Sunan Ibne-Majah 2715

وصیتوں کا بیان

2715Sunan Ibne-Majah

قرض وصیت پر مقدم ہے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ، وَأَنْتُمْ تَقْرَءُونَهَا مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ سورة النساء آية 11 وَإِنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ لَيَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وصیت سے پہلے قرض (کی ادائیگی) کا فیصلہ فرمایا، حالانکہ تم اس کو قرآن میں پڑھتے ہو: من بعد وصية يوصي بها أو دين یہ حصے اس وصیت (کی تکمیل) کے بعد ہیں جو مرنے والا کر گیا ہو، یا ادائے قرض کے بعد (سورۃ النساء: ١١ ) ١ ؎ اور حقیقی بھائی وارث ہوں گے، علاتی نہیں۔

It was narrated that Ali said. "The Messenger of Allah ﷺ ruled that the debts should be paid off before the execution of the will. You recite: (The distribution in all cases is) after the payment of legacies he may have bequeathed or debts. The sons of one mother (from the same father) inherit from one another, but not the sons from different mothers (but the same father)."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب کوئی مرجائے اور سگے بہن بھائی چھوڑ جائے اور علاتی یعنی سوتیلے بھی جن کی ماں جدا ہو، لیکن باپ ایک ہی ہو تو سگوں کو ترکہ ملے گا اور سوتیلے محروم رہیں گے، اس مسئلہ کی پوری تفصیل علم الفرائض میں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفرائض ٥ (٢٠٩٤، ٢٠٩٥)، (تحفة الأ شراف: ١٠٠٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٧٩، ١٣١، ١٤٤)، سنن الدارمی/الفرائض ٢٨ (٣٠٢٧) (حسن) (سند میں الحارث الاعور ضعیف ہے، لیکن سعد بن الاطول کے شاہد سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: حدیث نمبر ٢٤٣٣ ، و الإرواء: ١٦٦٧ )