صدقات کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 17 · 46 hadiths · Page 2 of 3

2410Sunan Ibne-Majah

جوقرضہ ادا نہ کرنے کی نیت سے لے۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيِّ بْنِ صُهَيْبِ الْخَيْرِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ زِيَادِ بْنِ صَيْفِيِّ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا صُهَيْبُ الْخَيْرِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَيُّمَا رَجُلٍ يَدِينُ دَيْنًا وَهُوَ مُجْمِعٌ أَنْ لَا يُوَفِّيَهُ إِيَّاهُ لَقِيَ اللَّهَ سَارِقًا. حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ صُهَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.

صہیب الخیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو قرض لے اور اس کو ادا کرنے کی نیت نہ رکھتا ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے چور ہو کر ملے گا ۔

Suhaib Al-Khair narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: "Any man who takes out a loan, having resolved not to pay it back, will meet Allah as a thief."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٦٢، ومصباح الزجاجة: ٨٤٥) (حسن صحیح ) اس سند سے بھی اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔ تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٦٠، ومصباح الزجاجة: ٨٤٦ )
2411Sunan Ibne-Majah

جوقرضہ ادا نہ کرنے کی نیت سے لے۔

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ إِتْلَافَهَا أَتْلَفَهُ اللَّهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو لوگوں کا مال لے اور اس کو ہڑپ کرنا چاہتا ہو تو اس کو اللہ تباہ کر دے گا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: Whoever takes peoples wealth with the intention of destroying it, Allah will destroy him."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاستقراض وأداء الدیون ٢ (٢٣٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٩٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٦١، ٤١٧) (صحیح )
2412Sunan Ibne-Majah

قرض کے بارے میں شدید وعید

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْمَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ مِنَ الْكِبْرِ وَالْغُلُولِ وَالدَّيْنِ.

ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کی روح بدن سے جدا ہوئی اور وہ تین چیزوں غرور (گھمنڈ) خیانت اور قرض سے پاک ہو، تو وہ جنت میں داخل ہوگا ۔

It was narrated from Thawban, the freed slave of the Messenger of Allah, that the Messenger of Allah ﷺ said: "Anyone whose soul leaves his body and he is free of three things, will enter Paradise: Arrogance, stealing from the spoils of war, and debt."

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/السیر ٢١ (١٥٧٣)، (تحفة الأشراف: ٢١١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٧٦، ٢٨١، ٢٨٢)، سنن الدارمی/البیوع ٥٢ (٢٦٣٤) (صحیح )
2413Sunan Ibne-Majah

قرض کے بارے میں شدید وعید

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کی جان اس کے قرض کے ساتھ لٹکی رہتی ہے یہاں تک کہ اس کی طرف سے ادائیگی کردی جائے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The soul of the believer is attached to his debt until it is paid off."

Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ اس کو آرام اس وقت تک نہ ملے گا، یا وہ جنت میں داخل نہ ہونے پائے گا۔ جب تک کہ وہ قرض ادا نہ ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٧٧ (١٠٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٤٠، ٤٧٥)، سنن الدارمی/البیوع ٥٢ (٢٦٣٣) (صحیح )
2414Sunan Ibne-Majah

قرض کے بارے میں شدید وعید

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَاءٍ، حَدَّثَنَا، عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دِينَارٌ أَوْ دِرْهَمٌ قُضِيَ مِنْ حَسَنَاتِهِ لَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مرجائے اور اس کے ذمہ کسی کا کوئی دینار یا درہم ہو تو (قیامت میں) جہاں دینار اور درہم نہیں ہوگا، اس کی نیکیوں سے ادا کیا جائے گا ۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever dies owing a Dinar or a Dirham, it will be paid back from his good deeds, because then there will be no Dinar Or Dirham."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٤٤٧، ومصباح الزجاجة: ٨٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٨٢) (صحیح) (یہ سند حسن ہے لیکن شواہد کی بناء پر صحیح ہے )
2415Sunan Ibne-Majah

جوقرضہ یا بے سہارا بال بچے چھوڑے تو اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ ہیں۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا تُوُفِّيَ الْمُؤْمِنُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ الدَّيْنُ فَيَسْأَلُ: هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ؟، فَإِنْ قَالُوا: نَعَمْ، صَلَّى عَلَيْهِ. وَإِنْ قَالُوا: لَا، قَالَ: صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْفَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفُتُوحَ قَالَ: أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جب کوئی مومن رسول اللہ ﷺ کے عہد میں وفات پا جاتا، اور اس کے ذمہ قرض ہوتا، تو آپ ﷺ پوچھتے: کیا اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے اس نے کچھ چھوڑا ہے ؟ تو اگر لوگ کہتے: جی ہاں، تو آپ ﷺ اس کی نماز جنازہ پڑھتے، اور اگر کہتے: نہیں، تو آپ ﷺ فرماتے: تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو فتوحات عطا کیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں مومنوں سے ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہوں، تو جو کوئی وفات پا جائے اور اس پر قرض ہو، تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے، اور جو کوئی مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that if a believer died at the lime of the Messenger of Allah ﷺ and he had debts, the Messenger of Allah ﷺ would ask: "Did he leave anything with which to pay off his debt?" If they said yes, then he would offer the funeral prayer for him, but if they said no, then he would say: "Pray for your companion." When Allah granted His Prophet ﷺ the conquests, he said: "I am nearer to the believers than their own selves. Whoever dies owing a debt I will pay it off for him, and whoever, leaves behind wealth, it will be for his heirs.”

Notes · وضاحت
١ ؎: اسلام کے ابتدائی عہد میں جب مال و دولت کی کمی تھی تو جب کوئی مقروض مرتا نبی کریم ﷺ اس کی نماز جنازہ نہ پڑھتے تھے، صحابہ کرام ؓ کو فرماتے وہ پڑھ لیتے، پھر جب اللہ تعالیٰ نے فتوحات دیں، اور مال غنیمت ہاتھ آیا تو آپ نے حکم دیا کہ اب جو کوئی مسلمان مقروض مرے اس کا قرضہ میں ادا کروں گا، اسی طرح بےسہارا بال بچے چھوڑ جائے تو ان کی پرورش کا ذمہ بھی میرے سر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفرائض ٤ (١٦١٩)، سنن النسائی/الجنائز ٦٧ (١٩٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٣١٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الکفالة ٥ (٢٢٩٨)، النفقات ١٥ (٥٣٧١)، سنن الترمذی/الجنائز ٦٩ (١٠٧٠)، حم (٢/٢٩٠، ٤٥٣)، سنن الدارمی/البیوع ٥٤ (٢٦٣٦) (صحیح )
2416Sunan Ibne-Majah

جوقرضہ یا بے سہارا بال بچے چھوڑے تو اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ ہیں۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَعَلَيَّ وَإِلَيَّ وَأَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جو قرض یا بال بچے چھوڑ جائے تو اس کے قرض کی ادائیگی اور اس کے بال بچوں کا خرچ مجھ پر ہے، اور ان کا معاملہ میرے سپرد ہے، اور میں مومنوں کے زیادہ قریب ہوں ۔

It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ said "Whoever leaves behind money, it is for his heirs and whoever leaves behind a debt or children, I am responsible for them and I am nearer to the believers.”

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الخراج ١٥ (٢٩٥٤)، (تحفة الأشراف: ٢٦٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٩٦، ٣٧١)، وھوطرف حدیث تقدم برقم: ٤٥) (صحیح )
2417Sunan Ibne-Majah

تنگدست کو مہلت دینا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی تنگ دست پر آسانی کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں آسانی فرمائے گا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said. Whoever is easy with (a debtor) who is in difficulty, Allah will be easy with him in this world and the Hereafter."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٥٤٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع ٦٧ (١٣٠٦) (صحیح )
2418Sunan Ibne-Majah

تنگدست کو مہلت دینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ نُفَيْعٍ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا كَانَ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ وَمَنْ أَنْظَرَهُ بَعْدَ حِلِّهِ كَانَ لَهُ مِثْلُهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ.

بریدہ اسلمی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو کسی تنگ دست کو مہلت دے گا تو اس کو ہر دن کے حساب سے ایک صدقہ کا ثواب ملے گا، اور جو کسی تنگ دست کو میعاد گزر جانے کے بعد مہلت دے گا تو اس کو ہر دن کے حساب سے اس کے قرض کے صدقہ کا ثواب ملے گا ۔

It was narrated from Buraidah Al-Aslami that the Prophet ﷺ said: "Whoever gives respite to one in difficulty, he will have (the reward of) an act of charity for each day. Whoever gives him respite after payment becomes due, will have (the reward of) an act of charity equal to (the amount of the loan) for each day."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٠١٢، ومصباح الزجاجة: ٨٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥١، ٣٦٠) (صحیح) (سند میں ابوداود نفیع بن الحارث ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث دوسرے طرق و شواہد سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٨٦ )
2419Sunan Ibne-Majah

تنگدست کو مہلت دینا

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُظِلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ فَلْيُنْظِرْ مُعْسِرًا أَوْ لِيَضَعْ لَهُ.

صحابی رسول ابوالیسر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی یہ چاہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے (عرش کے) سائے میں رکھے، تو وہ تنگ دست کو مہلت دے، یا اس کا قرض معاف کر دے ۔

It was narrated from Abu Yasar, the Companion of the Prophet ﷺ that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever would like Allah to shade him with His shade, let him give respite to one in difficulty, or waive repayment of the loan."

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزہد ١٨ (٣٠٠٦)، (تحفة الأشراف: ١١١٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢٧)، سنن الدارمی/البیوع ٥٠ (٢٦٣٠) (صحیح )
2420Sunan Ibne-Majah

تنگدست کو مہلت دینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍيُحَدِّثُ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَجُلًا مَاتَ، فَقِيلَ لَهُ: مَا عَمِلْتَ؟ فَإِمَّا ذَكَرَ أَوْ ذُكِّرَ، قَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَتَجَوَّزُ فِي السِّكَّةِ وَالنَّقْدِ وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: أَنَا قَدْ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

حذیفہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص مرگیا تو اس سے پوچھا گیا: تم نے کیا عمل کیا ہے؟ تو اس کو یا تو یاد آیا یا یاد لایا گیا، اس نے کہا: میں سکہ اور نقد کو کھوٹ کے باوجود لے لیتا تھا، اور تنگ دست کو مہلت دیا کرتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔ ابومسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Hudhaifah that the Prophet ﷺ said: "A man died and it was said to him: What did you do? Either he remembered or was reminded and said: I used to be easy going in coins and cash concerning collecting debts due, and I used to give respite to (the debtor) who was in difficulty. So, Allah forgave him." Abu Masud said: "I heard that from the Messenger of Allah."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کوئی کھوٹا سکہ یا نقدی دیتا تو بھی میں اسے قبول کرلیتا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١٧ (٢٠٧٧)، الاستقراض ٥ (٢٣٩١)، الأنبیاء ٥٤ (٣٤٥١)، الرقاق ٢٥ (٦٤٨٠)، صحیح مسلم/المساقاة ٦ (١٥٦٠)، (تحفة الأشراف: ٣٣١٠)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجنائز ١١٧ (٢٠٨٢)، سنن الترمذی/البیوع ٦٧ (١٣٠٧)، مسند احمد (٥/٣٩٥، ٣٩٩)، سنن الدارمی/البیوع ١٤ (٢٥٨٨) (صحیح )
2421Sunan Ibne-Majah

اچھے طریقہ سے مطالبہ کرنا اور حق لینے میں برائی سے بچنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ طَلَبَ حَقًّا فَلْيَطْلُبْهُ فِي عَفَافٍ وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ.

ابن عمر اور عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی حق کا مطالبہ کرے تو شریفانہ طور پر کرے، خواہ وہ حق پورا پا سکے یا نہ پا سکے ۔

It was narrated from Ibn Umar and Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever demands his rights let him do so in a decent manner as much as he can."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٧٩٤، ١٧٦٧٣، ومصباح الزجاجة: ٨٤٩) (صحیح )
2422Sunan Ibne-Majah

اچھے طریقہ سے مطالبہ کرنا اور حق لینے میں برائی سے بچنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الصَّبَّاحِ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَبَّبٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَامِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِصَاحِبِ الْحَقِّ خُذْ حَقَّكَ فِي عَفَافٍ، وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صاحب حق سے فرمایا: شریفانہ انداز سے اپنا حق لو خواہ پورا ملے یا نہ ملے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said to the one who was entitled to something: "Take your rights in a decent manner, as much as you can."

Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں عفاف کا لفظ آیا ہے، مطلب یہ ہے کہ صاحب حق اچھے ڈھنگ اور شریفانہ طور طریقے سے قرض کا مطالبہ کرے، نرمی اور شفقت کا لحاظ رکھے، خلاف شرع سختی نہ کرے، اور گالی گلوچ نہ بکے یا وہی مال لے جو حلال ہے، حرام مال سے اپنا قرض پورا نہ کرے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٥٨٧، ومصباح الزجاجة: ٨٥٠) (حسن صحیح )
2423Sunan Ibne-Majah

عمدگی سے ادا کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَاشُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ خَيْرَكُمْ أَوْ مِنْ خَيْرِكُمْ أَحَاسِنُكُمْ قَضَاءً.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں بہتر وہ ہے یا بہتر لوگوں میں سے وہ ہے جو قرض کی ادائیگی میں بہتر ہو ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The best of you - or among the best of you – are those who payoff their debts in the best manner."

Notes · وضاحت
١ ؎: قرض کا اچھی طرح ادا کرنا یہ ہے کہ قرض کے مال سے اچھا مال دے یا کچھ زائد دے یا قرض خواہ کا شکریہ ادا کرے، قرض میں زائد ادا کرنا مستحب ہے اور یہ منع نہیں ہے، منع وہ قرض ہے جس میں زیادہ دینے کی شرط ہو اور وہ سود ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوکالة ٥ (٢٣٠٥)، ٦ (٢٣٠٦)، الاستقراض ٤ (٢٣٩٠)، ٦ (٢٣٩٢)، ٧ (٢٣٩٣)، ١٣ (٢٤٠١)، الھبة ٢٣ (٢٦٠٦)، ٢٥ (٢٦٠٩)، صحیح مسلم/المساقاة ٢٢ (١٦٠١)، سنن الترمذی/البیوع ٧٥ (١٣١٦، ١٣١٧)، سنن النسائی/البیوع ٦٢ (٤٦٢٢)، ١٠١ (٤٦٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/ ٣٧٣، ٣٩٣، ٤١٦، ٤٣١، ٤٥٦، ٤٧٦، ٥٠٩) (صحیح )
2424Sunan Ibne-Majah

عمدگی سے ادا کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَلَفَ مِنْهُ حِينَ غَزَا حُنَيْنًا ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ أَلْفًا فَلَمَّا قَدِمَ قَضَاهَا إِيَّاهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ إِنَّمَا جَزَاءُ السَّلَفِ الْوَفَاءُ وَالْحَمْد.

عبداللہ بن ابی ربیعہ مخزومی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے غزوہ حنین کے موقع پر ان سے تیس یا چالیس ہزار قرض لیا، پھر جب حنین سے واپس آئے تو قرض ادا کیا، اور آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیرے اہل و عیال اور مال و دولت میں برکت دے، قرض کا بدلہ اس کو پورا کا پورا چکانا، اور قرض دینے والے کا شکریہ ادا کرنا ہے ۔

Isma’il bin Ibrahim bin Abdullah bin Abi Rabiah Al-Makhzumi narrated from his father, from his grandfather, that the Prophet ﷺ borrowed thirty or forty thousand from him, when he fought at Hunain. When he came back he paid back the loan, then the Prophet ﷺ said to him "May Allah bless your family and your wealth for you. The reward for lending is repayment and words of praise."

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الإستقراض ٩٥ (٤٦٨٧)، (تحفة الأشراف: ٥٢٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٦) (حسن) (سند میں ابراہیم بن عبداللہ کے حالات غیر معروف ہیں، شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإراوء: ١٣٨٨ )
2425Sunan Ibne-Majah

عمدگی سے ادا کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَطْلُبُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَيْنٍ أَوْ بِحَقٍّ، فَتَكَلَّمَ بِبَعْضِ الْكَلَامِ فَهَمَّ صَحَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْ، إِنَّ صَاحِبَ الدَّيْنِ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَى صَاحِبِهِ حَتَّى يَقْضِيَهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ سے اپنا قرض یا حق مانگنے آیا، اور کچھ (نامناسب) الفاظ کہے، صحابہ کرام ؓ اس کی طرف بڑھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں، رہنے دو، قرض خواہ کو مقروض پر غلبہ اور برتری رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر دے ۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "A man came to ask the Prophet ﷺ of Allah for some debt or some right, and he spoke harshly to him, and the Companions of the Messenger of Allah ﷺ wanted to rebuke him. But the Messenger of Allah ﷺ said: Let him be, for the one who is owed something has authority over the debtor, until it is paid off.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٠٣١، ومصباح الزجاجة: ٨٥١) (ضعیف جدا) (حنش کے بارے میں بخاری نے کہا کہ اس کی احادیث بہت زیادہ منکر ہیں، اس حدیث کو لکھا نہیں جائے گا، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٣١٨ )
2426Sunan Ibne-Majah

عمدگی سے ادا کرنا

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ أَبُو شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، أَظُنُّهُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِالْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَاضَاهُ دَيْنًا كَانَ عَلَيْهِ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ حَتَّى قَالَ لَهُ: أُحَرِّجُ عَلَيْكَ إِلَّا قَضَيْتَنِي. فَانْتَهَرَهُ أَصْحَابُهُ وَقَالُوا: وَيْحَكَ! تَدْرِي مَنْ تُكَلِّمُ؟ قَالَ: إِنِّي أَطْلُبُ حَقِّي. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلَّا مَعَ صَاحِبِ الْحَقِّ كُنْتُمْ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، فَقَالَ لَهَا: إِنْ كَانَ عِنْدَكِ تَمْرٌ فَأَقْرِضِينَا حَتَّى يَأْتِيَنَا تَمْرُنَا فَنَقْضِيَكِ، فَقَالَتْ: نَعَمْ، بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَأَقْرَضَتْهُ. فَقَضَى الْأَعْرَابِيَّ وَأَطْعَمَهُ، فَقَالَ: أَوْفَيْتَ أَوْفَى اللَّهُ لَكَ، فَقَالَ: أُولَئِكَ خِيَارُ النَّاسِ، إِنَّهُ لَا قُدِّسَتْ أُمَّةٌ لَا يَأْخُذُ الضَّعِيفُ فِيهَا حَقَّهُ غَيْرَ مُتَعْتَعٍ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم ﷺ سے اپنے قرض کا مطالبہ کرنے کے لیے آیا، اور اس نے آپ ﷺ سے سختی سے مطالبہ کیا، اور یہاں تک کہہ دیا کہ میں آپ کو تنگ کروں گا، نہیں تو میرا قرض ادا کر دیجئیے (یہ سن کر) صحابہ کرام ؓ نے اس کو جھڑکا اور کہا: افسوس ہے تجھ پر، تجھے معلوم ہے کہ تو کس سے بات کر رہا ہے؟ وہ بولا: میں اپنے حق کا مطالبہ کر رہا ہوں، نبی اکرم ﷺ نے (صحابہ کرام سے) فرمایا: تم صاحب حق کی طرف داری کیوں نہیں کرتے پھر آپ ﷺ نے خولہ بنت قیس کے پاس ایک آدمی بھیجا، اور ان کو کہلوایا کہ اگر تمہارے پاس کھجوریں ہوں تو ہمیں اتنی مدت تک کے لیے قرض دے دو کہ ہماری کھجوریں آجائیں، تو ہم تمہیں ادا کردیں گے ، انہوں نے کہا: ہاں، میرے باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کے رسول! میرے پاس ہے، اور انہوں نے آپ کو قرض دے دیا، آپ ﷺ نے اس سے اعرابی کا قرض ادا کردیا، اور اس کو کھانا بھی کھلایا، وہ بولا: آپ نے میرا حق پورا ادا کردیا، اللہ تعالیٰ آپ کو بھی پورا دے، آپ ﷺ نے فرمایا: یہی بہتر لوگ ہیں، اور کبھی وہ امت پاک اور مقدس نہ ہوگی جس میں کمزور بغیر پریشان ہوئے اپنا حق نہ لے سکے ۔

It was narrated that Abu saeed Al-Khudri said: "A Bedouin came to the Prophet ﷺ to ask him to pay back a debt that he owed him, and he spoke, harshly, saying: I will make things difficult for you unless you repay me. His Companions rebuked him and said: Woe to you, do you know who you are speaking to? He said: I am only asking for my rights. The Prophet ﷺ said: Why do you not support the one who has a right? Then he sent word to Khawlah bint Qais, saying to her: If you have dates, lend them to us until our dates come, then we will pay you back. She said: Yes, may my father be ransomed for you, O Messenger of Allah! ﷺ So she gave him a loan and he paid back the Bedouin and fed him. He (the Bedouin) said: You have paid me in full, may Allah pay you in full. He (the Prophet) said: Those are the best of people. May that nation not be cleansed (of sin) among whom the weak cannot get their rights without trouble.

Notes · وضاحت
١ ؎: سبحان اللہ آپ ﷺ کا کیا عدل و انصاف تھا، اپنے صحابہ کرام ؓ کو بھی یہ فرمایا کہ تم قرض خواہ کی مدد کرو، میری رعایت کیوں کرتے ہو، حق کا خیال اس سے زیادہ کیا ہوگا، آپ ﷺ کی نبوت کی یہ ایک کھلی دلیل ہے، نبی کے علاوہ دوسرے سے ایسا عدل و انصاف ہونا ممکن نہیں ہے، دوسری روایت میں ہے کہ پھر وہ گنوار جو کافر تھا مسلمان ہوگیا، اور کہنے لگا: میں نے آپ ﷺ سے زیادہ صابر نہیں دیکھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٠٢١، ومصباح الزجاجة: ٨٥٢) (صحیح )
2427Sunan Ibne-Majah

قرض کی وجہ سے قید کرنا اور قرض دار کا پیچھا نہ چھوڑنا اس کے ساتھ رہنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ الطَّائِفِيُّ، حَدَّثَنِيمُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ، قَالَ وَكِيعٌ: وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ، قَالَ عَلِيٌّ الطَّنَافِسِيُّ: يَعْنِي عِرْضَهُ شِكَايَتَهُ وَعُقُوبَتَهُ سِجْنَهُ.

شرید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو قرض ادا کرسکتا ہو اس کا ٹال مٹول کرنا اس کی عزت کو حلال کردیتا ہے، اور اس کو سزا (عقوبت) پہنچانا جائز ہوجاتا ہے ۔ علی طنافسی کہتے ہیں: عزت حلال ہونے کا مطلب ہے کہ قرض خواہ اس کے نادہند ہونے کی شکایت لوگوں سے کرسکتا ہے، اور عقوبت پہنچانے کے معنیٰ اس کو قید میں ڈال دینے کے ہیں۔

It was narrated from Amr bin Sharid that his father said that the Messenger of Allah ﷺ said: "If one who can afford it delays repayment, his honor and punishment become permissible.” (One of the narrators) Ali At- Tanafisi said: Honor means that it is permissible to make a complaint, and punishment means that he may be imprisoned.

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ٢٩ (٣٦٢٨)، سنن النسائی/البیوع ٩٨ (٤٦٩٣)، (تحفة الأشراف: ٤٨٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢٢، ٣٨٨، ٣٨٩) (حسن) (سند میں محمد بن میمون مجہول راوی ہیں، جن سے وبر طائفی کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٤٣٤ )
2428Sunan Ibne-Majah

قرض کی وجہ سے قید کرنا اور قرض دار کا پیچھا نہ چھوڑنا اس کے ساتھ رہنا۔

حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا الْهِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَرِيمٍ لِي، فَقَالَ لِي: الْزَمْهُ، ثُمَّ مَرَّ بِي آخِرَ النَّهَارِ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ يَا أَخَا بَنِي تَمِيمٍ.

ہرماس بن حبیب اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے قرض دار کو لے کر آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے پیچھے لگے رہو ، پھر آپ شام کو میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: اے بنی تمیم کے بھائی! تمہارا قیدی کہاں ہے ۔

Hirmas bin Habib narrated from his father that his grandfather said: "I came to the Prophet ﷺ with a man who owed me money, and he said to me: Keep him.’ Then he passed by me at the end of the day and said: What did your prisoner do, brother of Banu Tamim?"

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ٢٩ (٣٦٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٤٤) (ضعیف) (ہرماس بن حبیب اور ان کے والد دونوں مجہول ہیں )
2429Sunan Ibne-Majah

قرض کی وجہ سے قید کرنا اور قرض دار کا پیچھا نہ چھوڑنا اس کے ساتھ رہنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا لَهُ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا فَنَادَى كَعْبًا فَقَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: دَعْ مِنْ دَيْنِكَ هَذَاوَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّطْرِ، فَقَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ: قُمْ فَاقْضِهِ.

کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے مسجد نبوی میں ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا یہاں تک کہ ان دونوں کی آوازیں اونچی ہوگئیں، اور رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنے گھر میں سے سنا تو آپ گھر سے نکل کر ان کے پاس آئے، اور کعب ؓ کو آواز دی، تو وہ بولے: حاضر ہوں، اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے قرض میں سے اتنا چھوڑ دو ، اور اپنے ہاتھ سے آدھے کا اشارہ کیا، تو وہ بولے: میں نے چھوڑ دیا، آپ ﷺ نے ابن ابی حدرد ؓ سے فرمایا: اٹھو، جاؤ ان کا قرض ادا کرو ۔

It was narrated from Abdullah bin Kab bin Malik from his father that he demanded payment owed by Ibn Abi Hadrad in the Masjid. Their voices became so loud that the Messenger of Allah ﷺ heard them when he was in his house. He came out and called Kab who said: "Here I am, Messenger of Allah ﷺ " He said: "Waive this much of your loan," and gestured with his hand to indicate half. He said: "I will do that," and he said: "Get up and repay it.”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٧١ (٤٥٧)، ٨٣ (٤٧١) والخصومات ٤ (٢٤١٨)، ٩ (٢٤٢٤)، الصلح ١٠ (٢٧٠٦)، ١٤ (٢٧١٠)، صحیح مسلم/المسافاة ٢٥ (١٥٥٨)، سنن ابی داود/الأقضیة ١٢ (٣٥٩٥)، سنن النسائی/آداب القضاة ٢١ (٥٤١٠)، (تحفة الأشراف: ١١١٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٥٤، ٤٦٠، ٦/٣٨٦، ٣٩٠)، سنن الدارمی/البیوع ٤٩ (٢٦٢٩) (صحیح )