ابن سلامہ سلمی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں آدمی کو اپنی ماں کے ساتھ اچھے سلوک اور برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اپنی ماں کے ساتھ اچھے سلوک اور برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اپنی ماں کے ساتھ اچھے سلوک اور برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اپنے باپ کے ساتھ اچھے سلوک اور برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اپنے مولیٰ ١ ؎ کے ساتھ جس کا وہ والی ہو اچھے سلوک اور برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ اس کو اس سے تکلیف ہی کیوں نہ پہنچی ہو ٢ ؎۔
It was narrated that Abu Salamah As-Sulami said that the Prophet ﷺ said: "I enjoin each one to honor his mother, I enjoin each one to honor his mother, I enjoin each one to honor his mother (three times), I enjoin each one to honor his father, I enjoin each one to honor his guardian who is taking care of him, even if he is causing him some annoyance."(Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: عربی میں مولیٰ کا لفظ آزاد کردہ غلام یا دوست یا رشتے دار یا حلیف سبھی معنوں میں مستعمل ہے، یہاں کوئی بھی معنی مراد لے سکتے ہیں۔ ٢ ؎: اگرچہ اس سے تکلیف پہنچے لیکن اس کے عوض میں تکلیف نہ دے جواں مردی یہی ہے کہ برائی کے بدلے نیکی کرے، اور جو اپنے سے رشتہ توڑے اس سے رشتہ جوڑے جیسے دوسری حدیث میں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٥٤، ومصباح الزجاجة: ١٢٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣١١) (ضعیف) (سند میں شریک بن عبد اللہ القاضی اور عبیداللہ بن علی دونوں ضعیف ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حسن سلوک (اچھے برتاؤ) کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری ماں ، پھر پوچھا: اس کے بعد کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری ماں ، پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا باپ ، پھر پوچھا: اس کے بعد کون حسن سلوک (اچھے برتاؤ) کا سب سے زیادہ مستحق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر جو ان کے بعد تمہارے زیادہ قریبی رشتے دار ہوں، پھر اس کے بعد جو قریبی ہوں ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "They said: O Messenger of Allah, whom should I treat kindly? He said: Your mother. He said: Then who? He said: Your mother." He said: Then who? He said: Your father: He said: Then who? He said: The next closest and the next closest"(sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٩٢٠، ومصباح الزجاجة: ١٢٧٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب ٢ (٥٩٧١ تعلیقاً )، صحیح مسلم/البر والصلة ١ (٢٥٤٨)، مسند احمد (٢/٣٩١) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی بھی اولاد اپنے باپ کا حق ادا نہیں کرسکتی مگر اسی صورت میں کہ وہ اپنے باپ کو غلامی کی حالت میں پائے پھر اسے خرید کر آزاد کر دے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "No child can compensate his father unless he finds him a slave, and buys him and sets him free:
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/العتق ٦ (١٥١٠)، سنن الترمذی/البر والصلة ٨ (١٩٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٦٣) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قنطار بارہ ہزار اوقیہ کا ہوتا ہے، اور ہر اوقیہ آسمان و زمین کے درمیان پائی جانے والی چیزوں سے بہتر ہے ۔ اور رسول اللہ ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے: آدمی کا درجہ جنت میں بلند کیا جائے گا، پھر وہ کہتا ہے کہ میرا درجہ کیسے بلند ہوگیا (حالانکہ ہمیں عمل کا کوئی موقع نہیں رہا) اس کو جواب دیا جائے گا: تیرے لیے تیری اولاد کے دعا و استغفار کرنے کے سبب سے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Qintar is twelve thousand Uqiyah, each Uqiyah of which is better than what is between heaven and earth." And the Messenger of Allah ﷺ said: "A man will be raised in status in Paradise and will say: Where did this come from? And it will be said: From your sons praying for forgiveness for you”.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٨١٥، ومصباح الزجاجة: ١٢٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٦٣، ٥٠٩)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ٣٢ (٣٥٠٧) (ضعیف) (سند میں عاصم بن بھدلة ضعیف ہیں، اور ابوہریرہ ؓ کے قول سے معروف ہے )
مقدام بن معدیکرب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تم کو اپنی ماؤں کے ساتھ حسن سلوک (اچھے برتاؤ) کی وصیت کرتا ہے یہ جملہ آپ ﷺ نے تین بار فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ تم کو اپنے باپوں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے، پھر جو تمہارے زیادہ قریب ہوں، پھر ان کے بعد جو قریب ہوں ان کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے ۔
It was narrated from Miqdam bin Madikarib that the Messenger of Allah ﷺ said: "Allah enjoins you to treat your mothers kindly" - three times - "Allah enjoins you to treat your fathers kindly, Allah enjoins you to treat the closest and the next closest kindly."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٥٦٢، ومصباح الزجاجة: ١٢٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٣١، ١٣٢) (صحیح )
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! والدین کا حق ان کی اولاد پر کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہی دونوں تیری جنت اور جہنم ہیں ۔
It was narrated from Abu Umamah that a man said: "O Messenger of Allah, what are the rights of parents over their child?" He said: "They are your Paradise and your Hell."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٢٠، ومصباح الزجاجة: ١٢٧٣) (ضعیف) (سند میں علی بن یزید ضعیف راوی ہیں )
ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے، چاہے تم اس دروازے کو ضائع کر دو، یا اس کی حفاظت کرو ١ ؎۔
It was narrated that Abu Darda heard the Prophet ﷺ say: "The father is the middle door of Paradise, middle door of Paradise (i.e., the best way to Paradise), so it is up to you whether you take advantage of it or not."
Notes · وضاحت
١ ؎: درمیان میں جو دروازہ ہوتا ہے اس میں سے مکان میں جلدی پہنچ جاتے ہیں، تو والدین کو جنت میں جانے کا قریب اور آسان راستہ قرار دیا اگر آدمی اپنے والدین کو خوش رکھے جو کچھ مشکل نہیں تو آسانی سے جنت مل سکتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر والصلة ٣ (١٩٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٩٦، ١٩٧، ٦/٤٤٥، ٤٤٨، ٤٥١) (صحیح )
ابواسید مالک بن ربیعہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے، اتنے میں قبیلہ بنی سلمہ کا ایک شخص حاضر ہوا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میرے والدین کی نیکیوں میں سے کوئی نیکی ایسی باقی ہے کہ ان کی وفات کے بعد میں ان کے لیے کرسکوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، ان کے لیے دعا اور استغفار کرنا، اور ان کے انتقال کے بعد ان کے وعدوں کو پورا کرنا، اور ان کے دوستوں کی عزت و تکریم کرنا، اور ان رشتوں کو جوڑنا جن کا تعلق انہیں کی وجہ سے ہے ۔
It was narrated that Abu Usaid, Malik bin Rabiah, said: "While we were with the Prophet, a man from Banu Salamah came to him and said: O Messenger of Allah, is there any way of honoring my parents that I can still do for them after they die? He said: Yes, offering the funeral prayer for them, praying for forgiveness for them, fulfilling their promises after their death, honoring their friends and upholding the ties of kinship which you would not have were it not for them."
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ١٢٩ (٥١٤٢)، (تحفة الأشراف: ١١١٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٩٧، ٤٩٨) (ضعیف) (سند میں عبد الرحمن بن سلیمان لین (ضعیف)، اور علی بن عبید مجہول ہیں )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ کچھ اعرابی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور کہا: کیا آپ لوگ اپنے بچوں کا بوسہ لیتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو ان اعرابیوں (خانہ بدوشوں) نے کہا: لیکن ہم تو اللہ کی قسم! (اپنے بچوں کا) بوسہ نہیں لیتے، (یہ سن کر) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھے کیا اختیار ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں سے رحمت اور شفقت نکال دی ہے ۔
It was narrated Aisha (RA) said: Some Bedouin people came to the Prophet ﷺ and said: Do you kiss your children? He said: Yes. He said: But we, by Allah, never kiss (our children). The Prophet ﷺ said: What can I do if Allah has taken away mercy from you?"
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفضائل ١٥ (٢٣١٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٨٢٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب ١٧ (٥٩٩٣)، مسند احمد (٦/٧٠) (صحیح )
یعلیٰ عامری ؓ کہتے ہیں کہ حسن اور حسین ؓ دونوں دوڑتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے پاس آے تو آپ ﷺ نے ان دونوں کو اپنے سینے سے چمٹا لیا، اور فرمایا: یقیناً اولاد بزدلی اور بخیلی کا سبب ہوتی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Yala AI-Amiri that he said: "Hasan and Husain came running to the Prophet ﷺ and he embraced them and said: Children make a man a miser and a coward."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آدمی اولاد کی محبت میں مال خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے، اور اولاد کے لئے مال چھوڑ جانا چاہتا ہے، اور جہاد سے سستی کرتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٨٥٣، ومصباح الزجاجة: ١٢٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٧٢) (صحیح )
سراقہ بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا میں تم کو افضل صدقہ نہ بتادوں؟ اپنی بیٹی کو صدقہ دو، جو تمہارے پاس آگئی ہو ١ ؎، اور تمہارے علاوہ اس کا کوئی کمانے والا بھی نہ ہو ۔
It was narrated from Suraqah bin Malik that the Prophet ﷺ said: "Shall I not tell you of the best charity? A daughter who comes back to you and has no other breadwinner apart from you."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی شوہر کی موت یا طلاق کی وجہ سے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨٢١، ومصباح الزجاجة: ١٢٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٧٥) (ضعیف) (علی بن رباح کا سماع سراقہ ؓ سے نہیں ہے اس لئے سند میں انقطاع ہے )
احنف کے چچا صعصعہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کو ساتھ لے کر ام المؤمنین عائشہ ؓ کی خدمت میں آئی، تو انہوں نے اس کو تین کھجوریں دیں، اس عورت نے ایک ایک کھجور دونوں کو دی، اور تیسری کھجور کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کے درمیان تقسیم کردی، عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اس کے بعد نبی اکرم ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں تعجب کیوں ہے؟ وہ تو اس کام کی وجہ سے جنت میں داخل ہوگئی ١ ؎۔
It was narrated that Sasaah, the paternal uncle of Ahnaf, said: "A woman entered upon Aisha (RA) with her two daughters, and she gave her three dates. (The woman) gave each of her daughters a date, then she split the last one between them. She ( Aisha (RA) ) said: Then the Prophet ﷺ came and I told him about that. He said: Why are you surprised? She will enter Paradise because of that.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اپنے بیٹوں کو پالنے، ان کو کھلانے پلانے اور اپنے کو بھوکے رہنے سے، وہ جنت کی حقدار ہوگئی، اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب شوہر مرجاتا ہے، اور عورت صاحب اولاد ہوتی ہے تو بیچاری عمر بھر محنت مزدوری کرتی ہے، اور جو ملتا ہے وہ اپنی اولاد کو کھلاتی ہے، اور وہ خود اکثر بھوکی رہتی ہے۔
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس کے پاس تین لڑکیاں ہوں، اور وہ ان کے ہونے پر صبر کرے، ان کو اپنی کمائی سے کھلائے پلائے اور پہنائے، تو وہ اس شخص کے لیے قیامت کے دن جہنم سے آڑ ہوں گی ۔
Uqbah bin Amir said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Whoever has three daughters and is patient towards them, and feeds them, gives them to drink, and clothes them from his wealth; they will be a shield for him from the Fire on the Day of Resurrection.’
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٩٢١، ومصباح الزجاجة: ١٢٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٥٤) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کے پاس دو لڑکیاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک (اچھا برتاؤ) کرے جب تک کہ وہ دونوں اس کے ساتھ رہیں، یا وہ ان دونوں کے ساتھ رہے تو وہ دونوں لڑکیاں اسے جنت میں پہنچائیں گی ۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no man whose two daughters reach the age of puberty and he treats them kindly for the time that they are together, but they will gain him admittance to Paradise."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٦٨١، ومصباح الزجاجة: ١٢٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٥، ٣٦٣) (حسن) (سند میں ابو سعید ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ٣٨٢ )
ابوشریح خزاعی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیئے کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ نیک سلوک کرے، اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیئے کہ وہ اپنے مہمان کا احترام اور اس کی خاطرداری کرے، اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیئے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے ۔
It was narrated from Abu Shuraih Al-Khuza’i that the Prophet ﷺ said: "Whoever believes in Allah and the Last Day, let him treat his neighbor well. Whoever believes in Allah and the Last Day, let him honor his guest. Whoever believes in Allah and the Last Day, let him say something good or else remain silent."
Notes · وضاحت
١ ؎: صرف اچھی بات کہنے یا خاموش رہنے کی اس عمدہ نصیحت نبوی پر عمل کے سلسلے میں اکثر لوگ کوتاہی کا شکار ہیں، لوگوں کے جو جی میں آتا ہے کہہ ڈالتے ہیں، پھر پچھتاتے ہیں، آدمی کو چاہیے کہ اگر اچھی بات ہو تو منہ سے نکالے، اور بری بات جیسے جھوٹ، غیبت، بہتان، فضول اور بیکار باتوں سے ہمیشہ بچتا رہے، عقلاء کے نزدیک کثرت کلام بہت معیوب ہے، تمام حکیموں اور داناوں کا اس پر اتقاق ہے کہ آدمی کی عقل مندی اس کے بات کرنے سے معلوم ہوجاتی ہے، لہذا ضروری ہے کہ خوب سوچ سمجھ کر بولے کہ اس کی بات سے کوئی نقصان تو پیدا نہ ہوگا، پھر یہ سوچے کہ اس بات میں کوئی فائدہ بھی ہے یا نہیں، اس کے بعد اگر اس بات میں فائدہ ہو تو منہ سے نکالے ورنہ خاموش رہے، اگر خاموشی سے تھک جائے تو ذکر الہٰی یا تلاوت قرآن کرے، یا دینی علوم کو حاصل کرے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے جبرائیل (علیہ السلام) برابر پڑوس کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ وہ پڑوسی کو وارث بنادیں گے ١ ؎۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Jibrail kept enjoining good treatment of neighbors until I thought that he would make neighbors heirs."
Notes · وضاحت
١ ؎: پڑوس کا حق بہت ہے، اگرچہ کافر ہو لیکن اس کے ساتھ اچھا سلوک ضروری ہے، اگر وہ کوئی چیز عاریتاً مانگے تو اس کو دے، اگر بھوکا ہو تو اپنے کھانے میں سے اس کو کھلائے، اگر اس کو قرض کی ضرورت ہو تو دے، بہر حال خوشی اور مصیبت دونوں میں اس کا شریک رہے، اور اس کی ہمدردی کرتا رہے اس میں دین اور دنیا دونوں کے فائدے ہیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جبرائیل برابر پڑوسی کے بارے میں وصیت و تلقین کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ وہ ہمسایہ کو وارث بنادیں گے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Jibrail kept enjoining good treatment of neighbors until I thought that he would make neighbors heirs."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٣٥٢، ومصباح الزجاجة: ١٢٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥٩، ٣٠٥، ٤٤٥، ٥١٤) (صحیح )
ابوشریح خزاعی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت و تکریم کرے، اور یہ واجبی مہمان نوازی ایک دن اور ایک رات کی ہے، مہمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے میزبان کے یہاں اتنا ٹھہرے کہ اسے حرج میں ڈال دے، مہمان داری (ضیافت) تین دن تک ہے اور تین دن کے بعد میزبان جو اس پر خرچ کرے گا وہ صدقہ ہوگا ۔
It was narrated from Abu Shuraih Al-Khuzat that the Prophet ﷺ said: "Whoever believes in Allah and the Last Day, let him honor his guest, and grant him reward for a day and a night. And it is not permissible for him to stay so long that he causes annoyance to his host. Hospitality is for three days, and whatever he spends on him after three days is charity."
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: آپ ہم کو لوگوں کے پاس بھیجتے ہیں، اور ہم ان کے پاس اترتے ہیں تو وہ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے، ایسی صورت میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے ہم سے فرمایا: جب تم کسی قوم کے پاس اترو اور وہ تمہارے لیے ان چیزوں کے لینے کا حکم دیں جو مہمان کو درکار ہوتی ہیں، تو انہیں لے لو، اور اگر نہ دیں تو اپنی مہمان نوازی کا حق جو ان کے لیے مناسب ہو ان سے وصول کرلو ١ ؎۔
It was narrated that Uqbah bin Amir said: "We said to the Messenger of Allah: You send us and we stay with people who do not show us any hospitality. What do you think of that? The Messenger of Allah ﷺ said: If you stay with people and they give you what a guest deserves, then accept it. If they do not do that, then take from them what they should have offered which a guest is entitled to.
Notes · وضاحت
١ ؎: جب میزبان مہمان کی مہمانی نہ کرے تو اس کے عوض میں بقدر مہمانی کے میزبان سے نقد وصول کرسکتا ہے، اور یہ واجب مہمانی پہلی رات میں ہے کیونکہ رات میں مسافر کو نہ کھانا مل سکتا ہے نہ بازار معلوم ہوتا ہے، تو صاحب خانہ پر اس کے کھانے پینے کا انتظام کردینا واجب ہے، بعض علماء کے نزدیک یہ وجوب اب بھی باقی ہے، جمہور کہتے ہیں کہ وجوب منسوخ ہوگیا، لیکن سنت ہونا اب بھی باقی ہے، تو ایک دن رات مہمانی کرنا سنت مؤکدہ ہے، یعنی ضروری ہے اور تین دن مستحب ہے، اور تین دن بعد پھر مہمانی نہیں، اب مہمان کو چاہیے کہ وہاں سے چلا جائے یا اپنے کھانے پینے کا انتظام خود کرے، اور میزبان پر بوجھ نہ بنے۔