مغرب کی نماز میں قرات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ ب الطُّورِ، قَالَ جُبَيْرٌ فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ: فَلَمَّا سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ: أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ إِلَى قَوْلِهِ فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ سورة الطور آية 35 ـ 38 كَادَ قَلْبِي يَطِيرُ.
جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو مغرب کی نماز میں والطور پڑھتے سنا۔ جبیر بن مطعم ؓ نے ایک دوسری حدیث میں کہا کہ جب میں نے آپ ﷺ کو سورة الطور میں سے یہ آیت کریمہ أم خلقوا من غير شيء أم هم الخالقون سے فليأت مستمعهم بسلطان مبين، یعنی: کیا یہ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خودبخود پیدا ہوگئے ہیں؟ کیا انہوں نے ہی آسمانوں و زمینوں کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ یہ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا ان خزانوں کے یہ داروغہ ہیں، یا کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر سنتے ہیں؟ (اگر ایسا ہے) تو ان کا سننے والا کوئی روشن دلیل پیش کرے ، (سورۃ الطور: ٣٥ -٣٨) تک پڑھتے ہوئے سنا تو قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے گا ١ ؎۔
It was narrated from Muhammad bin Jubair bin Mutim that his father said: "I heard the Prophet ﷺ reciting Attur (52) in the Maghrib." In a different narration, Jubair said: "And when I heard him recite: Were they created by nothing? Or were they themselves the creators? up to: Then let their listener produce some manifest proof pi it was as if my heart Were about to take flight." (Sahih)