اذان کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 5 · 29 hadiths · Page 2 of 2

726Sunan Ibne-Majah

اذان کی فضیلت اور اذازن دینے والوں کا ثواب

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى أَخُو سُلَيْمٍ الْقَارِيُّ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِيُؤَذِّنْ لَكُمْ خِيَارُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ قُرَّاؤُكُمْ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے اچھے لوگ اذان دیں، اور جو لوگ قاری عالم ہوں وہ امامت کریں ۔

It was narrated that Ibn ‘Abbâs said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Let the best of you give the call to prayer (Adhan), and let those who are most versed in the Qur’an lead you in prayer.’” (Da’if)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٦١ (٥٩٠)، (تحفة الأشراف: ٦٠٣٩) (ضعیف) (اس کی سند میں حسین بن عیسیٰ ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: ٩١ )
727Sunan Ibne-Majah

اذان کی فضیلت اور اذازن دینے والوں کا ثواب

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُخْتَارُ بْنُ غَسَّانَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْأَزْرَقُ الْبُرْجُمِيُّ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ . ح وحَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَذَّنَ مُحْتَسِبًا سَبْعَ سِنِينَ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بَرَاءَةً مِنَ النَّارِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے طلب ثواب کی نیت سے سات سال اذان دی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم سے نجات لکھ دے گا ۔

It was narrated that Ibn ‘Abbâs said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever calls the Adhin for seven years, seeking reward (from Allah), Allah will decree for him deliverance from the Fire.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٠١٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٣٨ (٢٠٦) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں جابر بن یزید الجعفی ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٨٥٠ )
728Sunan Ibne-Majah

اذان کی فضیلت اور اذازن دینے والوں کا ثواب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَذَّنَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَكُتِبَ لَهُ بِتَأْذِينِهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ سِتُّونَ حَسَنَةً، وَلِكُلِّ إِقَامَةٍ ثَلَاثُونَ حَسَنَةً.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے بارہ سال اذان دی، اس کے لیے جنت واجب ہوگئی، اور اس کے لیے ہر روز کی اذان کے بدلے ساٹھ نیکیاں، اور ہر اقامت پہ تیس نیکیاں لکھ دی گئیں ١ ؎۔

It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever calls the Adhãn for twelve years, he will be guaranteed Paradise, arid for each day sixty Hasanat (good deeds) will be recorded for him by virtue of his Adhan, and thirty Hasanãt by virtue of his Iqdmah.” (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: اوپر حدیث میں سات برس کا ذکر ہے، اور اس میں بارہ برس کا یہ تعارض نہیں ہے، کیونکہ سات برس کی اذان دینے میں جب جہنم سے برأت حاصل ہوگئی، تو بارہ برس کی اذان دینے میں جنت ضرور حاصل ہوگی، انشاء اللہ اور بعضوں نے کہا سات برس خلوص نیت کے ساتھ کافی ہیں، اور بارہ برس ہر طرح کافی ہیں، اگرچہ نیت میں صفائی کامل نہ ہو، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٧٨٨، ومصباح الزجاجة: ٢٧٠) (صحیح )
729Sunan Ibne-Majah

کلمات اقامت ایک ایک بارکہنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: الْتَمَسُوا شَيْئًا يُؤْذِنُونَ بِهِ عِلْمًا لِلصَّلَاةِ، فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ، وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں کو ایسی چیز کی تلاش ہوئی جس کے ذریعہ لوگوں کو نماز کے اوقات کی واقفیت ہوجائے، تو بلال ؓ کو حکم ہوا کہ وہ اذان کے کلمات دو دو بار، اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہیں ١ ؎۔

It was narrated that Anas bin Mâlik said: “They looked for something by means of which they could call out informing of (the time oe the prayer. Then Bilâl was commanded to say the phrases of the Adhan twice and the phrases of the Iqinuth once.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اقامت کے کلمات ایک ایک بار بھی کہے تو کافی ہے، کیونکہ اقامت حاضرین کو سنانے کے لئے کافی ہوتی ہے، اس میں تکرار کی ضرورت نہیں، اور عبداللہ بن زید ؓ کی حدیث (طحاوی اور ابن ابی شیبہ) یہ ہے کہ فرشتے نے اذان دی، دو دو بار اور اقامت کہی دو دو بار، مگر اس سے یہ نہیں نکلتا کہ اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہنا کافی نہیں، اور محدثین کے نزدیک تو دونوں امر جائز ہیں، انہوں نے کسی حدیث کے خلاف نہیں کیا، لیکن حنفیہ پر یہ الزام قائم ہوتا ہے کہ افراد اقامت کی حدیثیں صحیح ہیں، تو افراد کو جائز کیوں نہیں سمجھتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١ (٦٠٣)، ٢ (٦٠٥)، ٣ (٦٠٦)، صحیح مسلم/الصلاة ٢ (٣٧٨)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٩ (٥٠٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧ (١٩٣)، سنن النسائی/الأذان ٢ (٦٢٨)، (تحفة الأشراف: ٩٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٠٣، ١٨٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٦ (١٢٣٠) (صحیح )
730Sunan Ibne-Majah

کلمات اقامت ایک ایک بارکہنا

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ، وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ بلال ؓ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان کے کلمات دو دو بار، اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہیں۔

It was narrated that Anas said: “BuldI was commanded to say the phrases of the Adhãn twice and the phrases of the Iqa’mah once.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
731Sunan Ibne-Majah

کلمات اقامت ایک ایک بارکہنا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ عَمَّارُ بْنُ سَعْدٍ، مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّأَذَانَ بِلَالٍ كَانَ مَثْنَى مَثْنَى، وَإِقَامَتَهُ مُفْرَدَةٌ.

رسول اللہ ﷺ کے مؤذن سعد ؓ سے روایت ہے کہ بلال ؓ اذان کے کلمات دو دو بار، اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہتے تھے۔

‘Abdur-Rahmân bin Sa’d bin ‘Ammâr bin Sa’d narrated (from his great-grandfather who was the Mu ‘adhdhin of the Messenger of Allah ﷺ that in the Adhân of Bilál, the phrases were two by two, and in his Iqamah they were said once. (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨٢٦، ومصباح الزجاجة: ٢٧١) (صحیح) (اسناد میں ضعف ہے کیونکہ اولاد سعد مجاہیل ہیں، لیکن اصل حدیث صحیح ہے، اور اس کا معنی صحیح بخاری میں ہے )
732Sunan Ibne-Majah

کلمات اقامت ایک ایک بارکہنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي مُعَمَّرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنِي أَبِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: رَأَيْتُ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثْنَى مَثْنَى، وَيُقِيمُ وَاحِدَةً.

ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے بلال ؓ کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے اذان دیتے دیکھا، وہ اذان کے کلمات دو دو بار کہہ رہے تھے، اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار ١ ؎۔

It was narrated that Abu Râfi’ said: “I saw Bilãl calling the Adhân in front of Allah’s Messenger , (saying the phrases) two by two, and saying each phrase once in the Iqdmah.” (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: ان احادیث سے طحاوی اور ابن جوزی کی یہ روایت باطل ہوگئی کہ بلال ؓ اقامت کے کلمات دو دو بار کہتے رہے یہاں تک کہ فوت ہوگئے، یعنی ایک ایک بار اقامت کے کلمات انہوں نے کہے، کیونکہ یہ شہادت ہے نفی پر اور یہ جائز ہے کہ بلال ؓ نے کبھی اقامت کے کلمات ایک ایک بار بھی کہے ہوں، اور کبھی دو دو بار اور اس راوی نے ایک ایک بار کہنا نہ سنا ہو، اور اس صورت میں دونوں طرح کی روایتوں میں توفیق و تطبیق ہوجائے گی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٢٤، ومصباح الزجاجة: ٢٧٢) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں معمر بن محمد ضعیف ہیں )
733Sunan Ibne-Majah

جب کوء مسجد میں ہو اور اذان ہوجائے تو ( نماز پڑھنے سے قبل) سے باہر نہ نکلے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ يَمْشِي، فَأَتْبَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ بَصَرَهُ حَتَّى خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ہم مسجد میں ابوہریرہ ؓ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں مؤذن نے اذان دی، ایک شخص مسجد سے اٹھ کر جانے لگا تو ابوہریرہ ؓ اسے دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ مسجد سے نکل گیا، اس وقت ابوہریرہ ؓ نے کہا: اس شخص نے نبی اکرم ﷺ کی نافرمانی کی ١ ؎۔

It was narrated that Abu Sha’tha’ said: “We were sitting in the Masjid with Abu Hurairah (RA) when the Mu’adh-dhjn called the Adhan. A man got up and walked out of the Masjid, and Abu Hurairah (RA) followed him with his gaze until he left the Masjid. Then Abu Hurairah (RA) said: ‘This man has disobeyed Abul-Qasim ﷺ ” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: جو لوگ نماز سے فارغ ہونے تک مسجد میں ٹھہرے رہے انہوں نے آپ ﷺ کی فرمانبرداری کی، نبی اکرم ﷺ کا فرمان یہ ہے کہ جب مسجد میں اذان ہوجائے، تو پھر بغیر نماز پڑھے نہ نکلے اگر وہ شخص دوسری جگہ کا امام ہو اور کوئی سخت عذر ہو تو نکلنا جائز ہے، نماز پڑھ کر جائے تو بہتر ہے، اور محدثین کے نزدیک یہ امر جائز ہے کہ ایک شخص جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لے، پھر اسی نماز میں دوسرے لوگوں کی امامت کرے، معاذ ؓ ایسا ہی کیا کرتے تھے، اور ان کی پہلی باجماعت نماز فرض ہوتی تھی اور دوسری امامت والی نماز نفل اور مقتدی ان کے پیچھے فریضہ ادا کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٤٥ (٦٥٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٤٣ (٥٣٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٣٦ (٢٠٤)، سنن النسائی/الأذان ٤٠ (٦٨٤، ٦٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤١٠، ٤١٦، ٤١٧، ٥٠٦، ٥٣٧)، سنن الدارمی/الصلاة ١٢ (١٢٤١) (حسن صحیح )
734Sunan Ibne-Majah

جب کوء مسجد میں ہو اور اذان ہوجائے تو ( نماز پڑھنے سے قبل) سے باہر نہ نکلے۔

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُف مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَدْرَكَهُ الْأَذَانُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ خَرَجَ لَمْ يَخْرُجْ لِحَاجَةٍ وَهُوَ لَا يُرِيدُ الرَّجْعَةَ، فَهُوَ مُنَافِقٌ.

عثمان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مسجد میں ہو، اور اذان ہوجائے پھر وہ بلا ضرورت باہر نکل جائے اور واپس آنے کا ارادہ بھی نہ رکھے، تو وہ منافق ہے ١ ؎۔

It was narrated that Uthman said: "The Messenger of AlIah said Whaeverhearsthe Adhan when he is in the Masjid then goes out and does not go out for any (legitimate) need and does not intend to return, is a hypocrite. (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کا عمل منافق کے عمل کی طرح ہے کہ وہ نماز پڑھنے کا خیال نہیں رکھتا، اور اس میں سستی کرتا ہے، یہ منافق کی نشانی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٨٤١، ومصباح الزجاجة: ٢٧٣) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: ٣٨٤ )، اس سند میں عبد الجبار صاحب مناکیر ہیں، اور ابن أبی فروہ منکر الحدیث لیکن دوسری سند سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٥١٨ )