جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: جب آدمی گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا ذکر کرتا (یعنی بسم اللہ کہتا) ہے، تو شیطان اپنے لشکر سے کہتا ہے کہ آج یہاں نہ تمہاری رات گزر سکتی ہے (یعنی نہ سونے کی جگہ تم کو مل سکتی ہے) اور نہ تمہیں کھانا مل سکتا ہے، اور جب آدمی گھر میں بغیر اللہ کا ذکر کئے (یعنی بغیر بسم اللہ کہے) داخل ہوتا ہے، تو شیطان (اپنے لشکر سے) کہتا ہے کہ تم نے سونے کی جگہ پا لی، اگر آدمی کھانے کے وقت بھی اللہ کا نام نہیں لیتا ہے، تو شیطان کہتا ہے کہ تم نے کھانے اور سونے دونوں کی جگہ پا لی ۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that he heard the Prophet(saw) say: "When a man enters his house, and remembers Allah when he enters and when he eats Satan says: You have no place to stay and no supper’ If he enters his house and does not remember Allah upon entering, Satan says: You have found a place to stay’ And if he does not remember Allah when he eats, (Satan) says: You have found a place to stay and supper:" (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ١٣ (٢٠١٨)، سنن ابی داود/الأطعمة ١٦ (٣٧٦٥)، (تحفة الأشراف: ٢٧٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٤٦، ٣٨٣) (صحیح )
عبداللہ بن سرجس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر کرتے تو یہ دعا پڑھتے: (اور عبدالرحیم کی روایت میں ہے کہ آپ پناہ مانگتے تھے) :اللهم إني أعوذ بک من وعثاء السفر وکآبة المنقلب والحور بعد الکور ودعوة المظلوم وسوء المنظر في الأهل والمال اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سفر کی صعوبتوں اور مشقتوں سے، واپسی کے غم سے، ترقی کے بعد تنزلی سے، اور مظلوم کی بد دعا سے اور اہل و عیال کے سلسلے میں برا منظر دیکھنے سے ۔ اور ابومعاویہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ سفر سے لوٹتے وقت بھی یہی دعا پڑھتے۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Sarjis said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) used to say”- and (one of the narrators) ‘Abdur Rahim said: “He used to used seek refuge” – “when he travelled: (O Allah, I seek refuge with You from the hardships of travel and the sorrows of return, from decrease after increase, from the prayer of the one who has been wronged, and seeing some calamity befall my family or wealth).’” (Sahih) (One of the narrators) Abu Muawiyah added: "And when he returned he said likewise."
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب آسمان کے کسی کنارے سے اٹھتے بادل کو دیکھتے تو جس کام میں مشغول ہوتے اسے چھوڑ دیتے، یہاں تک کہ اگر نماز میں (بھی) ہوتے تو بادل کی طرف چہرہ مبارک کرتے، اور یہ دعا ما نگتے: اللهم إنا نعوذ بک من شر ما أرسل به اے اللہ ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اس چیز کے شر سے جو اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے پھر اگر بارش شروع ہوجاتی تو فرماتے: اللهم سيبا نافعا اے اللہ جاری اور فائدہ دینے والا پانی عنایت فرما ، دو یا تین مرتبہ یہی الفاظ دہراتے اور اگر اللہ تعالیٰ بادل ہٹا دیتا اور بارش نہ ہوتی تو آپ ﷺ اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ١ ؎۔
Aisha (RA) narrated that when the Prophet(saw) saw a cloud approaching from any horizon, he would stop what he was doing, even if he was praying, and turn to face it, then he would say: (O Allah, we seek refuge with You from the evil of that with which it is sent)." Then if it rained he would say: (O Allah, a beneficial rain),” two or three times. And if Allah dispelled it and it did not rain, he would praise Allah for that. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اگلی امتوں پر بادل کی شکل میں اللہ کا عذاب آیا تھا، اس لیے نبی اکرم ﷺ جب بادل دیکھتے تو عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بادل کو دیکھتے تو (تردد و پریشانی کی وجہ سے) آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا، کبھی اندر تشریف لے جاتے کبھی باہر، کبھی آگے جاتے کبھی پیچھے، پھر جب بارش ہونے لگتی تو آپ کی یہ کیفیت ختم ہوجاتی، عائشہ ؓ نے آپ ﷺ سے آپ کی اس کیفیت کا ذکر کیا جسے انہوں نے دیکھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ تجھے کیا معلوم؟ ہوسکتا ہے یہ وہی ہو جسے دیکھ کر قوم ہود نے کہا تھا: فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا بل هو ما استعجلتم به تو جب ان لوگوں نے بادل کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے: یہ بادل ہے جو ہم پر پانی برسائے گا، (نہیں اس میں پانی نہیں تھا) بلکہ وہ چیز (یعنی عذاب) ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے (سورۃ الاحقاف: ٢٤ ) ۔
It was narrated that , Aisha (RA) said: "If the Messenger of Allah( ﷺ saw) saw a cloud that looked as if it was bringing rain, the color his face would change and he would go in and out and walk to fro. Then, if it rained, he would feel relieved." ‘ Aisha (RA) mentioned to him what she had seen him do, and he said: “How do you know? Perhaps it would be as the people of Hud said: ‘Then, when they saw it as a dense cloud coming towards their valleys, they said: “This is a cloud bringing us rain” Nay, but it is that(torment) which you were asking to be hastened.” (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الاستسقاء ٣ (٨٩٩)، سنن الترمذی/الدعوات ٤٢ (٣٤٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٤٠) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص اچانک کسی کو بلایا مصیبت میں مبتلا دیکھے تو یہ دعا پڑھے: الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاک به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے عافیت دی اس چیز سے جس میں تجھ کو مبتلا کیا، اور مجھے اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت بخشی ، تو وہ اس بلا اور مصیبت سے محفوظ رہے گا، چاہے کوئی بھی بلا اور مصیبت ہو ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "Whoever unexpectedly comes across a person suffering a calamity, and says: (Praise is to Allah Who has kept me safe from that which has afflicted you and preferred me over many of those whom He has created), will be kept safe from that calamity, no matter what it is." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہر قسم کی بلاؤں سے لیکن اگر یہ بلا دینی ہو جیسے کسی کو فسق اور فجور میں دیکھے تو یہ دعا پڑھے تاکہ اس شخص کو نصیحت ہو اور اگر دنیوی بلا ہو، جیسے کوڑھ، جذام وغیرہ تو آہستہ سے پڑھے کہ وہ شخص نہ سنے، اور اس کے دل کو رنج نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٣٨ (٣٤٣١)، (تحفة الأشراف: ٦٧٨٧، ١٠٥٢٨) (حسن) (خارجہ بن مصعب متروک الحدیث اور ابو یحییٰ عمرو بن دینار ضعیف ہیں، اصل حدیث متابعات و شواہد کی بناء پر حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٦٠٢ ، ٢٧٣٧ )