صدقات کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 17 · 46 hadiths · Page 1 of 3

2390Sunan Ibne-Majah

صدقہ دے کر واپس لینا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ.

عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے صدقہ کو دے کر واپس نہ لو ۔

It was narrated from Umar bin Khattab that the Messenger of Allah ﷺ said: "Do not take back your charity."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٥٩ (١٤٩٠)، الھبة ٣٠ (٢٦٢٣)، ٣٧ (٢٦٣٦)، الوصایا ٣١ (٢٧٧٥)، الجہاد ١١٩ (٢٩٧٠)، ١٣٧ (٣٠٠٢)، صحیح مسلم/الھبات ١ (١٦٢٠)، سنن النسائی/الزکاة ١٠٠ (٢٦١٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٨٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزکاة ٣٢ (٦٦٨)، موطا امام مالک/الزکاة ٢٦ (٤٩)، مسند احمد (١/٢٥، ٣٧، ٤٠، ٥٤) (صحیح )
2391Sunan Ibne-Majah

صدقہ دے کر واپس لینا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَبَّاسِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ ثُمَّ يَرْجِعُ فِي صَدَقَتِهِ مَثَلُ الْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَأْكُلُ قَيْئَهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو صدقہ دے کر واپس لے لیتا ہے اس کی مثال کتے کی ہے جو قے کرتا ہے پھر لوٹ کر اس کو کھاتا ہے ۔

Abdullah bin Abbas narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: "The likeness of the one who gives charity then takes it back is that of a dog who vomits then goes back and eats its vomit."

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٣٨٥)، (تحفة الأشراف: ٥٦٦٢) (صحیح )
2392Sunan Ibne-Majah

کوئی چیز صدقہ میں دی پھر دیکھا کہ وہ فروخت ہو رہی ہے تو کیا صدقہ کرنے والا وہ چیز خرید سکتا ہے۔

حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَعْنِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عُمَرَ، أَنَّهُ تَصَدَّقَ بِفَرَسٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْصَرَ صَاحِبَهَا يَبِيعُهَا بِكَسْرٍ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: لَا تَبْتَعْ صَدَقَتَكَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ایک گھوڑا صدقہ کیا، پھر دیکھا کہ اس کا مالک اس کو کم دام میں بیچ رہا ہے تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور آپ ﷺ سے اس سلسلے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اپنا صدقہ مت خریدو ۔

It was narrated from Umar bin Abdullah bin ‘Umar , meaning, from his father, from his grandfather ‘Umar, that he gave a horse in charity at the time of the Messenger of Allah, then he saw its owner selling it for a low price. He went to the Prophet ﷺ and asked him about that, and he said: "Do not buy what you gave in charity,"

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٥٤٦) (صحیح )
2393Sunan Ibne-Majah

کوئی چیز صدقہ میں دی پھر دیکھا کہ وہ فروخت ہو رہی ہے تو کیا صدقہ کرنے والا وہ چیز خرید سکتا ہے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، أَنَّهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ يُقَالُ لَهُ: غَمْرٌ أَوْ غَمْرَةٌ فَرَأَى مُهْرًا أَوْ مُهْرَةً مِنْ أَفْلَائِهَا يُبَاعُ يُنْسَبُ إِلَى فَرَسِهِ فَنَهَى عَنْهَا.

زبیر بن عوام ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک گھوڑی صدقہ میں دی جس کو غمر یا غمرۃ کہا جاتا تھا، پھر اسی کے بچوں میں ایک بچھیرا یا بچھیری کو بکتا دیکھا، جو ان کی گھوڑی کی نسل سے تعلق رکھتا تھا، تو اس کو خریدنے سے روک دیا۔

It was narrated from Zubair bin Awwam that he gave a horse called Ghamr or Ghamrah to someone, then he saw one of its colts or fillies attributed to his horse being sold, but he refrained from (buying) it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٦٣٢، ومصباح الزجاجة: ٨٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٦٤) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن عامر غیر معروف راوی ہیں، ان کے بارے میں یہ نہیں معلوم کہ وہ عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ غزی ثقہ راوی ہیں، یا کوئی اور، اس لئے اس احتمال کی وجہ سے حدیث ثابت نہیں )
2394Sunan Ibne-Majah

کسی نے کوئی چیز صدقہ میں دی پھر وہی چیز وراثت میں اس کو ملے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ، فَقَالَ: آجَرَكِ اللَّهُ وَرَدَّ عَلَيْكِ الْمِيرَاثَ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی صدقہ میں دی تھی، ماں کا انتقال ہوگیا (اب لونڈی کا حکم کیا ہوگا؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تجھے (تیرے صدقہ کا) ثواب دیا، اور پھر اسے تجھے وارثت میں بھی لوٹا دیا ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah bin Buraidah that his father said: "A woman came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, I gave my mother a slave girl of mine, and she has died. The Messenger of Allah ﷺ said: Allah has rewarded you and returned to you your inheritance (without your seeking that)."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ترکہ (وراثت) میں تمہارے پاس لونڈی آگئی، معلوم ہوا کہ صدقہ کی ہوئی چیز اگر میراث میں آجائے تو اس کا لینا منع نہیں ہے، البتہ اس کو خریدنا منع ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٧٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٩٨٠) (صحیح )
2395Sunan Ibne-Majah

کسی نے کوئی چیز صدقہ میں دی پھر وہی چیز وراثت میں اس کو ملے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَعْطَيْتُ أُمِّي حَدِيقَةً لِي وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَلَمْ تَتْرُكْ وَارِثًا غَيْرِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَجَبَتْ صَدَقَتُكَ وَرَجَعَتْ إِلَيْكَ حَدِيقَتُكَ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: میں نے اپنی ماں کو ایک باغ دیا تھا، اور وہ مرگئیں، اور میرے سوا ان کا کوئی اور وارث نہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں تمہارے صدقہ کا ثواب مل گیا، اور تمہارا باغ بھی تمہیں واپس مل گیا ۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather said: "A man came to the Prophet ﷺ and said: I gave my mother a garden of mine, and she has died and has no other heir but me. The Messenger of Allah ﷺ said: Your charity is valid and your garden has been returned to you.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٧٤٤، ومصباح الزجاجة: ٨٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٥) (حسن صحیح )
2396Sunan Ibne-Majah

وقف کرنا

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْمَرَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ مَالًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُنِي بِهِ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا، قَالَ: فَعَمِلَ بِهَا عُمَرُ عَلَى أَنْ لَا يُبَاعَ أَصْلُهَا وَلَا يُوهَبَ وَلَا يُورَثَ تَصَدَّقَ بِهَا لِلْفُقَرَاءِ وَفِي الْقُرْبَى وَفِي الرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ کو خیبر میں کچھ زمین ملی، تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور آپ سے مشورہ لیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے خیبر میں کچھ مال ملا ہے، اتنا عمدہ مال مجھے کبھی نہیں ملا، تو آپ اس کے متعلق مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو اصل زمین اپنی ملکیت میں باقی رکھو اور اسے (یعنی اس کے پھلوں اور منافع کو) صدقہ کر دو ۔ عمر ؓ نے ایسا ہی کیا، اس طرح کہ اصل زمین نہ بیچی جائے، نہ ہبہ کی جائے، اور نہ اسے وراثت میں دیا جائے، اور وہ صدقہ رہے فقیروں اور رشتہ داروں کے لیے، غلاموں کے آزاد کرانے اور مجاہدین کے سامان تیار کرنے کے لیے، اور مسافروں اور مہمانوں کے لیے اور جو اس کا متولی ہو وہ اس میں دستور کے مطابق کھائے یا کسی دوست کو کھلائے لیکن مال جمع نہ کرے۔

It was narrated that lbn Umar said: "Umar bin Khattab acquired some land at Khaibar, and he came to the Prophet ﷺ and consulted him. He said: O Messenger of Allah, I have been given some wealth at Khaibar and I have never been given any wealth that is more precious to me than it. What do you command me to do with it? He said: If you wish, you can make it an endowment and give (its produce) in charity. So Umar gave it on the basis that it would not be sold, given away or inherited, and (its produce) was to be given to the poor, to relatives, for freeing slaves, in the cause of Allah, to wayfarers and to guests; and there was nothing wrong if a person appointed to be in charge of it consumed from it on a reasonable basis or feeding a friend, without accumulating it for himself."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشروط ١٩ (٢٧٣٧)، الوصایا ٢٢ (٦٧٦٤)، ٢٨ (٢٧٧٢)، ٣٢ (٢٧٧٧)، صحیح مسلم/الوصایا ٤ (١٦٣٢)، سنن ابی داود/الوصایا ١٣ (٢٨٧٨)، سنن الترمذی/الأحکام ٣٦ (١٣٧٥)، سنن النسائی/الإحب اس ١ (٣٦٢٩)، (تحفة الأشراف: ٧٧٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥٥، ١٢٥) (صحیح )
2397Sunan Ibne-Majah

وقف کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّه بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْمِائَةَ سَهْمٍ الَّتِي بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهَا، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلْ ثَمَرَهَا. قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: فَوَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ فِي كِتَابِي، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! خیبر کے جو سو حصے مجھے ملے ہیں ان سے بہتر مال مجھے کبھی نہیں ملا، میں چاہتا ہوں کہ ان کو صدقہ کر دوں؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اصل زمین کو رہنے دو، اور اس کے پھلوں کو اللہ کی راہ میں خیرات کر دو ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "Umar bin Khattab said: O Messenger of Allah, the one hundred shares of the Khaibar I have never been given any wealth that is more beloved to me than them, and I wanted to give them in charity. The Prophet ﷺ said: Make it an endowment and give its produce in the cause of Allah.’” (One of the narrators) Ibn Abu Umar (who narrated it from Sufyan, from Ubaidullah bin Umar) said: "I found this Hadith in another location in my book from Sufyan, from Abdullah, from Nafi, from Ibn Umar who said: "Umar said. And he mentioned similarly."

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الإحب اس ٢ (٣٦٣٣)، (تحفة الأشراف: ٧٩٠٢) (صحیح ) ابن ابی عمر کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث اپنی کتاب میں ایک دوسرے مقام پر طسفيان عن عبدالله عن نافع عن ابن عمر کے طریق سے پائی ہے، وہ (ابن عمر) کہتے ہیں: عمر ؓ نے کہا، پھر انہوں نے اسی جیسی روایت ذکر کی۔ تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: ٧٧٤١) (صحیح )
2398Sunan Ibne-Majah

عاریت کا بیان

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: عاریت (مانگی ہوئی چیز) ادا کی جائے، اور جو جانور دودھ پینے کے لیے دیا جائے وہ لوٹا دیا جائے ۔

Shurahbil bin Muslim said: I heard Abu Umamah say: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Borrowed items are to be returned and an animal borrowed for milking is to be returned.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٨٤، ومصباح الزجاجة: ٨٤٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/البیوع ٩٠ (٣٥٦٥)، سنن الترمذی/البیوع ٣٤ (١٢٦٥)، (الشطر الأول فقط) (صحیح) (سند میں اسماعیل بن عیاش کی وجہ سے ضعف ہے )
2399Sunan Ibne-Majah

عاریت کا بیان

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، الدِّمَشْقِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: عاریت (منگنی لی ہوئی چیز، مانگی ہوئی چیز) ادا کی جائے، اور دودھ پینے کے لیے دئیے گئے جانور کو واپس کردیا جائے ۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Borrowed items are to be returned and an animal borrowed for milking is to be returned.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٦٢، ومصباح الزجاجة: ٨٤١) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٥١٦ )
2400Sunan Ibne-Majah

عاریت کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ جَمِيعًا، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ.

سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاتھ پر واجب ہے کہ جو وہ لے اسے واپس کرے ۔

It was narrated from Samurah that the Messenger of Allah ﷺ said: "The hand that takes is responsible for what it has taken until it returns it."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٩٠ (٣٥٦١)، سنن الترمذی/البیوع ٣٩ (١٢٦٦)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٢، ١٣)، سنن الدارمی/البیوع ٥٦ (٢٦٣٨) (ضعیف) (سند میں حسن بصری ہیں، جنہوں نے سمرہ ؓ سے یہ حدیث نہیں سنی ہے، کیونکہ انہوں نے صرف سمرہ ؓ سے حدیث عقیقہ سنی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٥١٦ )۔
2401Sunan Ibne-Majah

امانت کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ الْأَنْمَاطِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنِ الْمُثَنَّى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أُودِعَ وَدِيعَةً فَلَا ضَمَانَ عَلَيْهِ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس کوئی امانت رکھی گئی تو اس پر تاوان نہیں ہے ١ ؎۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever is entrusted with an item for safekeeping, is not responsible for it (so long as he is not negligent)."

Notes · وضاحت
١ ؎: اگر وہ بغیر اس کی کسی کوتاہی یا خیانت کے برباد ہوجائے تو اس پر کوئی تاوان نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٧٨٠، ومصباح الزجاجة: ٨٤٢) (حسن) (سند میں ایوب بن سوید اور مثنی بن صباح ضعیف ہیں، لیکن متابعات کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٣١٥ ، الإرواء: ١٥٤٧ ، و التعلیق علی الروضہ الندیہ )
2402Sunan Ibne-Majah

امین مال امانت سے تجارت کرے اور اس کو نفع ہوجائے تو

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْطَاهُ دِينَارًا يَشْتَرِي لَهُ شَاةً فَاشْتَرَى لَهُ شَاتَيْنِ فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدِينَارٍ وَشَاةٍ فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَرَكَةِ. قَالَ: فَكَانَ لَوِ اشْتَرَى التُّرَابَ لَرَبِحَ فِيهِ. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ لِمَازَةُ بْنِ زَبَّارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيِّ، قَالَ: قَدِمَ جَلَبٌ فَأَعْطَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

عروہ بارقی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کو ایک بکری خریدنے کے لیے ایک دینار دیا تو اس سے انہوں نے دو بکریاں خریدیں، پھر ایک بکری کو ایک دینار میں بیچ دیا، اور نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک دینار اور ایک بکری لے کر حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی، راوی کہتے ہیں: (اس دعا کی برکت سے) ان (عروۃ) کا حال یہ ہوگیا کہ اگر وہ مٹی بھی خرید لیتے تو اس میں نفع کماتے۔

It was narrated from Urwah Al-Bariqi that the Prophet ﷺ gave rum a Dinar to buy him a sheep, and he bought two sheep for rum, then sold one of them for a Dinar, and brought a Dinar and a sheep to the Prophet. The Messenger of Allah ﷺ prayed for blessing for him. He (one of the narrators) said: "If he had bought dust, he would have made a profit from it." (Another chain) from, Urwah bin Abu jad Al-Bariqi who said: "Some trade arrived, so the Prophet ﷺ gave me a Dinar." And he mentioned similarly.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٨ (٣٦٤٠، ٣٦٤١، ٣٦٤٢)، سنن ابی داود/البیوع ٢٨ (٣٣٨٤، ٣٣٨٥)، سنن الترمذی/البیوع ٣٤ (١٢٥٨)، (تحفة الأشراف: ٩٨٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٧٥، ٣٧٦) (صحیح ) عروہ بن ابی الجعد بارقی ؓ کہتے ہیں کہ باہر سے بکنے کے لیے جانور آئے، تو رسول اللہ ﷺ نے (ایک جانور خریدنے کے لیے) مجھے ایک دینار دیا، پھر راوی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ انظر ماقبلہ (حسن) (ملاحظہ ہو: الإ رواء: ٥/١٢٩ )
2403Sunan Ibne-Majah

حوالہ کا بیان

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الظُّلْمُ مَطْلُ الْغَنِيِّ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مالدار کا (قرض کی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اور جب تم میں کوئی کسی مالدار کی طرف تحویل کیا جائے، تو اس کی حوالگی قبول کرے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "(Wrongdoing) is when a rich man takes a long time to repay a debt, and if one of you is referred to a rich man (to collect a debt), he should accept that referral."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کے حوالہ کیا جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/البیوع ٩٩ (٤٦٩٥)، ١٠١ (٤٧٠٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٦٩٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحوالہ ١ (٢٢٨٨)، ٢ (٢٢٨٩)، الإستقراض ١٢ (٢٤٠٠)، صحیح مسلم/المساقاة ٧ (١٥٦٤)، سنن ابی داود/البیوع ١٠ (٣٣٤٥)، سنن الترمذی/البیوع ٦٨ (١٣٠٨)، موطا امام مالک/البیوع ٤٠ (٨٤)، مسند احمد (٢/٢٤٥، ٢٥٤، ٢٦٠، ٣١٥، ٣٧٧، ٣٨٠، ٤٦٣، ٤٦٤، ٤٦٥)، سنن الدارمی/البیوع ٤٨ (٢٦٢٨) (صحیح )
2404Sunan Ibne-Majah

حوالہ کا بیان

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُحِلْتَ عَلَى مَلِيءٍ فَاتْبَعْهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اور جب تمہیں کسی مالدار کے حوالے کیا جائے تو اس کی حوالگی کو قبول کرو ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "When a rich man takes too long to repay a debt, this is wrongdoing, and if the debt is transferred to a rich man, you should accept it.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر آدمی مفلس ہو اور پیسہ پاس نہ ہو تو قرض ادا کرنے میں مجبوری ہے، لیکن پیسہ ہوتے ہوئے لوگوں کا قرض نہ دینا اس میں دیر لگانا گناہ ہے اور قرض خواہ پر ظلم ہے گویا اس کا حق مارنا گناہ ہے، اور اپنے نفس پر بھی ظلم ہے اس واسطے کہ زندگی کا اعتبار نہیں، شاید مرجائے اور قرض خواہ کا قرض رہ جائے، اس لئے جب پیسہ ہو تو فوراً قرض ادا کر دے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٥٣٥، ومصباح الزجاجة: ٨٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٧١) (صحیح) (سند میں یونس بن عبید اور نافع کے مابین انقطاع ہے، لیکن سابقہ شاہد سے یہ صحیح ہے )
2405Sunan Ibne-Majah

ضمانت کا بیان

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الزَّعِيمُ غَارِمٌ وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ.

ابوامامہ باہلی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: (قرض کا) ضامن و کفیل (اس کی ادائیگی کا) ذمہ دار ہے، اور قرض کی ادائیگی انتہائی ضروری ہے ۔

Shurahbil bin Muslim Al-Khawlani said: I heard Abu Umamah Al-Bahili say: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The guarantor is responsible and the debt must be repaid.

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٩٠ (٣٥٦٥)، سنن الترمذی/البیوع ٣٩ (١٢٦٥)، (تحفة الأشراف: ٤٨٨٤) (صحیح )
2406Sunan Ibne-Majah

ضمانت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّارَوَرْدِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا لَزِمَ غَرِيمًا لَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ أُعْطِيكَهُ، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ لَا أُفَارِقُكَ حَتَّى تَقْضِيَنِي أَوْ تَأْتِيَنِي بِحَمِيلٍ فَجَرَّهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمْ تَسْتَنْظِرُهُ؟، فَقَالَ: شَهْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَنَا أَحْمِلُ لَهُ، فَجَاءَهُ فِي الْوَقْتِ الَّذِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ أَيْنَ أَصَبْتَ هَذَاقَالَ: مِنْ مَعْدِنٍ. قَالَ: لَا خَيْرَ فِيهَاوَقَضَاهَا عَنْهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ایک شخص ایک قرض دار کے پیچھے لگا رہا جس پر اس کا دس دینار قرض تھا، وہ کہہ رہا تھا: میرے پاس کچھ نہیں جو میں تجھے دوں، اور قرض خواہ کہہ رہا تھا: جب تک تم میرا قرض نہیں ادا کرو گے یا کوئی ضامن نہیں لاؤ گے میں تمہیں نہیں چھوڑ سکتا، چناچہ وہ اسے کھینچ کر نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا، آپ ﷺ نے قرض خواہ سے پوچھا: تم اس کو کتنی مہلت دے سکتے ہو ؟ اس نے کہا: ایک مہینہ کی، آپ ﷺ نے فرمایا: تو میں اس کا ضامن ہوتا ہوں ، پھر قرض دار نبی اکرم ﷺ کے دئیے ہوئے مقررہ وقت پر اپنا قرضہ لے کر آیا، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: تجھے یہ کہاں سے ملا ؟ اس نے عرض کیا: ایک کان سے، آپ ﷺ نے فرمایا: اس میں بہتری نہیں ، اور آپ ﷺ نے اسے اپنی جانب سے ادا کردیا۔

It was narrated from Ibn Abbas that during the time of the Messenger of Allah, a man pursued a debtor who owed him ten Dinar, and he said: "I do not have anything to give you." He (the creditor) said: "No, by Allah, I will not leave you until you pay the debt or you bring me a guarantor." Then he dragged him to the Prophet ﷺ and the Prophet ﷺ said to him: "How long will you wait?" He said: "One month." The Messenger of Allah ﷺ said: "I will be a guarantor for him." Then he came to him at the time the Prophet ﷺ had said, and the Prophet ﷺ said to him: "Where did you get this from?" He said: "From a mine." He said: "There is nothing good in it," and he paid the debt for him.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ احتمال ہے کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کا ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٢ (٣٣٢٨)، (تحفة الأشراف: ٦١٧٨) (صحیح )
2407Sunan Ibne-Majah

ضمانت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُتِيَ بِجَنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا فَقَالَ: صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَإِنَّ عَلَيْهِ دَيْنًا، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: أَنَا أَتَكَفَّلُ بِهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِالْوَفَاءِ، قَالَ: بِالْوَفَاءِ وَكَانَ الَّذِي عَلَيْهِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ أَوْ تِسْعَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا.

ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا، تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ لیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو (میں نہیں پڑھوں گا) اس لیے کہ وہ قرض دار ہے ، ابوقتادہ ؓ نے عرض کیا: میں اس کے قرض کی ضمانت لیتا ہوں تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پورا ادا کرنا ہوگا ، انہوں نے کہا: جی ہاں، پورا ادا کروں گا، اس پر اٹھارہ یا انیس درہم قرض تھے ١ ؎۔

It was narrated that Uthman bin Abdullah bin Mawhab said: "I heard Abdullah bin Abu Qatadah narrate from his father that a corpse was brought, to the Prophet ﷺ for him to offer the funeral prayer, and he said: Pray for your companion, for he, owes a debt: Abu Qatadah said: I will stand surety for him: The Prophet ﷺ said: In full? He said: In full: And the debt he owed was eighteen or nineteen Dirham.”

Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ قرض بری بلا ہے، نبی کریم ﷺ نے اس کی وجہ سے نماز جنازہ پڑھنے میں تامل کیا، بعضوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے تنبیہ کے لئے ایسا کیا تاکہ دوسرے لوگ قرض کی ادائیگی کا پورا پورا خیال رکھیں، قرض وہ بلا ہے کہ شہید کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں پر قرض معاف نہیں ہوتا، وہ حقوق العباد ہے، بعض علماء نے کہا ہے کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ امام کو جائز ہے کہ بعض مردوں پر جن سے گناہ سرزد ہوا ہو نماز جنازہ نہ پڑھے، دوسرے لوگوں کو ڈرانے کے لئے، لیکن دوسرے لوگ نماز جنازہ پڑھ لیں، حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کہ میت کی طرف سے ضمانت درست ہے اگرچہ اس نے قرض کے موافق مال نہ چھوڑا ہو، اکثر اہل علم کا یہی قول ہے اور امام ابوحنیفہ کہتے ہیں: اگر قرض کے موافق اس نے مال نہ چھوڑا ہو تو ضمانت درست نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٦٩ (١٠٦٩)، سنن النسائی/الجنائز ٦٧ (١٩٦٢)، البیوع ١٠٠ (٤٦٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٢١٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٠٢، ٣١١)، سنن الدارمی/البیوع ٥٣ (٢٦٣٥) (صحیح )
2408Sunan Ibne-Majah

جوقرض اس نیت سے لے کہ (جلد) ادا کروں گا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ، عَنِ ابْنِ حُذَيْفَةَ هُوَ عِمْرَانُ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ مَيْمُونَةَ، قَالَت: كَانَتْ تَدَّانُ دَيْنًا، فَقَالَ لَهَا بَعْضُ أَهْلِهَا: لَا تَفْعَلِي وَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا، قَالَتْ: بَلَى، إِنِّي سَمِعْتُ نَبِيِّي وَخَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدَّانُ دَيْنًا يَعْلَمُ اللَّهُ مِنْهُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَدَاءَهُ إِلَّا أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا.

ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ وہ قرض لیا کرتی تھیں تو ان کے گھر والوں میں سے کسی نے ان سے کہا: آپ ایسا نہ کریں، اور ان کے ایسا کرنے کو اس نے ناپسند کیا، تو وہ بولیں: کیوں ایسا نہ کریں، میں نے اپنے نبی اور خلیل ﷺ کو فرماتے سنا ہے: کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں جو قرض لیتا ہو اور اللہ جانتا ہو کہ وہ اس کو ادا کرنا چاہتا ہے مگر اللہ اس کو دنیا ہی میں اس سے ادا کرا دے گا ١ ؎۔

It was narrated that the Mother of the Believers Maimunah used to take out loans frequently. and some of her family said: "Do not do that." And they denounced her for that. She said: "No, I heard my Prophet ﷺ and my close friend say: There is no Muslim who takes out a loan and Allah knows that he intends to pay it back, but Allah will pay it back for him in this world."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کی ادائیگی کا راستہ پیدا کرے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/البیوع ٩٧ (٤٦٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٧٧) (صحیح) (حدیث میں فِي الدُّنْيَا کا لفظ ثابت نہیں ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ٤٩٦ )۔
2409Sunan Ibne-Majah

جوقرض اس نیت سے لے کہ (جلد) ادا کروں گا۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ مَوْلَى الْأَسْلَمِيِّينَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ اللَّهُ مَعَ الدَّائِنِ حَتَّى يَقْضِيَ دَيْنَهُ مَا لَمْ يَكُنْ فِيمَا يَكْرَهُ اللَّهُ، قَالَ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ يَقُولُ لِخَازِنِهِ، اذْهَبْ فَخُذْ لِي بِدَيْنٍ، فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَبِيتَ لَيْلَةً إِلَّا وَاللَّهُ مَعِي بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قرض دار کے ساتھ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنا قرض ادا کر دے، جب کہ وہ قرض ایسی چیز کے لیے نہ ہو جس کو اللہ ناپسند کرتا ہے، راوی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن جعفر ؓ اپنے خازن سے کہتے کہ جاؤ میرے لیے قرض لے کر آؤ، اس لیے کہ میں ناپسند کرتا ہوں کہ میں کوئی رات گزاروں اور اللہ تعالیٰ میرے ساتھ نہ ہو۔

It was narrated from, Abdullah bin Jafar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Allah will be with the borrower until he pays off his debt, so long as it (the loan) is not for something that Allah dislikes." He (the narrator) said: " Abdullah bin Jafar used to say to his store keeper (i.e., the one entrusted with his wealth): Go and take out a loan for me, for I would hate to spend the night without Allah being with me, after I heard that from the Messenger of Allah"

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٢٢٨، ومصباح الزجاجة: ٨٤٤)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/البیوع ٥٥ (٢٦٣٧) (صحیح )