روزوں کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 9 · 145 hadiths · Page 1 of 8

1638Sunan Ibne-Majah

روزوں کی فضیلت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ مَا شَاءَ اللَّهُ، يَقُولُ اللَّهُ: إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انسان کی ہر نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: سوائے روزے کے اس لیے کہ وہ میرے لیے خاص ہے، اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، آدمی اپنی خواہش اور کھانا میرے لیے چھوڑ دیتا ہے، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب سے ملنے کے وقت، اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی بو سے بہتر ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Every good deed of the son of Adam will be multiplied manifold. A good deed will be multiplied ten times up to as many as seven hundred times, or as much as Allah wills. Allah says: Except for fasting, which is for Me and I shall reward for it. He gives up his desire and his food for My sake. The fasting person has two joys, one when he breaks his fast and another when he meets his Lord. The smell that comes from the mouth of a fasting person is better before Allah than the fragrance of musk." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ روزہ دار کے سوا دوسری نیکیوں کا ثواب معین اور معلوم ہے، یا ان کا ثواب دینا فرشتوں کو سونپ دیا گیا ہے اور روزے کا ثواب اللہ تعالیٰ نے خاص اپنے علم میں رکھا ہے، اور وہ خود ہی قیامت کے دن روزہ دار کو عنایت فرمائے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اور نیکیوں میں ریا کی گنجائش ہے، روزہ ریا سے پاک ہے، آدمی اسی وقت روزہ رکھے گا اور حیوانی و نفسانی خواہشات سے اسی وقت باز رہے گا جب اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا ڈر ہوگا، ورنہ روزہ نہ رکھے گا اور لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو روزہ دار ظاہر کرے گا۔ خلوف سے مراد وہ بو ہے جو سارے دن بھوکا پیاسا رہنے کی وجہ سے روزہ دار کے منہ سے آتی ہے۔
Takhrij · تخریج
حدیث وکیع عن الأعمش قد أخرجہ: صحیح مسلم/الصوم ٣٠ (١١٥١)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٢٠)، وحدیث أبي معاویہ عن الأعمش قد أخرجہ: صحیح مسلم/الصوم ٣٠ (١١٥١)، (تحفة الأشراف: ١٢٤٧٠)، مسند احمد (٢/٢٣٢، ٢٥٧، ٢٦٦، ٢٧٣، ٢٩٣، ٣٥٢، ٤٤٣، ٤٤٥، ٤٧٥، ٤٧٧، ٤٨٠، ٥٠١)، سنن الدارمی/ الصوم ٥٠ (١٨١١) (صحیح )
1639Sunan Ibne-Majah

روزوں کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، أَنَّمُطَرِّفًا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ حَدَّثَهُ: أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيَّ، دَعَا لَهُ بِلَبَنٍ يَسْقِيهِ، فَقَالَ مُطَرِّفٌ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الصِّيَامُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْقِتَالِ.

قبیلہ عامر بن صعصعہ کے مطرف نامی ایک فرد بیان کرتے ہیں کہ عثمان بن ابی العاص ثقفی ؓ نے انہیں پلانے کے لیے دودھ منگایا، تو انہوں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں، اس پر عثمان ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: روزہ جہنم سے ڈھال ہے جیسے تم میں سے کسی کے پاس لڑائی میں ڈھال ہوتی ہے ۔

Mutarrif from the tribe of Banu Amir bin Sa sa ah narrated that "Uthman bin Abul- As Ath-Thaqafi invited him to drink some milk that he poured for him.Mutarrif said: "I am fasting." "Uthman said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Fasting is a shield against the Fire just like the shield of anyone of you against fighting." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصیام ٤٣ (٢٢٣٢)، (تحفة الأشراف: ٩٧٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢، ٢١٧) (صحیح )
1640Sunan Ibne-Majah

روزوں کی فضیلت

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا، يُقَالُ لَهُ: الرَّيَّانُ يُدْعَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ: أَيْنَ الصَّائِمُونَ؟ فَمَنْ كَانَ مِنَ الصَّائِمِينَ دَخَلَهُ، وَمَنْ دَخَلَهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا.

سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، قیامت کے دن پکارا جائے گا، کہا جائے گا روزہ دار کہاں ہیں؟ تو جو روزہ داروں میں سے ہوگا وہ اس دروازے سے داخل ہوگا اور جو اس میں داخل ہوگا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا ۔

It was narrated from Sahl bin Sad (RA) that the Prophet ﷺ said: "In Paradise there is a gate called Ra y y a n , On the Day of Resurrection the call will go out saying: Where are those who used to fast? Whoever is among those who used to fast will enter it, and whoever enters it will never thirst again." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٥٥ (٧٦٥)، (تحفة الأشراف: ٤٧٧١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٤ (١٨٩٦)، بدأالخلق ٩ (٣٢٥٧)، صحیح مسلم/الصوم ٣٠ (١١٥٢)، کلاھمادون جملة الظمأ، سنن النسائی/الصیام ٤٣ (٢٢٣٨)، مسند احمد (٥/٣٣٣، ٣٣٥) (صحیح) (وَمَنْ دَخَلَهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا کا جملہ صحیح نہیں ہے، تراجع الألبانی: رقم: ٣٥١ )
1641Sunan Ibne-Majah

ماہ رمضان کی فضیلت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے روزہ رکھا، اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Whoever fasts Ramadan out of faith and the hope of reward will be forgiven his previous sins." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٢٧ (٣٨)، الصوم ٦ (١٩٠١)، التراویح ١ (٢٠٠٩)، سنن النسائی/قیام اللیل ٣ (١٦٠٤)، الصوم ٢٢ (٢١٩٦) الإیمان ٢١ (٥٠٢٧)، ٢٢ (٥٠٣٠)، (تحفة الأشراف: ١٥٣٥٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٢٥ (٧٦٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٨ (١٣٧١)، سنن الترمذی/الصوم ١ (٦٨٣)، ٨٣ (٨٠٨)، موطا امام مالک/الصلاة في رمضان ١ (٢)، مسند احمد (٢/٢٤١، ٢٨١، ٢٨٩، ٤٠٨، ٤٢٣، ٤٧٣، ٤٨٦، ٥٠٣، ٥٢٩، سنن الدارمی/الصوم ٥٤ (١٨١٧) (صحیح )
1642Sunan Ibne-Majah

ماہ رمضان کی فضیلت

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا كَانَتْ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ، وَمَرَدَةُ الْجِنِّ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ، وَفُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ، وَنَادَى مُنَادٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ، وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ، وَذَلِكَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطان اور سرکش جن زنجیروں میں جکڑ دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور اس کا کوئی بھی دروازہ کھلا ہوا نہیں رہتا، جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، اور اس کا کوئی بھی دروازہ بند نہیں رہتا، منادی پکارتا ہے: اے بھلائی کے چاہنے والے! بھلائی کے کام پہ آگے بڑھ، اور اے برائی کے چاہنے والے! اپنی برائی سے رک جا، کچھ لوگوں کو اللہ جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہے، اور یہ (رمضان کی) ہر رات کو ہوتا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When the first night of Ramadan comes, the , satans and mischievous jinns are chained up, and the gates of the Fire are closed, and none of its , gates are opened. The gates of Paradise are opened and none of its gates are closed. And a caller cries out: O seeker of good, proceed, a seeker of evil, stop. And Allah has necks (people) Whom He frees (from the Fire),and that happens every day." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہی وجہ ہے کہ رمضان میں اہل ایمان کی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھ جاتی ہے، اور وہ اس میں تلاوت قرآن، ذکر و عبادت اور توبہ و استغفار کا خصوصی اہتمام کرنے لگتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ١ (٦٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٢٤٩٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٥ (١٨٩٨، ١٨٩٩)، بدأالخلق ١١ (٣٦٧٧)، صحیح مسلم/الصوم ١ (١٠٧٩)، سنن النسائی/الصیام ٣ (٢٠٩٩)، موطا امام مالک/الصیام ٢٢ (٥٩)، مسند احمد (٢/٢٨١، ٢٨٢، ٣٥٧، ٣٧٨، ٤٠١)، سنن الدارمی/الصوم ٥٣ (١٨١٦) (صحیح )
1643Sunan Ibne-Majah

ماہ رمضان کی فضیلت

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا كَانَتْ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ، وَمَرَدَةُ الْجِنِّ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ، وَفُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ، وَنَادَى مُنَادٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ، وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ، وَذَلِكَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر افطار کے وقت کچھ لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے اور یہ (رمضان کی) ہر رات کو ہوتا ہے ۔

It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ said: "At every breaking of the fast Allah has people whom He frees (from the Fire). and that happens every night." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٣٣٥، ومصباح الزجاجة: ٥٩٧) (حسن صحیح) (حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب: ٩٩١ - ٩٩٢، صحیح ابن خزیمہ: ١٨٨٣ )
1644Sunan Ibne-Majah

ماہ رمضان کی فضیلت

حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: دَخَلَ رَمَضَانُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَذَا الشَّهْرَ قَدْ حَضَرَكُمْ وَفِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَهَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَيْرَ كُلَّهُ، وَلَا يُحْرَمُ خَيْرَهَا إِلَّا مَحْرُومٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رمضان آیا تو رسول کرام ﷺ نے فرمایا: یہ مہینہ آگیا اور اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو اس سے محروم رہا وہ ہر طرح کے خیر (بھلائی) سے محروم رہا، اور اس کی بھلائی سے محروم وہی رہے گا جو (واقعی) محروم ہو ۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "Ramadan began, and the Messenger of AlIah ﷺ said: This month has come to you, and in it there is a night that is better than a thousand months. Whoever is deprived of it is deprived of all goodness, and no one is deprived of its goodness except one who is truly deprived:" (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٢٤، ومصباح الزجاجة: ٥٩٨) (حسن صحیح )
1645Sunan Ibne-Majah

شک کے دن روزہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ، فَأُتِيَ بِشَاةٍ فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ عَمَّارٌ: مَنْ صَامَ هَذَا الْيَوْمَ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

صلہ بن زفر کہتے ہیں کہ ہم شک والے دن میں عمار بن یاسر ؓ کے پاس تھے ان کے پاس ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی بعض لوگ اس کو دیکھ کر الگ ہوگئے، (کیونکہ وہ روزے سے تھے) عمار ؓ نے کہا: جس نے ایسے دن میں روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی ١ ؎۔

It was narrated that Silah bin Zufar said: "We were with Ammar on the day concerning which there was some doubt. A (roasted) sheep was brought and some of the people moved away. ,Ammar said: Whoever is fasting on this day has disobeyed Abu Qasim " (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: شک والے دن سے مراد ٣٠ شعبان کا دن ہے یعنی بادلوں کی وجہ سے ٢٩ ویں کو چاند نظر نہ آیا ہو تو پتہ نہیں چلتا کہ یہ شعبان کا تیسواں دن ہے یا رمضان کا پہلا دن اسی وجہ سے اسے شک کا دن کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ١١ (١٩٠٦)، (تعلیقا) سنن ابی داود/الصوم ١٠ (٢٣٣٤)، سنن الترمذی/الصوم ٣ (٦٨٦)، سنن النسائی/الصیام ٢٠ (٢١٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٥٤) وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم ١ (١٧٢٤) (صحیح )
1646Sunan Ibne-Majah

شک کے دن روزہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَعْجِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ قَبْلَ الرُّؤْيَةِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چاند دیکھنے سے ایک روز پہلے روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade anticipating the fast by fasting one day before the sighting (of the crescent)." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٣٣٩، ومصباح الزجاجة: ٥٩٩) (صحیح) (سند میں عبد اللہ بن سعید المقبری ضعیف ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، صحیح ابو داود: ٢٠١٥ )
1647Sunan Ibne-Majah

شک کے دن روزہ

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ قَبْلَ شَهْرِ رَمَضَانَ: الصِّيَامُ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، وَنَحْنُ مُتَقَدِّمُونَ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَتَقَدَّمْ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيَتَأَخَّرْ.

معاویہ بن ابی سفیان ؓ منبر پر کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان سے پہلے منبر پر فرمار ہے تھے: روزہ فلاں فلاں دن شروع ہوگا، اور ہم اس سے پہلے سے روزہ رکھنے والے ہیں لہٰذا جس کا جی چاہے پہلے سے روزہ رکھے، اور جس کا جی چا ہے مؤخر کرے ١ ؎۔

It was narrated from Qasim Abu I Abdur-Rahman that he heard Muawiyah bin Abu Sufyan (RA) on the pulpit saying: "The if Messenger of Allah ﷺ used to say from the pulpit, before the month of Ramadan: Fasting will begin on such and such a day, but we are going to start fasting earlier, so whoever wants to start fasting earlier [i.e. in Shaban}, let him do so, and whoever wants to wait until Ramadan begins, let him do so:" (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی رمضان کا دن آجائے تب روزہ شروع کرے، واضح رہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے، مسئلہ کے لیے حدیث نمبر ( ١٦٥٠ ) کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٤٣٦، ومصباح الزجاجة: ٦٠٠) (ضعیف) (سند میں ھیثم بن حمید ضعیف ہے، نیز ( ١٦٥٠ ) نمبر پر ابوہریرہ ؓ کی حدیث کے یہ مخالف ہے )
1648Sunan Ibne-Majah

شعبان کے روزے رمضان کے روزوں کے ساتھ ملا دینا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ شعبان کو رمضان سے ملا دیتے تھے۔

It was narrated that Umm Salamah said: "The Messenger of Allah ﷺ used to join Shaban to Ramadan." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٣٧ (٧٣٦)، سنن النسائی/الصیام ١٩ (٢١٧٨)، ٧٠ (٢٣٥٤، ٢٣٥٥)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٣٢)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم ١١ (٢٣٣٦)، مسند احمد (٦/٣٠٠، ٣١١)، سنن الدارمی/الصوم ٣٣ (١٧٨٠) (صحیح) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٢٠٢٤ )
1649Sunan Ibne-Majah

شعبان کے روزے رمضان کے روزوں کے ساتھ ملا دینا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ الْغَازِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَتْ: كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ حَتَّى يَصِلَهُ بِرَمَضَانَ.

ربیعہ بن الغاز سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے روزے کے سلسلے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ پورے شعبان روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ اسے رمضان سے ملا دیتے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Rabi ah bin Ghaz asked Aisha (RA) about the fasting of the Messenger of Allah ﷺ She said: "He used to fast all to Shaban, until he joined it to Ramadan." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: پورے شعبان روزے رکھنے کے معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ شعبان میں روزے زیادہ رکھتے تھے کیونکہ اس مہینہ میں اعمال رب العالمین کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں، اور آپ کو یہ بات بےحد پسند تھی کہ جب آپ کے اعمال بارگاہ الٰہی میں پیش ہوں تو آپ روزے کی حالت میں ہوں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصیام ٤٤ (٧٤٥ مختضراً )، سنن النسائی/الصیام ١٩ (٢١٨٨)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٨١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٥٢ (٩٧٠)، صحیح مسلم/الصیام ٣ (١٠٨٢)، موطا امام مالک/الصیام ٢٢ (٥٦)، مسند احمد (٦/٨٠، ٨٩، ١٠٦) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ١٧٣٩) (حسن صحیح) (صحیح أبی داود: ٢١٠١ )
1650Sunan Ibne-Majah

رمضان سے ایک دن قبل روزہ رکھنا منع ہے، سوائے اس شخص کے جو پہلے سے کسی دن کا روزہ رکھتا ہو اور وہی دن رمضان سے پہلے آجائے۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبٍ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقَدَّمُوا صِيَامَ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ وَلَا بِيَوْمَيْنِ، إِلَّا رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَيَصُومُهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو، الا یہ کہ کوئی آدمی پہلے سے روزے رکھ رہا ہو تو وہ اسے رکھے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Do not anticipate Ramadan by fasting one or two days before, except for a man who has a habitual pattern of fasting, in which case let him fast." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً پہلے سے جمعرات یا سوموار (پیر) کے روزے رکھنے کا معمول ہو، اور یہ دن اتفاق سے رمضان سے دو یا ایک دن پہلے آجائے تو اس کا روزہ رکھے کیونکہ یہ روزہ رمضان کے استقبال کے لیے نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصوم ٣١ (٢١٧١، ٢١٧٢)، ٣٨ (٢١٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٣٩١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ١٤ (١٩١٤)، صحیح مسلم/الصوم ٣ (١٠٨٢)، سنن ابی داود/الصوم ١١ (٢٣٣٥)، سنن الترمذی/الصوم ٢ (٦٨٥)، مسند احمد (٣/٢٣٤، ٣٤٧، ٤٠٨، ٤٣٨، ٧ ٧ ٤، ٤٩٧، ٥١٣)، سنن الدارمی/الصوم ٤ (١٧٣١) (صحیح )
1651Sunan Ibne-Majah

رمضان سے ایک دن قبل روزہ رکھنا منع ہے، سوائے اس شخص کے جو پہلے سے کسی دن کا روزہ رکھتا ہو اور وہی دن رمضان سے پہلے آجائے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ النِّصْفُ مِنْ شَعْبَانَ فَلَا صَوْمَ حَتَّى يَجِيءَ رَمَضَانُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب نصف شعبان ہوجائے، تو روزے نہ رکھو، جب تک کہ رمضان نہ آجائے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: When it is the middle of Shaban, do not fast until Ramadan comes." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ بات عام امت کے لئے ہے، نبی اکرم ﷺ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ شعبان کے روزوں کو رمضان سے ملا دیا کرتے تھے کیونکہ آپ کو روحانی قوت حاصل تھی اس لئے روزہ آپ کے لئے کمزوری کا سبب نہیں بنتا تھا، لیکن امت کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ نصف ثانی میں روزہ نہ رکھیں تاکہ ان کی قوت و توانائی رمضان کے روزوں کے لئے برقرار رہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ١٢ (٢٣٣٧)، سنن الترمذی/الصوم ٣٨ (٧٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٠٥١، ١٤٠٩٥)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم ٣٤ (١٧٨١) (صحیح )
1652Sunan Ibne-Majah

چاند دیکھنے کی گواہی

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَبْصَرْتُ الْهِلَالَ اللَّيْلَةَ، فَقَالَ: أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُمْ يَا بِلَالُ فَأَذِّنْ فِي النَّاسِ أَنْ يَصُومُوا غَدًا، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: هَكَذَا رِوَايَةُ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، فَلَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَقَالَ: فَنَادَى أَنْ يَقُومُوا، وَأَنْ يَصُومُوا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے کہا: رات میں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں ؟ اس نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: اے بلال اٹھو، اور لوگوں میں اعلان کر دو کہ لوگ کل روزہ رکھیں ۔ ابوعلی کہتے ہیں: ایسے ہی ولید بن ابی ثور اور حسن بن علی کی روایت ہے، اس کو حماد بن سلمہ نے روایت کیا ہے، اور انہوں نے ابن عباس ؓ کا ذکر نہیں کیا اور کہا: تو بلال ؓ نے اعلان کیا کہ لوگ قیام اللیل کریں (یعنی صلاۃ تراویح پڑھیں) اور روزہ رکھیں۔

It was narrated that Ibn Abbas said. "A Bedouin came to the Prophet ﷺ and said: I have seen the new crescent tonight. He said: Do you bear witness that none has the right to be worshiped but Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah ﷺ ? He said: Yes: He said: Get up, a Bilal (RA) , and announce to the people that they should fast tomorrow:" (Daif) Abu Ali said: "This is how it was narrated from Walid bin Abu Thawr and Hasan bin Ali. It was also narrated from Hammad bin Salamah, but he did not mention Ibn Abbas. He said: And he announced that they should perform the prayer and that they should fast:"

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ١٤ (٢٣٤٠، ٢٣٤١)، سنن الترمذی/الصوم ٧ (٦٩١)، سنن النسائی/الصوم ٦ (٢١١٥)، (تحفة الأشراف: ٦١٠٤)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم ٦ (١٧٣٤) (ضعیف) (سند میں سماک ہیں جن کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے )
1653Sunan Ibne-Majah

چاند دیکھنے کی گواہی

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِيعُمُومَتِي مِنَ الْأَنْصَارِ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: أُغْمِيَ عَلَيْنَا هِلَالُ شَوَّالٍ فَأَصْبَحْنَا صِيَامًا، فَجَاءَ رَكْبٌ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ، فَشَهِدُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ رَأَوْا الْهِلَالَ بِالْأَمْسِ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْطِرُوا، وَأَنْ يَخْرُجُوا إِلَى عِيدِهِمْ مِنَ الْغَدِ.

ابوعمیر بن انس بن مالک کہتے ہیں کہ میرے انصاری چچاؤں نے جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، مجھ سے بیان کیا ہے کہ ہمارے اوپر شوال کا چاند مشتبہ ہوگیا تو اس کی صبح ہم نے روزہ رکھا، پھر شام کو چند سوار آئے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں اور دوسرے دن صبح عید کے لیے نکلیں ١ ؎۔

It was narrated that Umair bin Anas bin Malik (RA) said: "My paternal uncles among the Ansar who were among the Companions of the Messenger of Allah ﷺ told me: The new crescent of Shawwal was covered with clouds, so we fasted the next day. Then some riders came at the end of the day and testified to the Prophet ﷺ that they had seen the It was narrated that Umair bin Anas bin Malik (RA) said: "My paternal uncles among the Ansar who were among the Companions of the Messenger of Allah ﷺ told me: The new crescent of Shawwal was covered with clouds, so we fasted the next day. Then some riders came at the end of the day and testified to the Prophet ﷺ that they had seen the new crescent the night before. The Messenger of Allah ﷺ commanded them to break their fast and to go out to offer the Eid prayer the following morning." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عید کے چاند کے لئے دو آدمیوں کی شہادت ضروری ہے، اور اہل حدیث کا یہ قول ہے کہ اگر شوال کے چاند کے دن یعنی رمضان کی ٢٩ تاریخ کو بادل ہو تو تیس دن پورے کرے جب تک چاند ثابت نہ ہو، جیسا کہ آگے آنے والی ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں آیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٥٥ (١١٥٧)، سنن النسائی/صلاة العیدین ١ (١٥٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٦٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٥٧، ٥٨) (صحیح )
1654Sunan Ibne-Majah

چا ند دیکھ کر روزہ رکھنا اور چاند دیکھ کر افطار ( عید) کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَصُومُ قَبْلَ الْهِلَالِ بِيَوْمٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر ہی روزہ توڑا کرو، اور اگر چاند بادل کی وجہ سے مشتبہ ہوجائے تو تیس دن کی تعداد پوری کرو ١ ؎۔ عبداللہ بن عمر ؓ چاند نکلنے کے ایک روز پہلے سے ہی روزہ رکھنا شروع کردیتے تھے۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: When you see the new crescent, fast, and when you see it, stop fasting. If it is cloudy then calculate it (as thirty days)." Ibn Umar used to fast one day before the new crescent was seen. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ روزہ رکھنے اور چھوڑنے میں چاند دیکھنا ضروری ہے محض فلکی حساب کافی نہیں۔ رہا یہ مسئلہ کہ ایک علاقہ کی رویت دوسرے علاقہ والوں کے لیے معتبر ہوگی یا نہیں تو اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے، رویت ہلال کا مسئلہ ہمیشہ بحث کا موضوع بنا رہتا ہے، اس لیے اس مسئلہ کی وضاحت ضروری ہے: اگر کسی جگہ چاند نظر آجائے تو کیا سارے مسلمانوں کے لیے واجب ہے کہ وہ اس رویت کی بنا پر روزہ رکھیں یا روزہ توڑ دیں یا ہر ملک اور علاقہ کے لوگ اپنے ملک کے مطلع کے مطابق چاند دیکھ کر اس کا اعتبار کریں، اور اس کے مطابق عمل کریں۔ ( ١ ) جمہور اہل علم جن میں امام ابوحنیفہ اور امام احمد بھی داخل ہیں کے نزدیک اگر ایک شہر میں چاند نکل آئے تو ہر جگہ کے لوگ اس کے مطابق روزہ رکھیں، اور چھوڑیں، یعنی ایک علاقے کی رویت دوسرے علاقے کے لیے کافی ہوگی، اس لیے کہ حدیث میں وارد صوموا اور أفطروا کا حکم عام ہے، اس کے مخاطب دنیا کے تمام مسلمان ہیں، ان کے نزدیک رویت ہلال میں مطالع کے اتفاق اور اختلاف کا کوئی اعتبار نہیں۔ ( ٢ ) علماء کی ایک جماعت جن میں امام شافعی سرفہرست ہیں کے نزدیک رویت ہلال کے مسئلے میں اختلاف مطالع مؤثر اور معتبر ہے، زیر نظر حدیث میں جو حکم ہے وہ ان لوگوں کے لیے جن کے یہاں ہلال نظر آگیا ہے، لیکن جہاں چاندنظر ہی نہیں آیا تو ان کے لیے یہ حکم اس وقت مؤثر ہوگا جب چاند نظر آئے جائے گا جیسے صوم و صلاۃ کے اوقات میں ہر جگہ کے طلوع اور غروب کا اعتبار ہے، ایسے ہی چاند کی رویت میں بھی اختلاف مطالع مؤثر ہے، اس لیے ایک علاقہ کی رویت دوسرے علاقے کے مسلمانوں کے لئے کافی نہیں، اس حدیث کے مخاطب صرف وہ مسلمان ہیں جنھوں نے چاند دیکھا ہو، اور جن علاقے کے مسلمانوں نے چاند دیکھا ہی نہیں وہ اس کے مخاطب نہیں ہیں، اس لیے ہر علاقے کے لیے اپنی اپنی الگ الگ رویت ہے جس کے مطابق وہ روزہ رکھنے اور عید منانے کا فیصلہ کریں گے۔ شیخ الإسلام ابن تیمیہ کہتے ہیں: اہل علم کا اس مسئلے پر اتفاق ہے کہ مطالع مختلف ہوتے ہیں، اگر مطلع ایک ہو تو روزہ لازمی طور پر رکھنا ہوگا، ورنہ اختلاف مطالع کی صورت میں روزہ رکھنا ضروری نہیں ہوگا، شافعیہ کا صحیح ترین قول نیز حنبلی مذہب کا ایک قول یہی ہے، اس عقلی دلیل کے ساتھ اختلاف مطالع کے مؤثر ہونے کی نقلی دلیل صحیح مسلم میں آئی ہے: کریب کہتے ہیں کہ میں شام آیا اور جمعہ کی رات میں رمضان کا چاند دیکھا آخری مہینہ میں واپس مدینہ آیا تو مجھ سے ابن عباس ؓ نے پوچھا: تم لوگوں نے شام میں کب چاند دیکھا تو میں نے جواب دیا کہ جمعہ کی رات کو لوگوں نے چاند دیکھا اور روزہ رکھا، ابن عباس ؓ نے کہا: ہم لوگوں نے مدینہ میں سنیچر کی رات کو چاند دیکھا ہے، ہم چاند دیکھ کر روزہ توڑیں گے یا تیس دن پورا کریں گے، اس لیے کہ رسول اکرم ﷺ نے ہمیں ایسے ہی حکم دیا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ اہل علم کا عمل اس حدیث پر ہے۔ اس قصے سے یہ بات واضح ہے کہ ابن عباس ؓ نے شام والوں کی رویت کا اعتبار نہیں کیا بلکہ مدینہ والوں کی رویت کو معتبر مانا۔ اس مذہب کے قائلین اختلاف مطالع کو جو کہ ایک حقیقت ہے رویت ہلال کے مسئلہ میں معتبر مانتے ہیں، امت میں اس سلسلے میں شروع سے اختلاف چلا آ رہا ہے، جس کی بنیاد حدیث کے ساتھ ساتھ اختلاف مطالع کو معتبر ماننا بھی ہے۔ کتاب الزلال کے مؤلف فرماتے ہیں: یہ بات یقینی طور پر جان لینی چاہیے صحیح بات جس پر محقق علمائے حدیث و اہل نظر اور فلکیات کے ماہرین کا اتفاق ہے کہ رویت ہلال میں دیکھا جائے گا کہ جس جگہ رویت ہوئی ہے، وہاں سے دو ہزار دو سو چھبیس ( ٢٢٢٦ ) کلومیٹر کے درمیان کی دوری کا حکم اتحاد مطالع کی وجہ سے روزہ رکھنے اور توڑنے میں یکساں ہوگا، اور اگر اس سے زیادہ مسافت ہوگی تو اس کا اعتبارصحیح نہیں ہوگا، اور ہر علاقے کا حکم اس کے مطلع کے اختلاف کے مطابق ہوگا، چاہے یہ دوری مشرق و مغرب کی ہو یا شمال و جنوب کی اور چاہے یہ ایک ملک میں ہو یا ایک اقلیم میں، یہ شرعی دلائل اور فلکیاتی حساب کے موافق ہے، اور اس سے سارے اشکالات ختم ہوجاتے ہیں واللہ اعلم رویت ہلال سے متعلق سعودی عرب کے کبار علماء کے بورڈ کے متفق علیہ فتوے کا خلاصہ درج ذیل ہے: اختلافِ مطالع ضروری طور پر معلوم و مشہور چیز ہے، جس کے بارے میں کوئی اختلاف ہے ہی نہیں، ہاں علماء کے نزدیک اس کے معتبر ماننے اور نہ ماننے کے درمیان اختلاف ہے، اختلافِ مطالع کو رویت ہلال کے سلسلے میں مؤثر و معتبر ماننا اور نہ ماننا ان مسائل میں سے ہے جن میں اجتہاد کی گنجائش ہے، معتبر اہل علم اور اہل دین کے یہاں اس میں اختلاف رہا ہے، اور یہ جائز قسم کا اختلاف ہے، اہل علم کی اس میں دو رائے ہے، ایک گروہ اختلافِ مطالع کو مؤثر مانتا ہے، اور دوسرے گروہ کے یہاں اختلافِ مطالع کا اعتبار نہیں ہے، ہر فریق کا اپنا اپنا استدلال ہے، علماء بورڈ نے اس مسئلے کے مختلف گوشوں پر غور و خوض کر کے اور یہ مان کر کہ یہ مسئلہ چودہ سال سے امت میں موجود ہے، اس رائے کا اظہار کیا کہ ان گزشتہ صدیوں میں ہمیں کسی ایسے زمانے کا علم نہیں ہے جس میں ایک شہر کی رویت کی بنا پر سب لوگوں نے ایک دن ہی عید منائی ہو، اس لیے بورڈ کے ممبران کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ مسئلہ جیسے ہے ویسے ہی رہنے دیا جائے، ہر اسلامی ملک کو اس بات کا حق ہے کہ ان دونوں میں سے ان کے علماء وفقہاء جس رائے کے مطابق فتوی دیں اس کے مطابق عمل کیا جائے، رہ گیا چاند کا ثبوت فلکیاتی حساب سے تو علماء بورڈ اسے بالاجماع غیر معتبر مانتا ہے، واللہ اعلم۔ (ملاحظہ ہو: توضیح الأحکام من بلوغ المرام للشیخ عبداللہ بن عبدالرحمن البسام حدیث نمبر: ٥٤١ )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٨٠٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٥ (١٩٠٠)، ١١ (١٩٠٨)، صحیح مسلم/الصوم ٢ (١٠٨١)، سنن ابی داود/الصوم ٤ (٢٣٢٠)، سنن النسائی/الصوم ٧ (٢١٢٢)، موطا امام مالک/الصیام ١ (١) مسند احمد (٢/٥، ٥/٥، ١٣، ٦٣، ١٤٥)، سنن الدارمی/الصوم ٢ (١٧٢٦) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: ٤/١٠ و صحیح أبی داود: ٢٠٠٩ )
1655Sunan Ibne-Majah

چا ند دیکھ کر روزہ رکھنا اور چاند دیکھ کر افطار ( عید) کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَصُومُوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب چاند دیکھو تو روزہ توڑ دو، اگر بادل آجائے تو تیس روزے پورے کرو ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When you see the new crescent then fast, and when you see it then stop fasting. If it is cloudy then fast thirty days." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ٢ (١٠٨١)، (تحفة الأشراف: ١٣١٠٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ١١ (١٩٠٦)، سنن الترمذی/الصوم ٢ (٦٨٤)، سنن النسائی/الصیام ٧ (٢١٢٠)، مسند احمد (٢/ ٢٥٩، ٢٦٣، ٢٨، ٢٨٧، ٤١٥، ٤٢٢، ٤٣٠، ٤٣٨، ٤٥٤، ٤٥٦، ٤٦٩، ٤٩٧)، سنن الدارمی/الصوم ٢ (١٧٦٧) (صحیح )
1656Sunan Ibne-Majah

مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہورتا ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمْ مَضَى مِنَ الشَّهْرِ؟، قَالَ: قُلْنَا: اثْنَانِ وَعِشْرُونَ وَبَقِيَتْ ثَمَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشَّهْرُ هَكَذَا، وَالشَّهْرُ هَكَذَا، وَالشَّهْرُ هَكَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَأَمْسَكَ وَاحِدَةً.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہینہ میں کتنے دن گزرے ہیں؟ ہم نے عرض کیا: بائیس دن گزرے ہیں اور آٹھ دن باقی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہے، اور تیسری بار ایک انگلی بند کرلی ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: How much of the month has passed?" We said: "Twenty-two (days), and there are eight left." The Messenger of Allah ﷺ said: "The month is like that, and the month is like that, (and the month is like that), three times, and he withheld one finger the last time." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے تین بار اشارہ فرمایا، اور تیسری بار میں ایک انگلی بند کرلی تو ٢٩ دن ہوئے، مطلب آپ کا یہ تھا کہ صحابہ کرام ؓ نے جو کہا کہ ٢٢ دن گزرے ہیں اور آٹھ دن باقی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ مہینہ تیس دن کا ہوتا ہے، یہ بات نہیں ہے، ٢٩ دن کا بھی ہوتا ہے، اور نبی کریم ﷺ نے ازواج مطہرات ؓن سے ایک ماہ کے لئے ایلا کیا تھا، پھر ٢٩ دن کے بعد ان کے پاس آگئے، اس سے معلوم ہوا کہ اگر ایک مہینہ تک کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے لئے قسم کھائے تو ٢٩ دن قسم پر عمل کرنا کافی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٥٥١، ومصباح الزجاجة: ٦٠١)، مسند احمد (٢/٢٥١) (صحیح )
1657Sunan Ibne-Majah

مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہورتا ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشَّهْرُ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا، وَعَقَدَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ فِي الثَّالِثَةِ.

سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہے، تیسری دفعہ میں ٢٩ کا عدد بنایا ۔

It was narrated from Muhammad bin Sad bin Abu Waqqas that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The month is like that and like that and like that: and he showed nine fingers on the third time to indicate twenty-nine." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ٤ (١٠٨٦)، سنن النسائی/الصیام ٨ (٢١٣٧، ٢١٣٨)، (تحفة الأشراف: ٣٩٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٨٤) (صحیح )