عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا ۔
It was narrated that Umar bin Khattab said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Whoever builds a Masjid in which the Name of Allah is mentioned, Allah will build a house for him in Paradise. (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٦٠٤، ومصباح الزجاجة: ٢٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٠، ٥٣) (صحیح) (عثمان بن عبداللہ بن سراقہ کا سماع عمر ؓ سے نہیں ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے )
عثمان بن عفان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و رضا جوئی کے لیے مسجد بنوائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ویسا ہی گھر بنائے گا ١ ؎۔
It was narrated that "Uthman bin Affan said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Whoever builds a Masjid for the sake of Allah, Allah will build something similar for him in Paradise:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے مسجد کو دنیا کے گھروں پر فضیلت ہوتی ہے، ویسے ہی اس گھر کو جنت کے دوسرے گھروں پر فضیلت ہوگی، مقصد یہ نہیں ہے کہ مسجد کے برابر ہی جنت میں گھر بنے، اللهم ارزقنا جنة الفردوس آمين .
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے لیے خالص اپنے مال سے مسجد بنوائی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا ۔
It was narrated that Ali bin Abu Talib said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever builds a Masjid for the sake of Allah (from his own wealth), Allah will build a house for him in Paradise:" (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٢٤٢، ومصباح الزجاجة: ٢٧٥) (ضعیف) (سند میں ولید میں مسلم مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، وہ تدلیس تسویہ میں بھی مشہور ہیں، اور ابن لہیعہ اختلاط کا شکار ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اصل حدیث کثر ت کی وجہ سے صحیح ہے )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے پرندے کے گھونسلے کے برابر یا اس سے بھی چھوٹی مسجد اللہ کے لیے بنوائی، تو اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا ١ ؎۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever builds a Masjid for the sake of Allah, like a sparrows nest or even smaller, Allah will build for him a house in Paradise." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں قطا ۃ کا لفظ ہے، وہ ایک چڑیا ہے، جو دور دراز جنگل میں جا کر گھونسلا بناتی ہے، اور اس کا گھونسلا نہایت چھوٹا ہوتا ہے، اور یہ مبالغہ ہے مسجد کے چھوٹے ہونے میں، ورنہ گھونسلے کے برابر تو کوئی مسجد بنانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کیونکہ کم سے کم مسجد میں تین آدمیوں کے نماز پڑھنے کی جگہ ہوتی ہے، غرض یہ ہے کہ چھوٹی بڑی مسجد پر منحصر نہیں خالص نیت سے اگر کوئی نہایت مختصر مسجد بھی بنا دے گا، تب بھی اللہ تعالیٰ اس کو اجر دے گا، اور جنت میں اس کے لئے مکان بنایا جائے گا۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت قائم ہوگی، جب لوگ مسجدوں کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگیں گے ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The Hour will not begin until the people compete in (building) Masjids:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ آخری زمانہ میں لوگ کہیں گے کہ ہماری مسجد فلاں کی مسجد سے زیادہ عمدہ، بلند اور پرشکوہ ہے، نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجدوں پر فخر کرنا قیامت کی نشانی ہے، لیکن مسجدوں کو آراستہ اور بلند کرنے کی ممانعت نہیں نکلتی، دوسری حدیثوں سے اس امر کی کراہت ثابت ہے، لیکن علماء نے کہا ہے کہ اس زمانہ میں مصلحتاً مساجد کی بلندی پر سکوت کرنا چاہیے کیونکہ یہود اور نصاری نے اپنے گرجاؤں کو بہت بلند اور عمدہ بنانا شروع کیا ہوا ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم لوگ میرے بعد مسجدوں کو ویسے ہی بلند اور عالی شان بناؤ گے جس طرح یہود نے اپنے گرجا گھروں کو، اور نصاریٰ نے اپنے کلیساؤں کو بنایا ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: The Messenger of Allah ﷺ said: "I see you building your Masjid high after I am gone, just as the Jews built their synagogues high and the Christians built their churches high." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٢٠٨)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ١٢ (٤٤٨) (ضعیف) (سند میں جبارہ بن مغلس اور لیث بن أبی سلیم ضعیف ہیں، لیکن یہ ابن عباس ؓ سے موقوفاً ثابت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢٧٣٣ )
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کسی قوم کے اعمال خراب ہوئے تو اس نے اپنی مسجدوں کو سنوارا سجایا ١ ؎۔
It was narrated that Umar bin Khattab said: The Messenger of Allah ﷺ said: "No peoples deeds ever became evil deeds but they started to adorn their places of worship." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: سبحان اللہ! آپ کا ارشاد گرامی کتنا درست اور صحیح ہے، اور سچی بات ہے کہ جب سے مسلمانوں نے بلا ضرورت مسجدوں کی زیب و زینت اور آراستگی میں مبالغہ شروع کیا اس وقت سے ان کے اعمال خراب ہوگئے، علم دین کی تعلیم کم ہوگئی، دینی مدرسے سے لوگوں کی دلچسپی کم ہوگئی، دینی طالب علموں کے تعلیمی اخراجات کے بارے میں لوگ غفلت کا شکار ہیں، جہالت کا بازار گرم ہے، بدعات و خرافات اور مشرکانہ افعال و اعمال کا رواج ہوگیا ہے، لیکن مسجدوں کی آرائش روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، مساجد کی بڑی آرائش اور زینت تو یہی ہے کہ وہاں اول وقت اذان دی جائے، امام دیندار اور عالم ہو، نماز سنت کے موافق، شرائط اور آداب کے ساتھ ادا کی جائے، روشنی بقدر ضرورت کی جائے کہ نمازیوں کو اندھیرے کی تکلیف نہ ہو، اس سے زیادہ جو روپیہ بچے وہ علم دین کی ترقی میں صرف کیا جائے، دینی کتابیں چھاپی جائیں، دینی واعظوں کو تنخواہ دی جائے کہ وہ مسلمانوں کو دین کی تعلیم دیں اور کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دیں، طالب علموں کی خبر گیری کی جائے، مدرسین رکھے جائیں، مدرسے کھلوائے جائیں، اگر یہ جانتے ہوئے بھی کوئی شخص اپنا روپیہ پیسہ ان کاموں میں صرف نہ کرے، اور مسجد کے نقش و نگار اور آراستگی اور روشنی اور فرش میں فضول خرچی کرے تو وہ گناہ گار ہوگا، اور آخرت میں اس سے باز پرس ہوگی کیونکہ اس نے ظاہر کو آراستہ کیا اور باطن کو خراب کیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٦٢٠، ومصباح الزجاجة: ٢٧٨) (ضعیف) (جبارہ ضعیف ہے، اور ابو سحاق مدلس اور روایت عنعنہ سے کی ہے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کی زمین قبیلہ بنو نجار کی ملکیت تھی، جس میں کھجور کے درخت اور مشرکین کی قبریں تھیں، نبی اکرم ﷺ نے ان سے کہا: تم مجھ سے اس کی قیمت لے لو ، ان لوگوں نے کہا: ہم ہرگز اس کی قیمت نہ لیں گے، انس ؓ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ مسجد بنا رہے تھے اور صحابہ آپ کو (سامان دے رہے تھے) اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: سنو! زندگی تو دراصل آخرت کی زندگی ہے، اے اللہ! تو مہاجرین اور انصار کو بخش دے ، انس ؓ کہتے ہیں: مسجد کی تعمیر سے پہلے جہاں نماز کا وقت ہوجاتا نبی اکرم ﷺ وہیں نماز پڑھ لیتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Anas bbin Malik said: "The location where the Prophets Masjid was built belonged to Banu Najjar. In it there were date-palm trees and graves of the idolaters. The Prophet ﷺ said to them: Name its price: They said: We will never take any money for it: The Prophet ﷺ built it and they were assisting him, and the Prophet ﷺ was saying: The real life is the life of the Hereafter so forgive the Ansar and the Muhajirah: Before the Masjid was built, the Prophet ﷺ would perform prayer wherever he was when the time for prayer came." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: جس جگہ مسجد نبوی بنائی گئی وہ ویران اور غیر آباد جگہ تھی، اسی میں بعض مشرکین کی قبریں تھیں، جن کو رسول اکرم ﷺ نے اکھاڑنے کا حکم دیا، تو قبریں اکھاڑ دیں گئیں، تب آپ نے مسجد کی بنیاد رکھی، تفصیل بخاری، مسلم، ابوداود وغیرہ کی روایات میں دیکھئے، نیز کوئی خاص جگہ متعین نہ تھی، نبی اکرم ﷺ نے جو فرمایا: زندگی تو دراصل آخرت کی زندگی ہے اگر سچ پوچھیں تو دنیا میں عیش ہی نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی فکر نہ ہو جب بھی مرنے کی اور بیماری کی فکر لگی رہتی ہے، عیش تو اسی وقت سے شروع ہوگا جب کسی کو جنت میں جانے کا حکم ہوجائے گا، اے اللہ تعالیٰ ہم سب کو جنت نصیب فرمائے آمین۔
عثمان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ طائف میں مسجد وہیں پہ تعمیر کریں جہاں پہ طائف والوں کا بت تھا۔
It was narrated from "Uthman bin Abul- As that the Messenger of Allah ﷺ commanded him to build the Masjid of Taif in the place where their Taghuts used to be. (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٢ (٤٥٠)، (تحفة الأشراف: ٩٧٦٩) (ضعیف) (سند میں محمد بن عبد اللہ بن عیاض مجہول راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: ضعیف أبو داود: ٦٦ )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ان سے ان باغات میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا جن میں پاخانہ ڈالا جاتا ہے، انہوں نے کہا: جب ان باغات کو کئی بار پانی سے سینچا گیا ہو تو ان میں نماز پڑھ لو۔ عبداللہ بن عمر ؓ یہ حدیث نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں۔
It was narrated that Ibn Umar was asked about gardens in which excrement was thrown. He said: "If it has been watered several times, then perform prayer there," and he attributed that to the Prophet ﷺ . (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٤١٩، ومصباح الزجاجة: ٢٧٩) (ضعیف) (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور راویت عنعنہ سے ہے )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قبرستان اور حمام (غسل خانہ) کے سوا ساری زمین مسجد ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Saeed Khudri said: "The Messenger of Allah ﷺ said: All the earth is a Masjid, except for graveyards and Hammam."(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ان دو جگہوں کے سوا ہر جگہ نماز پڑھ سکتے ہیں، اس لئے کہ قبرستان کی مٹی مردوں کی نجاستوں سے مخلوط ہے، اور حمام (غسل خانہ) گندگیوں کے ازالہ کی جگہ ہے۔
ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سات مقامات پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے: کوڑا خانہ، مذبح (ذبیحہ گھر) ، قبرستان، عام راستہ، غسل خانہ، اونٹ کے باڑے اور خانہ کعبہ کی چھت پر ۔
It was narrated that Ibn Umar said: "Allahs Messenger ﷺ prohibited prayer from being performed in seven places: The garbage dump, the slaughtering area, the graveyard, the commonly used road, the : ba throom, in the area that camels rest at, and above the Ka’bahh."(Daif)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٤ (٣٤٦، ٣٤٧)، (تحفة الأشراف: ٧٦٦٠) (ضعیف) (محمد بن ابراہیم منکر اور زید بن جبیرہ متروک ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٨٧ ، یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن ان مقامات کے بارے میں دوسری احادیث وارد ہوئی ہیں، جس کا خلاصہ یہ ہے )
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سات مقامات پر نماز جائز نہیں ہے: خانہ کعبہ کی چھت پر، قبرستان، کوڑا خانہ، مذبح، اونٹوں کے باندھے جانے کی جگہوں اور عام راستوں پر ۔
It was narrated from Umar bin Khattab that the Messenger of Allah ﷺ said: "There are seven places where it is not permissible to perform the prayer: The top of the House of Allah; graveyards; garbage dumps; slaughterhouses; bathrooms; the area that camels rest, and the main road." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٥٧١، ومصباح الزجاجة: ٢٨١)، سنن الترمذی/الصلاة (٣٤٧ تعلیقاً ) (ضعیف) (اس سند میں عبد اللہ بن عمر العمری ضعیف ہیں، اور سنن ابن ماجہ کے بعض نسخوں میں ساقط ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٨٧ )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چند اعمال ایسے ہیں جو مسجد میں نامناسب ہیں، اس کو عام گزرگاہ نہ بنایا جائے، اس میں ہتھیار ننگا نہ کیا جائے، تیر اندازی کے لیے کمان نہ پکڑی جائے، اس میں تیروں کو نہ پھیلایا جائے، کچا گوشت لے کر نہ گزرا جائے، اس میں حد نہ قائم کی جائے، کسی سے قصاص نہ لیا جائے، اور اس کو بازار نہ بنایا جائے ۔
It was narrated from Ibn "Urnar that the Messenger of Allah ﷺ said: "There are things which are not befitting for the Masjid: it should not be taken as a thoroughfare; weapons should not be unsheathed in it; bows should not be drawn nor arrows shot in it; no one should pass through it carrying raw meat; no prescribed punishment or retaliatory punishment should be carried out in it; and it should not be used as a marketplace." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٦٦١، ومصباح الزجاجة: ٢٨٠) (ضعیف) (اس سند میں زید بن جبیرہ ضعیف ہیں، لیکن لا يتخذ طريقا کا جملہ صحیح ہے، اس لئے کہ ابن عمر ؓ سے مرفوعاً طبرانی کبیر ( ١٢ /٣١٤) سند حسن سے مروی ہے:لا تتخذ المساجد طريقاً إلا لذکر الله أو صلاة نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٤٩٧ ، وسلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٠٠١ )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں خریدو فروخت اور (غیر دینی) اشعار پڑھنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Amr bin Shu alb, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade buying and selling in the Masjid, and reciting poetry in the Masjid." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: مراد فحش اور مخرب اخلاق اشعار ہیں، وہ اشعار جو توحید اور اتباع رسول وغیرہ اصلاحی مضامین پر مشتمل ہوں، تو ان کے پڑھنے میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں۔
واثلہ بن اسقع ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اپنی مسجدوں کو بچوں، دیوانوں (پاگلوں) ، خریدو فروخت کرنے والوں، اور اپنے جھگڑوں (اختلافی مسائل) ، زور زور بولنے، حدود قائم کرنے اور تلواریں کھینچنے سے محفوظ رکھو، اور مسجدوں کے دروازوں پر طہارت خانے بناؤ، اور جمعہ کے روز مسجدوں میں خوشبو جلایا کرو ١ ؎۔
It was narrated from Wiithilah bin Asqa that the Prophet ﷺ said: "Keep your infants, your insane and your evil ones away from your Masjids. Avoid engaging in transactions and disputes, raising your voices, carrying out your prescribed punishments and unsheathing your swords therein. Make places for purification at their gates, and perfume them with incense on Fridays." (Maudhu)
Notes · وضاحت
١ ؎: بچوں کو مسجد میں لانا اس وقت مکروہ ہے جب وہ روتے چلاتے ہوں، یا ان کے پیشاب اور پاخانہ کردینے کا ڈر ہو، ورنہ دوسری صحیح حدیثوں سے بچوں کا مسجد میں آنا ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٧٥١، ومصباح الزجاجة: ٢٧٢) (ضعیف جداً ) (اس حدیث کی سند میں حارث بن نبہان ضعیف ہیں، اور ابو سعد محمد بن سعید المصلوب فی الزندقہ متروک )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں مسجد میں سوتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said: "We used to sleep in the Masjid at the time of the Messenger of Allah ﷺ ." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: مسجد میں سونا جائز ہے، خصوصاً مسافر کے واسطے مگر جن لوگوں کا گھر بار موجود ہو ان کے لئے ہمیشہ مسجد میں سونے کی عادت کو بعض علماء نے مکروہ کہا ہے، اور جو لوگ نماز کے لئے مسجد میں آئیں وہ اگر وہاں سو جائیں تو درست ہے، صحابہ کرام ؓ نے ایسا کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٠١٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ٥٨ (٤٤٠)، سنن الترمذی/الصلاة ١٢٢ (٣٢١)، سنن النسائی/المساجد ٢٩ (٧٢٣)، مسند احمد (٢/١٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١١٧ (١٤٤٠) (صحیح )
قیس بن طخفة (جو اصحاب صفہ میں سے تھے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: تم سب چلو ، چناچہ ہم سب ام المؤمنین عائشہ ؓ کے گھر گئے، وہاں ہم نے کھایا پیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: اگر تم لوگ چاہو تو یہیں سو جاؤ، اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ، ہم نے کہا کہ ہم مسجد ہی جائیں گے ١ ؎۔
Yaish bin Qais bin Tikhfah narrated that his father, who was one of the people of Safah. said: "The Messenger of Allah ﷺ P..B.U.H said to us Come with me. So we went to the house of Aisha (RA) . where we ate and drank. Then the Messenger of Allah ﷺ said to us: If you want, you can sleep here, or if you want you can go out to the Masjid. We said: We will go out to the Masjid. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اصحاب صفہ وہ لوگ تھے جو مسجد نبوی کے صفہ یعنی سائباں میں رہتے تھے، گھر بار مال و اسباب ان کے پاس کچھ نہ تھا، وہ مسکین تھے، کوئی کھلا دیتا تو کھالیتے، ان کے حالات کے لئے صحابہ کرام ؓ کی حیات پر مشتمل کتابوں کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ١٠٣ (٥٠٤٠)، (تحفة الأشراف: ٤٩٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢٩، ٤٣٠، ٥/٤٢٦، ٤٢٧) (ضعیف) (حدیث میں اضطراب ہے، نیز سند میں یحییٰ بن ابی کثیر مدلس ہیں، اور اور روایت عنعنہ سے کی ہے )
ابوذر غفاری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مسجد الحرام ، میں نے پوچھا: پھر کون سی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر مسجد الاقصیٰ ، میں نے پوچھا: ان دونوں کی مدت تعمیر میں کتنا فاصلہ تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: چالیس سال کا، پھر ساری زمین تمہارے لیے نماز کی جگہ ہے، جہاں پر نماز کا وقت ہوجائے وہیں ادا کرلو ١ ؎۔
It was narrated that Abu Dharr (RA) Al-Ghifari said: "I said: O Messenger of Allah! ﷺ Which Masjid was built first? He said: Al-Masjid AI-Hariim (in Makkah). I said: Then which? He said: Then Al-Masjid AI-Aqsa (in Jerusalem). I said: How many years between them? He said: Forty years, but the whole earth is a Masjid for you, so pray wherever you are when the time for prayer comes. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ظاہراً اس میں اشکال ہے کہ کعبہ اور بیت المقدس میں چالیس برس کا فاصلہ ہے، کیونکہ کعبہ کو ابراہیم (علیہ السلام) نے بنایا، اور بیت المقدس کو سلیمان (علیہ السلام) نے اور ان دونوں میں ہزار برس سے زیادہ فاصلہ تھا، اس کا جواب یہ ہے کہ کعبہ اور بیت المقدس دونوں کو آدم (علیہ السلام) نے بنایا تھا، اور ممکن ہے کہ ان دونوں کی بنا میں چالیس برس کا فاصلہ ہو، پھر ابراہیم اور سلیمان (علیہما السلام) نے اپنے اپنے وقتوں میں ان بنیادوں کو جو مٹ گئی تھیں دوبارہ بنایا، اور ابن ہشام نے سیرت میں بھی ایسا ہی ذکر کیا ہے کہ پہلے آدم (علیہ السلام) نے کعبہ کو بنایا، پھر اللہ تعالیٰ ان کو ملک شام لے گیا وہاں انہوں نے بیت المقدس کو بنایا، بہر حال جو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، وہ صحیح ہے، اگرچہ تاریخ والے اس کے خلاف یا اس کے موافق لکھیں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہی نے خانہ کعبہ اور بیت المقدس کی تعمیر کی ہو جس میں چالیس سال کا وقفہ ہو، بعض روایات میں بیت المقدس کی تأسیس کے حوالے اسحاق بن ابراہیم (علیہما السلام) کا نام بھی آیا ہے، جس کا معنی یہ ہوا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے تعمیر کعبہ سے چالیس برس بعد ان کے بیٹے اسحاق (علیہ السلام) نے بیت المقدس کی بنیاد رکھی تھی اور سلیمان بن داود (علیہما السلام) نے بیت المقدس کی تجدید و توسیع کروائی تھی، جیسا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے آدم (علیہ السلام) کی بنیادوں پر ہی کعبۃ اللہ کی تعمیر تجدید کی تھی، واللہ اعلم بالصواب۔
محمود بن ربیع انصاری ؓ سے روایت ہے اور ان کو وہ کلی یاد تھی جو رسول اللہ ﷺ نے ڈول سے لے کر ان کے کنویں میں کردی تھی، انہوں نے عتبان بن مالک سالمی ؓ سے روایت کی (جو اپنی قوم بنی سالم کے امام تھے اور غزوہ بدر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک ہوئے تھے) وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میری نظر کمزور ہوگئی ہے، جب سیلاب آتا ہے تو وہ میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان حائل ہوجاتا ہے، اسے پار کرنا میرے لیے دشوار ہوتا ہے، اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے گھر تشریف لائیں اور گھر کے کسی حصے میں نماز پڑھ دیں، تاکہ میں اس کو اپنے لیے مصلیٰ (نماز کی جگہ) بنا لوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ٹھیک ہے، میں ایسا کروں گا ، اگلے روز جب دن خوب چڑھ گیا تو نبی اکرم ﷺ اور ابوبکر ؓ آئے، اور اندر آنے کی اجازت طلب کی، میں نے اجازت دی، آپ ﷺ ابھی بیٹھے بھی نہ تھے کہ فرمایا: تم اپنے گھر کے کس حصہ کو پسند کرتے ہو کہ میں تمہارے لیے وہاں نماز پڑھ دوں؟ ، میں جہاں نماز پڑھنا چاہتا تھا ادھر میں نے اشارہ کیا، رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، ہم نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، آپ ﷺ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، پھر میں نے آپ کو خزیرہ (حلیم) ١ ؎ تناول کرنے کے لیے روک لیا جو ان لوگوں کے لیے تیار کیا جا رہا تھا ٢ ؎۔
Mahmud bin Rabi Al- Ansari, who remembered that the Messenger of Allah ﷺ spat a mouthful of water from a bucket into a well that belonged to them, narrated that Itban bin Malik As-Salimi who was the chief of his people Banu Salim and had participated in (the battle of) Badr with the Messenger of Allah ﷺ said: "I came to the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah, my sight is failing and the flood comes and prevents me from reaching the Masjid of my people, and it is too hard for me to cross the water. Do you think you could come and perform prayer in my house in a place which I can then take as a place for prayer? He said: I will do that. The following day, the Messenger of Allah ﷺ and Abu Bakr (RA) came, when the heat of the day had grown intense. He asked permission to enter, and I gave him permission. He did not sit down until he said: Where would you like me to perform prayer for you in your house? I showed him the place where wanted him to pray, so the Messenger of Allah ﷺ stood and we lined up behind him, and he led us in praying two Rakah (units). Then I asked him to stay and eat some Kh…… that had been prepared for them. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: خزیرہ: یہ ایک قسم کا کھانا ہے جو گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹ کر آٹا ڈال کر پکایا جاتا ہے، موجودہ دور میں یہ حلیم کے نام سے مشہور ہے۔ ٢ ؎: اس حدیث سے بہت سی باتیں نکلتی ہیں، گھر میں مسجد بنانا، چاشت کی نماز جماعت ادا کرنا، نابینا کے لئے جماعت سے معافی، غیر کے گھر میں جانے سے پہلے اجازت لینا، نفل نماز جماعت سے جائز ہونا وغیرہ وغیرہ۔