فتنوں کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 37 · 173 hadiths · Page 1 of 9

3927Sunan Ibne-Majah

لا الہ الا اللہ کہنے والوں سے ہاتھ روکنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا، عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے جنگ کروں جب تک وہ لا إله إلا الله نہ کہہ دیں، جب وہ لا إله إلا الله کا اقرار کرلیں (اور شرک سے تائب ہوجائیں) تو انہوں نے اپنے مال اور اپنی جان کو مجھ سے بچا لیا، مگر ان کے حق کے بدلے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "I have been commanded to fight the people until they say: La ilaiha illallah. If they say it, then their blood and wealth are protected from me, except for a right that is due from it, and their reckoning will be with Allah." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: ان کے حق کے بدلے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نے اس کلمہ کے اقرار کے بعد کوئی ایسا جرم کیا جو قابل حد ہے تو وہ حد اس پر نافذ ہوگی مثلاً چوری کی تو ہاتھ کاٹا جائے گا، زنا کیا تو سو کوڑوں کی یا رجم کی سزا دی جائے گی، کسی کو ناحق قتل کیا تو قصاص میں اسے قتل کیا جائے گا۔ ٢ ؎: اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ قبول اسلام میں مخلص نہیں ہوں گے بلکہ منافقانہ طور پر اسلام کا اظہار کریں گے یا قابل حد جرم کا ارتکاب کریں گے، لیکن اسلامی عدالت اور حکام کے علم میں ان کا جرم نہیں آسکا اور وہ سزا سے بچ گئے، تو ان کا حساب اللہ کے سپرد ہوگا یعنی آخرت میں اللہ تعالیٰ ان کا فیصلہ فرمائے گا۔
Takhrij · تخریج
حدیث حفص بن غیاث أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان ٨ (٢١)، (تحفة الأشراف: ١٢٣٦٧)، وحدیث أبي معاویة أخرجہ: سنن ابی داود/الجہاد ١٠٤ (٢٦٤٠)، سنن الترمذی/الإیمان ١ (٢٦٠٦)، سنن النسائی/المحاربة ١ (٣٩٨١)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٠٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة ١ (١٣٩٩)، الجہاد ١٠٢ (٢٩٤٦)، المرتدین ٣ (٦٩٢٤)، الاعتصام ٢ (٧٢٨٤)، مسند احمد (٢/٥٢٨) (صحیح )
3928Sunan Ibne-Majah

لا الہ الا اللہ کہنے والوں سے ہاتھ روکنا

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے لڑتا رہوں جب تک وہ لا إله إلا الله کا اقرار نہ کرلیں، جب انہوں نے اس کا اقرار کرلیا، تو اپنے مال اور اپنی جان کو مجھ سے بچا لیا، مگر ان کے حق کے بدلے، اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے ۔

It was narrated from Jâbir that the Messenger of Allah ﷺ said: I have been commanded to fight the people until they say: La ilaha illallah. If they say La ilaha illallah, then their and wealth are protected from me, except for a right that is due from it, and their reckoning will be with Allah.(sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٨ (٢١)، سنن النسائی/الجہاد ١ (٣٠٩٢)، تحریم الدم ١ (٣٩٨٢)، (تحفة الأشراف: ٢٢٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٩٤) (صحیح )
3929Sunan Ibne-Majah

لا الہ الا اللہ کہنے والوں سے ہاتھ روکنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ أَوْسًا أَخْبَرَهُ، قَالَ: إِنَّا لَقُعُودٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُصُّ عَلَيْنَا وَيُذَكِّرُنَا، إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ فَسَارَّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبُوا بِهِ فَاقْتُلُوهُ، فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ، دَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلْ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْهَبُوا فَخَلُّوا سَبِيلَهُ، فَإِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ، حَرُمَ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ.

اوس ؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اور آپ حکایات و واقعات سنا کر ہمیں نصیحت فرما رہے تھے، کہ اتنے میں ایک شخص حاضر ہوا، اور اس نے آپ کے کان میں کچھ باتیں کیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے لے جا کر قتل کر دو ، جب وہ جانے لگا تو آپ ﷺ نے اسے پھر واپس بلایا، اور پوچھا: کیا تم لا إله إلا الله کہتے ہو ؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ جاؤ اسے چھوڑ دو، کیونکہ مجھے لوگوں سے لڑائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ لا إله إلا الله کہیں، جب انہوں نے لا إله إلا الله کہہ دیا تو اب ان کا خون اور مال مجھ پر حرام ہوگیا ۔

Amr bin Aws narrated that his father, Aws, told him: We were sitting with the Prophet ﷺ and he was narrating to us and reminding us, when a man came and spoke privately to him. He said: Take him away and kill him: When the man turned away, the Messenger of Allah ﷺ called him back and said: Do you bear witness that none has the right to be worshiped but Allah?" He said, Yes: He said: Then go and let him go, for I have been commanded to fight the people until they say: La ilaha illallah, then if they do that, their blood and wealth are forbidden to me:" (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/تحریم ١ (٣٩٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٨، ومصباح الزجاجة: ١٣٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨)، سنن الدارمی/السیر ١٠ (٢٤٩٠) (صحیح )
3930Sunan Ibne-Majah

لا الہ الا اللہ کہنے والوں سے ہاتھ روکنا

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ السُّمَيْطِ بْنِ السَّمِيرِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، قَالَ: أَتَى نَافِعُ بْنُ الْأَزْرَقِ وَأَصْحَابُهُ، فَقَالُوا: هَلَكْتَ يَا عِمْرَانُ، قَالَ: مَا هَلَكْتُ، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: مَا الَّذِي أَهْلَكَنِي؟ قَالُوا: قَالَ اللَّهُ: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ سورة الأنفال آية 39، قَالَ: قَدْ قَاتَلْنَاهُمْ حَتَّى نَفَيْنَاهُمْ فَكَانَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ، إِنْ شِئْتُمْ حَدَّثْتُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: وَأَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ بَعَثَ جَيْشًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ، فَلَمَّا لَقُوهُمْ قَاتَلُوهُمْ قِتَالًا شَدِيدًا، فَمَنَحُوهُمْ أَكْتَافَهُمْ، فَحَمَلَ رَجُلٌ مِنْ لُحْمَتِي عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بِالرُّمْحِ، فَلَمَّا غَشِيَهُ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِنِّي مُسْلِمٌ، فَطَعَنَهُ فَقَتَلَهُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكْتُ، قَالَ: وَمَا الَّذِي صَنَعْتَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي صَنَعَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَهَلَّا شَقَقْتَ عَنْ بَطْنِهِ فَعَلِمْتَ مَا فِي قَلْبِهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ شَقَقْتُ بَطْنَهُ لَكُنْتُ أَعْلَمُ مَا فِي قَلْبِهِ، قَالَ: فَلَا أَنْتَ قَبِلْتَ مَا تَكَلَّمَ بِهِ، وَلَا أَنْتَ تَعْلَمُ مَا فِي قَلْبِهِ، قَالَ: فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى مَاتَ، فَدَفَنَّاهُ فَأَصْبَحَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ، فَقَالُوا: لَعَلَّ عَدُوًّا نَبَشَهُ، فَدَفَنَّاهُ ثُمَّ أَمَرْنَا غِلْمَانَنَا يَحْرُسُونَهُ، فَأَصْبَحَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ، فَقُلْنَا: لَعَلَّ الْغِلْمَانَ نَعَسُوا، فَدَفَنَّاهُ ثُمَّ حَرَسْنَاهُ بِأَنْفُسِنَا، فَأَصْبَحَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ، فَأَلْقَيْنَاهُ فِي بَعْضِ تِلْكَ الشِّعَابِ. حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ حَفْصٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ السُّمَيْطِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَحَمَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ: فَنَبَذَتْهُ الْأَرْضُ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: إِنَّ الْأَرْضَ لَتَقْبَلُ مَنْ هُوَ شَرٌّ مِنْهُ، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَحَبَّ أَنْ يُرِيَكُمْ تَعْظِيمَ حُرْمَةِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ نافع بن ازرق اور ان کے اصحاب (و تلامیذ) آئے، اور کہنے لگے: عمران! آپ ہلاک و برباد ہوگئے! عمران ؓ نے کہا: میں ہلاک نہیں ہوا، انہوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ ضرور ہلاک ہوگئے، تو انہوں نے کہا: آخر کس چیز نے مجھے ہلاک کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وقاتلوهم حتى لا تکون فتنة ويكون الدين كله لله کافروں و مشرکوں سے قتال کرو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی شرک) باقی نہ رہے، اور دین پورا کا پورا اللہ کا ہوجائے (سورة الأنفال: 39) ، عمران ؓ نے کہا: ہم نے کفار سے اسی طرح لڑائی کی یہاں تک کہ ہم نے ان کو وطن سے باہر نکال دیا، اور دین پورا کا پورا اللہ کا ہوگیا، اگر تم چاہو تو میں تم سے ایک حدیث بیان کروں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، ان لوگوں نے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ کہا: ہاں، میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، میں آپ کے ساتھ موجود تھا، اور آپ نے مسلمانوں کا ایک لشکر مشرکین کے مقابلے کے لیے بھیجا تھا، جب ان کی مڈبھیڑ مشرکوں سے ہوئی، تو انہوں نے ان سے ڈٹ کر جنگ کی، آخر کار مشرکین نے اپنے کندھے ہماری جانب کر دئیے (یعنی ہار کر بھاگ نکلے) ، میرے ایک رشتہ دار نے مشرکین کا تعاقب کر کے ایک مشرک پر نیزے سے حملہ کیا، جب اس کو پکڑ لیا، (اور کافر نے اپنے آپ کو خطرہ میں دیکھا) تو اس نے أشهد أن لا إله إلا الله کہہ کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا، لیکن اس نے اسے برچھی سے مار کر قتل کردیا، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ہلاک اور برباد ہوگیا، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے کیا کیا ؟، ایک بار یا دو بار کہا، اس نے آپ ﷺ سے اپنا وہ واقعہ بتایا جو اس نے کیا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نے اس کا پیٹ کیوں نہیں پھاڑا کہ جان لیتے اس کے دل میں کیا ہے ؟، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر میں اس کا پیٹ پھاڑ دیتا تو کیا میں جان لیتا کہ اس کے دل میں کیا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے نہ تو اس کی بات قبول کی، اور نہ تمہیں اس کی دلی حالت معلوم تھی ١ ؎۔ عمران ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس کے متعلق خاموش رہے، پھر وہ کچھ ہی دن زندہ رہ کر مرگیا، ہم نے اسے دفن کیا، لیکن صبح کو اس کی لاش قبر کے باہر پڑی تھی، لوگوں نے خیال ظاہر کیا کہ کسی دشمن نے اس کی لاش نکال پھینکی ہے، خیر پھر ہم نے اس کو دفن کیا، اس کے بعد ہم نے اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ اس کی قبر کی حفاظت کریں، لیکن پھر صبح اس کی لاش قبر سے باہر پڑی تھی، ہم نے سمجھا کہ شاید غلام سو گئے (اور کسی دشمن نے آ کر پھر اس کی لاش نکال کر باہر پھینک دی) ، آخر ہم نے اس کو دفن کیا، اور رات بھر خود پہرا دیا لیکن پھر اس کی لاش صبح کے وقت قبر کے باہر تھی، پھر ہم نے اس کی لاش ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں ڈال دی ١ ؎۔

It was narrated from Sumait bin Sumair, that Imran bin Husain said: "Nafi bin Azraq and his companions came and said: You are doomed, O Imran! He [Tmran) said: I am not doomed. They said: Yes you are. I said: Why am I doomed? They said: Allah says: "And fight them until there is no more Fitnah (disbelief and polytheism, i.e., worshipping others besides Allah), and the religion (worship) will all be for Allah Alone." He said: We fought them until they were defeated and the religion was all for Allah Alone. If you wish, I will tell you a Hadith that I heard from the Messenger of Allah ﷺ . They said: Did you (really) hear it from the Messenger of Allah ﷺ ? He said: Yes. I was with the Messenger of Allah ﷺ and he had sent an army of the Muslims to the idolators. When they met them they fought them fiercely, and they (the idolators) gave them their shoulders (i.e., turned and fled). A man among my kin attacked an idolator man with a spear, and when he was defeated he said: "I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah, I am a Muslim." But he stabbed him and killed him.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے جب اس نے کلمہ شہادت پڑھ کر اپنے آپ کو مسلمان کہا تو اسے چھوڑ دینا تھا۔ ٢ ؎: نافع بن ازرق وغیرہ نے عمران بن حصین ؓ کو مسلمانوں سے لڑنے کا مشورہ دیا، اور یہ سمجھے کہ آیت میں قتال کا حکم فتنہ کے دفع کرنے کے لئے ہے اور عمران بن حصین ؓ نے اس حکم کو چھوڑ دیا ہے، جب عمران بن حصین ؓ نے یہ جواب دیا کہ آیت میں فتنے سے شرک مراد ہے، اور مشرکین سے ہم ہی لوگوں نے لڑائی کی تھی، اور شرک کو مٹایا تھا، اب تم مسلمانوں سے لڑنا چاہتے ہو جو کلمہ گو ہیں؟ تمہارا حال وہی ہوگا جو اس شخص کا ہوا کہ زمین نے اس کی لاش قبول نہیں کی، اس کو بار بار دفن کرتے تھے، اور زمین اس کو نکال کر قبر سے باہر پھینک دیتی تھی، مسلمان کو قتل کرنے کی یہی سزا ہے، دوسرے ایک صحابی سے منقول ہے کہ مسلمانوں کے آپسی فتنے میں ان کو بھی لڑنے کے لئے کہا گیا، تو انہوں نے کہا کہ ہم نے تو اس واسطے کفار کے خلاف جنگ کی تھی کہ فتنہ باقی نہ رہے اور اللہ تعالیٰ کا دین ایک ہوجائے اور تم اس لئے لڑتے ہو کہ فتنہ پیدا ہو۔ اس سند سے بھی عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ایک سریہ کے ساتھ روانہ کیا تو ایک مسلمان نے ایک مشرک پر حملہ کیا، پھر راوی نے وہی سابقہ قصہ بیان کیا، اور اتنا اضافہ کیا کہ زمین نے اس کو پھینک دیا، اس کی خبر نبی اکرم ﷺ کو دی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: زمین تو اس سے بھی بدتر آدمی کو قبول کرلیتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ تمہیں یہ دکھائے کہ لا إله إلا الله کی حرمت کس قدر بڑی ہے ١ ؎۔ ١ ؎: جب کافر نے لا إله إلا الله کہہ دیا تو اس کو چھوڑ دینا چاہیے اس شخص نے اس کلمے کا احترام نہیں کیا تو اس کی سزا اللہ تعالیٰ نے تم کو دکھلا دی تاکہ آئندہ تم کو خیال رہے کہ کسی مسلمان کو مت قتل کرو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٨٢٨، ومصباح الزجاجة: ١٣٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٣٨) (حسن) (سند میں سوید بن سعید متکلم فیہ راوی ہیں، نیز علی بن مسہر کے یہاں نابینا ہونے کے بعد غرائب کی روایت ہے، لیکن اگلے طریق سے یہ حسن ہے بوصیری نے اس کی تحسین کی ہے ) تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٨٢٨)، ومصباح الزجاجة: ١٣٧٥) (حسن) (آخری عمر میں حفص بن غیاث کے حافظہ میں معمولی تبدیلی آگئی تھی، لیکن سابقہ طریق سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، بوصیری نے اس کی تحسین کی ہے )
3931Sunan Ibne-Majah

اہل ایمان کے خون اور مال کی حرمت

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: أَلَا إِنَّ أَحْرَمَ الْأَيَّامِ يَوْمُكُمْ هَذَا، أَلَا وَإِنَّ أَحْرَمَ الشُّهُورِ شَهْرُكُمْ هَذَا، أَلَا وَإِنَّ أَحْرَمَ الْبَلَدِ بَلَدُكُمْ هَذَا، أَلَا وَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: آگاہ رہو! تمام دنوں میں سب سے زیادہ حرمت والا تمہارا یہ دن ہے، آگاہ رہو! تمام مہینوں میں سب سے زیادہ حرمت والا تمہارا یہ مہینہ ہے، آگاہ رہو! شہروں میں سب سے زیادہ حرمت والا تمہارا یہ شہر ہے، آگاہ رہو! تمہاری جان، تمہارے مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینے میں، تمہارے اس شہر میں، آگاہ رہو! کیا میں نے تمہیں اللہ کا پیغام نہیں پہنچا دیا ؟، لوگوں نے عرض کیا: ہاں، آپ نے پہنچا دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ تو گواہ رہ ۔

It was narrated that Abu Sa’eed said: “The Messenger of A said, during the Farewell Pilgrimage: ‘Is not the most sacred of your days this day, is not the most sacred of your months this month, is not the most sacred of your lands this land? Your blood and your wealth are as sacred to you as this day of yours in this month of yours in this land of yours. Have I not conveyed (the message)?’ They said: ‘Yes.’ He said: ‘O Allah, bear witness.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٠٢٢، ومصباح الزجاجة: ١٣٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٨٠، ٣٧١) (صحیح )
3932Sunan Ibne-Majah

اہل ایمان کے خون اور مال کی حرمت

حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي ضَمْرَةَ نَصْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ النَّصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ، وَيَقُولُ: مَا أَطْيَبَكِ وَأَطْيَبَ رِيحَكِ، مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَحُرْمَةُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ حُرْمَةً مِنْكِ مَالِهِ وَدَمِهِ وَأَنْ، نَظُنَّ بِهِ إِلَّا خَيْرًا.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا، اور آپ ﷺ یہ فرما رہے تھے: تو کتنا عمدہ ہے، تیری خوشبو کتنی اچھی ہے، تو کتنا بڑے رتبہ والا ہے اور تیری حرمت کتنی عظیم ہے، لیکن قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، مومن کی حرمت (یعنی مومن کے جان و مال کی حرمت) اللہ تعالیٰ کے نزدیک تجھ سے بھی زیادہ ہے، اس لیے ہمیں مومن کے ساتھ حسن ظن ہی رکھنا چاہیئے ۔

It was narrated that Abu Sa eed said: "The Messenger of Allah ﷺ said, during the Farewell Pilgrimage: Is not the most sacred of your days this day, is not the most sacred of your months this month, is not the most sacred of your lands this land? Your blood and your wealth are as sacred to you as this day of yours in this month of yours in this land of yours. Have I not conveyed (the message)? They said: Yes. He said: O Allah, bear witness:" (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٢٨٤، ومصباح الزجاجة: ١٣٧٧) (حسن) (سند میں نصر بن محمد ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ٨٩ )
3933Sunan Ibne-Majah

اہل ایمان کے خون اور مال کی حرمت

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَحْيَ، جَمِيعًا، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر مسلمان کا خون، مال اور عزت و آبرو دوسرے مسلمان پر حرام ہے ۔

It was narrated that Abdullah bin Amr said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ the Ka’bahh and saying: How good you are and how good is your fragrance; how you are and how great is your sanctity. By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, the sanctity of the believer is greater before Allah .than your sanctity, his blood and his wealth, and to think anything but good of him:" (Daif) .

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر والصلة ١٠ (٢٥٦٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٧٧، ٣١١، ٣٦٠) (صحیح )
3934Sunan Ibne-Majah

اہل ایمان کے خون اور مال کی حرمت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ، أَنَّ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذُّنُوبَ.

فضالہ بن عبید ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مومن وہ ہے جس سے لوگوں کو اپنی جان اور مال کا خوف اور ڈر نہ ہو، اور مہاجر وہ ہے جو برائیوں اور گناہوں کو ترک کر دے ۔

Fadâlah bin ‘Ubaid narrated that the Prophet ﷺ said: “The believer is the one from whom theft (people’s) wealth and lives are safe, and the Muhajir is the one who forsakes mistakes and sins.” (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠٣٩، ومصباح الزجاجة: ١٣٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٠، ٢١، ٢٢) (صحیح )
3935Sunan Ibne-Majah

لوٹ مار کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً مَشْهُورَةً فَلَيْسَ مِنَّا.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو علی الاعلان اور کھلم کھلا طور پر لوٹ مار کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever plunders openly is not one of us." (Sahih)

Takhrij · تخریج
(یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٢٥٩١)، (تحفة الأشراف: ٢٨٠٠) (ضعیف) لتدلیس ابن جریج وأبی الزبیر
3936Sunan Ibne-Majah

لوٹ مار کی ممانعت

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ أَبْصَارَهُمْ، حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب زانی زنا کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا، اور جب شرابی شراب پیتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا، اور جب چور چوری کرتا ہے تو وہ اس وقت مومن نہیں ہوتا، جب لوٹ مار کرنے والا لوگوں کی نظروں کے سامنے لوٹ مار کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ : "The adultere, at the time he is committing the adultury, is not a believer; at the time he is ,he is not a believer; the thief at the time he is stealing, is not a believer; the plunderer, at the time he is plundering wIth the people looking on, is not a believer. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المظالم ٣٠ (٢٧٧٥)، الأشربة ١ (٥٥٧٨)، الحدود ١ (٦٧٧٢)، صحیح مسلم/الإیمان ٢٤ (٥٧)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٦٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/السنة ١٦ (٤٦٨٩)، سنن الترمذی/الإیمان ١١ (٢٦٢٥)، سنن النسائی/قطع السارق ١ (٤٨٧٤)، الأشربة ٤٢ (٥٦٦٢، ٥٦٦٣)، مسند احمد (٢/٢٤٣، ٣١٧، ٣٧٦، ٣٨٦، ٣٨٩)، سنن الدارمی/الأضاحي ٢٣ (٢٠٣٧)، الأشربة ١١ (٢١٥٢) (صحیح )
3937Sunan Ibne-Majah

لوٹ مار کی ممانعت

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو لوٹ مار کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔

It was narrated from Imran bin Husain that the "Messenger of Allah ﷺ said " Woever plunders is not one of us. (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ٧٠ (٢٥٨١)، سنن الترمذی/النکاح ٢٩ (١١٢٣)، سنن النسائی/النکاح ٦٠ (٣٣٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٣٩، ٤٤١، ٤٤٣، ٤٤٥) (صحیح )
3938Sunan Ibne-Majah

لوٹ مار کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: أَصَبْنَا غَنَمًا لِلْعَدُوِّ، فَانْتَهَبْنَاهَا، فَنَصَبْنَا قُدُورَنَا، فَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقُدُورِ، فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ النُّهْبَةَ لَا تَحِلُّ.

ثعلبہ بن حکم ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں دشمن کی کچھ بکریاں ملیں تو ہم نے انہیں لوٹ لیا، اور انہیں ذبح کر کے ہانڈیوں میں چڑھا دیا، پھر نبی اکرم ﷺ کا گزر ان ہانڈیوں کے پاس ہوا، تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ وہ الٹ دی جائیں، چناچہ وہ ہانڈیاں الٹ دی گئیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: لوٹ مار حلال نہیں ہے ١ ؎۔

It was narrated that Thalabah bin Hakam said: "We came across some of the enemys sheep and plundered them, and set up our cooking pots. The Prophet ﷺ passed by the pots and ordered that they be overturned, then he said: Plunder is not permissible."(Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم عام ہے ہر ایک لوٹ کو شامل ہے معلوم ہوا دین اسلام میں کوئی لوٹ جائز نہیں، اور تہذیب کے بھی خلاف ہے، لوٹ میں کبھی کسی مسلمان کو ایذا و تکلیف پہنچتی ہے اس لئے بانٹ دینا بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٠٧١، ومصباح الزجاجة: ١٣٧٩) (صحیح )
3939Sunan Ibne-Majah

مسلمان سے گالی گلوچ فسق اور اس سے قتال کفر ہے

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق ہے، اور اس سے لڑنا کفر ہے ۔

It was narrated from Ibn Masud that the Messenger of Allah ﷺ said: "Verbally abusing a Muslim is Fusuq disobedience and fighting him is Kufr (ungratefulness to Allah)." (Sahih)

Takhrij · تخریج
(یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٦٩) (تحفة الأشراف: ٩٢٤٣، ٩٢٥١، ٩٢٩٩) (صحیح )
3940Sunan Ibne-Majah

مسلمان سے گالی گلوچ فسق اور اس سے قتال کفر ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق ہے، اور اس سے لڑنا کفر ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Verbally abusing a Muslim is Fusuq (disobedience) and fighting him is Kufr (ungratefulness to Allah)." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٥٠٥، ومصباح الزجاجة: ١٣٨٠) (حسن صحیح) (سند میں ابوہلال الراسبی اور محمد بن الحسن ہیں، اس لئے یہ حسن ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
3941Sunan Ibne-Majah

مسلمان سے گالی گلوچ فسق اور اس سے قتال کفر ہے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ.

سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق، اور اس سے لڑنا کفر ہے ۔

It was narrated from Sa’d that the Messenger of Allah ﷺ :VerbaIIy abusing a Muslim is Fusuq (disobedience) and fighting him is Kufr. (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٩٢٣، ومصباح الزجاجة: ١٣٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٧٨) (صحیح )
3942Sunan Ibne-Majah

رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان کہ میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانا شروع کردو

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعْبَدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: اسْتَنْصِتِ النَّاسَ، فَقَالَ: لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ.

جریر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا: لوگوں کو خاموش کرو پھر فرمایا: تم لوگ میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگے ۔

It was narrated from Jarir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said, during the Farewell Pilgrimage: "Make the people pay attention." Then he said: "Do not turn back in to disbelievers after I am gone, striking one anothers necks." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٤٣ (١٢١)، والمغازي ٧٧ (٤٤٠٥)، الدیات ٢ (٦٨٦٩)، الفتن ٨ (٧٠٨٠)، صحیح مسلم/الإیمان ٢٩ (٦٥)، سنن النسائی/تحریم الدم ٢٥ (٤١٣٦)، (تحفة الأشراف: ٣٢٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٥٨، ٣٦٣، ٣٦٦)، سنن الدارمی/ المناسک ٧٦ (١٩٦٢) (صحیح )
3943Sunan Ibne-Majah

رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان کہ میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانا شروع کردو

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَيْحَكُمْ أَوْ وَيْلَكُمْ، لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم پر افسوس ہے! یا (تمہارے لیے خرابی ہو! ) تم لوگ میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ ان کی طرح تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگے ۔

It was narrated from Ibn "Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Woe to you! Do not turn back into disbelievers after I am gone, striking one anothers necks." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٧٧ (٤٤٠٢، ٤٤٠٣)، الأدب ٩٥ (٦١٦٦)، الحدود ٩ (٦٧٨٥)، الدیات ٢ (٦٨٦٨)، الفتن ٨ (٧٠٧٧)، صحیح مسلم/الإیمان ٢٩ (٦٦)، سنن ابی داود/السنة ١٦ (٤٦٨٦)، سنن النسائی/تحریم الدم ٢٥ (٤١٣٠)، (تحفة الأشراف: ٧٤١٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٨٥، ٨٧، ١٠٤) (صحیح )
3944Sunan Ibne-Majah

رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان کہ میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانا شروع کردو

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ الصُّنَابِحِ الْأَحْمَسِيِّ، قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ، فَلَا تَقَتِّلُنَّ بَعْدِي.

صنابح احمسی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سنو! میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا، اور تمہاری کثرت (تعداد) کی وجہ سے میں دوسری امتوں پر فخر کروں گا، تو تم میرے بعد آپس میں ایک دوسرے کو قتل مت کرنا ۔

It was narrated from Sunabih Al-Ahmas i that the Messenger of Allah ﷺ said: "I shall reach the Cistern (Haud) before you, and I will boast of your great numbers before the nations, so do not fight one another after I am gone.": (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٥٧، ومصباح الزجاجة: ١٣٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٤٩) (صحیح )
3945Sunan Ibne-Majah

تمام اہل اسلام اللہ تعالیٰ کے ذمے ( پناہ) میں ہیں

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَابِسٍ الْيَمَانِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ، فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي عَهْدِهِ، فَمَنْ قَتَلَهُ، طَلَبَهُ اللَّهُ حَتَّى يَكُبَّهُ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ.

ابوبکر صدیق ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز فجر پڑھی وہ اللہ تعالیٰ کے حفظ و امان یعنی پناہ میں ہے، اب تمہیں چاہیئے کہ تم اللہ کے ذمہ و عہد کو نہ توڑو، پھر جو ایسے شخص کو قتل کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے بلا کر جہنم میں اوندھا منہ ڈالے گا ۔

It was narrated from Abu Bakr Siddiq (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever offers the morning prayer, he is under the protection of Allah, so do not betray Allah by betraying those who are under His protection. Whoever kills,him Allah will seek him on his face into well." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٥٩١)، ومصباح الزجاجة: ١٣٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٠) (صحیح) (سند میں سعد بن ابراہیم اور حابس کے درمیان انقطاع ہے، لیکن طبرانی نے صحیح سند سے روایت کی ہے، اس لئے یہ صحیح ہے )
3946Sunan Ibne-Majah

تمام اہل اسلام اللہ تعالیٰ کے ذمے ( پناہ) میں ہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز فجر پڑھی وہ اللہ تعالیٰ کی امان (پناہ) میں ہے ۔

It was narrated from Samurah bin Jundab that the Prophet ﷺ said: "Whoever offers the morning prayer, he is under the protection of Allah, the Mighty and Sublime." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٥٧٨، ومصباح الزجاجة: ١٣٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٠) (ضعیف) (حسن بصری نے سمرہ ؓ سے صرف حدیث عقیقہ سنی ہے، اس لئے اس سند میں انقطاع ہے )