Sunan Ibne-Majah 2340

فیصلوں کا بیان

2340Sunan Ibne-Majah

اپنے حصہ میں ایسی چیز بنانا جس سے ہمسایہ کا نقصان ہو

حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ أَبُو الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَاإِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنْ: لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ.

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا: کسی کو نقصان پہنچانا جائز نہیں نہ ابتداء ً نہ مقابلۃ ً ١ ؎۔

It was narrated from Ubadahh bin Samit that the Messenger of Allah ﷺ ruled: "There should be neither harming nor reciprocating harm."

Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً پڑوسی کے مکان کی طرف ایک نئی کھڑکی یا روشندان کھولے، یا پرنالہ یا نالی نکالے یا ایک پاخانہ گھر بنائے، ان امور میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر پڑوسی کو اس سے نقصان ہوتا ہو تو یہ تصرف صحیح نہ ہوگا، ورنہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٠٦٥، ومصباح الزجاجة: ٨٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٢٦، ٣٢٧) (صحیح) (سند میں اسحاق مجہول الحال راوی ہے، اور اسحاق اور عبادہ ؓ کے مابین انقطاع ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٥٠ و الإرواء: ٨٩٦ ، و غایة المرام ٦٨ )