ابو حمید ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو قبلہ رخ ہوتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر الله أكبر کہتے ١ ؎۔
Muhammad bin Amr bin Ata said: "I heard Abu Humaid As-Saidi say: When the Messenger of Allah ﷺ stood up for prayer, he would face the prayer direction, raise his hands, and say: "Allahu Akbar (Allah is Most Great)." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس تکبیر کو تکبیر تحریمہ کہتے ہیں، جو متفقہ طور پر نماز میں فرض ہے، علماء اہل حدیث کے نزدیک جلسہ اولیٰ اور جلسۂ استراحت کے سوا، نماز کے تمام ارکان جو نبی اکرم ﷺ سے ثابت ہیں، فرض ہیں، اور تکبیر تحریمہ اور ہر رکعت میں سورة فاتحہ اور تشہد اخیر اور سلام کے علاوہ اذکار نماز میں سے کوئی ذکر واجب نہیں ہے، اس کے علاوہ اور ادعیہ و اذکار سنت ہیں، اب تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانا کانوں تک یا مونڈھوں تک دونوں طرح وارد ہے، اور یہ سنت ہے۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنی نماز شروع کرتے تو یہ دعا پڑھتے: سبحانک اللهم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالى جدک ولا إله غيرك اے اللہ! تو پاک ہے اور سب تعریف تیرے لیے ہے، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے، اور تیرے علاوہ کوئی مستحق عبادت نہیں ۔
It was narrated that Abu Saeed AI-Khudri said: "The Messenger of Allah ﷺ used to start his prayer by saying: "Subh an aka Allahumma wa bi hamdika, wa tabarakas-muka, wa taala jadduka, wa Ia ilaha ghairuka (Glory and praise be to You, O Allah, blessed be Your Name and exalted be Your majesty, none has the right to be worshipped but you)." (Hasan)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب تکبیر تحریمہ کہتے تو تکبیر اور قرات کے درمیان تھوڑی دیر خاموش رہتے، میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے بتائیے آپ تکبیر و قرات کے درمیان جو خاموش رہتے ہیں تو اس میں کیا پڑھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میں یہ دعا پڑھتا ہوں: اللهم باعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم نقني من خطاياي کا لثوب الأبيض من الدنس اللهم اغسلني من خطاياي بالماء والثلج والبرد اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان ایسی دوری کر دے جیسی دوری تو نے مشرق و مغرب کے درمیان رکھی ہے، اے اللہ! مجھے گناہوں سے ویسے ہی صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل و کچیل سے صاف کیا جاتا ہے، اے اللہ! میرے گناہوں کو پانی، برف اور اولے سے دھو دے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ said the Takbir (Allah Akbar), he would remain silent between the Takbir and the recitation. I said: May my father and mother be ransomed for you! I noticed that you are silent between the Takbir and the recitation; please tell me what you say tehn. He sali:d I say: (O Allah, distance me from my sins as You have distanced the east from the west;o Allah purify me of my sins as a white garment is purified of dirt; Allah, cleanse me of my sins with water and snow and hail)." (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز شروع کرتے تو یہ دعا پڑھتے: سبحانک اللهم وبحمدک تبارک اسمک وتعالى جدک ولا إله غيرك اے اللہ! تو پاک ہے اور ساری تعریفیں تیرے لیے ہیں، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے، اور تیرے علاوہ کوئی مستحق عبادت نہیں ۔
It was narrated from Aisha (RA) that when the Prophet ﷺ started Said! he would say: "Subhanaka Allahumma wa bi hamdika, wa tabarakas-muka wa tadla jadduka, wa Ia ilaha ghayruk (Glory and praise is to You, O Allah, blessed is Your Name and exalted is Your majesty, none has the right to be worshiped but You)." (Hasan)
جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جس وقت آپ نماز میں داخل ہوئے تو آپ نے الله أكبر کبيرا تین مرتبہ، الحمد لله كثيرا تین مرتبہ، سبحان الله بكرة وأصيلا تین مرتبہ کہا، اور پھر اللهم إني أعوذ بک من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه پڑھا اے اللہ! میں مردود شیطان کے جنون، وسوسے اور کبر و غرور سے تیری پناہ چاہتا ہوں ١ ؎۔ عمرو بن مرہ کہتے ہیں کہ شیطان کا ہمز اس کا جنون، نفث اس کا شعر ہے، اور نفخ اس کا کبر ہے۔
It was narrated from Ibn Jubair bin Mutim that his father said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ when he started the prayer. He said: Allahu Akbaru kabiran , Allahu Akbaru kabiran (Allah is the Most Great indeed): three times; Al-hamdu Lillahi kathiran, al-hamdu Lillahi kathiran (Much praise is to Allah): three times; Subhan Allahi bukratan wa asilan (Glory is to Allah morning and evening), three times; Allahumma inni a`udhu. Bika minash-Shaitanir-rajim, min hamzihi wa nafkhihi wa nafthihi (O Allah, I seek refuge in You from the accursed Satan, from his madness, his poetry, and his pride)." (Hasan) (One of the narrators) ‘Amr said: “Hamzuhu is his madness, Nafathuhu is poetry and Nafkhuhu is pride.”
Notes · وضاحت
١ ؎: جو شخص متبع سنت ہو اس کو چاہیے کہ کبھی سبحانک اللهم پڑھے، کبھی اللهم باعد بيني ..، کبھی إني وجهت ، اور کبھی حدیث میں مذکور یہ دعا اور ہر وہ دعا جو اس موقع پر صحیح اور ثابت ہے، تاکہ ہر ایک سنت کا ثواب ہاتھ آئے، یہ ایسی نعمت غیر مترقبہ ہے جس سے دوسرے لوگ ہمیشہ محروم رہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٢١ (٧٦٤)، (تحفة الأشراف: ٣١٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٠٣، ٤٠٤، ٣/٥٠، ٤/٨٠، ٨١، ٨٣، ٨٥، ٦/١٥٦) (ضعیف) (سند میں عاصم عنزی کی صرف ابن حبان نے توثیق کی ہے، یعنی وہ مجہول ہیں، نیز عاصم کے نام میں بھی اختلاف ہے، لیکن آخری ٹکڑا: اللهم إني أعوذ بک من الشيطان الرجيم ثابت ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء ٢ /٥٤ )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللهم إني أعوذ بک من الشيطان الرجيم وهمزه ونفخه ونفثه اے اللہ! میں مردود شیطان کے جنون، وسوسے اور کبر و غرور سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ راوی کہتے ہیں: ہمز سے مراد اس کا جنون ہے، نفث سے مراد شعر ہے اور نفخ سے مراد کبر و غرور ہے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Masud that the Prophet ﷺ said:" (O Allah, I seek refuge in You from the accursed Satan, from his madness, his pride, and his poetry)." (Hasan) He said: "Ham z uhu is his madness, NaJathuhu is poetry, and Najkhuhu is pride."……
Notes · وضاحت
١ ؎: طیبی کہتے ہیں کہ اگر یہ تفسیر حدیث میں داخل ہے تو اس کے سوا دوسری تفسیر نہیں ہوسکتی، اور جو راوی نے یہ تفسیر کی ہے تو نفث سے سحر بھی مراد ہوسکتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ومن شر النفاثات في العقد سورة الفلق: 4، اور ہمز سے شیطان کا وسوسہ بھی مراد ہوسکتا ہے، جیسے قرآن میں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٣٣٢، ومصباح الزجاجة: ٣٠٢)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ١٢٢ (٧٧٥)، سنن الترمذی/المواقیت ٦٥ (٢٤٢)، مسند احمد (١/٤٠٣) (صحیح) (سند میں عطاء بن السائب اختلاط کی وجہ سے ضعیف ہیں، اور محمد بن فضیل نے ان سے اختلاط کے بعد روایت کی ہے، نیز ابو عبدالرحمن السلمی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے ابن مسعود ؓ سے نہیں سنا ہے، لیکن طرق و شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، تراجع الألبانی: رقم: ٤٧٢ ، و الإرواء: ٢ /٥٤)۔
ہلب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہماری امامت فرماتے تو اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ سے پکڑے رہتے تھے۔
It was narrated from Qabisah bin Hufb that his father said: "The Prophet ﷺ used to lead us in prayer, and he would take hold of his left hand with his right." (Hasan)
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس گزرے اور میں اپنے بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے تھا، تو آپ ﷺ نے میرا دایاں ہاتھ پکڑ کر بائیں ہاتھ پر رکھ دیا۔
It was narrated that Abdullah bin Masud said: "The Prophet ﷺ passed by me, and [ …..was putting my left hand on my right. He took hold of my right hand and put it on my left."(Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٢٠ (٧٥٥)، سنن النسائی/الافتتاح ١٠ (٨٨٩)، (تحفة الأشراف: ٩٣٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٤٧) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ الحمد لله رب العالمين سے قراءت شروع کرتے تھے۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ Abu Bakr, Umar and Uthman used to start their recitation with "All the praises and thanks are to Allah, the Lord of all that exists. (Al-hamdu Lillahi Rabbil Alamin). ", (Sahih)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکرو عمر ؓ الحمد لله رب العالمين سے قراءت شروع کرتے تھے۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ Abu Bakr (RA) and Umar used to start their recitation with All the praises and thanks are to Allah, the Lord of all that exists (Al-hamdu Lillahi Rabbil- Alamin). (Sahih)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ الحمد لله رب العالمين سے قراءت شروع فرماتے تھے۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ used to start his recitation with All the praises and thanks are to Allah, the Lord of all that exists (AIhamdu lillahi Rabbil-Alamin), Comments: (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٤٤٥، ومصباح الزجاجة: ٣٠٣) (صحیح) (سند میں أبو عبد اللہ مجہول الحال ہیں، اور بشر بن رافع متکلم فیہ، لیکن اصل حدیث کثرت طرق و شواہد کی وجہ سے صحیح ہے )
ابن عبداللہ بن مغفل اپنے والد عبداللہ بن مغفل ؓ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے ایسا آدمی بہت کم دیکھا جس کو اسلام میں نئی بات نکالنا ان سے زیادہ ناگوار ہوتا ہو، انہوں نے مجھے بسم الله الرحمن الرحيم (بآواز) بلند پڑھتے ہوئے سنا تو کہا: بیٹے! تم اپنے آپ کو بدعات سے بچاؤ، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ، ابوبکر، عمر اور عثمان ؓ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی، لیکن میں نے ان میں سے کسی کو بھی بسم الله الرحمن الرحيم بآواز بلند پڑھتے ہوئے نہیں سنا، لہٰذا جب تم قراءت کرو تو الحمد لله رب العالمين سے کرو۔
Ibn Abdullah bin Mughaffal narrated from his father and he said: "I have rarely seen a man for whom innovation in Islam was harder to bear than him. He heard me reciting: In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful Bismillahir- Rahmanir-Rahim and he said: O my son, beware of innovation, for I prayed with the Messenger of Allah ﷺ and with Abu Bakr, and with Umar, and with Uthman, and I never heard any of them saying this. When you (begin to) recite, say: All the praises and thanks are to Allah, the Lord of all that, exists. IAI-hamdu uusRnbbil-Alamin). (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٦٦ (٢٤٤)، سنن النسائی/الافتتاح ٢٢ (٩٠٩)، (تحفة الأشراف: ٩٦٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٥، ٥/٥٤، ٥٥) (ضعیف) (سند میں یزید بن عبد اللہ بن مغفل مجہول الحال ہے )
عمرو بن حریث ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، آپ فجر میں: فلا أقسم بالخنس الجوار الکنس ١ ؎ کی قراءت فرما رہے تھے، گویا کہ میں یہ قراءت اب بھی سن رہا ہوں۔
It was narrated that Amr bin Huraith said: "I performed prayer with the Prophet ﷺ when he was reciting in the Fajr, and it is as if I can hear him reciting: So verily, I swear by the planets that recede. And by the planets that move swiftly and hide themselves " (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سورة تکویر کی قراءت فرما رہے تھے یہاں بھی جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٣٥ (٨١٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٧١٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الصلاة ٣٥ (٤٥٦)، سنن النسائی/ الافتتاح ٤٤ (٩٥٢)، مسند احمد (٤/٣٠٦، ٣٠٧)، سنن الدارمی/الصلاة ٦٦ (١٣٣٧) (حسن )
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے، اور دوسری رکعت چھوٹی کرتے، اور اسی طرح فجر کی نماز میں بھی کرتے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Qtafaah said:"The Messenger of Allah ﷺ used to lead us in prayer, and he would lengthen the first Rakah of the Zulhr and shorten the second Rakah, and he would do likewise in the Subh." (sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: پہلی رکعت میں قراءت کو طول دینا بہ نسبت دوسری رکعت کے مستحب ہے، اور اس کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ لوگوں کو جماعت مل جائے، اور پہلی رکعت نہ چھوٹے، اور بعضوں نے کہا یہ نماز فجر کے لیے خاص ہے، واللہ اعلم۔
عبداللہ بن سائب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز میں سور ۃ مومنون کی تلاوت فرمائی، جب اس آیت پہ پہنچے جس میں عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہے، تو آپ کو کھانسی آگئی، اور آپ رکوع میں چلے گئے ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah bin Saib said: "The Messenger of Allah ﷺ recited surah Mominoon in the Subh prayer, and when he came to the mention of Eisa, he was overcome with a cough, so he bowed in Ruku: (sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب کی احادیث میں رسول اللہ ﷺ کی مقدار قراءت مختلف بتائی گئی ہے، جس سے حسب موقعہ پڑھنے پر استدلال کیا جاسکتا ہے، آخری حدیث سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ پوری سورة کا پڑھنا ضروری نہیں، پہلی رکعت میں قراءت طویل کرنا، اور دوسری میں ہلکی کرنا بھی سنت رسول ہے، اور ظاہری فائدہ اس کا یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت رکعت فوت ہونے سے بچ جاتی ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن صبح کی نماز میں الم تنزيل السجدة (سورۃ سجدۃ) ، اور هل أتى على الإنسان (سورۃ الدہر) پڑھتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “For the Subh prayer on Fridays, the Messenger of Allah ﷺ used to recite ‘Alif-Lam-Mim. The revelation and ‘Has there not been over man. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جمعہ کو نماز فجر میں ان دونوں سورتوں کا پڑھنا مستحب ہے كان يقرأ کے صیغے سے اس پر نبی اکرم ﷺ کی مواظبت کا پتہ چلتا ہے، بلکہ ابن مسعود ؓ کی روایت میں جس کی تخریج طبرانی نے کی ہے، اس پر آپ کی مداومت کی تصریح آئی ہے، اس میں شاید یہ حکمت ہوگی کہ ان دونوں سورتوں میں انسان کی پیدائش، خاتمہ، آدم، جنت اور جہنم کا ذکر ہے، اور قیامت کا حال ہے، اور یہ سب باتیں جمعہ کے دن ہونے والی ہیں، اور کچھ ہوچکی ہیں۔
سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن صبح کی نماز میں الم تنزيل اور هل أتى على الإنسان پڑھا کرتے تھے۔
It was narrated from Musab bin Sad that his father said: "For the Fajr prayer on Fridays. The Messenger of Allah ﷺ used to recite Alif-Lam-Mim. The revelation and Has there not been over man. (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٩٤٥، ومصباح الزجاجة: ٣٠٤) (صحیح) (سند میں حارث بن نبہان ضعیف ہیں، لیکن ابن مسعود ؓ کی اگلی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، نیز ابن عباس ؓ کی حدیث پہلے گزری )