اذان کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 5 · 29 hadiths · Page 1 of 2

706Sunan Ibne-Majah

اذان کی ابتداء

حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ هَمَّ بِالْبُوقِ وَأَمَرَ بِالنَّاقُوسِ فَنُحِتَ، فَأُرِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ فِي الْمَنَامِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ، يَحْمِلُ نَاقُوسًا، فَقُلْتُ لَهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ تَبِيعُ النَّاقُوسَ؟، قَالَ: وَمَا تَصْنَعُ بِهِ؟، قُلْتُ: أُنَادِي بِهِ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ؟ قُلْتُ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: تَقُول: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا رَأَى، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ رَجُلًا عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ يَحْمِلُ نَاقُوسًا، فَقَصَّ عَلَيْهِ الْخَبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ رَأَى رُؤْيَا، فَاخْرُجْ مَعَ بِلَالٍ إِلَى الْمَسْجِدِ فَأَلْقِهَا عَلَيْهِ وَلْيُنَادِ بِلَالٌ، فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ، قَالَ: فَخَرَجْتُ مَعَ بِلَالٍ إِلَى الْمَسْجِدِ فَجَعَلْتُ أُلْقِيهَا عَلَيْهِ وَهُوَ يُنَادِي بِهَا، فَسَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالصَّوْتِ فَخَرَجَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ الَّذِي رَأَى، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ فَأَخْبَرَنِي، أَبُو بَكْرٍ الْحَكَمِيُّ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ فِي ذَلِكَ: أَحْمَدُ اللَّهَ ذَا الْجَلَالِ وَذَا الْإِكْـ ـرَامِ حَمْدًا عَلَى الْأَذَانِ كَثِيرَا إِذْ أَتَانِي بِهِ الْبَشِيرُ مِنَ اللَّـ ـهِ فَأَكْرِمْ بِهِ لَدَيَّ بَشِيرَا فِي لَيَالٍ وَالَى بِهِنَّ ثَلَاثٍ كُلَّمَا جَاءَ زَادَنِي تَوْقِيرَا.

عبداللہ بن زید (عبداللہ بن زید بن عبدربہ) ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بگل بجوانے کا ارادہ کیا تھا (تاکہ لوگ نماز کے لیے جمع ہوجائیں، لیکن یہود سے مشابہت کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا) ، پھر ناقوس تیار کئے جانے کا حکم دیا، وہ تراشا گیا، (لیکن اسے بھی نصاری سے مشابہت کی وجہ سے چھوڑ دیا) ، اسی اثناء میں عبداللہ بن زید ؓ کو خواب دکھایا گیا، انہوں نے کہا کہ میں نے خواب میں دو سبز کپڑے پہنے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنے ساتھ ناقوس لیے ہوئے تھا، میں نے اس سے کہا: اللہ کے بندے! کیا تو یہ ناقوس بیچے گا؟ اس شخص نے کہا: تم اس کا کیا کرو گے؟ میں نے کہا: میں اسے بجا کر لوگوں کو نماز کے لیے بلاؤں گا، اس شخص نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتادوں؟ میں نے پوچھا: وہ بہتر چیز کیا ہے؟ اس نے کہا: تم یہ کلمات کہو الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح . الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، آؤ نماز کے لیے، آؤ نماز کے لیے، آؤ کامیابی کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔ راوی کہتے ہیں: عبداللہ بن زید نکلے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر پورا خواب بیان کیا: عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ایک آدمی کو دو سبز کپڑے پہنے دیکھا، جو ناقوس لیے ہوئے تھا، اور آپ ﷺ سے پورا واقعہ بیان کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے فرمایا: تمہارے ساتھی نے ایک خواب دیکھا ہے ، عبداللہ بن زید ؓ سے فرمایا: تم بلال کے ساتھ مسجد جاؤ، اور انہیں اذان کے کلمات بتاتے جاؤ، اور وہ اذان دیتے جائیں، کیونکہ ان کی آواز تم سے بلند تر ہے ، عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں: میں بلال ؓ کے ساتھ مسجد گیا، اور انہیں اذان کے کلمات بتاتا گیا اور وہ انہیں بلند آواز سے پکارتے گئے، عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں: تو عمر بن خطاب ؓ نے جوں ہی یہ آواز سنی فوراً گھر سے نکلے، اور آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے بھی یہی خواب دیکھا ہے جو عبداللہ بن زید نے دیکھا ہے۔ ابوعبید کہتے ہیں: مجھے ابوبکر حکمی نے خبر دی کہ عبداللہ بن زید انصاری ؓ نے اس بارے میں چند اشعار کہے ہیں جن کا ترجمہ یہ ہے: میں بزرگ و برتر اللہ کی خوب خوب تعریف کرتا ہوں، جس نے اذان سکھائی، جب اللہ کی جانب سے میرے پاس اذان کی خوشخبری دینے والا (فرشتہ) آیا، وہ خوشخبری دینے والا میرے نزدیک کیا ہی باعزت تھا، مسلسل تین رات تک میرے پاس آتا رہا، جب بھی وہ میرے پاس آیا اس نے میری عزت بڑھائی ١ ؎۔

It was narrated from Muhammad bin ‘Abdulláh bin Zaid that his father said that the Messenger of Allah ﷺ was thinking of a horn, and he commanded that a bell be made and it was done. Then ‘ Abdullah bin Zaid (RA) had a dream. He said: “I saw a man wearing two green garments, carrying a bell. I said to him, ‘O slave of Allah, will you sell the bell?’ He said; ‘What will you do with it?’ I said, ‘I will call (the people) to prayer.’ He said, ‘Shall I not tell you of something better than that?’ I said, ‘What is it?’ He said, ‘Say: Allâhu Akbar Allahu Akbar, Allhu Akbar Allahu Akbar; Ash-hadu an Ia ilaha illallah, Ash-hadu an Ia ilaha illaIIah; Ash- hadu anna Muhammadan RasuluIIah Ash-hadu anna Muhammadan Rasulullah; Hayya ‘ala as-salah, Hayya ‘alas-salah; Hayya ‘alal-falah, Hayya ‘alal-falah; Allahu Akbar Allahu Akbar; La ilaha illallah (Allah is the Most Great, Allah is the Most Great, Allah is the Most Great, Allah is the Most Great; I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah, I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah, I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah; Come to the prayer, Come to the prayer; come to the prosperity, Come to the prosperity; Allah is the Most Great, Allah is the Most Great; none has the right to be Worshipped but Allah).”‘Abdullâh bin Zaid went out and came to the Messenger of Allah ﷺ , and told him what he had seen. He said, ‘O Messenger of Allah, I saw a mali wearing two green garments carrying a bell,” and he told him the story. The Messenger of Allah ﷺ said, “Your companion has had a dream. Go out with BiIâl to the Masjid and teach it to him, for he has a louder voice than you.” I (‘Abdullah) went out with Bilal (RA) to the Masjid, and I started teaching him the words and he was calling them out. ‘Umar bin Al-Khattâb heard the voice arid came out saying: “O Messenger of Allah! ﷺ By Allah, I saw the same (dream) as him.” (Hasan) Abu ‘Ubaid said: “ Abu Bakr (RA) Al-Hakami told me that ‘Abdullâh bin Zaid Al-Ansâri said concerning that: I praise Allah, the Possessor of majesty and honor, A great deal of praise for the Adhan. Since the news of it came to me from Allah, So due to it, I was honored by the information. During the three nights. Each of which increased me in honor.’”

Notes · وضاحت
١ ؎: دوسری روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ خواب سچا ہے، انشاء اللہ تعالیٰ اور عمر ؓ کے دیکھنے سے اس کی سچائی کا اور زیادہ یقین ہوا، اس پر بھی نبی اکرم ﷺ نے صرف خواب پر حکم نہیں دیا، بلکہ اس کے بعد آپ پر وحی کی گئی کیونکہ دین کے احکام خواب سے ثابت نہیں ہوسکتے، مگر انبیاء کے خواب وحی میں داخل ہیں، تو عبداللہ بن زید ؓ نے جس شخص کو خواب میں دیکھا وہ اللہ تعالیٰ کا فرشتہ تھا، اور صرف وحی پر جو اکتفا نہیں ہوئی، اور اذان کئی شخصوں کو خواب میں دکھلائی گئی تو اس میں بھی یہ راز تھا کہ نبی اکرم ﷺ کی سچائی اور عظمت کا زیادہ ثبوت ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٨ (٤٩٩)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥ (١٨٩)، (تحفة الأشراف: ٥٣٠٩)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ٣ (٣٧٩)، مسند احمد (٤/٤٢، ٤٣)، سنن الدارمی/الصلاة ٣ (١٢٢٤) (حسن )
707Sunan Ibne-Majah

اذان کی ابتداء

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَشَارَ النَّاسَ لِمَا يُهِمُّهُمْ إِلَى الصَّلَاةِ، فَذَكَرُوا الْبُوقَ، فَكَرِهَهُ مِنْ أَجْلِ الْيَهُودِ، ثُمَّ ذَكَرُوا النَّاقُوسَ، فَكَرِهَهُ مِنْ أَجْلِ النَّصَارَى، فَأُرِيَ النِّدَاءَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَطَرَقَ الْأَنْصَارِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا بِهِ فَأَذَّنَ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَزَادَ بِلَالٌ فِي نِدَاءِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، فَأَقَرَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ الَّذِي رَأَى وَلَكِنَّهُ سَبَقَنِي.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے لوگوں سے اس مسئلہ میں مشورہ کیا کہ نماز کے لیے لوگوں کو اکٹھا کرنے کی کیا صورت ہونی چاہیئے، کچھ صحابہ نے بگل کا ذکر کیا (کہ اسے نماز کے وقت بجا دیا جائے) تو آپ ﷺ نے اسے یہود سے مشابہت کے بنیاد پر ناپسند فرمایا، پھر کچھ نے ناقوس کا ذکر کیا لیکن آپ ﷺ نے اسے بھی نصاریٰ سے تشبیہ کی بناء پر ناپسند فرمایا، اسی رات ایک انصاری صحابی عبداللہ بن زید اور عمر بن خطاب ؓ کو خواب میں اذان دکھائی گئی، انصاری صحابی رات ہی میں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے، آپ ﷺ نے بلال ؓ کو اس کا حکم دیا تو انہوں نے اذان دی۔ زہری کہتے ہیں: بلال ؓ نے صبح کی اذان میں الصلاة خير من النوم نماز نیند سے بہتر ہے کا اضافہ کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے برقرار رکھا۔ عمر ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے بھی وہی خواب دیکھا ہے جو عبداللہ بن زید نے دیکھا ہے، لیکن وہ (آپ کے پاس پہنچنے میں) مجھ سے سبقت لے گئے۔

It was narrated from Salim, from his father, that the Prophet ﷺ consulted the people as to how he could call them to the prayer. They suggested a horn, but he disliked that because of the Jews (because the Jews used a horn). Then they suggested a bell but he disliked that because of the Christians (because the Christians used a bell). Then that night the call to the prayer was shown in a dream to a man from among the Ansâr whose name was ‘Abdullâh bin Zaid, and to ‘Umar bin Khattáb. The Ansari man came to the Messenger of Allah ﷺ at night, and the Messenger of Allah ﷺ commanded Bilal (RA) to give the call to the prayer. (Da’if) Zuhri said: “Bildal added the phrase “As-salâtu khairum minannawm (the prayer is better than sleep)” to the call for the morning prayer, and the Messenger of Allah ﷺ approved of that.”‘Umar said: “O Messenger of Allah ﷺ , I saw the same as he did, but he beat me to it.”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٨٦٦، ومصباح الزجاجة: ٢٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٤٨) (ضعیف) (یہ روایت سنداً ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں ایک روای محمد بن خالد ضعیف ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے یہ حدیث صحیح ہے، کیونکہ بخاری و مسلم میں آئی ہوئی حدیث کے ہم معنی ہے )
708Sunan Ibne-Majah

اذان میں ترجیع

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي مَحْذُورَةَ بْنِ مِعْيَرٍ حِينَ جَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ، فَقُلْتُ لِأَبِي مَحْذُورَةَ: أَيْ عَمِّ إِنِّي خَارِجٌ إِلَى الشَّامِ وَإِنِّي عَنْ تَأْذِينِكَ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ، قَالَ: خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ، فَكُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ عَنْهُ مُتَنَكِّبُونَ، فَصَرَخْنَا َحْكِيهِ نَهْزَأُ بِهِ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا قَوْمًا، فَأَقْعَدُونَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: أَيُّكُمُ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ قَدِ ارْتَفَعَ؟فَأَشَارَ إِلَيَّ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَصَدَقُوا، فَأَرْسَلَ كُلَّهُمْ وَحَبَسَنِي وَقَالَ لِي: قُمْ فَأَذِّنْ، فَقُمْتُ وَلَا شَيْءَ أَكْرَهُ إِلَيَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا مِمَّا يَأْمُرُنِي بِهِ، فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ، فَقَالَ: قُلْ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ لِي: ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ دَعَانِي حِينَ قَضَيْتُ التَّأْذِينَ، فَأَعْطَانِي صُرَّةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ فِضَّةٍ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى نَاصِيَةِ أَبِي مَحْذُورَةَ، ثُمَّ أَمَرَّهَا عَلَى وَجْهِهِ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ ثُمَّ عَلَى كَبِدِهِ، ثُمَّ بَلَغَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُرَّةَ أَبِي مَحْذُورَةَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَرْتَنِي بِالتَّأْذِينِ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَدْ أَمَرْتُكَ، فَذَهَبَ كُلُّ شَيْءٍ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَرَاهِيَةٍ، وَعَادَ ذَلِكَ كُلُّهُ مَحَبَّةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدِمْتُ عَلَى عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ عَامِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، فَأَذَّنْتُ مَعَهُ بِالصَّلَاةِ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ذَلِكَ مَنْ أَدْرَكَ أَبَا مَحْذُورَةَ عَلَى مَا أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ.

عبداللہ بن محیریز جو یتیم تھے اور ابومحذورہ بن معیر کے زیر پرورش تھے، کہتے ہیں کہ جس وقت ابومحذورہ ؓ نے ان کو سامان تجارت دے کر شام کی جانب روانہ کیا، تو انہوں نے ابومحذورہ ؓ سے کہا: چچا جان! میں ملک شام جا رہا ہوں، اور لوگ مجھ سے آپ کی اذان کے سلسلے میں پوچھیں گے، ابومحذورہ نے مجھ سے کہا کہ میں ایک جماعت کے ہمراہ نکلا، ہم راستے ہی میں تھے کہ اسی دوران رسول اللہ ﷺ کے مؤذن نے نماز کے لیے اذان دی ١ ؎ رسول اللہ ﷺ کے پاس ہم نے مؤذن کی آواز سنی چونکہ ہم اس (اذان یا اسلام) سے متنفر تھے (کیونکہ ہم کفر کی حالت میں تھے) اس لیے ہم چلا چلا کر اس کی نقلیں اتارنے اور اس کا ٹھٹھا کرنے لگے، رسول اللہ ﷺ نے سن لیا، آپ ﷺ نے کچھ لوگوں کو بھیجا، انہوں نے ہمیں پکڑ کر آپ کے سامنے حاضر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں وہ کون شخص ہے جس کی آواز ابھی میں نے سنی کافی بلند تھی ، سب لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا، اور وہ سچ بولے، آپ ﷺ نے سب کو چھوڑ دیا اور صرف مجھے روک لیا، اور مجھ سے کہا: کھڑے ہو اذان دو ، میں اٹھا لیکن اس وقت میرے نزدیک نبی اکرم ﷺ سے اور اس چیز سے جس کا آپ مجھے حکم دے رہے تھے زیادہ بری کوئی اور چیز نہ تھی، خیر میں آپ ﷺ کے سامنے کھڑا ہوا، آپ نے خود مجھے اذان سکھانی شروع کی، آپ ﷺ نے فرمایا: کہو: الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله، پھر آپ ﷺ نے مجھ سے کہا: بآواز بلند کہو: أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله، جب میں اذان دے چکا تو آپ ﷺ نے مجھے بلایا اور ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی، پھر اپنا ہاتھ ابومحذورہ کی پیشانی پر رکھا اور اسے ان کے چہرہ، سینہ، پیٹ اور ناف تک پھیرا، پھر فرمایا: اللہ تمہیں برکت دے اور تم پر برکت نازل فرمائے ، پھر میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے مجھے مکہ میں اذان دینے کا حکم دیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، تمہیں حکم دیا ہے بس اس کے ساتھ ہی جتنی بھی نفرت رسول اللہ ﷺ سے تھی وہ جاتی رہی، اور وہ آپ ﷺ کی محبت سے بدل گئی، ابومحذورہ ؓ کہتے ہیں: پھر میں مکہ میں رسول اللہ ﷺ کے عامل عتاب بن اسید ؓ کے پاس آیا، ان کی گورنری کے زمانہ میں میں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم سے نماز کے لیے اذان دی۔ عبدالعزیز بن عبدالملک کہتے ہیں کہ جس طرح عبداللہ بن محیریز نے یہ حدیث مجھ سے بیان کی اسی طرح اس شخص نے بھی بیان کی جو ابومحذورہ ؓ سے ملا تھا۔

Ibn Juraij narrated: “Abdul‘Aziz bin ‘Abdul-Malik bin Abu Mahdhurah narrated from ‘Abdullâh bin Muhairiz who was an orphan under the care of Abu Mahcurah bin Mi’yar that when he was preparing him to travel to sham, he said: ‘O my uncle, I am going out to sham, and I will be asked about how you started the MMn.’ So he informed me that. Abu Mahdhnla}I said: ‘I went out with a group of people, and we were somewhere on the road, when the Mu’adh-dhin of the Messenger of Allah ﷺ gave the call to prayer in the presence of the Messenger of Allah ﷺ . We heard the voice of the Mu’adhdhin, and we were shunning it (the Adhan), so we started yelling, imitating it and mocking it. The Messenger of Allah ﷺ . heard us, so he sent some people who brought us to sit in front of him. He said: ‘Who is the one whose voice I heard so loud?’ The people all pointed to me, and they were telling the truth. He sent them all away, but kept me there and said to me: ‘Stand up and give the call to prayer.’ I stood up and there was nothing more hateful to me than the Messenger of Allah ﷺ and what he was telling me to do. I stood up in front of the Messenger of Allah ﷺ . and the Messenger of Allah ﷺ himself taught me the call. He said: “Say: (Allah is the Most Great, Allah is the Most Great, Allah is the Most Great, Allah is the Most Great; bear witness that none has the right to be worshipped but Allah, I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah; I bear withess that Muhammad is the Messenger of Allah, I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah) ﷺ .’” Then he said: “Raise your voice (and say). Ash—I zadu an hi iluIha illalldh, Ashhadu an hi ilaha illallah; Ash-hadu anna Muhammadan Rasulullah, Ash-hadu anna Muhammadan Rasulullah; Hayya ‘las-salah, Hayya ‘alas-salah; Hayya ‘alal—falah, Hayya ‘alal-falah; ‘Allahu Akbar Alla’hu Akbar; La ilaha iIlaIlah (I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah, I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah, I bear witness that Muhanuriad is the Messenger of Allah; Come to the prayer, come to the prayer; Come to the prosperity, come to the prosperity; Allah is the Most Great, Allah is the Most Great; none has the right to be worshipped but Allah).” Then he called me when I had finished saying the Adha’n, and gave me a small bag in which there was some silver.’ Then he put his hand on the forelock of Abu Mahdhurah, then passed it over his face, then over his chest and over his heart until the hand of the Messenger of Allah ﷺ P.U.B.H reached his navel. Then the Messenger of Allah ﷺ said: ‘May kllah bless you and send lessings upon you.’ I said: ‘O essenger of Allah, do you )mmand me to give the call to rayer in Makkah? He said: ‘Yes, command you (to do so).’ Then ….4- hatred I had felt towards Messenger of Allah ﷺ aisappeared, and was replaced with love for the Messenger of Allah ﷺ . I came to ‘Attab bin the governor of the Messenger of Allah ﷺ ,aj…. in Makkah, and gave the call to prayer with him by command of the Messenger of Allah ﷺ .” (Sahih) He (‘ Abdul Aziz) said: “Someone ,hn met Abu Mahdhurah told mesame as ‘Abdullah bin aairiz told me.”

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے نبی اکرم ﷺ کے اخلاق حسنہ کا حال معلوم ہوتا ہے کہ آپ مخالفین کے ساتھ کس طرح نرمی اور شفقت سے برتاؤ کرتے تھے کہ ان کا دل خود پسیج جاتا، اور وہ اپنے کئے پر شرمندہ ہوتے، جو کوئی برائی کرے اس کے ساتھ بھلائی کرنا یہی اس کو شرمندہ کرنا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٣ (٣٧٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٨ (٥٠٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٦ (١٩١، ١٩٢)، سنن النسائی/الأذان ٣ (٦٣٠)، ٤ (٦٣١)، (تحفة الأشراف: ١٢١٦٩)، مسند احمد (٣/٤٠٨، ٤٠٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٧ (١٢٣٢) (حسن صحیح )
709Sunan Ibne-Majah

اذان میں ترجیع

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، أَنَّ مَكْحُولًا، حَدَّثَهُ، أَنَّعَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ، حَدَّثَهُ، قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً، وَالْإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً، الْأَذَانُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَالْإِقَامَةُ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.

ابومحذورہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اذان کے لیے انیس کلمات اور اقامت کے لیے سترہ کلمات سکھائے، اذان کے کلمات یہ ہیں:الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله۔ اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، آؤ نماز کے لیے، آؤ نماز کے لیے، آؤ کامیابی کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔ اور اقامت کے لیے سترہ کلمات یہ ہیں: الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، آؤ نماز کے لیے، آؤ نماز کے لیے، آؤ کامیابی کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف، نماز قائم ہوگئی، نماز قائم ہوگئی، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ١ ؎

t was narrated that Abu Mahdhurah said: “The Messenger ﷺ of Allah taught me the Adhan with nineteen phrases and the Iqamah with seventeen. The Adhan is: (Allah is the Most Great, Allah is the Most Great, Allah is the Most Great, Allah is the Most Great; I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah, I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah, I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah; I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah, I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah, I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah; Come to the prayer, come to the prayer; come to the prosperity, come to the prosperity; Allah is the Most Great, Allah is the Most Great; none has the right to be worshiped but Allah). And the Iqdmah is seventeen phrases: (Allah is the Most Great, Allah is the Most Great, Allah is th Most Great, Allah is the Most Great; I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah, I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah, I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah; Come to the prayer, come to the prayer; Come to prosperity, come to the prosperity; the prayer is about to begin, the prayer is about to begin; Allah is the Most Great, Allah is the Most Great; none has the right to be worshiped but Allah).” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اور دوسری صحیح روایتوں میں یوں بھی آیا ہے کہ اقامت کے کلمے ایک ایک بار کہے، قد قامت الصلو ۃ اور اللہ اکبر کے سوا کہ وہ دو بار کہے، تو اقامت اس طرح سے ہوگی: الله أكبر، الله أكبر، أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن محمدًا رسول الله، حي على الصلاة، حي على الفلاح، قد قامت الصلاة، قد قامت الصلاة، الله أكبر الله أكبر، لا إله إلا الله۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (حسن صحیح )
710Sunan Ibne-Majah

اذان کا مسنون طریقہ

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَجْعَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، وَقَالَ: إِنَّهُ أَرْفَعُ لِصَوْتِكَ.

مؤذن رسول اللہ ﷺ سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بلال ؓ کو حکم دیا کہ وہ اپنی دونوں انگلیوں کو اپنے دونوں کانوں میں ڈال لیں، اور فرمایا: اس سے تمہاری آواز خوب بلند ہوگی ۔

‘Abdur-Rahman bin Sa’d bin ‘Ammâr bin Sa’d, who was the Muadhdhinthl of the Messenger of Allah ﷺ , narrated from his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ commanded Bildl to put his fingers in his ears when calling the Adhiin, and he said, “It makes the voice louder.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨٢٥، ومصباح الزجاجة: ٢٦٣) (ضعیف) (ابناء سعد عمار و سعد و عبد الرحمن کے ضعف کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے )
711Sunan Ibne-Majah

اذان کا مسنون طریقہ

حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ، وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ، فَخَرَجَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ، فَاسْتَدَارَ فِي أَذَانِهِ، وَجَعَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ.

ابوجحیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں وادی بطحاء میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ ایک سرخ خیمہ میں قیام پذیر تھے، بلال ؓ باہر نکلے اور اذان دی، تو اپنی اذان میں گھوم گئے (جس وقت انہوں نے حي على الصلاة اور حي على الفلاح کے کلمات کہے) ، اور اپنی (شہادت کی) دونوں انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈالیں ١ ؎۔

It was narrated from ‘Awn bin Abu Juhaifah that his father said: “I came to the Messenger of Allah ﷺ in Abtah, when he was in a red tent. Bilâl came out and gave the call to prayer, turning around and putting his fingers in his ears.” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: موذن جب حي على الصلاة کہے، تو دائیں طرف منہ پھیرے، اور جب حي الفلاح کہے تو بائیں طرف منہ پھیرے، اگر اذان کے منارے میں منہ پھیرنے کی گنجائش نہ ہو تو صرف گھوم جائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٨٠٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٥ (٦٣٤)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٥٠٣)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٤ (٥٢٠)، سنن الترمذی/الصلاة ٣٠ (١٩٧)، سنن النسائی/الأذان ١٣ (٦٤٤)، الزینة من المجتبیٰ ٦٩ (٥٣٨٠)، مسند احمد (٤/٣٠٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٨ (١٢٣٤) (صحیح) (اس سند میں حجاج ضعیف ہیں، لیکن متن دوسرے طرق سے صحیح ہے كما في التخريج من طرق سفيان الثوري، و شعبة وغيرهما عن عون به )
712Sunan Ibne-Majah

اذان کا مسنون طریقہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَصْلَتَانِ مُعَلَّقَتَانِ فِي أَعْنَاقِ الْمُؤَذِّنِينَ لَلْمُسْلِمِينَ: صَلَاتُهُمْ، وَصِيَامُهُمْ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں کے دو کام مؤذن کی گردنوں میں لٹکے ہوتے ہیں: ایک نماز، دوسرے روزہ ۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ said: There are two characteristics in which the Muslims are dependent upon their Mu ‘adh-dhins: their prayer and their fasting.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: ٧٧٧٠، ومصباح الزجاجة: ٢٦٤) (موضوع) (سند میں بقیہ مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اور مروان بن سالم وضع حدیث میں متہم راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٩٠٥ )
713Sunan Ibne-Majah

اذان کا مسنون طریقہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ بِلَالٌ لَا يُؤَخِّرُ الْأَذَانَ عَنِ الْوَقْتِ، وَرُبَّمَا أَخَّرَ الْإِقَامَةَ شَيْئًا.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ بلال ؓ اذان وقت سے مؤخر نہ کرتے، اور اقامت کبھی کبھی کچھ مؤخر کردیتے ١ ؎۔

it was narvated that Jâbir bin samurah said: “BilaI did not delay the Adhan from its proper time, but he sometimes delayed the Iqãmah a little.” (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اقامت اس وقت تک نہ ہوتی جب تک نبی اکرم ﷺ حجرہ مبارکہ سے باہر نہ آجاتے، اور آپ کو دیکھ کر بلال ؓ اقامت شروع کرتے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢١٧٨، ومصباح الزجاجة:)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٢٩ (٦٠٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٤٤ (٥٣٧)، سنن الترمذی/الصلاة ٣٤ (٢٠٢) (حسن) (سند میں شریک القاضی سیء الحفظ ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٢٧ )
714Sunan Ibne-Majah

اذان کا مسنون طریقہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: كَانَآخِرُ مَا عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أَتَّخِذَ مُؤَذِّنًا يَأْخُذُ عَلَى الْأَذَانِ أَجْرًا.

عثمان بن ابی العاص ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے آخری وصیت یہ کی تھی کہ میں کوئی ایسا مؤذن نہ رکھوں جو اذان پر اجرت لیتا ہو۔

It was narrated that Uthmân bin Abul-As said: “The last instruction that the Messenger of Allah ﷺ gave to me was that I should not appoint a Mu’adh-d kin who took payment for the Adhan.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٤١ (٢٠٩)، (تحفة الأشراف: ٩٧٦٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٤٠ (٥٣١)، سنن النسائی/الأذان ٣٢ (٦٧٣)، مسند احمد (٤/٢١٧) (صحیح )
715Sunan Ibne-Majah

اذان کا مسنون طریقہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْرَائِيلَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ بِلَالٍ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُثَوِّبَ فِي الْفَجْرِ، وَنَهَانِي أَنْ أُثَوِّبَ فِي الْعِشَاءِ.

بلال ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں فجر کی اذان میں تثويب ١ ؎ کہوں، اور آپ نے عشاء کی اذان میں تثويب سے مجھے منع فرمایا ٢ ؎۔

It was narrated that Bilal (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ commanded me (with Tathwib) in the AdMn for Fafr, and he forbade me to do so in the Adlliãn for ‘Ishâ’.” (Da’if)….

Notes · وضاحت
١ ؎: تثويب کہتے ہیں اعلان کے بعد اعلان کرنے یا اطلاع دینے کو، اور مراد اس سے الصلاة خير من النوم ہے۔ ٢ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ الصلاة خير من النوم کو نبی ﷺ نے فجر کی اذان میں جاری کیا، اور شیعہ جو کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے اس کلمہ کو اذان میں بڑھایا یہ ان کا افتراء ہے، عمر ؓ کا یہ منصب نہیں تھا کہ وہ اذان جیسی عبادت میں اپنی رائے سے گھٹاتے بڑھاتے، یہ منصب تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی کا ہے، پس بعض روایتوں میں جو یہ آیا ہے کہ مؤذن عمر ؓ کو جگانے کے لئے آیا، اور اس نے کہا: الصلاة خير من النوم عمر ؓ نے کہا: اس کلمے کو اپنی اذان میں مقرر کرو، اس سے یہ نہیں نکلتا کہ عمر ؓ نے اس کلمے کو ایجاد کیا، بلکہ احتمال ہے کہ لوگوں نے یہ کلمہ فجر کی اذان میں کہنا چھوڑ دیا ہوگا، تو عمر ؓ نے اس سنت کے جاری کرنے کے لئے تنبیہ کی، یا مطلب یہ ہوگا کہ یہ کلمہ اذان میں کہا کرو، اذان کے باہر اس کے کہنے کا کیا موقع، بہرحال اتباع میں عمر ؓ سب صحابہ سے زیادہ سخت تھے، اور بدعت کے بڑے دشمن تھے، ان کے بارے میں یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ انہوں نے دین میں کوئی بات کتاب و سنت کی دلیل کے بغیر اپنی طرف سے بڑھائی ہو، جب عمر ؓ کو یہ منصب حاصل نہ ہوا حالانکہ دوسری حدیث میں ابوبکر اور عمر کی پیروی کا حکم ہے، اور ایک حدیث میں ہے کہ میری سنت کو لازم کرلو، اور خلفائے راشدین کی سنت کو، تو کسی صحابی، یا امام، یا مجتہد، یا پیر، یا ولی، یا فقیر، یا غوث، یا قطب کو یہ منصب کیوں کر حاصل ہوگا، کہ وہ دین میں بغیر دلیل کے کوئی اضافہ کرے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٣١ (١٩٨)، (تحفة الأشراف: ٢٠٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٤، ١٤٨) (ضعیف) (سند میں ابو اسرائیل ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٣٥ )
716Sunan Ibne-Majah

اذان کا مسنون طریقہ

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْبِلَالٍ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْذِنُهُ بِصَلَاةِ الْفَجْرِ، فَقِيلَ: هُوَ نَائِمٌ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، فَأُقِرَّتْ فِي تَأْذِينِ الْفَجْرِ، فَثَبَتَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ.

بلال ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس نماز فجر کی اطلاع دینے کے لیے آئے، ان کو بتایا گیا کہ آپ سوئے ہوئے ہیں، تو بلال ؓ نے دو بار الصلاة خير من النوم، الصلاة خير من النوم کہا نماز نیند سے بہتر ہے، نماز نیند سے بہتر ہے تو یہ کلمات فجر کی اذان میں برقرار رکھے گئے، پھر معاملہ اسی پر قائم رہا۔

It was narrated that Dual came to the Prophet ﷺ to call him for the Fajr prayer, and was told: “He is sleeping.” He said: “Assalátu khmirum minan-nawm, Assalâtu khairum min an-nawm (The prayer is better than sleep, the prayer is better than sleep). These words were approved of in the Adhan for the Fajr, and that is how it remained. (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: ٢٠٣٣، ومصباح الزجاجة: ٢٦٥) (صحیح) (سند میں ابن المسیب اور بلال ؓ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن ان کی مراسیل علماء کے یہاں مقبول ہیں، نیز اس کے شواہد بھی ہیں، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة )
717Sunan Ibne-Majah

اذان کا مسنون طریقہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا الِإفْرِيقِيُّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَأَمَرَنِي فَأَذَّنْتُ، فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ قَدْ أَذَّنَ، وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ.

زیاد بن حارث صدائی ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ نے مجھے اذان کا حکم دیا، میں نے اذان دی، (پھر جب نماز کا وقت ہوا) تو بلال ؓ نے اقامت کہنی چاہی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صداء کے بھائی (زیاد بن حارث صدائی) نے اذان دی ہے اور جو شخص اذان دے وہی اقامت کہے ۔

It was narrated that Ziyád bin Hârith As-Sudâ’i said: “I was with the Messenger of Allah ﷺ on a journey, and he commanded me to call the Adhân. Bilál wanted to call the lqdrnah, but the Messenger of Allah ﷺ said: ‘The brother of Sudá’ called the Adhan, and the one who calls the Adhan is the one who calls the Iqamah.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٠ (٥١٤)، سنن الترمذی/الصلاة ٣٢ (١٩٩)، (تحفة الأشراف: ٣٦٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦٩) (ضعیف) (اس کی سند میں عبد الرحمن بن زیاد بن انعم الافریقی ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٠ ٣٣٧ )
718Sunan Ibne-Majah

اذان کا مسنون طریقہ

حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، فَقُولُوا مِثْلَ قَوْلِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب مؤذن اذان دے تو تم بھی انہیں کلمات کو دہراؤ ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When the Mu ‘adhdhin calls the Adhian, say as he says.” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: البتہ کوئی عذر ہو یا ضرورت ہو تو دوسرا شخص تکبیر کہہ سکتا ہے، بلا ضرورت ایسا کرنا کہ اذان کوئی دے اور اقامت کوئی کہے مکروہ ہے، یہ امام شافعی کا قول ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک مکروہ نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣١٨٤، ومصباح الزجاجة: ٢٦٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٤٠ (٢٠٨ تعلیقاً ) سنن النسائی/الیوم وللیلة (٣٣) (صحیح) (سند میں عباد بن اسحاق ہیں، جو عبد الرحمن بن اسحاق المدنی ہیں، ان کی حدیث کو نسائی نے خطاء کہا ہے، اور مالک وغیرہ کی زہری سے روایت جسے انہوں نے عطاء بن یزید سے اور عطار نے ابو سعید الخدری سے مرفوعاً روایت کی ہے، اس کو خواب بتایا، اور یہ آگے کی حدیث ( ٧٢٠ ) نمبر کی ہے لیکن اصل حدیث صحیح ہے، ابن خزیمہ اور بوصیری نے حدیث کی تصحیح کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابن خزیمہ: ٤١٢ )
719Sunan Ibne-Majah

اذان کا مسنون طریقہ

حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي أُمُّ حَبِيبَةَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا كَانَ عِنْدَهَا فِي يَوْمِهَا وَلَيْلَتِهَا فَسَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يُؤَذِّنُ، قَالَ كَمَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ.

ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب ان کی باری کے دن و رات ان کے پاس ہوتے، اور مؤذن کی آواز سنتے تو انہی کلمات کو دہراتے جو مؤذن کہتا۔

Umm Habibah narrated that when the Messenger of Allah ﷺ was with her on her day and night, and he heard the Mu’adhdhmn…. calling the Adhan, she heard him saying what he said. (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٨٥٣، ومصباح الزجاجة: ٢٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٢٥) (ضعیف) (سند میں ہشیم مدلس ہیں، اور عبید اللہ بن عتبہ کے بارے میں ذہبی نے کہا: لایکاد یعرف پہنچانے نہیں جاتے )
720Sunan Ibne-Majah

اذان کا مسنون طریقہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْعَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُولُوا كَمَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم مؤذن کی اذان سنو تو اسی طرح کہو جس طرح مؤذن کہتا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When you hear the call (to prayer), say what the Mu’acth-dhin says.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: ان تمام احادیث سے صاف طور پر ثابت ہے کہ اذان کے وقت سننے والوں کو سوائے اذان کے کلمات دہرانے کے کچھ نہ کہنا چاہیے انگوٹھے چومنا یا قر عيني بك يا رسول الله کہنا ان احادیث کی کھلی ہوئی خلاف ورزی ہے، نیز اس حکم سے حي على الصلاة اور حي على الفلاح کے کلمات مستثنیٰ ہیں، سننے والا اس کے جواب میں لا حول ولا قوة إلا بالله کہے گا، جیسا کہ نسائی کی (حدیث رقم: ٦٧٨ ) میں وارد ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٧ (٦١١)، صحیح مسلم/الصلاة ٧ (٣٨٣)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٦ (٥٢٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٤٠ (٢٠٨)، سنن النسائی/الاذان ٣٣ (٦٧٤)، (تحفة الأشراف: ٤١٥٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ١ (٢)، مسند احمد (٣/٦، ٥٣، ٧٨)، سنن الدارمی/الصلاة ١٠ (١٢٣٧) (صحیح )
721Sunan Ibne-Majah

اذان کا مسنون طریقہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ.

سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے مؤذن کی اذان سن کر یہ دعا پڑھی: وأنا أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ تن تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے نبی ہونے سے راضی ہوں تو اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے ١ ؎۔

It was narrated from Sa’d bin Abu Waqqâs that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever says, when he heats the (And I bear witness that none has the right to be worshiped hut Allah alone, with no partner, and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger, and I am content with Allah as my Lord, Islam as my religion and Muhammad as my Prophet),’ his sins will be forgiven to him.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی صغیرہ گناہ اور کیا عجب ہے کہ اللہ جل جلالہ کبائر بخش دے، کیونکہ وہ أرحم الراحمین ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٧ (٣٨٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٦ (٥٢٥)، سنن الترمذی/الصلاة ٤٢ (٢١٠)، سنن النسائی/الأذان ٣٨ (٦٨٠)، (تحفة الأشراف: ٣٨٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٨١) (صحیح )
722Sunan Ibne-Majah

اذان کا مسنون طریقہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ الْأَلْهَانِيُّ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ، إِلَّا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی: اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته اے اللہ! اس مکمل پکار اور قائم ہونے والی نماز کے مالک، محمد ﷺ کو وسیلہ ١ ؎ اور فضیلت ٢ ؎ عطا فرما، آپ کو اس مقام محمود ٣ ؎ تک پہنچا جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے تو اس کے لیے قیامت کے دن شفاعت حلال ہوگئی ٤ ؎۔

It was narrated that Jâbir bin dullah said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever says when hears the call to the prayer: (O Allah, rd of this perfect call and the ayer to be offered, grant ahammad the privilege (of tercession) and also the ence, and resurrect him to the raised position that You have romised),” my intercession for will be permitted on the Day surrection.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اذان سن کر نبی اکرم ﷺ پر صلاۃ وسلام (درود) پڑھنا، اور پھر یہ دعا پڑھنا جیسا کہ صحیح روایات میں وارد ہے باعث اجر و ثواب ہے، اس کے برخلاف اذان سے پہلے اور بعد میں جو کلمات ایجاد کر لئے گئے ہیں، رسول اکرم ﷺ کی صریح مخالفت ہے، جو شفاعت رسول سے محرومی کا باعث ہوسکتی ہے، أعاذنا الله منها۔ ٢ ؎: وسیلہ کے معنی قرب کے اور اس طریقے کے ہیں جس سے انسان اپنے مقصود تک پہنچ جاتا ہو، یہاں مراد جنت کا وہ درجہ ہے جو نبی اکرم ﷺ کو عطا کیا جائے گا۔ ٣ ؎: فضیل ۃ : یہ بھی ایک اعلیٰ مرتبہ ہے، جو نبی اکرم ﷺ کو خصوصیت کے ساتھ تمام مخلوقات پر حاصل ہوگا نیز یہ بھی احتمال ہے کہ یہ وسیلہ کی تفسیر ہو۔ ٤ ؎: مقام محمود: یہ وہ مقام ہے، جو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نبی کریم ﷺ کو عطا فرمائے گا، اور اس جگہ آپ شفاعت عظمیٰ فرمائیں گے، جس کے بعد لوگوں کا حساب و کتاب ہوگا۔ الذی وعدتہ: یہ وعدہ آیت کریمہ عسى أن يبعثک ربک مقاما محمودا عسى أن يبعثک ربک مقاما محمودا (سورة الإسراء: 79) میں کیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٨ (٦١٤)، تفسیر الإسراء ١١ (٤٧١٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٨ (٥٢٩)، سنن الترمذی/الصلاة ٤٣ (٢١١)، سنن النسائی/الأذان ٣٨ (٦٨١)، (تحفة الأشراف: ٣٠٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٥٤) (صحیح )
723Sunan Ibne-Majah

اذان کی فضیلت اور اذازن دینے والوں کا ثواب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ أَبُوهُ فِي حِجْر أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ، قَالَ لِي أَبُو سَعِيدٍ: إِذَا كُنْتَ فِي الْبَوَادِي فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالْأَذَانِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا يَسْمَعُهُ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَجَرٌ وَلَا حَجَرٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ.

عبدالرحمٰن بن ابوصعصعہ (جو ابو سعید خدری ؓ کے زیر پرورش تھے) کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوسعید ؓ نے کہا: جب تم صحراء میں ہو تو اذان میں اپنی آواز بلند کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اذان کو جنات، انسان، درخت اور پتھر جو بھی سنیں گے وہ قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دیں گے ١ ؎۔

It was narrated from ‘Abdullâh bin ‘Abdur-Rahman bin Abu Sa’sa’ah that his father, who was under the care of Abu Sa’eed, said: “Abu Sa’eed said to me: ‘If you are in the desert, raise your voice when you say the Adhân, for I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘No jinn, human, tree or rock will hear it, but it will bear witness for you.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: تو جتنی دور آواز پہنچے گی گواہ زیادہ ہوں گے، اور صحراء و بیابان کی قید اس لئے ہے کہ آبادی میں گواہوں کی کمی نہیں ہوتی، آدمی ہی بہت ہوتے ہیں اس لئے زیادہ آواز بلند کرنے کی ضرورت نہیں، اگرچہ آواز بلند کرنا مستحب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤١٠٥، ومصباح الزجاجة: 268)، وأخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٥ (٦٠٨)، بدء الخلق ١٢ (٣٢٩٦)، التوحید ٥٢ (٧٥٤٨)، سنن النسائی/الأذان ١٤ (٦٤٥)، موطا امام مالک/الصلاة ١ (٥)، مسند احمد (٣/٣٥، ٤٣) (صحیح) (ولا شجر ولا حجر کا لفظ صرف ابن ماجہ میں ہے، اور ابن خزیمہ میں بھی ایسے ہی ہے )
724Sunan Ibne-Majah

اذان کی فضیلت اور اذازن دینے والوں کا ثواب

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ فِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَ صَوْتِهِ، وَيَسْتَغْفِرُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَشَاهِدُ الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حَسَنَةً، وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے اس کی مغفرت کردی جاتی ہے، اور ہر خشک و تر اس کے لیے مغفرت طلب کرتا ہے، اور اذان سن کر نماز میں حاضر ہونے والے کے لیے پچیس ( ٢٥ ) نیکیاں لکھی جاتی ہیں، اور دو نمازوں کے درمیان کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ himself say: ‘The Mu’adh-dhin’s sins will be forgiven as far as his voice reaches, and every wet and dry thing will pray for forgiveness for him. For the one who attends the prayer, twenty-five Hasanât (good deeds) will be recorded, and it will be an expiation (for sins committed) between them (the two prayers).’”

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣١ (٥١٥)، سنن النسائی/الأذان ١٤ (٦٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٦٦، ومصباح الزجاجة: ٢٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٢٩، ٤٥٨) (حسن صحیح) (اس حدیث کو بوصیری نے زوائد ابن ماجہ میں داخل کیا ہے، اور فرمایا ہے کہ ابوداود اور نسائی نے اسے مختصراً ذکر کیا ہے، نیز احمد اور ابن حبان نے بھی اس کی تخریج کی ہے، جب کہ ابو داود میں مکمل سیاق سے ہے، نسائی میں مختصراً ہے اس لئے یہ حدیث زوائد میں نہیں ہے )
725Sunan Ibne-Majah

اذان کی فضیلت اور اذازن دینے والوں کا ثواب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْعِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

معاویہ بن ابی سفیان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مؤذنوں کی گردنیں قیامت کے دن سب سے زیادہ لمبی ہوں گی ١ ؎۔

It was narrated that ‘Esa bin iathafl said: “I heard Mu’âwiyah bin Abu Sufyân say that Messenger of Allah ﷺ said: “The Mu’adhdhins will have the longest necks of all people on the Day of Resurrection.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اور یہ ان کے شرف و اعزاز اور بلند رتبہ کی دلیل ہوگی، اور گردن لمبی ہونے کا یہ مطلب ہے کہ ان کے اعمال زیادہ ہوں گے، یا حقیقت میں گردنیں لمبی ہوں گی، اور وہ جنت کو دیکھتے ہوں گے، یا وہ لوگوں کے سردار ہوں گے، عرب لوگ سردار کو لمبی گردن والا کہتے ہیں، یا وہ پیاسے نہ ہوں گے، اس وجہ سے کہ گردن اٹھی ہوگی، اور لوگ پیاس کے مارے گردن موڑے ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٨ (٣٨٧)، (تحفة الأشراف: ١١٤٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٩٥، ٩٨) (صحیح )