ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن نماز فجر میں الم تنزيل اور هل أتى على الإنسان پڑھا کرتے تھے۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that for the Subh prayer on Fridays, the Messenger of Allah ﷺ used to recite Alif-Lam Mim, The revelation and Has there not been Over man. (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ١٠ (٨٩١)، سجود القرآن ٢ (١٠٢٨)، صحیح مسلم/الجمعة ١٧ (٨٨٠)، سنن النسائی/الافتتاح ٤٧ (٩٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٦٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٧٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٢ (١٥٨٣) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں الم تنزيل اور هل أتى على الإنسان پڑھا کرتے تھے۔ اسحاق بن سلیمان کہتے ہیں کہ عمرو بن ابی قیس نے ہم سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے ایسے ہی روایت کی ہے مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
It was narrated from Abdullah bin Masud that for the Subh prayer on Fridays. The Messenger of Allah ﷺ used to recite "Alif-Lam-Mim" The revelation and "Has there not been Over man (Hasan) Ishaq said: Amr has narrated to us like this from Abdullah, I have no doubt about it.
قزعہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: تمہارے لیے اس میں کوئی خیر نہیں ١ ؎، میں نے اصرار کیا کہ آپ بیان تو کیجئیے، اللہ آپ پہ رحم کرے، ابو سعید خدری ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے لیے نماز ظہر کی اقامت کہی جاتی اس وقت ہم میں سے کوئی بقیع جاتا، اور قضائے حاجت (پیشاب پاخانہ) سے فارغ ہو کر واپس آتا، پھر وضو کرتا تو وہ رسول اللہ ﷺ کو ظہر کی پہلی رکعت میں پاتا ٢ ؎۔
It was narrated that Qaza ah said: "I asked Abu Sa eed Ai- Khudri about the prayer of the Messenger of Aliah P..B.U.H He said: There is nothing good in that for you: I said: Expiain it, may Allah have mercy on you: He said: The Iqamah wouid be given for the Zuhr prayer for the Messenger of Allah ﷺ then one of us would go out to Al-Baqi, relieve himself, then come back and perform ablution, and he would find the Messenger of Allah ﷺ still in the first Rakah of the Zuhr:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: کیوں کہ علم عمل کے لئے ہے، اگر تم اس پر عمل نہ کرسکے تو وہ تمہارے خلاف قیامت کے دن حجت ہوگا۔ ٢ ؎: مسجد نبوی سے مشرقی سمت میں بقیع غرقد نامی علاقہ ہے، جس جگہ مقبرہ ہے، یہاں مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ آدمی قضاء حاجت کے لئے اتنا دور جاتا اور نماز نبوی اتنی لمبی ہوتی کہ واپس آ کر پہلی رکعت پا جاتا، شاید رسول اکرم ﷺ کبھی کبھی لمبی قراءت کرتے تھے، ورنہ آپ نے نماز ہلکی پڑھانے کا حکم دیا ہے۔
ابومعمر کہتے ہیں کہ میں نے خباب ؓ سے پوچھا: آپ لوگ ظہر اور عصر میں رسول اللہ ﷺ کی قراءت کو کیسے پہچانتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ کی داڑھی مبارک (کے بال) کے ہلنے سے۔
It was narrated that Abu Mamar said: "I said to Khabbab (RA) : How did you recognize that the Messenger of Allah ﷺ was reciting in the Zuhr and the Asr He said: From the movement of his beard:" (sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے فلاں یعنی عمرو بن سلمہ سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے مشابہ کسی کی نماز نہیں دیکھی، آپ ﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتیں لمبی کرتے، اور آخری دونوں ہلکی کرتے، اور عصر کی نماز بھی ہلکی کرتے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "I have never seen anyone whose prayer more closely resembles that of the Messenger of Allah ﷺ than soand- so. He used to lengthen the first two Rakah of the Zuhr and shorten the last two Rakah, and he used to shorten the Asr."(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس خیال سے کہ وہ کام کاج اور بازار کا وقت ہوتا ہے، لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الافتتاح ٦١ (٩٨٣)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٠٠، ٣٢٩، ٣٣٠، ٥٣٢) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ تیس بدری صحابہ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ آؤ ہم سری نماز میں رسول اللہ ﷺ کی قراءت کا اندازہ کریں، تو ان لوگوں نے ظہر کی پہلی رکعت میں آپ ﷺ کی قراءت کا اندازہ تیس آیت کے بہ قدر کیا، اور دوسری رکعت میں اس کے آدھا، اور عصر کی نماز میں ظہر کی پچھلی دونوں رکعتوں کے نصف کے بہ قدر، اس اندازے میں ان میں سے دو شخصوں کا بھی اختلاف نہیں ہوا ا ؎۔
It was narrated that Abu Sa eed AI-Khudri said: "Thirty of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ who had been at Badr came together and said: Come, iet us estimate the length of the recitation of the Messenger of Allah ﷺ for the prayer in which Quran is not recited out aloud: No two men among them disagreed, and they estimated the length of his recitation in the first Rakah of the Zuhr to be thirty Verses and in the second Rak ah to be half of that. They estimated his recitation in Asr to be half of the Meaning, "If you do not act upon it." See explanation by Sindi. last two Rakah of Zuhr." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب کی احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ کبھی کبھی ایک آدھ آیت کو اس طرح پڑھنا کہ پیچھے والے سن لیں درست ہے، سری و جہری میں فرق یہی ہے کہ سری میں اتنا آہستہ پڑھنا کہ خود سنے اور پاس والا بھی، اور جہری کہتے ہیں کہ خود بھی سنے اور دوسرے بھی سنیں، سنت کی پیروی میں کبھی کبھی ایک آدھ آیت سنانا درست ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٣٢٤، ومصباح الزجاجة: ٣٠٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ٣٤ (٤٥٢)، سنن ابی داود/الصلاة ١٣٠ (٨٠٤)، سنن النسائی/الصلاة ١٦ (٤٧٦)، مسند احمد (٣/٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٦٢ (١٣٢٥) (ضعیف) (سند میں زید العمی ضعیف راوی ہیں، اور ابوداود اور طیالسی نے مسعودی سے جو مختلط روای ہیں بعد اختلاط روایت کی ہے، لیکن مرفوع حدیث دوسری سند سے صحیح مسلم میں ہے، لفظ قیاس کے بغیر جیسا کہ اوپر کی تخریج میں مذکور ہے)۔
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں میں (سری) قراءت فرماتے تھے، اور کبھی کبھی ہمیں کوئی آیت سنا دیا کرتے تھے ا ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Abu Qatadah that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ used to recite when leading us in the first two Rak ah of the Zuhr prayer, and sometimes he would recite such that we could hear the Verse." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگرچہ رکعتوں میں نبی ﷺ سری قراءت کرتے لیکن پڑھتے پڑھتے کبھی ایک آدھ آیت آواز سے بھی پڑھ دیتے۔
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں ظہر کی نماز پڑھاتے تو ہم سورة لقمان اور سورة ذاريات کی کئی آیتوں کے بعد کوئی آیت سن لیا کرتے تھے۔
It was narrated that Bard bin Azib (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ used to lead us for the Zuhr, and we would hear him reciting a Verse after the Verses from Surat Luqman (31) and Adh-Dhariyat (51)." (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الافتتاح ٥٥ (٩٧٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٩١) (ضعیف) (سند میں ابواسحاق مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤١٢٠ )
عبداللہ بن عباس ؓ اپنی ماں سے روایت کرتے ہیں (ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا کہ ان کی والدہ کا نام لبابہ ہے) : انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو مغرب میں والمرسلات عرفا پڑھتے سنا۔
It was narrated that Ibn Abbas (RA) said, narrating from his mother (one of the narrators) Abu Bakr (RA) bin Abu Shaibah said:"(She was) Lubabah" that she heard the Messenger of Allah ﷺ reciting By the winds sent forth one after another in the Maghrib. (Sahih)
جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو مغرب کی نماز میں والطور پڑھتے سنا۔ جبیر بن مطعم ؓ نے ایک دوسری حدیث میں کہا کہ جب میں نے آپ ﷺ کو سورة الطور میں سے یہ آیت کریمہ أم خلقوا من غير شيء أم هم الخالقون سے فليأت مستمعهم بسلطان مبين، یعنی: کیا یہ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خودبخود پیدا ہوگئے ہیں؟ کیا انہوں نے ہی آسمانوں و زمینوں کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ یہ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا ان خزانوں کے یہ داروغہ ہیں، یا کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر سنتے ہیں؟ (اگر ایسا ہے) تو ان کا سننے والا کوئی روشن دلیل پیش کرے ، (سورۃ الطور: ٣٥ -٣٨) تک پڑھتے ہوئے سنا تو قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے گا ١ ؎۔
It was narrated from Muhammad bin Jubair bin Mutim that his father said: "I heard the Prophet ﷺ reciting Attur (52) in the Maghrib." In a different narration, Jubair said: "And when I heard him recite: Were they created by nothing? Or were they themselves the creators? up to: Then let their listener produce some manifest proof pi it was as if my heart Were about to take flight." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ان آیتوں کے عمدہ مضمون کا اثر دل پر ایسا ہوا کہ دل ہی ہاتھ سے جانے کو تھا، سبحان اللہ ایک تو قرآن کا اثر کیا کم ہے، دوسرے نبی اکرم ﷺ کی زبان مبارک سے آیتوں کی تلاوت، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شفق کے ختم ہونے تک مغرب کا وقت پھیلا ہوا ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مغرب کی نماز میں قل يا أيها الکافرون اور قل هو الله أحد پڑھتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Prophet ﷺ to recite in the Maghrib: Say: you disbelievers!ll! and Say: He is Allah, (the) One:" (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث شاذ یعنی ضعیف ہے، اوپر گزرا کہ نبی اکرم ﷺ نے مغرب میں سورة والمرسلات اور سورة والطور جیسی درمیانی سورتیں پڑھی ہیں، مغرب میں ہمیشہ چھوٹی سورتوں کو ہی پڑھنا درست نہیں، بقول علامہ ابن القیم یہ مروان اور اس کے متبعین کی سنت ہے، ہم کو رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل کرنا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٧٢٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١٩٢ (٤١٧)، سنن النسائی/الافتتاح ٦٨ (٩٩٣)، مسند احمد (٢/٩٤، ٩٥، ٩٩) (شاذ) (یہ حدیث شاذ ہے، اس لئے کہ محفوظ اور ثابت حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان دونوں سورتوں کو مغرب کی سنت میں پڑھتے تھے، ملاحظہ ہو: المشکاة: ٨٥٠ )
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی، کہتے ہیں: میں نے آپ ﷺ کو والتين والزيتون پڑھتے ہوئے سنا۔
It was narrated from Bara bin Azib (RA) that he performed the Isha, the later, with the Prophet ﷺ He said: "I heard him recitinf By the fig, and the olive." (Sahih)
اس سند سے بھی براء ؓ سے اسی کے مثل مروی ہے، اس میں ہے کہ براء ؓ نے کہا کہ میں نے کسی بھی انسان کو آپ ﷺ سے اچھی آواز یا قراءت والا نہیں سنا ١ ؎۔
Adi bin Thabit narrated something similar from Bara and said: "I have never heard any man with a better voice or who recites it better than him: (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: سبحان اللہ، نبی اکرم ﷺ تمام کمالات اور صفات انسانی اور جمال ظاہری اور باطنی کے مجموعہ تھے، حسن صورت اور حسن سیرت دونوں میں بےنظیر تھے، اور حسن خلق ان سب پر طرہ تھا۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل ؓ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور نماز لمبی کردی، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: یہ سورتیں پڑھا کرو: والشمس وضحاها، سبح اسم ربک الأعلى، والليل إذا يغشى اور اقرأ بسم ربك ١ ؎۔
It was narrated from jabir that Muadh bin Jabal led his companions for the Isha and he made the prayer too long for them. The Prophet ﷺ said: "Recite BrI; the sun and its brightness, Glorify the Name of your Lord, the Most High, By the night as it envelops,) or,Read! In the Name of your Lord Who has created." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: عشاء میں یہ سورتیں اور ان کے ہم مثل سورتیں پڑھنی چاہیے، جیسے سورة بروج، سورة انشقاق، سورة طارق، سورة غاشیہ، سورة فجر اور سورة لم یکن یہ سورتیں حدیث میں مذکور سورتوں کے قریب قریب ہیں، عشاء میں ایسی ہی سورتیں پڑھنا سنت ہے تاکہ مقتدیوں پر بوجھ نہ ہو۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورة فاتحہ نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص و ناتمام ہے ، ابوالسائب کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے ابوہریرہ! کبھی میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں (تو کیا پھر بھی سورة فاتحہ پڑھوں) ابوہریرہ ؓ نے میرا بازو دبایا اور کہا: اے فارسی! اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کر۔
It was narrated from Abu Saib that he heard Abu Hurairah (RA) say. "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever performs a prayer in which he does not recite Ummul Quran (the Mother of the Quran, i.e., AI-Fatihah), it is deficient; not complete:" I said: O Abu Hurairah (RA) h, sometimes I am behind the lmtim. He pressed my forearm and said: a Persian! Recite it to yourself:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بہرحال ہر شخص کو ہر رکعت میں سورة فاتحہ پڑھنا چاہیے، امام ہو یا مقتدی، سری نماز ہو یا جہری، اہل حدیث کا یہی مذہب ہے، اور دلائل کی روشنی میں یہی قوی ہے، اور امام بخاری (رح) نے اس مسئلہ میں القراء ۃ خلف الإمام نامی ایک رسالہ تحریر فرمایا ہے، اور امام شافعی کا بھی یہی قول ہے، ابوحنیفہ (رح) کہتے ہیں کہ مقتدی کسی نماز میں قراءت نہ کرے نہ سری نماز میں نہ جہری نماز میں اور دلیل ان کی یہ ہے: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وإذا قرئ القرآن فاستمعوا له وأنصتوا جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو (سورة الأعراف: 204)، اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت سے سورة فاتحہ کا نہ پڑھنا ثابت نہیں ہوتا، اس لئے کہ مقتدی کو آہستہ سے سورة فاتحہ پڑھنا چاہیے جیسے ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ اپنے دل میں پڑھ لے، اور یہ مثل خاموش رہنے کے ہے، خاموش رہنے کا مطلب یہ ہے کہ آواز بلند نہ کرو، تاکہ امام کی قراءت میں حرج واقع نہ ہو، اور دوسری حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ جب تم امام کے پیچھے ہو تو سوائے سورة فاتحہ کے کچھ نہ پڑھو کیونکہ جو آدمی سورة فاتحہ نہ پڑھے تو اس کی نماز نہیں ہوتی، تنویر العینین میں ہے کہ جو بھی صورت ہو اور جس طرح بھی ہو بہر حال سورة فاتحہ کا پڑھ لینا ہی بہتر ہے، اور یہی مقتدی کے لئے مناسب ہے، اور بیہقی نے یزید بن شریک سے روایت کی کہ انہوں نے عمر ؓ سے قراءت خلف الامام کے بارے پوچھا تو عمر ؓ نے کہا: سورة فاتحہ پڑھا کرو، یزید نے کہا: اگرچہ جہری نماز میں ہو؟ تو عمر ؓ نے کہا: اگرچہ جہری نماز میں ہو، احناف کی دوسری دلیل یہ حدیث ہے جس میں آپ نے ﷺ فرمایا: مالی انازع القرآن، اور اس کا جواب یہ ہے کہ منازعت (چھینا جھپٹی) اسی وقت ہوگی جب مقتدی بآواز بلند قراءت کرے، اور آہستہ سے صرف سورة فاتحہ پڑھ لینے میں کسی منازعت کا اندیشہ نہیں، اور اسی حدیث میں یہ وارد ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: سورة فاتحہ کے علاوہ اور کچھ نہ پڑھو، اور ممکن ہے کہ مقتدی امام کے سکتوں میں سورة فاتحہ پڑھے، پس آیت اور حدیث دونوں کی تعمیل ہوگئی، اور کئی ایک حنفی علماء نے اس کو اعدل الاقوال کہا ہے، صحیح اور مختار مذہب یہ ہے کہ مقتدی ہر نماز میں جہری ہو یا سری سورة فاتحہ ضرور پڑھے، اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ سورة فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے جس کے بغیر نماز نہیں ہوتی، خلاصہ کلام یہ کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی ہے، خواہ وہ فرض ہو یا نفل اور خواہ پڑھنے والا اکیلے پڑھ رہا ہو یا جماعت سے، امام ہو یا مقتدی ہر شخص کے لیے ہر رکعت میں سورة فاتحہ پڑھنا ضروری ہے، اس کے بغیر نماز نہیں ہوگی کیونکہ لا نفی جس پر آتا ہے اس سے ذات کی نفی مراد ہوتی ہے، اور یہی اس کا حقیقی معنی ہے، یہ صفات کی نفی کے لیے اس وقت آتا ہے جب ذات کی نفی مشکل اور دشوار ہو، اور اس حدیث میں ذات کی نفی کوئی مشکل نہیں کیونکہ از روئے شرع نماز مخصوص اقوال و افعال کو مخصوص طریقے سے ادا کرنے کا نام ہے، لہذا بعض یا کل کی نفی سے ذات کی نفی ہوجائے گی، اور اگر بالفرض ذات کی نفی نہ ہوسکتی ہو تو وہ معنی مراد لیا جائے گا جو ذات سے قریب تر ہو، اور وہ صحت کی نفی ہے نہ کہ کمال کی، اس لیے کہ صحت اور کمال ان دونوں مجازوں میں سے صحت ذات سے اقرب اور کمال ذات سے ابعد ہے اس لیے یہاں صحت کی نفی مراد ہوگی جو ذات سے اقرب ہے نہ کہ کمال کی نفی کیونکہ وہ صحت کے مقابلے میں ذات سے ابعد ہے۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جو فرض و نفل کی ہر رکعت میں الحمد لله اور کوئی دوسری سورت نہ پڑھے ۔
It was narrated that Abu Saeed said. "The Messenger of Allah ﷺ said. There is no prayer for the one who does not recite in every Rakah: AI-Hamd (AI-Fatihah) .( and a Surah whether in an obligatory prayer or another:" (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٣٥٩، ومصباح الزجاجة: ٣٠٦) (ضعیف) (ابو سفیان طریف بن شہاب السعدی ضعیف ہیں، اصل حدیث صحیح مسلم میں ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابو داود: ٧٧٧ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ہر وہ نماز جس میں سورة فاتحہ نہ پڑھی جائے، ناقص ہے ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said. "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Every prayer in which Ummul-Kitab (the Mother of the Book) is not recited is deficient:" (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦١٨١، ومصباح الزجاجة: ٣٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٤٢، ٢٧٥) (حسن صحیح) (اس سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، لیکن اصل حدیث صحیح اور ثابت ہے )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر وہ نماز جس میں سورة فاتحہ نہ پڑھی جائے، ناقص ہے، ناقص ۔
It was narrated that from ,Amr bin Shu aib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ said: "Every prayer in which Fatihatil-Kitab (the Opening of the Book) is not recited, it is deficient, it is deficient." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ ایک رکن چھوٹ گیا پس معلوم ہوا کہ سورة فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٦٩٤، ومصباح الزجاجة: ٣٠٩) (ط . الجامعة الإسلامیة)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٠٤، ٢١٥) (حسن صحیح )
ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا اور کہا: جس وقت امام قراءت کر رہا ہو کیا میں امام کے پیچھے قراءت کروں؟ تو انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: کیا ہر نماز میں قراءت ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، یہ سن کر لوگوں میں سے ایک شخص بولا: اب تو قراءت واجب ہوگئی۔
Abu Idris Al-Khaw lani narrated that a man asked Abu Darda: "Should I recite when the Imam is reciting?" He said: IIA man asked the Prophet ﷺ whether there was recitation in every prayer. The Messenger of Allah ﷺ said: Yes: A man among the people said: It has become obligatory:" (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٩٤٤، ومصباح الزجاجة: ٣٠٨)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح ٣١ (٩٢٤)، مسند احمد (١/٤٤٨) (ضعیف الإسناد) (اس حدیث کی سند میں معاویہ بن یحییٰ الصدفی ضعیف ہیں )