ابوعیاش زرقی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت یہ دعا پڑھے: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد و ثنا، وہی ہر چیز پر قادر ہے تو اسے اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے، اور اس کے دس گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں، اور اس کے دس درجے بڑھا دئیے جاتے ہیں، اور وہ شام تک شیطان سے محفوظ رہتا ہے، اور اگر شام کے وقت یہ پڑھے تو وہ صبح تک ایسے ہی رہتا ہے تو ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوعیاش آپ سے ایسی اور ایسی حدیث بیان کرتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ابوعیاش سچ کہتا ہے ۔
It was narrated from Abu ‘Ayyash Az-Zuraqi that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "Whoever says in the morning: La ilaha. illallahu wahdahu la sharika Iahu, lahul-mulku wa lahul-hamdu , wa Huwa ala kulli shayin Qadir (None has the right to be worshiped but Allah alone, with no partner or associate. His is the dominion and all praise is to Him, and He is Able to do all things) - he will have (a reward) equal to freeing a slave among the sons of Isma’il, ten bad deeds will be erased from(from record), he will be raised (in status) ten degrees, and he will have protection against Satan until evening comes. When evening comes, (if he says likewise) he will have the same until morning comes." (Sahih) He (one of the narrators) said: "A man saw the Messenger of Allah( ﷺ saw) in a dream and said: O Messenger of Allah, Abu Ayyash narrated such and such from you. He said: Abu Ayyash spoke the truth.
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ١١٠ (٥٠٧٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٦، ٤٢٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب صبح کرو تو یہ کہا کرو، اللهم بك أصبحنا وبک أمسينا وبک نحيى وبک نموت وإذا أمسيتم فقولوا اللهم بك أمسينا وبک أصبحنا وبک نحيى وبک نموت وإليك المصير اے اللہ ہم نے تیرے ہی نام پر صبح کی، اور تیرے ہی نام پر شام کی، اور تیرے ہی نام پر ہم جیتے ہیں، اور تیرے ہی نام پر مریں گے ، اور شام کرو تو یہ کہا کرو، اللهم بك أمسينا وبک أصبحنا وبک نحيى وبک نموت وإليك المصير اے اللہ! ہم نے تیرے ہی نام پر شام کی، اور تیرے ہی نام پر صبح کی، اور تیرے ہی نام پر جیتے ہیں، تیرے ہی نام پر مریں گے، اور تیری ہی طرف پلٹ کر جانا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: “In the morning say: Allahumma bika asbahna, wa bika amsayna, wa bika nahya, wa bika namut (O Allah, by Your leave we have reached the morning and by Your leave we reach the evening , and by Your leave we live and by Your leave we die). And when evening comes, say: Allahumma bika amsayna wa bika asbahna wa bika nahya wa bika namut wa ilaykal masir. (O Allah, by Your leave we have reached the evening and by Your leave we reach the morning and by Your leave we live and by Your leave we die and unto You is our return).” (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٦٩٥)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب ١١٠ (٥٠٦٨)، سنن الترمذی/الدعوات ١٣ (٣٣٩١)، مسند احمد (٢/٣٥٤، ٥٢٢) (صحیح )
عثمان بن عفان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو کوئی بندہ ہر دن صبح اور شام تین بار یہ کہے: بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم اس اللہ کے نام سے جس کے نام لینے سے زمین اور آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے، وہ سمیع وعلیم (یعنی سننے اور جاننے والا ہے) تو اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔ راوی کہتے ہیں: ابان کچھ فالج سے متاثر ہوگئے تو وہ شخص انہیں دیکھنے لگا، ابان نے اس سے کہا: مجھے کیا دیکھتے ہو؟ سنو! حدیث ویسے ہی ہے جیسے میں نے تم سے بیان کی، لیکن میں اس دن یہ دعا نہیں پڑھ سکا تھا تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی تقدیر مجھ پر نافذ کر دے ١ ؎۔
Uthman bin Affan said: "I heard the Messenger of Allah( ﷺ saw) say: "There is no person who says, in the morning and evening of every day: Bismillahil-Iadhi Ia yadurru maa ismihi shayun fil-ardi wa Ia fis-samai wa Huwas-Samiul- Alim (In the name of Allah with Whose Name nothing on earth or in heaven harms, and He is the All-Seeing, All-Knowing), three times, and is then harmed by anything.:" (Hasan) He (one of the narrators) said: "Aban had been stricken with paralysis on one side of his body, and a man started looking at him. Aban said: Why are you looking at me? The Hadith is as I have narrated it to you, but I did not say it that day, so that the decree of Allah might be implemented."’
Notes · وضاحت
١ ؎: اب یہ اعتراض نہ ہونا چاہیے کہ پھر اس دعا کے پڑھنے سے کیا حاصل، کیونکہ بندے کو یہ علم کہاں ہے کہ قضا مبرم (قطعی) ہے یا معلق، اور احتمال ہے کہ قضائے معلق ہو اس دعا کے پڑھنے پر یعنی اگر یہ دعا پڑھ لے گا تو اس صدمے سے محفوظ رہے گا اور جب دعا پڑھ لے تو یہ سمجھنا چاہیے کہ تقدیر میں اس آفت کا ٹل جانا دعا کی برکت سے تھا، اور اگر نہ پڑھے اور آفت آجائے تو معلوم ہوا کہ ہماری تقدیر میں یہ مصیبت آنی ضرور لکھی تھی، اب ہم دعا کیسے پڑھ سکتے تھے کیونکہ تقدیر سے بچنا محال ہے۔
خادم رسول ابوسلام ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی مسلمان یا کوئی آدمی یا کوئی بندہ (یہ راوی کا شک ہے کہ کون سا کلمہ ارشاد فرمایا) صبح و شام یہ کہتا ہے: رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، اور محمد ﷺ کے نبی ہونے سے راضی و خوش ہیں) تو اللہ تعالیٰ پر اس کا یہ حق بن گیا کہ وہ قیامت کے دن اسے خوش کرے ۔
It was narrated from Abu Salam, the servant of the Prophet(saw) that the Prophet(saw) said: "There is no Muslim - or no person or slave (of Allah) - who says, in the morning and evening: Radaytu billahi Rabban wa bil- Islami dinan wa bi Muhammadin nabiyyan (I am content with Allah as my Lord, Islam as my religion and Muhammad as my Prophet),’ but he will have a promise from Allah to make him pleased on the Dayof Resurrection," (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٥٠، ومصباح الزجاجة: ١٣٥٧)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب ١١٠ (٥٠٧٢)، مسند احمد (٤/٣٣٧، ٥/٣٦٧) (ضعیف) (سند میں سابق بن ناجیہ مجہول العین اور ابو سلام مجہول ہیں، اور سند میں اضطراب ہے، بعض روایات میں ابوسلام نے خادم النبی ﷺ سے روایت کی ہے، اور یہ مبہم ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٥٠٢٠ )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صبح و شام ان دعاؤں کو نہیں چھوڑتے تھے: اللهم إني أسألک العفو والعافية في الدنيا والآخرة اللهم إني أسألک العفو والعافية في ديني ودنياي وأهلي ومالي اللهم استر عوراتي وآمن روعاتي واحفظني من بين يدي ومن خلفي وعن يميني وعن شمالي ومن فوقي وأعوذ بك أن أغتال من تحتي اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت کا طالب ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے اپنے دین و دنیا اور اپنے اہل و مال میں معافی اور عافیت کا طالب ہوں، اے اللہ! میرے عیوب چھپا دے، میرے دل کو مامون کر دے، اور میرے آگے پیچھے، دائیں بائیں، اور اوپر سے میری حفاظت فرما، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں نیچے سے ہلاک کئے جانے سے ۔ وکیع کہتے ہیں:أغتال من تحتي کے معنی دھنسا دئیے جانے کے ہیں۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah( ﷺ saw) never abandoned these supplications, every morning and evening: (O Allah, I ask You for forgiveness and wellbeing in this world and in the Hereafter. O Allah, I ask You for forgiveness and well-being in my religious and my worldly affairs. O Allah, conceal my faults, calm my fears, and protect me from before me and behind me, from my right and my left, and from above me, and I seek refuge in You from being taken unware from beneath me)." Waki (one of the narrators, explaining) said: "Meaning AI-Khasf (disgrace)."(Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ١١٠ (٥٠٧٤)، سنن النسائی/الاستعاذة ٥٩ (٥٥٣١)، عمل الیوم واللیلة ١٨١ (٥٦٦)، (تحفة الأشراف: ٦٦٧٣) وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥) (صحیح )
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدک وأنا على عهدک ووعدک ما استطعت أعوذ بک من شر ما صنعت أبوء بنعمتک وأبوء بذنبي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو نے ہی مجھے پیدا کیا، میں تیرا ہی بندہ ہوں، اپنی طاقت بھر میں تیرے عہد و وعدہ پر قائم ہوں، اپنے کئے ہوئے کے شر سے میں تیری پناہ چاہتا ہوں، مجھے تیرے احسانات اور اپنے گناہوں کا اعتراف ہے، میری بخشش فرما، بلاشبہ تو ہی گناہوں کو بخشنے والا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی شخص دن اور رات میں یہ دعا پڑھے، اور اسی دن یا اسی رات اس شخص کا انتقال ہوجائے، تو انشاء اللہ وہ جنت میں داخل ہوگا ۔
It was narrated from Abdullah bin Buraidah that his father said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) said: (O Allah, You are my Lord, there is none worthy of worship except You. You hav created me and I an Your slave, and I am adhering to Your covenant and Your promise as much as I can, I seek refuge with You from the evil of what I do. I acknowledge my sin, so forgive me, for there is none who can forgive sin except You)’ He said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) said: Whoever says this by day and by night, if he dies that day or that night, he will enter Paradise if Allah wills." (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ١١٠ (٥٠٧٠)، (تحفة الأشراف: ٢٠٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٦) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: اللهم رب السموات ورب الأرض ورب کل شيء فالق الحب والنوى منزل التوراة والإنجيل والقرآن العظيم أعوذ بک من شر کل دابة أنت آخذ بناصيتها أنت الأول فليس قبلک شيء وأنت الآخر فليس بعدک شيء وأنت الظاهر فليس فوقک شيء وأنت الباطن فليس دونک شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے رب! ہر چیز کے رب! دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر پودا نکالنے والے! توراۃ، انجیل اور قرآن عظیم کو نازل کرنے والے! میں تیری پناہ چاہتا ہوں زمین پر رینگنے والی ہر مخلوق کے شر و فساد سے، جس کی پیشانی تیرے ہاتھوں میں ہے، تو ہی سب سے پہلے ہے، تجھ سے پہلے کوئی نہیں تھا، اور تو ہی سب سے آخر ہے تیرے بعد کوئی نہیں، اور تو ہی ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی نہیں، اور تو ہی باطن ہے تجھ سے ورے کوئی چیز نہیں، میرا قرض ادا کرا دے اور فقر و مسکنت سے مجھے آزاد کرا دے آسودہ حال بنا دے)۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that when going to bed, the Prophet(saw) used to say: (O Allah, Lord of the heavens and Lord of the earth and Lord of all things, Cleaver of the seed and the kernel, Revealer of the Tawrah, the lnjil and the Magnificent Quran, I seek refuge with You from the evil of every creature You seize by the forelock. You are the First and there is nothing before You; You are the Last and there is nothing after You; You are the Most High (Az-Zahir) and there is nothing above You, and You are the Most Near (Al-Batin) and there is nothing nearer than You. Settle my debt for me and spare me from poverty)." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٧٣٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٧ (٢٧١٣)، سنن ابی داود/الأدب ١٠٧ (٥٠٥١)، سنن الترمذی/الدعوات ١٩ (٣٤٠٠)، مسند احمد (٢/٣٨١) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر لیٹنے کا ارادہ کرے تو اپنے تہبند کا داخلی کنارہ کھینچ کر اس سے اپنا بستر جھاڑے، اس لیے کہ اسے نہیں پتہ کہ (جانے کے بعد) بستر پر کون سی چیز پڑی ہے، پھر داہنی کروٹ لیٹے اور کہے: رب بک وضعت جنبي وبك أرفعه فإن أمسکت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما حفظت به عبادک الصالحين میرے رب! میں نے تیرا نام لے کر اپنا پہلو رکھا ہے، اور تیرے ہی نام پر اس کو اٹھاؤں گا، پھر اگر تو میری جان کو روک لے (یعنی اب میں نہ جاگوں اور مرجاؤں) تو اس پر رحم فرما، اور اگر تو چھوڑ دے (اور میں جاگوں) تو اس کی حفاظت فرما ان چیزوں کے ذریعہ جن سے تو نے اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے)۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: “When anyone of you wants to go to bed, let him undo the edge of his Izar (waist wrap) and dust off his bed with it, for he does not know what came to it after him. Then let him lie down on his right side say: (O Lord, by Your leave I lie down and by Your leave I rise, so if You should take my soul then have mercy on it, and if You should return my soul then protect it as You protect Your righteous slaves)." (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب اپنے بستر پر لیٹتے تو اپنے دونوں ہاتھوں میں پھونک مارتے، اور معوذتین: قل أعوذ برب الفلق و قل أعوذ برب الناس پڑھتے، اور انہیں اپنے جسم پر پھیر لیتے۔
It was narrated from Aisha (RA) that whenever the Prophet(saw) went to bed, he would blow into his hands, recite AIMuawwidhatain, then wipe his hands over his body. (Sahih)
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا: جب تم سونے لگو یا اپنے بستر پر جاؤ تو یہ دعا پڑھا کرو: اللهم أسلمت وجهي إليك وألجأت ظهري إليك وفوضت أمري إليك رغبة ورهبة إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك آمنت بکتابک الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ (یعنی نفس) تجھ کو سونپ دیا، اپنی پیٹھ تیرے سہارے پر لگا دی، اور اپنا کام تیرے سپرد کردیا، امیدی ناامیدی کے ساتھ تیری ذات پر بھروسہ کیا، سوائے تیرے سوا کہیں اور کوئی جائے پناہ اور جائے نجات نہیں، میں تیری کتاب پر جسے تو نے نازل کیا، اور تیرے نبی پر جسے تو نے بھیجا ایمان لایا، پھر اگر تمہارا اس رات انتقال ہوگیا تو دین اسلام پر مرو گے، اور اگر تم نے صبح کی تو تم خیر کثیر کے ساتھ صبح کرو گے ۔
It was narrated from Bara bin Azib (RA) that the Prophet(saw) said to a man: "When you go to lay down, or go to your bed, say: [O Allah, I have submitted my face (i.e., myself) to You, and I am under Your command (i.e., I depend upon You in all my affairs), and I put my trust in You, hoping for Your reward and fearing Your punishment. There is no fleeing from You and no refuge from You except with You. I believe in your Book that You have revealed and in Your Prophet ﷺ whom You have sent): Then if you die that night, you will die in a state of the Fitrah (nature), and if you wake in the morning you will wake with a great deal of good." (Sahih)
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب بستر پر تشریف لے جاتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار مبارک کے نیچے رکھتے، پھر (یہ دعا) پڑھتے: اللهم قني عذابک يوم تبعث (أو تجمع) عبادک اے اللہ! مجھ کو تو اپنے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا یا جمع کرے گا ۔
It was narrated from ‘Abdullah that whenever the Prophet(saw) went to his bed, he Would put his hand- meaning his right hand- beneath his cheek then say: “Allahumma qini ‘adhbaka yawm tab’athu- [or: tajma’ul- ‘ibadaka (O Allah, save me from Your punishment on the Day when You resurrect- or gather- Your slaves).” (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٦١٧، ومصباح الزجاجة: ١٣٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٩٤، ٤٠٠، ٤١٤، ٤٤٣) (صحیح )
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو رات میں بیدار ہو اور آنکھ کھلتے ہی یہ دعا پڑھے: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شيء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد و ثنا ہے، وہی ہر چیز پر قادر ہے، اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اللہ ہی سب سے بڑا ہے، طاقت و قوت اللہ بلندو برتر کی توفیق ہی سے ہے پھر یہ دعا پڑھے: رب اغفر لي اے رب مجھ کو بخش دے ، تو وہ بخش دیا جائے گا، ولید کہتے ہیں: یا یوں کہا: اگر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہوگی، اور اگر اٹھ کر وضو کرے، پھر نماز پڑھے تو اس کی نماز قبول ہوگی۔
It was narrated that Ubadahh bin As-Samit said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) said: ‘Whoever wakes up in the morning and says upon waking: La ilaha illallah wahduhu la sharika lahu, lahul mulku wa lahul hamdu wa Huwa ‘ala kulli shay’in Qadir; Subhan-Allah, wal-hamdu lillahi, wa la ilaha illahha, wa Allahu Akbar, wa la hawla wa la quwwata illa billahil- Aliyal- Azim (None has the right to be worshipped but Allah alone, with no partner or associate. His is the dominion and all praise is to Him, and He is Able to do all things. Glory is to Allah, praise is to Allah, none has the right to be worshiped but Allah, Allah is the Most Great, and there is no power and no strength except with Allah, the Most High, the Most Supreme), then he supplicates: Rabbighfirli (O Lord, forgive me), he will be forgiven." (Sahih) Walid said: "Or he said: then if he supplicated, it will be answered for him then if he stood up and performed ablution and then performed prayer, his prayer would be accepted.”
ربیعہ بن کعب اسلمی ؓ خبر دیتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے دروازے کے پاس رات گزارتے تھے اور رات کو بڑی دیر تک آپ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنتے: سبحان الله رب العالمين پھر فرماتے: سبحان الله وبحمده ١ ؎۔
Rabiah bin Kab Al-Aslami narrated that he used to spend the night outside the door of the Messenger of Allah( ﷺ saw), and he used to hear the Messenger of Allah( ﷺ saw) saying at night: "Subhan Allahi Rabbil-alamin (Glory is to Allah, the Lord of the worlds)," repeating that for a while, then he said: Subhan Allahi wa bihamdihi (Glory and praise is to Allah)." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رات کو جب نیند سے بیدار ہو تو جہاں تک ہو سکے کلمہ پڑھ کر دعا کرے، اور استغفار پڑھے، اور تسبیح یا تہلیل میں مشغول رہے، تو اس کو قیام اللیل کا ثواب مل جائے گا، لیکن افضل یہ ہے کہ بستر سے اٹھے اور وضو کر کے تہجد پڑھے، اگر کسی سے تہجد ادا نہ ہو سکے تو کم سے کم یہ ضروری ہے کہ بچھونے پر ہی رہ کر یہ کلمہ جتنی بار ہو سکے پڑھے اور استغفار کرے، اور دعا کرے، قیام اللیل اس قدر بھی ادا ہوجائے گا، اور جان لینا چاہیے کہ سلف صالحین نے قیام اللیل کبھی ترک نہیں کیا، اور وہ ضروری ہے اگرچہ تھوڑا سا ہی ہو یعنی ایک بار یہ کلمہ پڑھ کر دعا کرلے جیسا اس حدیث میں ہے۔
حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو جاگتے تو یہ دعا پڑھتے: الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہم کو (نیند کی صورت میں) موت طاری کرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا، اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Hudhaifah said: "Whenever the Messenger of Allah( ﷺ saw) woke up in the morning, he would say: Al- hamdulillahil-ladhi ahyana badama amatana wa ilayhin-nushur (Praise is to Allah Who has given us life after taking it from us, and unto Him is the Resurrection)." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: صبح نیند سے بیدار ہونے کے بعد یہ دعا پڑھنی چاہیے۔
معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی بندہ رات کو باوضو سوئے، اور پھر رات میں اٹھ کر اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی کسی چیز کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے دیتا ہے ۔
It was narrated from Muadh bin Jabal that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: There is no person who goes to bed in a state of purity, then wakes up at night, and asks Allah for something in this world or in the Hereafter, but it will be given to him.” (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ١٠٥ (٥٠٤٢)، (تحفة الأشراف: ١١٣٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/ ٢٣٤، ٢٣٥، ٢٤٤) (صحیح )
اسماء بنت عمیس ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ کلمات سکھائے کہ میں سخت تکلیف کے وقت پڑھا کروں، (وہ کلمات یہ ہیں) الله الله ربي لا أشرک به شيئا اللہ، اللہ ہی میرا رب ہے میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتی ۔
It was narrated that Asma bint Umais said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) taught me some words to say at times of distress: Allah! Allahu Rabbi la ushriku bihi shayan (Allah, Allah is my Lord, I do not associate anything with Him)." (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٦١ (١٥٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٦) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سخت تکلیف کے وقت یہ (دعا) پڑھتے تھے: لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم سبحان الله رب السموات السبع ورب العرش الکريم اللہ حلیم (برد بار) و کریم (کرم والے) کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، پاکی بیان کرتا ہوں عرش عظیم کے رب اللہ کی، پاکی بیان کرتا ہوں ساتوں آسمان اور عرش کریم کے رب اللہ کی ۔ وکیع کی ایک روایت میں ہے کہ ہر فقرے کے شروع میں ایک ایک بار لا إله إلا الله ہے۔ ١ ؎
It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet(saw) used to say at limes of distress: (None has the right to be worshiped but Allah, the Forbearing, the Most Generous; glory is to Allah the Lord of the Mighty Throne; glory is to Allah, the Lord of the seven heavens and the Lord of the Magnificient Throne). " (Sahih) Waki said with each wording La ilaha illallahu (none has the right to be worshiped but Allah) is to be included.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی لا إله إلا الله الحليم الكريم لا إله إلا الله سبحان الله رب العرش العظيم لا إله إلا الله سبحان الله رب السموات السبع ورب العرش الکريم غرض یہ دعا سختی اور مصیبت کے وقت مفید اور مجرب ہے جیسے کوئی ڈر لاحق ہو یا آگ لگ جائے یا پانی میں ڈوبنے لگے یا کسی اور مصیبت میں پھنس جائے۔
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: اللهم إني أعوذ بك أن أضل أو أزل أو أظلم أو أظلم أو أجهل أو يجهل علي اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں راہ بھٹک جاؤں یا پھسل جاؤں، یا کسی پر ظلم کروں، یا کوئی مجھ پر ظلم کرے، یا میں جہالت کروں، یا کوئی مجھ سے جہالت کرے ۔
It was narrated from Umm Salamah that whenever he left his house, the Prophet(saw) would say: (O Allah, I seek refuge with You from going astray or stumbling, from wronging others or being Wronged, and from behaving or being treated in an ignorant manner)." (Daif)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: بسم الله لا حول ولا قوة إلا بالله التکلان على الله اللہ کے نام سے (میں نکل رہا ہوں) گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت، اللہ تعالیٰ کی مدد اور قوت کے بغیر ممکن نہیں، اللہ ہی پر بھروسہ ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that whenever he left his house, the Prophet ﷺ would say: (In the Name of Allah, there is no power and strength except with Allah, and trust is placed in Allah).” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٦٨٩، ومصباح الزجاجة: ١٣٥٩) (ضعیف) (عبد اللہ بن حسین بن عطاء ضعیف ہیں )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب آدمی اپنے گھر یا اپنے مکان کے دروازے سے باہر نکلتا ہے، تو اس کے ساتھ دو فرشتے مقرر ہوتے ہیں، جب وہ بسم الله کہتا ہے تو وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں: تو نے سیدھی راہ اختیار کی، اور جب وہ آدمی لا حول ولا قوة إلا بالله کہتا ہے تو وہ فرشتے کہتے ہیں کہ اب تو ہر آفت سے محفوظ ہے اور جب آدمی توکلت على الله کہتا ہے، تو وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں کہ اب تجھے کسی اور کی مدد کی حاجت نہیں، اس کے بعد اس شخص کے دونوں شیطان جو اس کے ساتھ رہتے ہیں وہ اس سے ملتے ہیں تو یہ فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ اب تم اس کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہو جس نے سیدھا راستہ اختیار کیا، تمام آفات و مصائب سے محفوظ ہوگیا، اور اللہ کی مدد کے علاوہ دوسرے کی مدد سے بےنیاز ہوگیا اور ہر ایک آفت و مصیبت سے بچا لیا گیا۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet(saw) said: "When a man goes out of the door of his house, there are two angels with him who are appointed over him. If he says Bismillah (in the Name of Allah), they say: You have been guided: If he says La hawla wa la quwwata illa billah (there is no power and no strength except with Allah), they say: You are protected: If he says, Tawwakaltu ala Allah (I have my trust in Allah), they say: You have been taken care of. Then his two Qarins (satans) come to him and they (the two angels) say: What do you want with a man who has been guided, protected and taken care of?" (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٩٧٢، ومصباح الزجاجة: ١٣٦٠) (ضعیف) (ہارون بن ہارون ضعیف ہیں )