ابوذر غفاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیا میں زہد آدمی کے حلال کو حرام کرلینے، اور مال کو ضائع کرنے میں نہیں ہے، بلکہ دنیا میں زہد (دنیا سے بےرغبتی) یہ ہے کہ جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے، اس پر تم کو اس مال سے زیادہ بھروسہ نہ ہو جو اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور دنیا میں جو مصیبت تم پر آئے تو تم اس پر خوش ہو بہ نسبت اس کے کہ مصیبت نہ آئے، اور آخرت کے لیے اٹھا رکھی جائے ۔ ہشام کہتے ہیں: کہ ابوادریس خولانی کہتے تھے کہ حدیثوں میں یہ حدیث ایسی ہے جیسے سونے میں کندن۔
It was narrated from Abu Dharr (RA) AI-Ghifari that the Messenger of Allah ﷺ said : Indifference towards this world does not mean forbidding what is permitted, or squandering wealth, rather indifference towards this world means not thinking that what you have in your hand is more reliable than what is in Allahs Hand, and it means feeling that the reward for a calamitythat befalls you is greater than that which the calamity makesyou miss out on:" (Daif) Hisham said: "Abu Idris Al-Khawlani said: The likeness of this Hadith compared to other Ahadith is like that of pure gold compared to ordinary gold:"
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزہد ٢٩ (٢٣٤٠)، (تحفة الأشراف: ١١٩٣٥) (ضعیف جدا) (سند میں عمرو بن واقد متروک ہے )
ابوخلاد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جو دنیا کی طرف سے بےرغبت ہے، اور کم گو بھی تو اس سے قربت اختیار کرو، کیونکہ وہ حکمت و دانائی کی بات بتائے گا ۔
It was narrated that Abu Khallad, who was one of the Companions of the Prophet ﷺ , Said "The Messenger of Allah ﷺ said: If you see a man who has been given indifference with regard to this world and who speaks little, then draw close to him for he will indeed offer wisdom. (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٨٩٩، ومصباح الزجاجة: ١٤٥١) (ضعیف) (سند میں ابوفروہ یزید بن سنان جزری ضعیف ہیں )
سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص نے آ کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جسے میں کروں تو اللہ تعالیٰ بھی مجھ سے محبت کرے، اور لوگ بھی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیا سے بےرغبتی رکھو، اللہ تم کو محبوب رکھے گا، اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بےنیاز ہوجاؤ، تو لوگ تم سے محبت کریں گے ۔
It was narrated that Sahl bin Sad As-Saidi said: "A man came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, show me a deed which, if I do it, Allah will love me and people will love me. The Messenger of Allah ﷺ said: "Be indifferent towards this world, and Allah will love you. Be indifferent to what is in peoples hands, and they will love you." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٦٨٧، ومصباح الزجاجة: ١٤٥٢) (صحیح) (سند میں خالد بن عمرو کو ابن معین نے جھوٹ سے متہم کیا ہے، اور صالح جزرہ وغیرہ نے اس کی طرف وضع حدیث کی نسبت کی ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بناء پر اصل حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٩٤٤ )
سمرہ بن سہم کہتے ہیں کہ میں ابوہاشم بن عتبہ ؓ کے پاس گیا، وہ برچھی لگنے سے زخمی ہوگئے تھے، معاویہ ؓ ان کی عیادت کو آئے تو ابوہاشم ؓ رونے لگے، معاویہ ؓ نے کہا: ماموں جان! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا درد کی شدت سے رو رہے ہیں یا دنیا کی کسی اور وجہ سے؟ دنیا کا تو بہترین حصہ گزر چکا ہے، ابوہاشم ؓ نے کہا: میں ان میں سے کسی بھی وجہ سے نہیں رو رہا، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک نصیحت کی تھی، کاش! میں اس پر عمل کئے ہوتا! آپ ﷺ نے فرمایا تھا: شاید تم ایسا زمانہ پاؤ، جب لوگوں کے درمیان مال تقسیم کیا جائے، تو تمہارے لیے اس میں سے ایک خادم اور راہ جہاد کے لیے ایک سواری کافی ہے، لیکن میں نے مال پایا، اور جمع کیا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Wail that a man from his people - Samurah bin Sahm - said: "We stopped with Abu Hashim bin Utbah, who had been stabbed, and Muawiyah came to visit him. Abu Hashim wept and Muawiayah said to him : Why are you weeping? O maternal Uncle? Is there some pain bothering you, or it is because of this world , the best of which has already passed? He said: It is not for any of these reasons.But the Messenger of Allah ﷺ give me some advise and I wish that I had follow it . He ﷺ said: There may come a time when u will see wealth divided among the people, and all u need this is a servant and a mount in the cause of Allah .That time came ,but I accumulated wealth. (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: تو اس پر روتا ہوں کہ آپ ﷺ کی نصیحت پر عمل نہ کرسکا، دوسری روایت میں ہے کہ دنیا میں سے تم کو ایک خادم، ایک سواری اور ایک گھر کافی ہے، اس سے زیادہ جمع کر کے رکھنا ضروری نہیں، دوسرے محتاجوں اور ضرورت مندوں کو دے دے، خود کھائے، دوسروں کو کھلائے، رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرے، یتیموں بیواؤں کی پرورش کرے، مفید عام کاموں میں صرف کرے جیسے مدارس و مساجد بنانے میں، یتیم خانہ اور مسافر خانہ کی تعمیر میں، کنویں اور سڑک کی تعمیر میں، دینی اور اسلامی کتابیں چھاپنے، اور تقسیم کرنے میں، مگر ہزاروں لاکھوں میں کوئی ایسا بندہ ہوتا ہے جو دنیا کو بالکل جمع نہیں کرتا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزہد ١٩ (٢٣٢٧)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ (٥٣٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٢١٧٨)، وقد أخرجہ: (حم ٥/٢٩٠) (حسن) (سند میں سمرہ بن سہم مجہول ہیں، لیکن شواہد سے تقو یت پاکر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: ٥١٨٥ و صحیح الترغیب )
انس ؓ کہتے ہیں کہ سلمان فارسی ؓ بیمار ہوئے تو سعد بن ابی وقاص ؓ ان کی عیادت کے لیے آئے اور ان کو روتا ہوا پایا، سعد ؓ نے ان سے کہا: میرے بھائی آپ کس لیے رو رہے ہیں؟ کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت سے فیض نہیں اٹھایا؟ کیا ایسا نہیں ہے؟ کیا ایسا نہیں ہے؟ سلمان ؓ نے کہا: میں ان دونوں میں سے کسی بھی وجہ سے نہیں رو رہا، نہ تو دنیا کی حرص کی وجہ سے اور نہ اس وجہ سے کہ آخرت کو ناپسند کرتا ہوں، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک نصیحت کی تھی، جہاں تک میرا خیال ہے میں نے اس سلسلے میں زیادتی کی ہے، سعد ؓ نے پوچھا: وہ کیا نصیحت تھی؟ سلمان ؓ نے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا: تم میں سے کسی کے لیے بھی دنیا میں اتنا ہی کافی ہے جتنا کہ مسافر کا توشہ، لیکن میں نے اس سلسلے میں زیادتی کی ہے، اے سعد! جب آپ فیصلہ کرنا تو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا، جب کچھ تقسیم کرنا تو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا، اور جب کسی کام کا قصد کرنا تو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر کرنا۔ ثابت (راوی حدیث) کہتے ہیں کہ مجھے پتہ چلا کہ سلمان ؓ نے بیس سے چند زائد درہم کے علاوہ کچھ نہیں چھوڑا، وہ بھی اپنے خرچ میں سے۔
It was narrated from Thibit that Anas said: "Salman sick and Sad came to visit and when he saw him he wept. Sad said to him: Why are you weeping, my brother? Are you not a Companion of the Messenger of Allah ﷺ ? Are you not? Salman said: I am only weeping for one reason: I am not weeping because of longing for this world or for dislike of the Hereafter. But the Messenger of Allah ﷺ P.U.B.H gave me some advice and I think that I have transgressed. He said: What was his advice to you? He said: He advised me that something like the provision of a rider is sufficient for anyone of you, and I think that I have transgressed that. As for you, a Sad, fear Allah when you pass a verdict, and when you distribute (spoils of war), and when you decide to do anything. (Hasan) Thabit said: "I heard that he only left behind twenty-odd Dirham, from the expenses that he had."
ابان بن عثمان بن عفان کہتے ہیں کہ زید بن ثابت ؓ مروان کے پاس سے ٹھیک دوپہر کے وقت نکلے، میں نے کہا: اس وقت مروان نے ان کو ضرور کچھ پوچھنے کے لیے بلایا ہوگا، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: مروان نے ہم سے کچھ ایسی چیزوں کے متعلق پوچھا جو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھیں، میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا تھا: جس کو دنیا کی فکر لگی ہو تو اللہ تعالیٰ اس پر اس کے معاملات کو پراگندہ کر دے گا، اور محتاجی کو اس کی نگاہوں کے سامنے کر دے گا، جب اس کو دنیا سے صرف وہی ملے گا جو اس کے حصے میں لکھ دیا گیا ہے، اور جس کا مقصود آخرت ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے معاملات کو ٹھیک کر دے گا، اس کے دل کو بےنیازی عطا کرے گا، اور دنیا اس کے پاس ناک رگڑتی ہوئی آئے گی ۔
Abdur-Rahman bin Aban bin Uthman bin "Affan narrated that his father said: "Zaid bin Thabit departed from Marwan at mid-day. I said: He has not sent him out at this time of the the day except for something he asked. So I asked him, and he said: He asked me about some things we heard from the Messenger of Allah ﷺ . I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Whoever is focused only on this world, Allah will confound his affairs and make him fear poverty constantly, and he will not get anything of this world except that which has been decreed for him. Whoever is focused on the Hereafter, Allah will settle his affairs for him and make him feel content with his lot, and his provision and worldly gains will undoubtedly come to him." (Sahih)
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا کہ میں نے تمہارے محترم نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اپنے سارے غموں کو آخرت کا غم بنا لیا تو اللہ تعالیٰ اس کی دنیا کے غم کے لیے کافی ہے، اور جو دنیاوی معاملات کے غموں اور پریشانیوں میں الجھا رہا، تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پروا نہیں کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہوا ۔
Abdullah said: "I heard your Prophet ﷺ say: Whoever focuses all his concerns on one thing. the Hereafter, Allah will relieve him of worldly concerns, but whoever has disparate concerns scattered among a number of worldly issues, Allah wIll not care in which of its valleys he died.": (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩١٦٩، ومصباح الزجاجة: ١٤٥٥) (حسن) (سند میں نہشل متروک راوی ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ حسن ہے )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے یک سو ہوجا تو میں تیرا سینہ بےنیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کر دوں گا، اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیتوں سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا ۔
(Abu) Khalid Al-Walib! narrated from Abu Hurairah (RA) and he (one of the narrators) said: "I do not know except that he attributed it to the Prophet ﷺ " "Allah says: O son of Adam, devote yourself to My worship, and I will fill your heart with contentment and take care of your poverty; but if you do not do that, then I will fill your heart with worldly concerns and will not take care of your poverty.(Hasan)
مستورد ؓ (جو بنی فہر کے ایک فرد تھے) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: دنیا کی مثال آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے، اور پھر دیکھے کہ کتنا پانی اس کی انگلی میں واپس آتا ہے ۔
Mustawrid, a brother of Banu Fihr, said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The likeness of this world in comparison to the Hereafter is that of anyone of you dipping his finger into the sea: let him see what he brings forth.": (Sahih)
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک چٹائی پر لیٹے تو آپ کے بدن مبارک پر اس کا نشان پڑگیا، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، اللہ کے رسول! اگر آپ ہمیں حکم دیتے تو ہم آپ کے لیے اس پر کچھ بچھا دیتے، آپ اس تکلیف سے بچ جاتے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تو دنیا میں ایسے ہی ہوں جیسے کوئی مسافر درخت کے سائے میں آرام کرے، پھر اس کو چھوڑ کر وہاں سے چل دے ۔
It was narrated that Abdullah said: "The Prophet ﷺ lay down on a reed mat, and it left marks on his skin. I said: May my father and mother be ransomed. for you, O Messenge of Allah! If you had told us we would have provided you with something that would save you this trouble. The Messenger of Allah ﷺ said: What is there between myself and the world? This world and I are just like a rider who stops to rest beneath the shade of a tree then goes and leaves it."(Hasan)
سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ذو الحلیفہ میں تھے کہ وہاں ایک مردہ بکری اپنے پاؤں اٹھائے ہوئے پڑی تھی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دیکھو کیا تم یہ جانتے ہو کہ یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک ذلیل و بےوقعت ہے؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جتنی یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک بےقیمت ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ بےوقعت ہے، اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ اس سے کافر کو ایک قطرہ بھی نہ چکھاتا ۔
It was narrated that Sahl bin Sad said: "We were with the Messenger of Allah ﷺ in Dhul-Hulaifah, when we saw a dead sheep lifting its leg (because of bloating). He said: Dont you think this is worthless to its owner? By the One in Whose Hand is my soul, this world is more worthless to Allah than this (dead sheep) is to its owner. If this world was worth the wing of a mosquito to Allah, the disbeliever would not have a drop to drink from it:" (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٦٧٥، ومصباح الزجاجة: ١٤٥٦)، وقد أخرجہ: (حم ١/٣٩١، ٤٤١) (صحیح) (سند میں زکریا بن منظور ضعیف ہے، لیکن شواہد سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٦٨٦ - ٩٤٣- ٣٤٨٢ )
مستورد بن شداد ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک قافلے میں تھا کہ آپ بکری کے ایک پڑے ہوئے مردہ بچے کے پاس آئے، اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ اپنے مالک کے نزدیک حقیر و بےوقعت ہے ؟ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اس کی بےوقعتی ہی کی وجہ سے اس کو یہاں ڈالا گیا ہے، یا اسی طرح کی کوئی بات کہی گئی، آپ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ ذلیل و حقیر ہے جتنی یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک حقیر و بےوقعت ہے ۔
Mustawrid bin Shaddad said: "I was riding with the Messenger of Allah ﷺ when he came across a dead lamb that had been thrown out: He said: Dont you think that this is worthless to its owners? It was said: O Messenger of Allah, it is because It is worthless that they have thrown it out, - or words to that effect. He said: By the One in Whose Hand is my soul, this world is more worthless to Allah than this is to its owners:" (Hasan)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: دنیا ملعون ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے، سوائے اللہ تعالیٰ کی یاد کے، اور اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، یا عالم کے یا متعلم کے ۔
Abu Hurairah (RA) said: , the Messenger of Allah ﷺ saying : ‘This world is cursed and what is in it is cursed, except the remembrance of Allah (Dhikr) and what is conducive to that, or one who has knowledge .” (Hasan)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیا مومن کا جیل اور کافر کی جنت ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "This world is a prison for the believer and a paradise for the disbeliever."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٠٤٦)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزہد (٢٩٥٦)، سنن الترمذی/الزھد ١٦ (٢٣٢٤)، مسند احمد (٢/٣٢٣، ٣٨٩، ٤٨٥) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے جسم کا بعض حصہ (کندھا) تھاما اور فرمایا: عبداللہ! دنیا میں ایسے رہو گویا تم اجنبی ہو یا مسافر، اور اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرو ۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ took hold of some part of my body and said: O Abdullah, be in this world like a stranger, or one who is passing through, and consider yourself as one of the people of the graves." (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزھد ١٥ (٢٣٣٣)، (تحفة الأشراف: ٧٣٨٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق ٣ (٦٤١٨)، من طریق محمد بن عبد الرحمن الطفاوی عن الأعمش عن مجاہد بن جبر ابن عمر، مسند احمد (٢/٢٤، ١٣٢) (صحیح) (سند میں لیث بن أبی سلیم ضعیف راوی ہیں، اسے لئے وعد نفسک من أهل القبور کا جملہ ضعیف ہے، لیکن بقیہ حدیث صحیح ہے، کمافی التخریج )
معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تم کو جنت کے بادشاہوں کے بارے میں نہ بتادوں ؟ میں نے کہا: جی ہاں، بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: کمزور و ناتواں شخص دو پرانے کپڑے پہنے ہو جس کو کوئی اہمیت نہ دی جائے، اگر وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھالے تو وہ اس کی قسم ضرور پوری کرے ۔
It was narrated from Muad h bin Jabal that the Messenger of Allah ﷺ said: "Shall I not tell you about the kings of Paradise? I said: Yes. He said: A weak and oppressed man who wears tattered clothes and is not paid any heed, If he swears (an oath) by Allah, Allah fulfills it.:"
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٣٢٤، ومصباح الزجاجة: ١٤٥٧) (ضعیف) (سند میں سوید بن عبد العزیز ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٧٤١ )
حارثہ بن وہب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہر وہ کمزور اور بےحال شخص جس کو لوگ کمزور سمجھیں، کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر وہ سخت مزاج، پیسہ جوڑ جوڑ کر رکھنے، اور تکبر کرنے والا ۔
Haritha bin Wahab narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: Shall I not tell you about the people of Paradise? Every weak and oppressed one. Shall I not tell you about the people of Hell ? Every harsh and haughy and arrogant one. (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر القرآن (سورةن والقلم) ١ (٤٩١٨)، الأیمان النذور ٩ (٦٦٥٧)، صحیح مسلم/الجنة ١٣ (٢٨٥٣)، سنن الترمذی/صفة جہنم ١٣ (٢٦٠٥)، (تحفة الأشراف: ٣٢٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٠٦) (صحیح )
ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ قابل رشک میرے نزدیک وہ مومن ہے، جو مال و دولت آل و اولاد سے ہلکا پھلکا ہو، جس کو نماز میں راحت ملتی ہو، لوگوں میں گم نام ہو، اور لوگ اس کی پرواہ نہ کرتے ہوں، اس کا رزق بس گزر بسر کے لیے کافی ہو، وہ اس پر صبر کرے، اس کی موت جلدی آجائے، اس کی میراث کم ہو، اور اس پر رونے والے کم ہوں ۔
It was narrated from Abu Umamah that the Messenger of Allah ﷺ said: "The one who most deserved to be envied, in my view, is the one who has the least burden, who prays a great deal and finds joy in prayer, and who is unknown among people and is not paid any heed. His provision will be sufficient, he will be content with it, his death will come quickly, his estate will be small and his mourners will be few," (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٥٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزہد ٣٥، (٢٣٤٧)، مسند احمد (٥/٢٥٢، ٢٥٥) (ضعیف) (ایوب بن سلیمان اور صدقہ بن عبد اللہ ضعیف ہیں، تراجع الألبانی: رقم: ٣٦٤ )
ابوامامہ حارثی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سادگی و پراگندہ حالی ایمان کی دلیل ہے ایمان کا ایک حصہ ہے، سادگی بےجا تکلف کے معنی میں ہے، یعنی زیب و زینت و آرائش سے گریز کرنا۔
It was narrated from Abdullah bin Abi Umamah Al-Harithi that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said:Simplicity is part of faith. (Daif) "He (the narrator) said: “Simplicity means an ascetic and rough life.”
اسماء بنت یزید ؓ کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: کیا میں تم کو یہ نہ بتادوں کہ تم میں بہترین لوگ کون ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا: ضرور، اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جن کو دیکھ کر اللہ یاد آئے ۔
It was narrated from Asma bint Yazid that she heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Shall I not tell you of the best of you?" They said: "Yes, O Messenger of Allah." He said: "The best of you are those who, when they are seen, Allah the Mighty, the Majestic, is remembered." (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٧٧٣، ومصباح الزجاجة: ١٤٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٥٩) (صحیح) (سند میں سوید و شہر بن حوشب ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طریق سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٦٤٦ )