ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے پوچھا: تم نماز میں کیا کہتے ہو ؟ اس نے کہا: میں تشہد (التحیات) پڑھتا ہوں، پھر اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے اس کی پناہ مانگتا ہوں، لیکن اللہ کی قسم میں آپ کی اور معاذ کی گنگناہٹ اچھی طرح سمجھ نہیں پاتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ہم بھی تقریباً ویسے ہی گنگناتے ہیں ۔
It was narrated form Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah(saw) said to a man: "What do you say during your prayer?" He said: "I recite the Tashah-hud then I ask Allah for Paradise and seek refuge with Him from Hell, but by Allah I do not understand your whispering or the whispering of Muadh." He said: "It is concerning them (Paradise and Hell) that we are whispering."(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ ﷺ کی اور معاذ ؓ کی گنگناہٹ میں نہیں سمجھتا آواز تو سنتا ہوں لیکن معلوم نہیں ہوتا کہ آپ اور معاذ ؓ کیا دعا مانگتے ہیں۔ ٢ ؎: یعنی مقصود ہماری دعاؤں کا بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ جنت نصیب کرے اور جہنم سے بچائے۔ آمین۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اللہ سے دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کیا کرو ، پھر وہ شخص دوسرے دن حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کیا کرو ، پھر وہ تیسرے دن بھی حاضر خدمت ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے نبی! کون سی دعا سب سے بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عفو و عافیت کا سوال کیا کرو، کیونکہ جب تمہیں دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت عطا ہوگئی تو تم کامیاب ہوگئے ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "A man came to the Prophet(saw) and said: O Messenger of Allah, what supplication is best? He said: Ask your Lord for forgiveness and to be kept safe and sound in this world and in the Hereafter. Then (the man) came the next day and said: O Messenger of Allah, what supplication the best?’ He said: ‘Ask your Lord for forgiveness and to be kept safe and sound in this war and and in the Hereafter. Then (the man) came the third day and said: O Prophet ﷺ of Allah, what supplication is best? He said: Ask your Lord for forgiveness and to be kept safe and sound in this world and in the Hereafter, for if you are forgiven and kept safe and sound in this world and the Hereafter, you will have succeeded. (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: بیشک عافیت میں عام بلاؤں، بیماریوں اور تکالیف سے حفاظت ہوگی، اور معافی میں گناہوں کی بخشش، اب اور کیا چاہتے ہو، یہ دو لفظ ہزاروں لفظوں کو شامل ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٨٥ (٣٥١٢)، (تحفة الأشراف: ٨٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٢٧) (ضعیف) (سند میں سلمہ بن وردان ضعیف راوی ہیں )
1 اوسط بن اسماعیل بجلی سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ کی وفات ہوئی، تو انہوں نے ابوبکر ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ پچھلے سال میری اس جگہ پر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے تھے، پھر ابوبکر ؓ نے روتے ہوئے کہا: آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے لیے سچائی کو لازم کرلو کیونکہ سچائی نیکی کی ساتھی ہے، اور یہ دونوں جنت میں ہوں گی، اور تم جھوٹ سے پرہیز کرو کیونکہ جھوٹ برائی کا ساتھی ہے، اور یہ دونوں جہنم میں ہوں گی، اور تم اللہ تعالیٰ سے تندرستی اور عافیت طلب کرو کیونکہ ایمان و یقین کے بعد صحت و تندرستی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے، تم آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض نہ کرو، قطع رحمی اور ترک تعلقات سے بچو، اور ایک دوسرے سے منہ موڑ کر پیٹھ نہ پھیرو بلکہ اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو ١ ؎۔
It was narrated from Awsat (bin Ismail) AI-Bajali that he heard Abu Bakr, when the Prophet(saw) had passed away, saying: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) stood in this place where I am standing, last year." Then Abu Bakr (RA) wept, then he said: "You must adhere to the truth for with it comes rightousness and they both lead to Paradise. And you must beware of lying, for with comes immorality, and they both lead to Hell. Ask Allah for Al- Muafah, for no one is given anything after certainty that is better than Muafah. Do not envy one another, do not hate one another, do not sever ties with one another, do not turn your backs on one another and be, O slaves of Allah, brothers." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تمام مسلمانوں کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آؤ، اور کسی مسلمان کو مت ستاؤ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٥٨٦، ومصباح الزجاجة: ١٣٤٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات ١٠٦ (٣٥٥٨)، مسند احمد (١/٣، ٥، ٧، ٨) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر مجھے شب قدر مل جائے تو کیا دعا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دعا کرو اللهم إنک عفو تحب العفو فاعف عني اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے اور معافی و درگزر کو پسند کرتا ہے تو تو مجھ کو معاف فرما دے ۔
It was narrated from Aisha (RA) that she said: "O Messenger of Allah, what do you think I should say in my supplication, if I come upon Laylatul-Qadr?" He said: "Say: (O Allah, You are Forgiving and love forgiveness, so forgive me)." (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٨٥ (٣٥١٣)، (تحفة الأشراف: ١٦١٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٧١، ١٨٢، ١٨٣، ٢٠٨) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بندہ جو بھی دعا مانگتا ہے وہ اس دعا سے زیادہ بہتر نہیں ہوسکتی: (وہ دعا یہ ہے) اللهم إني أسألک المعافاة في الدنيا والآخرة اے اللہ میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت چاہتا ہوں ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) said: There is no supplication that a person can say that is better than: Allahumma inni asaluka al muafaha fid dunya wal akhirah (O Allah, I ask You for Al-Muafah in this world and in the Hereafter)." (Daif)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ ہم پر اور عاد کے بھائی (ہود علیہ السلام) پر رحم فرمائے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "May Allah have mercy on us and on our brother of Ad." (i.e. Prophet ﷺ Hud (as)) (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: ہود (علیہ السلام) قوم عاد کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٥٩٢، ومصباح الزجاجة: ١٣٥٠) (ضعیف) (سند میں زید بن الحباب ہیں، جو سفیان سے احادیث کی روایت میں غلطیاں کرتے ہیں، نیز ابو اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: ٤٨٢٩ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ جلدی نہ کرے ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! جلدی کا کیا مطلب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ یوں کہتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی لیکن اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول نہ کی ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "It is necessary that you do not become hasty." It was said: "What does being hasty mean, a Messenger of Allah? ﷺ " He said: "When one says: I supplicated to Allah but Allah did not answer me:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسا کہنا مالک کی جناب میں بےادبی ہے، اور مالک کا اختیار ہے جب وہ مناسب سمجھتا ہے اس وقت دعا قبول کرتا ہے، کبھی جلدی، کبھی دیر میں اور کبھی دنیا میں قبول نہیں کرتا، جب بندے کا فائدہ دعا قبول نہ ہونے میں ہوتا ہے تو آخرت کے لئے اس دعا کو اٹھا رکھتا ہے، غرض مالک کی حکمتیں اور اس کے بھید زیادہ وہی جانتا ہے، اور کسی حال میں بندے کو اپنے مالک سے مایوس نہ ہونا چاہیے، کیونکہ سوا اس کے در کے اور کونسا در ہے؟ اور وہ اپنے بندوں پر ماں باپ سے زیادہ رحیم وکریم ہے، پس بہتر یہی ہے کہ بندہ سب کام اللہ کی رضا پر چھوڑ دے اور ظاہر میں شرعی احکام کے مطابق دعا کرتا رہے، لیکن اگر دعا قبول نہ ہو تو بھی دل خوش رہے، اور یہ سمجھے کہ اس میں ضرور کوئی حکمت ہوگی، اور ہمارا کچھ فائدہ ہوگا۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے یقینی طور پر سوال کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی زور زبردستی کرنے والا نہیں ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "No one among you should say: O Allah, forgive me if You will: Let him be definite in his asking, and no one can compel Allah." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٨٧٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التوحید ٣١ (٧٤٧٧)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٣ (٢٦٧٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٥٨ (١٤٨٣)، سنن الترمذی/الدعوات ٧٨ (٣٤٩٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن ٨ (٢٨)، مسند احمد (٢/٢٤٣، ٤٥٧، ٤٨٦) (صحیح )
اسماء بنت یزید ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ان دو آیات میں ہے وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ بہت رحم کرنے والا اور بڑا مہربان ہے (سورۃ البقرہ: ١٦٣ ) اور سورة آل عمران کے شروع میں: الم الله لا إله إلا هو الحي القيوم الم، اللہ تعالیٰ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو حی و قیوم (زندہ اور سب کا نگہبان) ہے ۔ (سورۃ آل عمران: ١ -٢) ۔
It was narrated from Asma bint Yazid that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said. : “The Greatest Name of Allah is in these two Verses: And your ‘lah’(God) is One ‘Ilah (God – Allah), La ilaha illa Huwa (none has he right to be worshipped but He), the Most Gracious, the Most Merciful. And at the beginning of Surah Al Imran. (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٥٨ (١٤٩٦)، سنن الترمذی/الدعوات ٦٥ (٣٤٧٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٦١)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ١٤ (٣٤٣٢) (حسن) (سند میں عبید اللہ القداح ضعیف ہیں، نیز شہر بن حوشب میں بھی کلام ہے، ترمذی نے حدیث کو صحیح کہا ہے، اس کی شاہد ابوامامہ کی حدیث ( ٣٨٥٦؍ أ) ہے، جس سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہوئی، ملاحظہ ہو: ا لصحیحہ: ٧٤٦ ، و صحیح ابی داود: ٥؍ ٢٣٤ )
قاسم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم جس کے ذریعہ اگر دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے تین سورتوں میں ہے: سورة البقرہ، سورة آل عمران اور سورة طہٰ ١ ؎۔
It was narrated that AI-Qasim said: The Greatest Name of Allah, if He is called by which He will respond, is in three Surah: Al- Baqarah, Al Imran and Ta-Ha, (Hasan) Another chain for something similar from Al-Qasim, from Abu Umamah, from the Prophet(saw) .
Notes · وضاحت
١ ؎: سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں بھی یہی ہے: الله لا إله إلا هو الحي القيوم (سورة آل عمران: 2) اور سورة طہ میں ہے: الله لا إله إلا هو له الأسماء الحسنى (سورة طہ: 8) بعضوں نے کہا: الله لا إله إلا هو الحي القيوم یہی اسم اعظم ہے، بعضوں نے کہا صرف الحي القيوم ہے۔
اس سند سے ابوامامہ سے بھی اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٢١، ومصباح الزجاجة: ١٣٥١) (حسن) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٧٤٦ )
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٢١، ومصباح الزجاجة: ١٣٥٢) (حسن) (غیلان بن انس مقبول ہیں، لیکن ابو یعلی میں عبداللہ بن العلاء نے ان کی متابعت کی ہے، نیز أسماء بنت یزید کی حدیث شاہد ہے، جو ترمذی اور ابوداود میں ہے )
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو یہ کہتے سنا: اللهم إني أسألک بأنك أنت الله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له کفوا أحد اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تو ہی اکیلا اللہ ہے، بےنیاز ہے، جس نے نہ جنا اور نہ وہ جنا گیا، اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ سوال کیا ہے جس کے ذریعہ اگر سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے، اور دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے ۔
It was narrated from Abdullah bin Buraidah that his father said: "The Prophet(saw) heard a man say: (O Allah! I ask You by virtue of Your being Allah, the One, the Self-Sufficient Master, Who begets not nor was begotten, and there is none co-equal or comparable to Him). The Messenger of Allah( ﷺ saw) said: He has asked Allah by His Greatest Name, which if He is asked thereby He gives, and if He is called upon thereby He answers:" (Sahih)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو یہ دعا کرتے سنا، اللهم إني أسألک بأن لک الحمد لا إله إلا أنت وحدک لا شريك لک المنان بديع السموات والأرض ذو الجلال والإکرام اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تیرے ہی لیے حمد ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں، تو بہت احسان کرنے والا ہے، آسمانوں اور زمین کو بغیر مثال کے پیدا کرنے والا ہے، جلال اور عظمت والا ہے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ سوال کیا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ سوال کیا جائے تو وہ عطا کرتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ دعا مانگی جائے تو وہ قبول کرتا ہے ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Prophet(saw) heard a man say: (O Allah! I ask You by virtue of the fact that all praise is due to YOU; none has the right to be worshiped but You alone, and You have no partner or associate, the Bestower, the Originator of the heavens and the earth, the Possessor of majesty and honor.’ He(saw) said: ‘He has asked Allah by His Greatest Name which, if He is asked thereby He gives and if He is called upon thereby He answers’” (Hasan)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا ہے: اللهم إني أسألک باسمک الطاهر الطيب المبارک الأحب إليك الذي إذا دعيت به أجبت وإذا سئلت به أعطيت وإذا استرحمت به رحمت وإذا استفرجت به فرجت اے اللہ! میں تجھ سے تیرے اس پاکیزہ، مبارک اچھے نام کے واسطہ سے دعا کرتا ہوں جو تجھے زیادہ پسند ہے کہ جب اس کے ذریعہ تجھ سے دعا کی جاتی ہے، تو تو قبول فرماتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ تجھ سے سوال کیا جاتا ہے تو تو عطا کرتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ تجھ سے رحم طلب کی جائے تو تو رحم فرماتا ہے، اور جب مصیبت کو دور کرنے کی دعا کی جاتی ہے تو مصیبت اور تنگی کو دور کرتا ہے ، اور ایک روز آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! کیا تم جانتی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا وہ نام بتایا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ دعا کی جائے تو وہ اسے قبول کرے گا ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے بھی وہ نام بتا دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! یہ تمہارے لیے مناسب نہیں ، میں یہ سن کر علیحدہ ہوگئی اور کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی، پھر میں نے اٹھ کر آپ کے سر مبارک کو چوما، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتا دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! تمہارے لیے مناسب نہیں کہ میں تمہیں بتاؤں، اور تمہارے لیے اس اسم اعظم کے واسطہ سے دنیا کی کوئی چیز طلب کرنی مناسب نہیں، یہ سن کر میں اٹھی، وضو کیا، پھر میں نے دو رکعت نماز پڑھی، اس کے بعد میں نے یہ دعا مانگی: اللهم إني أدعوک الله وأدعوک الرحمن وأدعوک البر الرحيم وأدعوک بأسمائك الحسنى كلها ما علمت منها وما لم أعلم أن تغفر لي وترحمني اے اللہ! میں تجھ اللہ سے دعا کرتی ہوں، میں تجھ رحمن سے دعا کرتی ہوں، اور میں تجھ محسن و مہربان سے دعا کرتی ہوں اور میں تجھ سے تیرے تمام اسماء حسنیٰ سے دعا کرتی ہوں، جو مجھے معلوم ہوں یا نہ معلوم ہوں، یہ کہ تو مجھے بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما ، یہ سن کر آپ ﷺ ہنسے اور فرمایا: اسم اعظم انہی اسماء میں ہے جس کے ذریعہ تم نے دعا مانگی ہے ۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "I heard the Messenger of Allah( ﷺ saw) say: (O Allah! I ask You by Your pure, good and blessed Name which is most beloved to You, which if You are called thereby You answer, and if You are asked thereby You give. If You are asked for mercy Thereby You bestow mercy, and if You are asked for relief (from distress) thereby You grant relief:" She said: "He said one day: O Aisha (RA) , do you know that Allah has told me the Name which , if He is called thereby, He responds? I said: O Messenger of Allah ﷺ , may my father and mother be ransomed for you! Teach it to me.’ He said: You should not learn it, O Aisha (RA) . So I moved aside and sat for a while then I got up and kissed his head, then I said, ‘O Messenger of Allah, teach it to me. He said: You should not learn it, O Aisha (RA) , and I should not teach it to you, for you should not ask for any worldly things thereby." She said: "So I got up and performed ablution, then I prayed two Rakah, then I said: O Allah, I call upon Allah, and I call upon You, Ar-Rahman (the Most Gracious), and I call upon You, AI-Barr Ar-Rahim (The Most Kind, the Most Merciful), and I call upon You by all Your beautiful Names, those that I know and those that I do not know, (asking) that You forgive me and have mercy on me. The Messenger of Allah ﷺ smiled, then he said: It is among the names by which you called upon (Allah). (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٢٧٢، ومصباح الزجاجة: ١٣٥٤) (ضعیف) (سند میں ابوشیبہ مجہول راوی ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نناوے نام ہیں ایک کم سو، جو انہیں یاد (حفظ) کرے ١ ؎ تو وہ شخص جنت میں داخل ہوگا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "Allah has ninety nine Names, one hundred less one. Whoever counts them will enter Paradise." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان ناموں کی پوری پوری معرفت حاصل ہو، اور ان میں پائے جانے والے معانی و مفاہیم کے جو تقاضے ہیں ان کے مطابق زندگی گزارے، تو انشاء اللہ وہ جنت کا مستحق ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٦٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشروط ١٨ (٢٧٣٦)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٢ (٢٦٧٧)، سنن الترمذی/الدعوات ٨٣ (٣٥٠٦)، مسند احمد (٢/٤٥٨، ٤٩٩، ٥٠٣) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ایک کم سو، چونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اس لیے طاق کو پسند کرتا ہے جو انہیں یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا، اور وہ ننانوے نام یہ ہیں: الله اسم ذات سب ناموں سے اشرف اور اعلیٰ ، الواحد اکیلا، ایکتا ، الصمد بےنیاز ، الأول پہلا ، الآخر پچھلا ، الظاهر ظاہر ، الباطن باطن ، الخالق پیدا کرنے والا ، البارئ بنانے والا ، المصور صورت بنانے والا ، الملک بادشاہ ، الحق سچا ، السلام سلامتی دینے والا ، المؤمن یقین والا ، المهيمن نگہبان ، العزيز غالب ، الجبار تسلط والا ، المتکبر بڑائی والا ، الرحمن بہت رحم کرنے والا ،الرحيم مہربان ، اللطيف بندوں پر شفقت کرنے والا ، الخبير خبر رکھنے والا ، السميع سننے والا ، البصير دیکھنے والا ،العليم جاننے والا ، العظيم بزرگی والا ، البار بھلائی والا ، المتعال برتر ، الجليل بزرگ ، الجميل خوبصورت ،الحي زندہ ، القيوم قائم رہنے اور قائم رکھنے والا ، القادر قدرت والا ، القاهر قہر والا ، العلي اونچا ، الحکيم حکمت والا ، القريب نزدیک ، المجيب قبول کرنے والا ، الغني تونگر بےنیاز ، الوهاب بہت دینے والا ، الودود بہت چاہنے والا ، الشکور قدر کرنے والا ، الماجد بزرگی والا ، الواجد پانے والا ، الوالي مالک مختار، حکومت کرنے والا ، الراشد خیر والا ، العفو بہت معاف کرنے والا ، الغفور بہت بخشنے والا ، الحليم بردبار ، الكريم کرم والا ، التواب توبہ قبول کرنے والا ، الرب پالنے والا ، المجيد بزرگی والا ، الولي مددگار و محافظ ، الشهيد نگراں، حاضر ، المبين ظاہر کرنے والا ،البرهان دلیل ، الرء وف شفقت والا ، الرحيم مہربان ، المبدئ پہلے پہل پیدا کرنے والا ، المعيد دوبارہ پیدا کرنے والا ،الباعث زندہ کر کے اٹھانے والا ، الوارث وارث ، القوي (قوی) زور آور ، الشديد سخت ، الضار نقصان پہنچانے والا ،النافع نفع دینے والا ، الباقي قائم ، الواقي بچانے والا ، الخافض پست کرنے والا ، الرافع اونچا کرنے والا ، القابض روکنے والا ، الباسط چھوڑ دینے والا، پھیلانے والا ، المعز عزت دینے والا ، المذل ذلت دینے والا ، المقسط منصف ،الرزاق روزی دینے والا ، ذو القوة طاقت والا ، المتين مضبوط ، القائم ہمیشہ رہنے والا ، الدائم ہمیشگی والا ، الحافظ بچانے والا ، الوکيل کارساز ، الفاطر پیدا کرنے والا ، السامع سننے والا ، المعطي دینے والا ، المحيي زندہ کرنے والا ، المميت مارنے والا ، المانع روکنے والا ، الجامع جمع کرنے والا ، الهادي (رہبری ہادی) راہ بنانے والا ، الکافي کفایت کرنے والا ، الأبد ہمیشہ برقرار ، العالم (عالم) جاننے والا ، الصادق سچا ، النور روشن، ظاہر ، المنير روشن کرنے والا ،التام مکمل ، القديم ہمیشہ رہنے والا ، الوتر طاق ، الأحد اکیلا ، الصمد بےنیاز ، الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له کفوا أحد جس نے نہ جنا ہے نہ وہ جنا گیا ہے، اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے ۔ زہیر کہتے ہیں: ہمیں بہت سے اہل علم سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ ان ناموں کی ابتداء اس قول سے کی جاتی ہے: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد بيده الخير وهو على كل شيء قدير لا إله إلا الله له الأسماء الحسنى اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے ہر طرح کی تعریف ہے، اسی کے ہاتھ میں خیر ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت والا ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اسی کے لیے اچھے نام ہیں ۔
. It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "Allah has ninety nine names, one hundred less one, for He is One and loves the odd (numbered). Whoever learns them will enter Paradise. They are: Allah, Al-Wahid (the One), As- Samad (the Self-Sufficient Master whom all creatures need, He neither eats nor drinks), Al-Awwal (the First), Al-Akhir (the Last), Az-Zahir (the Most High), Al-Batin (the Most Near), Al-Khaliq (the Creator), Al-Bari (the Inventor of all things), Al-Musawwir (the Bestower of forms), AI-Malik (the King), AI-Haqq (the Truth), As- Salam (the One free from all defects), AI-Mumin (the Giver of security), Al-Muhaymin (the Watcher over His creatures), Al-Aziz (the All-Mighty), Al-Jabbar (the Compeller), Al-Mutakabbir (the Supreme), Ar-Rahman (the Most Gracious), Ar-Rahim (the Most Merciful), AI-Latif (the Most subtle and Courteous), Al-Khabir The Aware), As-Sami (the Hearing), AI-Basir (the Seeing), AI- Alim (the AIl-Knowing), AI-Azim ( The Most Great), AI-Barr (the (the Source of goodness), AI-Mutaal (The Most Exalted), AI-Jalil (the Sublime One), AI-Jamil (the Beautiful), AI-Hayy (the Everliving), AI-Qayyum (the One Who sustains and protects all that exists), AI-Qadir (the Able), AIQahir (the Irresistible), AI-Ali (the Exalted), AI-Hakim (the Most Wise), AI-Qarib (the Ever-Near), AI-Mujib (the Responsive), AIGhani (the Self-Sufficient), AIWahhab (the Bestower), AI-Wadud (the Loving), Ash-Shakur (the Appreciative), AI-Majid (the Most Gentle), AI-Wajid (the Patron), AIWali (the Governor), Al-Rashid (the Guide), AI-Afuw (the Pardoner), AI-Ghafur (the Forgiver), AI-Halim (the Forbearing One), AI-Karim (the Most Generous), At- Tawwab (the Accepter of Repentance), Ar-Rabb (the Lord and Cherisher), AI-Majid (the Most Glorious), AI-Wali (the Helper), Ash-Shahid (the Witness), AI-Mubin (the Manifest), AIBurhan (the Proof), Ar-Rauf (the Compassionate), Ar-Rahim (the Most Merciful), AI-Mubdi (the Originator), AI-Muid (the Restorer), AI-Baith (the Resurrecter), AI-Warith (the Supreme Inheritor), AI-Qawi (the All-Strong), Ash-Shadid (the Severe), Ad-Darr (the One Who harms), An-Nafi (the One Who benefits), AI-Baqi (the Everlasting), AI-Waqi (the Protector), AI-Khafid (the Humble), Ar-Rafi (the Exalter), AI-Qabid (the Retainer), AI-Basit (the Expander), AI-Muizz (the Honorer), AI-Mudhill (the Humiliator), AI-Muqsit (the Equitable), Ar-Razzaq (the Provider), Dhul-Quwwah (the Powerful), AI-Matin (the Most strong), AI-Qaim (the Firm), Ad- Daim (the Eternal), AI-Hafiz (the Guardian), AI-Wakil (the Trustee), AI-Fatir (the Originator of creation), As-Sami (the Hearer), AI-Muti (the Giver), AI-Muhyi (the Giver of life), AI-Mumit (the Giver of death), AI-Mani (the Withholder), AI-Jami (the Gatherer), Al-Hadi (the Guide), Al- Kafi (the Sufficient), AI-Abad (the Eternal), AI-Alim (the Knower), As-Sadiq (the Truthful), An-Nur (the Light), AI-Munir (the Giver of light), At-Tamm (the Perfect), AIQadim( the Earlier), AI-Witr (the One), AI-Ahad (the Lone), As- Samad [(the Self-Sufficient Master Whom all creatures need, (He neither eats nor drinks). He begets not, nor was He begotten. And there is none co-equal or comparable unto Him." (Daif) (One of the narrators) Zuhair said: We heard from more than one of the scholars that the first of these (names) should begin after saying: La ilaha illallahu wahdahula la sharika lahu lahul mulku wa lahul hamdu bi yadihil khair wa Huwa ala kulli shay in Qadir, la ilaha illallahu lahul asma ul husna [None has the right to be worshiped but Allah with no partner or associate. His is the dominion and all praise is His. In His Hand is (all) goodness, and He is Able to do all things, none has the right to be worshipped but Allah and His are the (Most) Beautiful Names(Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٩٧٠، ومصباح الزجاجة: ١٣٥٥) (ضعیف) (سند میں عبدالملک بن محمد لین الحدیث ہیں، اور اسماء حسنیٰ کے اس سیاق سے حدیث ضعیف ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین دعائیں ہیں جن کی قبولیت میں کوئی شک نہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، والد (اور والدہ) کی دعا اپنی اولاد کے حق میں ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "There are three supplications that will undoubtedly be answered: the supplication of one who has been wronged; the supplication of the traveler; and the supplication of a father for his child." (Hasan)
ام حکیم بنت وداع خزاعیہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: والد (اور والدہ) کی دعا حجاب الٰہی (مقام قبولیت) تک پہنچتی ہے ۔
It was narrated that Umm Hakim bint Wadda AI Khuzaiyyah said: "I heard the Messenger of Allah( ﷺ saw) say: The supplication of a father reaches the Veil. (i.e. the place of repentance)" (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٣١٥، ومصباح الزجاجة: ١٣٥٦) (ضعیف) (سند میں حبابہ، ام حفص، اور صفیہ سب مجہول ہیں )
ابونعامہ (قیس بن عبایہ) سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل ؓ نے اپنے بیٹے کو یہ دعا مانگتے سنا: اللهم إني أسألک القصر الأبيض عن يمين الجنة إذا دخلتها اللہ! جب میں جنت میں جاؤں تو مجھے جنت کی دائیں جانب سفید محل عطا فرما ، تو انہوں نے کہا: میرے بیٹے! اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور جہنم سے پناہ مانگو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: عنقریب کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دعا میں حد سے آگے بڑھ جائیں گے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Naamah that Abd ullah bin Mughaffal heard his son say: "O Allah. I ask You for the white palace on the right-hand side of Paradise, when I enter it." He said: "O my son. ask Allah for Paradise and seek refuge with Him from Hell, for I heard the Messenger of Allah( ﷺ saw) say: There will be people who will transgress in supplication:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے کراہت نکلی ان پر تکلف اور مسجع اور مقفی دعاؤں کی جو متاخرین نے ایجاد کیں ہیں، اور جاہل ان کے الفاظ پر فریفتہ ہوجاتے ہیں، عمدہ دعائیں وہی ہیں جو رسول اکرم ﷺ سے ثابت ہیں، آپ مختصر اور جامع دعائیں پسند فرماتے تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٤٥ (٩٦)، (تحفة الأشراف: ٩٦٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٦، ١٨٧، ٥/٥٥) (صحیح )
سلمان ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارا رب حی (بڑا باحیاء، شرمیلا) اور کریم ہے، اسے اس بات سے شرم آتی ہے کہ اس کا بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلائے تو وہ انہیں خالی یا نامراد لوٹا دے ١ ؎۔
It was narrated from Salman that the Prophet ﷺ (saw) said: “Your Lord is Kind and Most Generous , and is too kind to let His slave, if he raises his hands to Him, bring them back empty,” or he said “frustrated” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی صالح مومن کی دعا خالی نہیں جاتی، یا تو دنیا ہی میں قبول کرلی جاتی ہے، یا پھر آخرت میں اسے اس کا بہتر بدلہ ملے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٥٨ (١٤٨٨)، سنن الترمذی/الدعوات ١٠٥ (٣٥٥٦)، (تحفة الأشراف: ٤٤٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٣٨) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو تو اپنے ہاتھ کی اندرونی ہتھیلیوں سے دعا کیا کرو، ان کی پشت اپنی طرف کر کے دعا نہ کرو، پھر جب دعا سے فارغ ہوجاؤ تو اپنے ہاتھ اپنے منہ پر پھیرو ۔
It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "When you supplicate to Allah, supplicate with your palms uppermost, not with the backs of your hands uppermost, and when you finish, wipe your face with them." (Daif)