وارث کے لئے وصیت درست نہیں۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: إِنِّي لَتَحْتَ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيلُ عَلَيَّ لُعَابُهَا فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، أَلَا لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ.
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کے نیچے کھڑا تھا، اس کا لعاب میرے اوپر بہہ رہا تھا، میں نے آپ ﷺ کو فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ نے (میت کے ترکہ میں) ہر ایک حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، تو سنو! کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "I was under the she-camel of the Messenger of Allah ﷺ and its saliva was dripping between my shoulders, and I heard him say: Allah has given each person who has rights his rights, but there is no bequest for an heir.