ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں کرتا، تو اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک (غصہ) ہوتا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "Whoever does not call upon Allah, He will be angry with him." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ بندگی کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی اپنے مالک سے مانگے، نہ مانگنے سے غرور و تکبر اور بےنیازی ظاہر ہوتی ہے، آدمی کو چاہیے کہ اپنی ہر ضرورت کو اپنے مالک سے مانگے اور جب کوئی تکلیف ہو تو اپنے مالک سے دعا کرے، ہم تو اس کے در کے بھیک مانگنے والے ہیں، رات دن اس سے مانگا ہی کرتے ہیں، اور ذرا سا صدمہ ہوتا ہے تو ہم سے صبر نہیں ہوسکتا اپنے مالک سے اسی وقت دعا کرنے لگتے ہیں ہم تو ہر وقت اس کے محتاج ہیں، اور اس کے در دولت کے فقیر ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٢ (٣٣٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٤٣، ٤٧٧) (صحیح) (تراجع الألباني: رقم: ١١٣ )
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک دعا ہی عبادت ہے، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:وقال ربکم ادعوني أستجب لكم اور تمہارے رب نے کہا: دعا کرو (مجھے پکارو) میں تمہاری دعا قبول کروں گا (سورة الغافر: 60) ۔
It Was narrated from Numan bin Bashir that the Messenger of Allah ﷺ (saw) said,: “Indeed the supplication is the worship, " Then he recited: "And your Lord said: Invoke Me, I will respond to you," (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٣ ١٦ (٢٩٦٩)، الدعوات ١ (٣٣٧٢)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٥٨ (١٤٧٩)، (تحفة الأشراف: ١١٦٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٧١، ٢٧٦، ٢٧٧) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی دعا میں یہ پڑھا کرتے تھے: رب أعني ولا تعن علي وانصرني ولا تنصر علي وامکر لي ولا تمکر علي واهدني ويسر الهدى لي وانصرني على من بغى علي رب اجعلني لک شکارا لک ذکارا لک رهابا لک مطيعا إليك مخبتا إليك أواها منيبا رب تقبل توبتي واغسل حوبتي وأجب دعوتي واهد قلبي وسدد لساني وثبت حجتي واسلل سخيمة قلبي اے میرے رب! میری مدد فرما، اور میرے مخالف کی مدد مت کر، اور میری تائید فرما، اور میرے مخالف کی تائید مت کر، اور میرے لیے تدبیر فرما، میرے خلاف کسی کی سازش کامیاب نہ ہونے دے، اور مجھے ہدایت فرما، اور ہدایت کو میرے لیے آسان کر دے، اور اس شخص کے مقابلہ میں میری مدد فرما جو مجھ پر ظلم کرے، اے اللہ! مجھے اپنا شکر گزار اور ذکر کرنے والا، ڈرنے والا، اور اپنا مطیع فرماں بردار، رونے اور گڑگڑانے والا، رجوع کرنے والا بندہ بنا لے، اے اللہ میری توبہ قبول فرما، میرے گناہ دھو دے، میری دعا قبول فرما، میرے دل کو صحیح راستے پر لگا، میری زبان کو مضبوط اور درست کر دے، میری دلیل و حجت کو مضبوط فرما، اور میرے دل سے بغض و عناد ختم کر دے ۔ ابوالحسن طنافسی کہتے ہیں کہ میں نے وکیع سے کہا: کیا میں یہ دعا قنوت وتر میں پڑھ لیا کروں؟ تو انہوں نے کہا: ہاں پڑھ لیا کرو۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet(saw) used to say in his supplication: (O Lord! Help me and do not help others against me, support me and do not support others against me, plan for me and do not plan against me guide me and make guidance easy for me, and help me against those who wrong me. O Lord! Make me grateful to You, make me remember You much, make me fearful of You, obedient to You, humble before You and turning to You. O Lord! Accept my repentance and wash away my sins, answer my supplication, guide my heart, make my tongue speak the truth, make my proof firm and remove resentment from my heart)." (Sahih) (One of the narrators) Abul- Hasan At-Tanafisi said: "I said to Waki: Shall I say it in the Qunut of Witr? He said: Yes.:"
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٦٠ (١٥١٠، ١٥١١)، سنن الترمذی/الدعوات ١٠٣ (٣٥٥١)، (تحفة الأشراف: ٥٧٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٧) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ فاطمہ ؓ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک خادم طلب کرنے کے لیے آئیں، تو آپ نے ان سے فرمایا: میرے پاس تو خادم نہیں ہے جو میں تجھے دوں ، (یہ سن کر) وہ واپس چلی گئیں، اس کے بعد آپ خود ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: جو چیز تم نے طلب کی تھی وہ تمہیں زیادہ پسند ہے یا اس سے بہتر چیز تمہیں بتاؤں ؟ علی ؓ نے فاطمہ ؓ سے کہا: تم کہو کہ نہیں، بلکہ مجھے وہ چیز زیادہ پسند ہے جو خادم سے بہتر ہو، چناچہ فاطمہ ؓ نے یہی کہا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم یہ کہا کرو اللهم رب السموات السبع ورب العرش العظيم ربنا ورب کل شيء منزل التوراة والإنجيل والقرآن العظيم أنت الأول فليس قبلک شيء وأنت الآخر فليس بعدک شيء وأنت الظاهر فليس فوقک شيء وأنت الباطن فليس دونک شيء اقض عنا الدين وأغننا من الفقر اے اللہ! ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کے رب! اور ہمارے رب اور ہر چیز کے رب، تورات، انجیل اور قرآن عظیم کو نازل کرنے والے! تو ہی اول ہے تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی، تو ہی آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں ہوگی، تو ہی ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں، تو ہی باطن ہے تیرے ورے کوئی چیز نہیں، ہم سے ہمارا قرض ادا کر دے، اور محتاجی دور کر کے ہمیں غنی کر دے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "Fatimah came to the Prophet(saw) to ask him for a servant, and he said: I do not have anything to give you. So she went back, but after that he came to her and said: Is what you asked for dearer to you, or something better than that? Ali said to her: Say: something better than that. So she said it. He said: Say: Allahumma Rabbas-samawatis- Sabi wa Rabbal-Arshil-Azim, Rabbana wa Rabba Kulli shayin, munzil at-Tawrati wal-lnjili wal- Quranil-Azim. Antal-Awwalu fa Iaysa qablaka shay, wa Antal- Akhiru fa laysa badaka shay, Antaz-Zahiru fa laysa fawqaka shay, wa Antal-Batinu fa laysa dunaka shay, Iqdi annad-daina wa aghnina minal-faqr (O Allah, Lord of the seven heavens and Lord of the Mighty Throne, our Lord, and the Lord of everything, Revealer of the Tawrah, the Injil and the Magnificent Qur’an. You are the First and there is nothing before You: You are the Last and there is nothing after You. You are the Most High, and there is nothing above You, and You are the Most Near and there is nothing nearer than You. Settle our debts and make us free of want). (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکروالدعاء ١٧ (٢٧١٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٤٩٩)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب ١٠٧ (٥٠٥١)، سنن الترمذی/الدعوات ١٩ (٣٤٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٠٤) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: اللهم إني أسألک الهدى والتقى والعفاف والغنى اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، پرہیزگاری، پاکدامنی اور دل کی مالدرای چاہتا ہوں ۔
It was narrated from Abdullah that the Prophet(saw) used to say : “Allahumma inni as’aluka-huda wat-tuqa wal-‘afaf wal-ghina (O Allah, I ask You for guidance, piety, chastity and affluence)” (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکروالدعاء ١٨ (٢٧٢١)، سنن الترمذی/الدعوات ٣٧ (٣٤٨٩)، (تحفة الأشراف: ٩٥٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٩، ٤٣٤، ٤٤٣) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: اللهم انفعني بما علمتني وعلمني ما ينفعني وزدني علما والحمد لله على كل حال وأعوذ بالله من عذاب النار اے اللہ! مجھے اس علم سے فائدہ پہنچا جو تو نے مجھے سکھایا، اور مجھے وہ علم سکھا جو میرے لیے نفع بخش ہو، اور میرے علم میں زیادتی عطا فرما، اللہ تعالیٰ کا ہر حال میں شکر ہے، میں جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) used to say: Allahummanfa’ni bima ‘allamtani wa ‘allimni ma yan fa’uni, wa zidni ‘ilman. Wal-hamdu lillahi ‘ala kulli hal , wa a’udhu billahi min adhabinnar (O Allah benefit me by that which You have taught me, and teach me that which will benefit me, and increase me in knowledge. Praise is to Allah in all situations, and I seek refuge with Allah from the torment of the Fire).” (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١٢٩ (٣٥٩٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٣٥٦) (صحیح) (آخری فقرہ والحمد للہ ...... کے علاوہ حدیث صحیح ہے، اور یہ مکرر ہے، ملاحظہ ہو: ٢٥١ ، سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف راوی ہیں، لیکن دوسرے شواہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے: اللهم ثبت قلبي على دينك اے اللہ! میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھ ، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہم پر خوف کرتے ہیں (ہمارے حال سے کہ ہم پھر گمراہ ہوجائیں گے) ، حالانکہ ہم تو آپ پر ایمان لا چکے، اور ان تعلیمات کی تصدیق کرچکے ہیں جو آپ لے کر آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: بیشک لوگوں کے دل رحمن کی دونوں انگلیوں کے درمیان ہیں، انہیں وہ الٹتا پلٹتا ہے ، اور اعمش نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ کیا ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) often used to say: ,Allahumma thabbit qalbi ala dinika [O Allah, make my heart steadfast in (adhering to) Your religion: A man said: O Messenger of Allah ﷺ Do you fear for us when we have believed in you and in (the Message) that you have brought? He said: Hearts are between two of the fingers of the Most Merciful, and He controls them:" (Hasan) Al-Amash (one of the narrators) indicated with his fingers.
Notes · وضاحت
١ ؎: اور اعمش حدیث کے بڑے امام اور بڑے حافظ تھے، مجسمہ اور مشبہہ میں سے نہ تھے، بلکہ سچے اہل سنت میں سے تھے جو جمہیہ اور معتزلہ کی طرح اللہ کی انگلیوں کی تاویل نہیں کرتے تھے، اور انگلی سے انگلی ہی مراد لیتے ہیں، لیکن رب نہ خود کسی مخلوق کے مشابہ ہے، نہ اس کی کوئی چیز جیسے آنکھ اور ساق (پنڈلی) اور انگلی کے اور اگر کوئی ہم سے سوال کرے کہ اللہ کی انگلی کیسی ہے تو ہم کہیں گے اس کی ذات کیسی ہے اگر اس کا جواب وہ دے تو ہم بھی اس کے سوال کا جواب دیں گے، دوسری روایت میں ابن عباس ؓ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی چھنگلیا طور پہاڑ پر رکھ دی تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی انگلیاں ہیں، اور مجازی معنی مراد نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٧٣، ومصباح الزجاجة: ١٣٤٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/القد ر ٧ (٢١٤٠) (صحیح) (سند میں یزید الرقاشی ضعیف راوی ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے )
ابوبکر صدیق ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئیے جسے میں نماز میں پڑھا کروں، آپ نے فرمایا: تم یہ دعا پڑھا کرو اللهم إني ظلمت نفسي ظلما کثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت فاغفر لي مغفرة من عندک وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم اے اللہ! میں نے اپنے نفس پر بہت ظلم کیا ہے اور گناہوں کا بخشنے والا صرف تو ہی ہے، تو اپنی عنایت سے میرے گناہ بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما، تو غفور و رحیم (بخشنے والا مہربان) ہے ۔
It was narrated from Abu Bakr Siddiq (RA) that he said to the Messenger of Allah( ﷺ saw) "Teach me a supplication which I can say during my prayer." He said: "Say:(O Allah, I have wronged myself greatly so grant me forgiveness from You and have mercy on me for You are the Oft-Forgiving, Most Merciful)." (Sahih)
ابوامامہ باہلی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عصا (چھڑی) پر ٹیک لگائے ہمارے پاس باہر تشریف لائے، جب ہم نے آپ کو دیکھا تو ہم کھڑے ہوگئے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم ایسے کھڑے نہ ہوا کرو جیسے فارس کے لوگ اپنے بڑوں کے لیے کھڑے ہوتے ہیں ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا فرماتے، آپ ﷺ نے دعا فرمائی: اللهم اغفر لنا وارحمنا وارض عنا وتقبل منا وأدخلنا الجنة ونجنا من النار وأصلح لنا شأننا کله اے اللہ! ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم فرما، اور ہم سے راضی ہوجا، ہماری عبادت قبول فرما، ہمیں جنت میں داخل فرما، اور جہنم سے بچا، اور ہمارے سارے کام درست فرما دے ، ابوامامہ ؓ فرماتے ہیں: تو گویا ہماری خواہش ہوئی کہ آپ اور کچھ دعا فرمائیں: تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں نے تمہارے لیے جامع دعا نہیں کردی ۔
It was narrated that Abu Umamah Al-Bahili said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) came out to us, leaning on a stick, and when we saw him we stood up. He said: Do not do what the Persians do for their leaders: We said: O Messenger of Allah, why dont you pray to Allah for us? He said: Allahummaghfirlana, warhamna, warda anna , wa taqabbal minna, wa adkhilnal-jannah wa najjina minan-nar, wa aslih lana sha’nana kullah [O Allah, forgive us and have mercy on us, be pleased with us and accept (our good deeds) from us admit us to Paradise and save us from Hell,and rectify all our affairs: It was as if we wanted him to say more, but he said: Have I not summed up everything for you?”(Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ١٦٥ (٥٢٣٠)، (تحفة الأشراف: ٤٩٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٥٣، ٢٥٦) (ضعیف) (ابو مرزوق لین الحدیث ہیں، اور سند میں کافی اضطراب ہے، لیکن فعل فارس سے ممانعت صحیح مسلم میں جابر ؓ سے ثابت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٣٤٦ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من الأربع من علم لا ينفع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعا لا يسمع اے اللہ! میں چار باتوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں: اس علم سے جو فائدہ نہ دے، اس دل سے جو اللہ کے سامنے نرم نہ ہو، اس نفس سے جو آسودہ نہ ہو اور اس دعا سے جو قبول نہ ہو ۔
Abu Hurairah (RA) told that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: ‘Allahumma! Inni a’udhu bika minal-arba: min ‘ilman la yanfa’u wa min qalbin la yakhsha’u wa min nafsin la tashba’u , wa min du’a’in la yusma [O Allah, I seek refuge with You from four things: From knowledge that is of no benefit, from a heart that does not fear (You), from a soul that is never satisfied, and from a supplication that is not heard.": (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٦٧ (١٥٤٨)، سنن النسائی/الاستعاذة ١٧ (٥٤٦٩)، ٥٥ (٥٥٥٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٤٠، ٣٦٥، ٤٥١) (یہ حدیث مکرر ہے دیکھئے: ٢٥٠) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کلمات کے ذریعہ دعا کیا کرتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من فتنة النار و عذاب النار ومن فتنة القبر و عذاب القبر ومن شر فتنة الغنى وشر فتنة الفقر ومن شر فتنة المسيح الدجال اللهم اغسل خطاياي بماء الثلج والبرد ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس وباعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم إني أعوذ بک من الکسل والهرم والمأثم والمغرم اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے، اور قبر کے فتنہ اور اس کے عذاب سے، اور مالداری و فقیری کے فتنے کی برائی سے، اور مسیح الدجال کے فتنے کی برائی سے، اے اللہ! میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو ڈال، اور میرے دل کو گناہوں سے پاک و صاف کر دے، جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک و صاف کیا ہے، اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری کر دے جس طرح تو نے پورب اور پچھم کے درمیان دوری کی ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سستی، بڑھاپے، گناہ اور قرض سے ١ ؎۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet(saw) would supplicate with these words: "Allahumma inni audhu bika min fitnatin-nari wa adhabinnar , wa min fitnatil-qabri wa adhtibil-qabr, wa min sharri fitnatilghina wa min sharri fitnatil-faqr, wa min sharri fitnatil-masihid-dajjal. Allahumma aghsil khatayaya bimaith-thalji wal-barad, wa naqqi qalbi minal-khataya kama naqqaytath-thawbal-abyad minaddanas. Wa baid bayni wa bayna khatayaya kama baadta baynalmashriqi wal-maghrib, Allahumma inni audhu bika minal-kasali walharami wal-mathami wal-maghrami (O Allah, I seek refuge with You from the tribulation of the Fire and the torment of the Fire and from tribulation of the grave and the torment of the grave, and from the evil of the tribulation of richness and the evil of the tribulation of poverty, and from the evil of the trial of False Christ. O Allah! Wash away my sins with the water of snow and hail, and cleanse my heart from sin as a white garment is cleansed from filth, and put a great distance between me and my sins, as great as the distance You have made between the east and the west. O Allah! I seek refuge with You from laziness and old age, and from sins and debts)." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس بڑھاپے سے پناہ مانگی جس میں آدمی معذور اور بےعقل ہوجاتا ہے، اور مالداری کے فتنے یہ ہیں: بخل، حرص، زکاۃ نہ دینا، سود کھانا، اللہ تعالیٰ سے غافل ہوجانا، مستحقوں کی خبر گیری نہ کرنا وغیرہ وغیرہ، فقیری کا فتنہ یہ ہے کہ مال کے لالچ میں دین کو کھو بیٹھنا، کفار اور فساق کی صحبت اختیار کرنا۔
Takhrij · تخریج
حدیث أبي بکر بن أبي شیبة أخرجہ: صحیح مسلم/الدعوات ١٤ (٥٨٩)، تحفة الأشرف: ١٦٩٨٨، وحدیث علی بن محمد قد أخرجہ: صحیح البخاری/ الدعوات ٣٩ (٦٢٧٥)، صحیح مسلم/الذکر ١٤ (٥٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٢٦٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ١٥٣ (٥٨٠)، سنن الترمذی/الدعوات ٧٧ (٣٤٩٥)، سنن النسائی/الاستعاذة ١٦ (٥٤٦٨)، مسند احمد (٦/٥٧، ٢٠٧) (صحیح )
فروہ بن نوفل ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ کون سی دعا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ کہتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من شر ما عملت ومن شر ما لم أعمل اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ان کاموں کی برائی سے جو میں نے کئے اور ان کاموں کی برائی سے جو میں نے نہیں کئے ۔
It was narrated that Farwah bin Nawfal said: "I asked Aisha (RA) about a supplication that the Messenger of Allah( ﷺ saw)used to say. She said that he used to say: Allahumma inni audhu bika min Sharri ma umiltu, wa min sharri ma lam a’mal (O Allah, I seek refuge With You from the evil of that Which I have done and the evil of that which I have not done). (Sahih)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جیسے قرآن کی سورت سکھاتے اسی طرح یہ دعا بھی ہمیں سکھاتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من عذاب جهنم وأعوذ بک من عذاب القبر وأعوذ بک من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں مسیح دجال کے فتنہ سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنہ سے ۔
It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) used to teach us this supplication just as he would teach us a Surah from the Quran: Allahumma inni audhu bika min adhabi jahannam, wa audhu bika min adhabil-qabr, wa audhu bika min fitnatili-masihil-dajjal , wa audhu bika min fitnatil-mahya walmammat (O Allah, I seek refuge with You from the torment of Hell, and I seek refuge with You from the torment of the grave, and I seek refuge with You from the tribulation of False Christ, and I seek refuge with You from the trials of life and death).": (Hasan)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کو بستر پر موجود نہ پایا تو میں آپ کو ڈھونڈھنے لگی (مکان میں اندھیرا تھا) تو میرا ہاتھ آپ کے قدموں کے تلووں پر جا پڑا، دونوں پاؤں کھڑے تھے اور آپ (حالت سجدہ میں) یہ دعا کر رہے تھے: اللهم إني أعوذ برضاک من سخطک وبمعافاتک من عقوبتک وأعوذ بک منک لا أحصي ثناء عليك أنت کما أثنيت على نفسک اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے، اور تیری عافیت کی تیری سزا سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں تیرے عذاب سے، میں تیری تعریف کما حقہ نہیں کرسکتا، تو ویسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف فرمائی ہے ۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "I noticed that the Messenger of Allah( ﷺ saw) was missing from his bed one night, so I went looking for him, and my hand touched the soles of his feet; he was in the Masjid with his feet upright (prostrating), and he was saying: Allahumma inni audhu biridika min sakhatika wa bimuafatika an uqubatika, wa audhu bika minka, la uhsi thanaan alayka, Anta kama athnayta ala nafsika (O Allah, I seek refuge in Your pleasure from Your wrath, and in Your forgiveness from Your punishment. I seek refuge in You from You. I cannot praise You enough; You are as You have praised Yourself).” (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اللہ سے فقیری، مال کی کمی، ذلت، ظلم کرنے اور ظلم کئے جانے سے پناہ مانگو ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "Seek refuge with Allah from poverty, insufficiency and humiliation, and from wronging (others) and being wronged. (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الاستعاذة ١٤ (٥٤٦٥)، (تحفة الأشراف: ٢٢٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٠٥) (ضعیف) (سند میں محمد بن مصعب صدوق لیکن کثیر الغلط راوی ہیں، اور اسحاق بن عبد اللہ بن أبی فروہ متروک، لیکن فعل رسول ﷺ سے ایسا ثابت ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٤٤٥ و صحیح ابی داود: ١٣٨١ )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ سے اس علم کا سوال کرو جو فائدہ پہنچائے، اور اس علم سے پناہ مانگو جو فائدہ نہ پہنچائے ۔
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: “Ask Allah for beneficial knowledge and seek refuge with Allah from knowledge that is of no benefit” (Hasan)
عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ بزدلی، بخیلی، ارذل عمر (انتہائی بڑھاپا) ، قبر کے عذاب اور دل کے فتنہ سے پناہ مانگتے تھے۔ وکیع نے کہا: دل کا فتنہ یہ ہے کہ آدمی برے اعتقاد پر مرجائے، اور اللہ تعالیٰ سے اس کے بارے میں توبہ و استغفار نہ کرے۔
It was narrated from Umar that the Prophet(saw) used to seek refuge with Allah from cowardice, miserliness, old age, the torment of the grave and the tribulation of the heart .(Daif) (One of the narrators) Waki’ said: “Meaning when a man dies in a state of tribulation (Fitnah) and does not ask Allah to forgive him”.
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٦٧ (١٥٣٩)، سنن النسائی/الاستعاذة ٢ (٥٤٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٦١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٥٤) (ضعیف) (اس حدیث پر حکم ضعیف أبی داود میں ہے، لیکن یہ حدیث صحیح اور ضعیف ابن ماجہ میں آئی ہی نہیں ہے، اور اسی لئے سنن أبی داود کے دارالمعارف کے نسخہ میں ( ١٥٣٩ )، نمبر پر بیاض ہے، محققین مسند أحمد نے اس کو صحیح کہا ہے: ١٤٥ و ٣٨٨ )
طارق ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سنا (اس وقت کہ جب) ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جب اپنے رب سے سوال کروں تو کیا کہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم یہ کہو: اللهم اغفر لي وارحمني وعافني وارزقني اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، اور مجھے عافیت دے اور مجھے رزق عطا فرما ، اور آپ نے انگوٹھے کے علاوہ چاروں انگلیاں جمع کر کے فرمایا: یہ چاروں کلمات تمہارے لیے دین اور دنیا دونوں کو اکٹھا کردیں گے ۔
Abu Malik, Sad bin Tariq, narrated from his father that when a man had come to the Messenger of Allah( ﷺ saw), he heard him say: "O Messenger of Allah, what should I say when I ask of Allah?" He said: "Say: Allahumma-ghfirli warhamni wa afini warzuqni (O Allah, forgive me, have mercy on me, keep me safe and sound and grant me provision)," and he held up his four fingers apart from the thumb and said: "These combine your religious and worldly affairs." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکروالدعاء ١٠ (٢٧٩٧)، (تحفة الأشراف: ٤٩٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧٢، ٤/٣٥٣، ٣٥٦، ٣٨٢، ٦/٣٩٤) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں یہ دعا سکھائی: اللهم إني أسألک من الخير كله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم وأعوذ بک من الشر کله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم اللهم إني أسألک من خير ما سألک عبدک ونبيك وأعوذ بک من شر ما عاذ به عبدک ونبيك اللهم إني أسألک الجنة وما قرب إليها من قول أو عمل وأعوذ بک من النار وما قرب إليها من قول أو عمل وأسألك أن تجعل کل قضاء قضيته لي خيرا اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی ساری بھلائی کی دعا مانگتا ہوں جو مجھ کو معلوم ہے اور جو نہیں معلوم، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں دنیا اور آخرت کی تمام برائیوں سے جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو معلوم نہیں، اے اللہ! میں تجھ سے اس بھلائی کا طالب ہوں جو تیرے بندے اور تیرے نبی نے طلب کی ہے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس برائی سے جس سے تیرے بندے اور تیرے نبی نے پناہ چاہی ہے، اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور اس قول و عمل کا بھی جو جنت سے قریب کر دے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم سے اور اس قول و عمل سے جو جہنم سے قریب کر دے، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ہر وہ حکم جس کا تو نے میرے لیے فیصلہ کیا ہے بہتر کر دے ۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) taught her this supplication: ( O Allah, I ask You for all that is good, in this world and in the Hereafter, what I know and what I do not know. O Allah, I seek refuge with You from all evil in this world and in the Hereafter what I know and what I do not know. O Allah, I ask You for the good that Your slave and Prophet ﷺ has asked You for, and I seek refuge with you from the evil from which your slave and Prophet ﷺ sought refuge. O Allah, I ask You for Paradise and for that which brings one colder to it, in word and deed, and I seek refuge in You from Hell and from that which brings one closer to it, in word and deed. And I ask You to make every decree that You decree concerning me good).” (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٩٨٦، ومصباح الزجاجة: ١٣٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٣٤، ١٤٧) (صحیح) (سند میں ام کلثوم کے بارے میں بوصیری نے کلام کیا ہے، جب کہ مسلم نے ان سے روایت کی ہے، اور حدیث کی تصحیح ابن حبان، حاکم، ذہبی اور البانی نے کی ہے، نیز شواہد بھی ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٥٤٢ )