جھگڑا کیا، اور ان میں کسی کے پاس گواہ نہیں تھے، آپ ﷺ نے ان دونوں کو قسم کھانے کے لیے قرعہ ڈالنے کا حکم دیا خواہ انہیں یہ فیصلہ پسند ہو یا ناپسند۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that two men disputed concerning a transaction, and neither of them had proof. The Messenger of Allah ﷺ commanded them to draw lots as to which of them should swear an oath, whether they liked it or not.

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ٢٢ (٣٦١٦) وأنظر حدیث رقم: (٢٣٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٨٩، ٥٢٤) (صحیح )
2347Sunan Ibne-Majah

قرعہ ڈال کر فیصلہ کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر پر جاتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ١ ؎۔

It was narrated from Aisha (RA) that when the Prophet ﷺ traveled he would cast lots among his wives (to decide which one would accompany him).

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جس کے نام قرعہ نکلتا اس کو اپنے ساتھ لے جاتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الھبة ١٥ (٢٥٩٣)، المغازي ٣٤ (٤١٤١)، النکاح ٩٧ (٥٠٩٢)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٣ (٢٤٤٥)، التوبة ١٠ (٢٤٤٥)، سنن ابی داود/النکاح ٣٩ (٢١٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٦٦٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٥١، ١٩٧، ٢٦٩)، سنن الدارمی/النکاح ٢٦ (٢٢٤٥)، الجہاد ٣١ (٢٤٦٧)، (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: ١٩٧٠) (صحیح )