والدین کی فرمانبرداری اور ان کے ساتھ حسن سلوک۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، فَأَضِعْ ذَلِكَ الْبَابَ أَوِ احْفَظْهُ.
ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے، چاہے تم اس دروازے کو ضائع کر دو، یا اس کی حفاظت کرو ١ ؎۔
It was narrated that Abu Darda heard the Prophet ﷺ say: "The father is the middle door of Paradise, middle door of Paradise (i.e., the best way to Paradise), so it is up to you whether you take advantage of it or not."
Notes · وضاحت
١ ؎: درمیان میں جو دروازہ ہوتا ہے اس میں سے مکان میں جلدی پہنچ جاتے ہیں، تو والدین کو جنت میں جانے کا قریب اور آسان راستہ قرار دیا اگر آدمی اپنے والدین کو خوش رکھے جو کچھ مشکل نہیں تو آسانی سے جنت مل سکتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر والصلة ٣ (١٩٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٩٦، ١٩٧، ٦/٤٤٥، ٤٤٨، ٤٥١) (صحیح )