امانت کا بیان
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ الْأَنْمَاطِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنِ الْمُثَنَّى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أُودِعَ وَدِيعَةً فَلَا ضَمَانَ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس کوئی امانت رکھی گئی تو اس پر تاوان نہیں ہے ١ ؎۔
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever is entrusted with an item for safekeeping, is not responsible for it (so long as he is not negligent)."
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر وہ بغیر اس کی کسی کوتاہی یا خیانت کے برباد ہوجائے تو اس پر کوئی تاوان نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٧٨٠، ومصباح الزجاجة: ٨٤٢) (حسن) (سند میں ایوب بن سوید اور مثنی بن صباح ضعیف ہیں، لیکن متابعات کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٣١٥ ، الإرواء: ١٥٤٧ ، و التعلیق علی الروضہ الندیہ )