ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (اپنی وفات کے وقت) دینار، درہم، بکری اور اونٹ نہیں چھوڑے اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت کی ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ did not leave behind a Din,ar nor a Dirham, nor a sheep nor a camel, and he did not make a will concerning anything."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دنیاوی امور کے متعلق، کیونکہ آپ ﷺ نے دنیا میں کوئی مال چھوڑا ہی نہیں، اور فرمایا: جو میں چھوڑ جاؤں وہ میری بیویوں اور عامل کی اجرت سے بچے تو وہ صدقہ ہے، سبحان اللہ، جیسے آپ ﷺ دنیا سے صاف رہ کر دنیا میں آئے تھے ویسے دنیا سے تشریف بھی لے گئے، البتہ دین کے متعلق آپ ﷺ نے وصیت کی ہے جیسے دوسری حدیث میں ہے کہ وفات کے وقت بھی آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ نماز کا خیال رکھو، اور غلام لونڈی کا، اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے وفود کی خاطر تواضع کرنے کے لئے وصیت کی، اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے مشرکوں کو جزیرۃ العرب سے نکال دینے کے لئے وصیت کی اور محال ہے کہ آپ اور مومنین کو تو وصیت کی ترغیب دیتے اور خود وصیت نہ فرماتے، آپ ﷺ نے اللہ کی کتاب یعنی قرآن پر چلنے اور اہل بیت سے محبت رکھنے کی وصیت کی۔
طلحہ بن مصرف کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ نے کسی چیز کی وصیت کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، میں نے کہا: پھر کیوں کر مسلمانوں کو وصیت کا حکم دیا؟ تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے اللہ کی کتاب (قرآن) پر چلنے کی وصیت فرمائی ١ ؎۔ مالک کہتے ہیں: طلحہ بن مصرف کا بیان ہے کہ ہزیل بن شرحبیل نے کہا: بھلا ابوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ کے وصی پر حکومت کرسکتے تھے؟ ابوبکر ؓ کا تو یہ حال تھا کہ اگر وہ آپ ﷺ کا حکم پاتے تو تابع دار اونٹنی کی طرح اپنی ناک میں (اطاعت کی) نکیل ڈال لیتے۔
It was narrated from Milik bin Mighwal that Talhah bin Musarrif said: "I said to Abdullah bin Abu Awfa: Did the Messenger of Allah ﷺ make a will concerning anything? He said: No: I said: How come he told the Muslims to make wills? He said: He enjoined (them to adhere to) the Book of Allah:" Malik said: "Talhah bin Musarrif said: Huzail bin Shurahbil said: " Abu Bakr (RA) was granted leadership according to the will of Allahs Messenger?" (Rather) Abu Bakr (RA) wished that he found a covenant (in that regard) from Allahs Messenger, so he could fetter his nose with a (camels) nose ring:"
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس حکم پر سب سے پہلے ابوبکر ؓ چلتے اس کے بعد اور لوگ، کیونکہ ابوبکر ؓ سب صحابہ سے زیادہ نبی اکرم ﷺ کے مطیع تھے، ان کے بارے میں گمان بھی نہیں ہوسکتا کہ نبی کریم ﷺ نے کسی اور کو خلیفہ بنانے کے لئے فرمایا ہو اور خود خلافت لے لیں، بلکہ ابوبکر ؓ کو تو خلافت کی خواہش ہی نہ تھی، جب ثقیفہ بنو ساعدہ میں صلاح و مشورہ ہوا تو ابوبکر ؓ نے یہ رائے دی کہ دو آدمیوں میں سے ایک کے ہاتھ بیعت کرلو، عمر بن خطاب کے ہاتھ پر یا ابو عبیدہ بن جراح کے ہاتھ پر، اور اپنا نام ہی نہ لیا، لیکن عمر ؓ نے زبردستی ان سے بیعت کی، اس پر صحابہ کرام ؓ نے بھی بیعت کرلی، آسمان گرپڑے اور زمین پھٹ جائے ان بےایمانوں پر جو نبی کریم ﷺ کے جانثار جانباز صحابہ کے خلاف الزام تراشی کرتے ہیں، اور معاذ اللہ یہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے صراحۃ علی ؓ کو اپنے بعد خلیفہ بنایا تھا اور صحابہ اس کو جانتے تھے، لیکن عمداً انہوں نے علی ؓ کا حق دبایا اور ابوبکر ؓ کو خلیفہ بنایا: سبحانک هذا بهتان عظيم (سورة النور: 16) اگر صراحت تو کیا نبی کریم ﷺ کا ذرا بھی اشارہ ہوتا کہ آپ ﷺ کے بعد علی ؓ خلیفہ ہیں تو تمام صحابہ جان و دل سے اس حکم کی اطاعت کرتے، اور علی ؓ کو اسی وقت خلیفہ بناتے بلکہ خلافت کے لئے مشورہ ہی نہ کرتے، کیونکہ جو امر منصوص ہو اس میں صلاح و مشورہ کی کیا حاجت ہے، اگر بالفرض ابوبکر صدیق ؓ نے اس حکم کے خلاف بھی کیا ہوتا تو انصار جن کی جماعت بہت تھی وہ کیونکر ابوبکر ؓ کی خلافت قبول کرلیتے بلکہ حدیث پر چلنے کے لئے ان کو مجبور کردیتے، وہ تو حدیث کے ایسے ماننے والے تھے کہ جب ابوبکر ؓ نے یہ حدیث سنائی: الأ ئم ۃ من قریش امام قریش میں سے ہوں گے تو انہوں نے اپنی امامت کا دعوی چھوڑ دیا، پھر وہ دوسرے کی امامت حدیث کے خلاف کیسے مانتے، اور سب سے زیادہ تعجب یہ ہے کہ بنی ہاشم اور خود علی ؓ ابوبکر ؓ کی خلافت کیسے تسلیم کرتے اور ان سے بیعت کیوں کرتے، برا ہو ان کا جو علی ؓ کو ایسا بزدل مانتے ہیں کہ اپنا واجبی حق بھی نہ لے سکے، معاذ اللہ یہ سب دروغ بےفروغ ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے قریب جب آپ کا سانس اٹک رہا تھا تو آپ ﷺ کی عام وصیت یہ تھی: لوگو! نماز اور غلام و لونڈی کا خیال رکھنا ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "What the Messenger of Allah ﷺ most enjoined when he was dying and breathing his last was: The prayer; and those whom your right hands possess:"
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: ١٢٢٩، ومصباح الزجاجة: ٩٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١٧) (صحیح )
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی آخری بات یہ تھی: نماز کا اور اپنے غلام و لونڈی کا خیال رکھنا ١ ؎۔
It was narrated that Ali bin Abu Talib said: "The last words of the Prophet ﷺ were: The prayer; and those whom your right hands possess:"
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نماز کو اپنے وقت پر شرائط اور اداب کے ساتھ پڑھو، بےوقت مت پڑھو، اور اس میں دیر مت کرو، اور غلاموں اور لونڈیوں کا خیال رکھو کہ ان پر ظلم مت کرو، طاقت سے زیادہ ان سے کام نہ لو، ان کو کھانے پہننے کی تکلیف نہ دو، جو لوگ نماز کا خیال نہیں رکھتے اس کو قضاء کردیتے ہیں یا جلدی بغیر خشوع و خضوع کے پڑھ لیتے ہیں یا طہارت میں احتیاط نہیں کرتے یا اپنے لونڈی غلام اور خادم پر ظلم و ستم کرتے ہیں وہ کس طرح کے مسلمان ہیں، جب آپ ﷺ کی آخری وصیت کا بھی ان کو خیال نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ١٣٣ (٥١٥٦)، (تحفة الأ شراف: ١٠٣٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٧٨) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس مسلمان کے پاس وصیت کرنے کے قابل کوئی چیز ہو، اسے یہ حق نہیں ہے کہ وہ دو راتیں بھی اس حال میں گزارے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "The Muslim man has no right to spend two nights, if he has something for which a will should be made, without having a written will with him."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کے پاس مال ہو جس کے لئے وصیت کی ضرورت ہو یا کسی کی امانت ہو تو ضروری ہے کہ ہمیشہ وصیت لکھ کر یا لکھوا کر اپنے پاس رکھا کرے ایسا نہ ہو کہ موت آجائے اور وصیت کی مہلت نہ ملے، اور لوگوں کے حقوق اپنے ذمہ رہ جائیں۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص وصیت کر کے مرا، وہ راہ (راہ راست) پر اور سنت کے مطابق مرا، نیز پرہیزگاری اور شہادت پر اس کا خاتمہ ہوا، اس کی مغفرت ہوگی ۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever dies leaving a will, he dies on the right path and Sunnah, and he dies with piety and witness, and he dies forgiven."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: ٣٠٠٠، ومصباح الزجاجة: ٩٥٦) (ضعیف) (بقیہ مدلس ہیں، اور حدیث عنعنہ سے روایت کی ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مسلمان کے لیے یہ بات مناسب نہیں کہ وہ دو راتیں بھی اس طرح گزارے کہ اس کی وصیت لکھی ہوئی اس کے پاس نہ ہو، جب کہ اس کے پاس وصیت کرنے کے لائق کوئی چیز ہو ۔
It was narrated from Ibn Umar that the Prophet ﷺ said: "The Muslim man has no right to spend two nights, if he has something for which a will should be made, without having a written will with him,"
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کو میراث دلانے سے بھاگے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے جنت کی میراث نہ دے گا ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever tries to avoid giving the inheritance to his heirs, Allah will deprive him of his inheritance in Paradise on the Day of Resurrection.”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: ٨٤٣، ومصباح الزجاجة: ٩٥٧) (ضعیف) (سند میں زید العمی اور ان کے لڑکے عبد الرحیم دونوں ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: ٣٠٧٨ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی ستر سال تک نیک عمل کرتا رہتا ہے، پھر وصیت کے وقت اپنی وصیت میں ظلم کرتا ہے، تو اس کا خاتمہ برے عمل پر ہوتا ہے اور جہنم میں جاتا ہے، اسی طرح آدمی ستر سال تک برے اعمال کا ارتکاب کرتا رہتا ہے لیکن اپنی وصیت میں انصاف کرتا ہے، اس کا خاتمہ بالخیر ہوتا ہے، اور جنت میں جاتا ہے ۔ ابوہریرہ ؓ نے کہا: اگر تم چاہو تو اس آیت کریمہ: تلک حدود الله (سورۃ النساء: ١٣ - ١٤) کو پڑھو یعنی یہ حدود اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرے گا اسے اللہ تعالیٰ جنتیوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے، اور اس کی مقررہ حدوں سے آگے نکلے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ایسوں ہی کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "A man may do the deeds of the people of goodness for seventy years, then when he makes his will, he is unjust in his will, so he ends (his life) with evil deeds and enters Hell. And a man may do the deeds of the people of evil for seventy years, then he is just in his will, so he ends (his life) with good deeds and enters Paradise, " Abu Hurairah (RA) said: "Recite, if you wish: These are the limits (set by) Allah up to His saying a disgraceful torment.”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٤٩٥، ومصباح الزجاجة: ٩٥٨)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الوصایا ٣ (٢٨٦٧)، سنن الترمذی/الوصایا ٢ (٢١١٧)، مسند احمد (٢/٢٧٨) (ضعیف) (ترمذی میں سبعين سنة ہے، اور سند میں شہر بن حوشب ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: ٤٩٥ )
قرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے موت کے وقت اللہ کی کتاب (قرآن) کے موافق وصیت کی تو یہ وصیت اس کی اس زکاۃ کا کفارہ ہوجائے گی جو اس نے اپنی زندگی میں ادا نہ کی ہوگی ۔
It was narrated from Muawiyah bin Qurrah, from his father that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever makes a will as death approaches, and his will is in accordance with the Book of Allah, it will be an expiation for whatever he did not pay of his Zakah during his lifetime.”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: ١١٠٨٦، ومصباح الزجاجة: ٩٥٩) (ضعیف) (بقیہ بن الولید مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اور ابوحلبس مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٠٣٣ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بتائیے کہ لوگوں میں کس کے ساتھ حسن سلوک کا حق مجھ پر زیادہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، تمہارے والد کی قسم، تمہیں بتایا جائے گا، (سب سے زیادہ حقدار) تمہاری ماں ہے ، اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تمہاری ماں ہے ، اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر بھی تمہاری ماں ہے ، اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تمہارا باپ کہا: مجھے بتائیے کہ میں اپنا مال کس طرح صدقہ کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، اللہ کی قسم! یہ بھی تمہیں بتایا جائے گا، صدقہ اس حال میں کرو کہ تم تندرست ہو، مال کی حرص ہو، زندہ رہنے کی امید ہو، فقر و فاقہ کا اندیشہ ہو، ایسا نہ کرو کہ تمہاری سانس یہاں آجائے (تم مرنے لگو) تو اس وقت کہو: میرا یہ مال فلاں کے لیے اور یہ مال فلاں کے لیے ہے، اب تو یہ مال ورثاء کا ہے گرچہ تم نہ چاہو ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “A man came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, tell me, which of the people has most right to my good companionship? He said: Yes, by your father, you will certainly be told. He said: Your mother. He said, Then who? He said: Then your mother. He said: Then who? He said: Then your mother. He said: Then who? He said: Then your father. He said: Tell me, O Messenger of Allah, about my wealth - how should I give in charity? He said: Yes, by Allah, you will certainly be told. You should give in charity when you are still healthy and greedy for wealth, hoping for a long life and fearing poverty. Do not tarry until your soul reaches here and you say: "My wealth is for so-and-so," and "My wealth is for so-and-so," and it will be for them even though you dislike that."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مرتے وقت وہ تمہارا مال ہی کہاں رہا جو تم کہتے ہو کہ میرا یہ مال فلاں اور فلاں کو دینا۔ جب آدمی بیمار ہوا اور موت قریب آپہنچی تو دو تہائی مال پر وارثوں کا حق ہوگیا، اب ایک تہائی پر اختیار رہ گیا اس میں جو چاہے وہ کرلے، لیکن ایک تہائی سے زیادہ اگر صدقہ دے گا تو وہ صحیح نہ ہوگا۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عادت کے طور پر غیر اللہ کی قسم کھانا منع نہیں ہے، کیونکہ نبی کریم نے اس کے باپ کی قسم کھائی، اور بعضوں نے کہا یہ حدیث ممانعت سے پہلے کی ہے، پھر آپ ﷺ نے باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع فرمایا، نیز حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ماں کے ساتھ باپ سے تین حصے زیادہ سلوک کرنا چاہیے کیونکہ ماں کا حق سب پر مقدم ہے، ماں نے بچہ کے پالنے میں جتنی تکلیف اٹھائی ہے اتنی باپ نے نہیں اٹھائی گو باپ کا حق بھی بہت بڑا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٢ (٥٩٧١)، صحیح مسلم/البر والصلة ١ (٢٥٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد ٢/٣٩١) (صحیح )
بسر بن جحاش قرشی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ہتھیلی پر لعاب مبارک ڈالا، اور اس پر شہادت کی انگلی رکھ کر فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! تم مجھے کس طرح عاجز کرتے ہو، حالانکہ میں نے تمہیں اسی جیسی چیز (منی) سے پیدا کیا ہے پھر جب تمہاری سانس یہاں پہنچ جاتی ہے، آپ نے اپنے حلق کی جانب اشارہ فرمایا تو کہتا ہے کہ میں صدقہ کرتا ہوں، اب صدقہ کرنے کا وقت کہاں رہا ؟ ١ ؎۔
It was narrated that Busr bin Jahhash Al-Qurashi that the Prophet ﷺ spat in his palm then pointed to it with his index finger and said: "Allah says: Do you think you can escape from My punishment, O son of Adam, when I have created you from something like this? When your soul reaches here - and (the Prophet) pointed to his throat- You say: I give charity. But it is too late for charity?"
Notes · وضاحت
١ ؎: بلکہ صدقہ کا عمدہ وقت وہ ہے جب آدمی صحیح اور تندرست ہو، اور وہ مال کا محتاج ہو بہت دنوں تک جینے کی توقع ہو، لیکن ان سب باتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے اور اپنا عمدہ مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کرے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: ٢٠١٨، ومصباح الزجاجة: ٩٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢١٠) (حسن )
سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ میں فتح مکہ کے سال ایسا بیمار ہوا کہ موت کے کنارے پہنچ گیا، رسول اللہ ﷺ میری عیادت (بیمار پرسی) کے لیے تشریف لائے، تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میرے پاس بہت سارا مال ہے، اور ایک بیٹی کے علاوہ کوئی وارث نہیں ہے، تو کیا میں اپنے دو تہائی مال کی وصیت کر دوں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: نہیں ، میں نے کہا: پھر آدھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں ، میں نے کہا: تو ایک تہائی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، تہائی، حالانکہ یہ بھی زیادہ ہی ہے ، تمہارا اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ کر جانا، انہیں محتاج چھوڑ کر جانے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں ١ ؎۔
It was narrated from Amir bin Sad that his father said: "I became sick during the year of the Conquest, and was at deaths door. The Messenger of Allah ﷺ came to visit me and I said: O Messenger of Allah, I have a great deal of wealth and no one will inherit from me apart from my daughter. Can I give two thirds of my wealth in charity? He said: No. I said: Then half? He said: No. I said: One third? He said: One third and one third is a lot. If you leave your heirs rich that is better than leaving them destitute and begging from people."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ وصیت تہائی مال سے زیادہ میں نافذ نہ ہوگی، اور دو تہائی وارثوں کو ملے گا اگرچہ وصیت تہائی سے زیادہ یا کل مال کی ہو، جمہور علماء کا یہی قول ہے، لیکن اگر موصی کا کوئی وارث نہ ہو توثلث مال سے زیادہ کی وصیت درست ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہاری وفات کے وقت تم پر تہائی مال کا صدقہ کیا ہے، (یعنی وصیت کی اجازت دی ہے) تاکہ تمہارے نیک اعمال میں اضافہ ہو ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Allah has been charitable with you over the disposal of one third of your wealth at the time of your death, so that you may be able to add to the record of your good deeds."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: ١٤١٨٠، ومصباح الزجاجة: ٩٦١) (حسن) (سند میں طلحہ بن عمرو ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے حسن ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! میں نے دو ایسی چیزیں عنایت کیں جن میں سے ایک پر بھی تمہارا حق نہیں تھا، میں جس وقت تمہاری سانس روکوں اس وقت تمہیں مال کے ایک حصہ (یعنی تہائی مال کے صدقہ کرنے) کا اختیار دیا، تاکہ اس کے ذریعے سے میں تمہیں پاک کروں اور تمہارا تزکیہ کروں، دوسری چیز تمہارے مرنے کے بعد میرے بندوں کا تم پر نماز (جنازہ) پڑھنا ۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "(Allah says :) O son of Adam I have given you two things which you do not deserve (except by the mercy of Allah): I allow you to dispose of a share of your wealth when you are on your deathbed, in order to cleanse and purify you, and My slaves pray for you after your life is over."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: ٨٤٠٧، ومصباح الزجاجة: ٩٦٢) (ضعیف) (سند میں صالح بن محمد بن یحییٰ مجہول ہیں، اور مبارک بن حسان ضعیف اور منکر الحدیث )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میری تمنا ہے کہ لوگ تہائی مال کے بجائے چوتھائی مال میں وصیت کریں، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک تہائی حصہ بھی بڑا ہے یا زیادہ ہے ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "I would like the people to reduce (the will) from one third to one quarter, because the Messenger of Allah ﷺ said: One third is a lot.’"
عمرو بن خارجہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو اس حال میں خطبہ دیا کہ آپ اپنی سواری (اونٹنی) پر تھے، وہ جگالی کر رہی تھی، اور اس کا لعاب میرے مونڈھوں کے درمیان بہہ رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر وارث کے لیے میراث کا حصہ متعین کردیا ہے، لہٰذا کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر اس کی ولادت ہوئی، اور زنا کرنے والے کے لیے پتھر ہے، جو شخص اپنے باپ دادا کے علاوہ دوسرے کی طرف نسبت کا دعویٰ کرے یا (غلام) اپنے مالک کے علاوہ دوسرے شخص کو مالک بنائے، تو اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا نفل قبول ہوگا، نہ فرض یا یوں کہا کہ نہ فرض قبول ہوگا نہ نفل ١ ؎۔
It was narrated from Amr bin Kharijah: "The Prophet ﷺ addressed them when he was on his camel. His camel was chewing its cud and its saliva was dripping between my shoulders. He said: Allah has allocated for each heir his share of the inheritance, so it is not permissible (to make) a bequest for an heir. The child belongs to the bed and the adulterer gets the stone. Whoever claims to belong to someone other than his father, or (a freed slave) who claims that his Wala is for other than his Mawali, upon him will be the curse of Allah, the angels and all the people, and no change nor equitable exchange will be accepted from him." Or he said: “No equitable exchange or change."
Notes · وضاحت
١ ؎: شروع اسلام میں یہ حکم تھا کہ جب کوئی مرنے لگے اور اس کے پاس مال ہو تو وہ اپنے ماں باپ اور رشتہ داروں کے لئے وصیت کرے اور وصیت کے مطابق اس کا مال تقسیم کیا جائے، پھر اللہ تعالیٰ نے ترکہ کی آیتیں اتاریں اور ہر ایک وارث کا حصہ مقرر کردیا۔ اب وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں رہا کیونکہ اس میں دوسرے وارثوں کا نقصان ہوگا، البتہ اجنبی شخص کے لئے یا جس کو ترکہ میں سے کچھ حصہ نہ ملتا ہو موجودہ وارثوں کے سبب سے وصیت کرنا درست ہے، وہ بھی تہائی مال میں سے۔
ابوامامہ باہلی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ حجۃ الوداع کے سال اپنے خطبہ میں فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ نے (میت کے ترکہ میں) ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، لہٰذا کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے ۔
Shurahbil bin Muslim Al-Khawlani narrated from Abu Umamah Al Bahili that the heard the Messenger of Allah ﷺ says in his sermon, during the year of the Farewell pilgrimage: "Allah has given each person who has rights his rights, and there is no bequest for an heir."
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٩٠ (٣٥٦٥)، سنن الترمذی/الوصایا ٥ (٢١٢٠)، (تحفة الأ شراف: ٤٨٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٦٧) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کے نیچے کھڑا تھا، اس کا لعاب میرے اوپر بہہ رہا تھا، میں نے آپ ﷺ کو فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ نے (میت کے ترکہ میں) ہر ایک حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، تو سنو! کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "I was under the she-camel of the Messenger of Allah ﷺ and its saliva was dripping between my shoulders, and I heard him say: Allah has given each person who has rights his rights, but there is no bequest for an heir.