قرض کی وجہ سے قید کرنا اور قرض دار کا پیچھا نہ چھوڑنا اس کے ساتھ رہنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ الطَّائِفِيُّ، حَدَّثَنِيمُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ، قَالَ وَكِيعٌ: وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ، قَالَ عَلِيٌّ الطَّنَافِسِيُّ: يَعْنِي عِرْضَهُ شِكَايَتَهُ وَعُقُوبَتَهُ سِجْنَهُ.
شرید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو قرض ادا کرسکتا ہو اس کا ٹال مٹول کرنا اس کی عزت کو حلال کردیتا ہے، اور اس کو سزا (عقوبت) پہنچانا جائز ہوجاتا ہے ۔ علی طنافسی کہتے ہیں: عزت حلال ہونے کا مطلب ہے کہ قرض خواہ اس کے نادہند ہونے کی شکایت لوگوں سے کرسکتا ہے، اور عقوبت پہنچانے کے معنیٰ اس کو قید میں ڈال دینے کے ہیں۔
It was narrated from Amr bin Sharid that his father said that the Messenger of Allah ﷺ said: "If one who can afford it delays repayment, his honor and punishment become permissible.” (One of the narrators) Ali At- Tanafisi said: Honor means that it is permissible to make a complaint, and punishment means that he may be imprisoned.