Sunan Ibne-Majah 2713

وصیتوں کا بیان

2713Sunan Ibne-Majah

وارث کے لئے وصیت درست نہیں۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ، سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حِجَّةِ الْوَدَاعِ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ.

ابوامامہ باہلی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ حجۃ الوداع کے سال اپنے خطبہ میں فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ نے (میت کے ترکہ میں) ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، لہٰذا کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے ۔

Shurahbil bin Muslim Al-Khawlani narrated from Abu Umamah Al Bahili that the heard the Messenger of Allah ﷺ says in his sermon, during the year of the Farewell pilgrimage: "Allah has given each person who has rights his rights, and there is no bequest for an heir."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٩٠ (٣٥٦٥)، سنن الترمذی/الوصایا ٥ (٢١٢٠)، (تحفة الأ شراف: ٤٨٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٦٧) (صحیح )