جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم میں سے ایک شخص نے غلام کو مدبر بنادیا، اس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہ تھا تو نبی اکرم ﷺ نے اسے بیچ دیا، اور قبیلہ بنی عدی کے شخص ابن نحام نے اسے خریدا۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah (RA) said: “ A man among us promised freedom to a slave after his death, and he did not have any property other than him (this slave). So the Prophet ﷺ sold him, and Ibn (Nahham), a man from Banu Adi, bought him”
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مدبر غلام میت کے تہائی مال میں سے شمار ہوگا ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے عثمان یعنی ابن ابی شیبہ کو کہتے سنا کہ یہ روایت یعنی المدبر من الثلث کی حدیث صحیح نہیں ہے۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔
It was narrated from Ibn Umar that the prophet said: "The Mudabbar is part of the one third of the estate”.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٠٦٥، ومصباح الزجاجة: ٨٩٠) (موضوع) (علی بن ظبیان کی ابن معین وغیرہ نے تکذیب کی ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو لونڈی اپنے مالک کا بچہ جنے، تو وہ مالک کے مرجانے کے بعد آزاد ہوجائے گی ۔
It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Messenger of allah said: “Any man whose slave woman bears him a child, she will be free after he dies”.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٠٢٣، ومصباح الزجاجة: ٨٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٠٣، ٣١٧، ٣٢٠)، سنن الدارمی/البیوع ٣٨ (٢٦١٦) (ضعیف) (سند میں حسین بن عبد اللہ متروک راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٧٧١ )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بیٹے ابراہیم کی ماں کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے بچے (ابراہیم) نے اسے آزاد کردیا ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "Mention was made of the mother of Ibrahim in the presence of the Messenger of Allah ﷺ and he said: Her son set her free.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٠٢٤، ومصباح الزجاجة: ٨٩٤) (ضعیف) (سند میں حسین بن عبداللہ متروک راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٧٧٢ )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ اپنی لونڈیاں اور امہات الاولاد بیچا کرتے تھے، اور نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان زندہ تھے، اور ہم اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے ١ ؎۔
Jabir bin Abdullah was heard to say: "We used to sell our slave women and the mothers of our children (Umahat Awladina) when the Prophet ﷺ was still living among us, and we did not see anything wrong with that."
Notes · وضاحت
١ ؎: امہات الاولاد: وہ لونڈیاں جن کے بطن سے آقا (مالک) کی اولاد ہوچکی ہو۔ ابوداود کی روایت میں یہ زیادتی موجود ہے کہ عمر ؓ نے اپنے دور خلافت میں ام ولد کے بیچنے سے منع فرما دیا، تو صحابہ کرام ؓ اس سے رک گئے، نیز اس حدیث کا جواب علماء نے یوں دیا ہے کہ جابر ؓ کو نسخ کی خبر نہیں ہوئی، پہلے ام ولد کی بیع جائز رہی ہوگی پھر آپ ﷺ نے اس سے منع کیا ہوگا، اور دلیل اس کی یہ ہے کہ عمر ؓ نے اس سے منع کیا، جیسے جابر ؓ نے متعہ کے باب میں بھی ایسی ہی روایت کی ہے کہ ہم متعہ کرتے رہے، نبی کریم ﷺ اور ابوبکر اور عمر ؓ کے شروع خلافت میں، پھر عمر ؓ نے اس سے منع کیا، حالانکہ متعہ کی حلت بالاجماع منسوخ ہے، اور جابر ؓ کو اس کے نسخ کی اطلاع نہیں ہوئی، اسی طرح اس ممانعت کی بھی ان کو خبر نہیں ہوئی ہوگی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٨٣٥، ومصباح الزجاجة: ٨٩٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/العتق ٨ (٣٩٥٤)، مسند احمد (٣/٣٢١) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن میں سے ہر ایک کی مدد کرنا اللہ پر حق ہے، ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کی راہ کا غازی ہو، دوسرے وہ مکاتب جو بدل کتابت ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، تیسرا وہ شخص جو پاک دامن رہنے کے ارادے سے نکاح کرے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "There are three who are all entitled to Allahs help: the one who fights in the cause of Allah; the Mukdtab who wants to pay (the price of his freedom); and the one who gets married seeking chastity."
Notes · وضاحت
١ ؎: مکاتب: وہ لونڈی یا غلام جس سے مالک کہے کہ تم اتنا مال ادا کر دو تو تم آزاد ہو۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس غلام سے سو اوقیہ پر مکاتبت کی گئی ہو، اور وہ سوائے دس اوقیہ کے باقی تمام ادا کر دے، تو وہ غلام ہی رہے گا (جب تک پورا ادا نہ کر دے) ١ ؎۔
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather that the Messenger af Allah said: “Any slave who has made a contract to buy his freedom for one hundred Uqiyyah and pays it all except ten Uqiyyah; he is still a slave." (One Uqiyyah is equal to 4O Dirham.)
Notes · وضاحت
١ ؎: اوقیہ: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، جو تقریباً ایک سو اٹھارہ گرام کے مساوی ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٦٧٣، ومصباح الزجاجة: ٨٩٤)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/العتق ١ (٣٩٢٧)، سنن الترمذی/البیوع ٣٥ (١٢٦٠) (حسن) (سند میں حجاج بن ارطاہ مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن متابعت کی وجہ سے یہحسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٦٧٤ )۔
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر تم میں سے کسی کے پاس مکاتب غلام ہو، اور اس کے پاس اس قدر مال ہوگیا ہو کہ وہ اپنا بدل کتابت ادا کرسکے، تو تم لوگوں کو اس سے پردہ کرنا چاہیئے ۔
It was narrated from Umm Salamah that the Prophet ﷺ said: "If anyone of you (women) has a Mukdtab, and he has enough (wealth) to payoff (his contract of manumission), she must veil herself from him."
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/العتق ١ (٣٩٢٨)، سنن الترمذی/البیوع ٣٥ (١٢٦١)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٨٩) (ضعیف) (سند میں نبہان مجہول راوی ہیں، نیز یہ حدیث اگلی حدیث کے مخالف بھی ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے پاس بریرہ ؓ آئیں جو مکاتب (لونڈی) تھیں، ان کے مالکوں نے نو اوقیہ پر ان سے مکاتبت کی تھی، عائشہ ؓ نے ان سے کہا: اگر تمہارے مالک چاہیں تو تمہارا بدل مکاتبت میں ایک ہی بار ادا کروں، مگر تمہاری ولاء (میراث) میری ہوگی، چناچہ بریرہ ؓ اپنے مالکوں کے پاس آئیں، اور ان سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے یہ (پیش کش) اس شرط پر منظور کرلی کہ ولاء (میراث) کا حق خود ان کو ملے گا، اس کا تذکرہ عائشہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنا کام کر ڈالو ، اور پھر آپ نے کھڑے ہو کر لوگوں میں خطبہ دیا، اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کر کے فرمایا: آخر لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہیں ہیں، اور ہر وہ شرط جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہ ہو باطل ہے، اگرچہ ایسی سو شرطیں ہوں، اللہ کی کتاب سب سے زیادہ حقدار اور اللہ تعالیٰ کی شرط سب سے زیادہ قوی ہے، ولاء اسی کا حق ہے جو (مکاتب کی طرف سے مال ادا کر کے) اسے آزاد کرے ۔
It was narrated from Hisham bin Urwah, from his father, about Aisha (RA) , the wife of the Prophet ﷺ that Barirah came to her when she was Mukdtabah, and her masters had written a contract of manumission for nine Uqiyyah. She ( Aisha (RA) ) said: "If your masters wish I will pay them that in one sum, and the right of inheritance will belong to me." He said: "So she went to her masters and told them about that, but they insisted that the right of inheritance should belong to them. Aisha (RA) mentioned that to Prophet ﷺ and he Said Do it’. Then the Prophet ﷺ stood up and addressed the people. He praised and glorified Allah, then he said: What is the matter Wit some people who stipulated conditions that are not in the Book of Allah? Every condition that is not in the Book of Allah is invalid, even if there are one hundred conditions. The Book of Allah is more deserving of being followed and the conditions of Allah are more binding. And the Wala belongs to the one who manumits (the slave).
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ مکاتب جب بدل کتابت کی ادائیگی سے عاجز ہوجائے تو وہ پھر غلام ہوجاتا ہے، اور اس کی بیع درست ہوجاتی ہے، اور بریرہ ؓ کا یہی حال ہوا تھا، جب تو ام المؤمنین عائشہ ؓ نے ان کو خرید کر کے آزاد کردیا۔
شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ میں نے کعب ؓ سے کہا: کعب بن مرہ! ہم سے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کریں، اور احتیاط سے کام لیں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو شخص کسی مسلمان کو آزاد کرے گا تو وہ اس کے لیے جہنم سے نجات کا ذریعہ ہوگا، اس کی ہر ہڈی اس کی ہر ہڈی کا فدیہ بنے گی، اور جو شخص دو مسلمان لونڈیوں کو آزاد کرے گا تو یہ دونوں اس کے لیے جہنم سے نجات کا ذریعہ بنیں گی، ان کی دو ہڈیاں اس کی ایک ہڈی کے برابر ہوں گی ۔
It was narrated that Shurahbil bin Simt said: I said to Kab: O Kab bin Murrah, tell us a Hadith from the Messenger of Allah ﷺ , but be careful. He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Whoever frees a Muslim man, he will be his ransom from the Fire; each of his bones will suffice (as a ransom) for each of his bones. Whoever frees two Muslim women, they will be his ransom from the Fire; each of their two bones will suffice (as a ransom) for each of his bones.
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا غلام آزاد کرنا سب سے زیادہ بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو مالکوں کو سب سے زیادہ پسند ہو، اور جو قیمت کے اعتبار سے سب سے مہنگا ہو ١ ؎۔
It was narrated that Abu Dharr (RA) said “ I said: O Messenger of Allah, which slave is best? He said: The one who is most precious to his master and most valuable in price:’"
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ کی راہ میں ہمیشہ عمدہ اور قیمتی چیز دینا بہتر ہے، کیونکہ وہ شہنشاہ بےپرواہ ہے اس کو کسی چیز کی پرواہ نہیں، اور ادب بھی یہی ہے کہ اس کے نام پر وہی چیز دیں جو نہایت محبوب اور مرغوب اور قیمتی ہو: لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّى تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ (سورة آل عمران: 92)۔
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو کسی محرم رشتے دار کا مالک بن جائے تو وہ آزاد ہے ۔
It was narrated from Samurah bin Jundub that the Prophet ﷺ said: "Whoever becomes the master of a Mahram relative (with whom marriage is not lawful), he becomes free. "
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/العتق ٧ (٣٩٤٩)، سنن الترمذی/الأحکام ٢٨ (١٣٦٥)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨٠، ٤٥٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٥، ١٨، ٢٠) (صحیح) (حدیث کو ترمذی نے حسن کہا ہے، اور حاکم نے صحیح، اور ذہبی نے ان کی موافقت فرمائی ہے، حالانکہ سند میں حسن بصری ہیں، جن کا سماع سمرة ؓ سے صرف حدیث عقیقہ کا ہے، دوسری کوئی حدیث ان سے نہیں سنی ہے، لیکن حدیث اپنے طرق و شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٧٤٦ )
عبداللہ بن معاویہ، حماد بن سلمہ، سعید بن جمہان، حضرت سفینہ ابوعبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ نے مجھے آزاد کیا اور میرے ساتھ یہ شرط ٹھہرائی کہ حیات طیبہ میں نبی کی خدمت کروں۔
It was narrated that Safinah - Abu Abdur-Rahman said: "Umm Salamah freed me, but stipulated that I should serve the Prophet ﷺ as long as he lived."
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی کسی (مشترک) غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دے، تو اس کی ذمہ داری ہے کہ اگر اس کے پاس مال ہو تو اپنے مال سے اس کو مکمل آزاد کرائے، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام سے باقی ماندہ قیمت کی ادائیگی کے لیے مزدوری کرائے، لیکن اس پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever frees his share of a slave or part of his share, must pay from his wealth if he has any wealth (in order to buy the rest of the slaves freedom). If he does not have ? wealth, then the slave should be asked to work for the price (of his freedom), without that causing , him too much hardship.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی غلام میں سے اپنے حصہ کو آزاد کر دے، تو کسی عادل شخص سے غلام کی قیمت لگوائی جائے گی، اور اس کے بقیہ شرکاء کے حصہ کی قیمت بھی اسے ادا کرنی ہوگی، بشرطیکہ اس کے پاس اس قدر مال ہو جتنی غلام کی قیمت ہے، اور اس طرح پورا غلام اس کی طرف سے آزاد ہوجائے گا، لیکن اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو ایسی صورت میں بس اسی قدر غلام آزاد ہوگا جتنا اس نے آزاد کردیا ۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever frees his share of a slave, the price of the slave should be fairly evaluated,and he (the partner who initiated this process) should free him (in full, by giving the rest of his price to the other co-owners), if he has enough wealth to do so. Otherwise, he will have freed whatever he freed."
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی ایسے غلام کو آزاد کرے جس کے پاس مال ہو، وہ مال غلام ہی کا ہوگا، سوائے اس کے کہ مالک غلام سے اس کے مال کی شرط لگالے تو وہ مال مالک کا ہوگا ۔ ابن لہیعہ کی روایت میں (شرط کے بجائے) إلا أن يستثنيه السيد ہے (سوائے اس کے کہ مالک مال کا استثناء کرلے) ۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever frees a slave who has some wealth, the slaves wealth belongs to him, unless the master stipulates that it will belong to him."
عمیر مولی عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ابن مسعود ؓ نے ان سے کہا: عمیر! میں نے تمہیں خوشی خوشی آزاد کردیا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جو شخص ایک غلام آزاد کرے اور اس کے مال کا تذکرہ نہ کرے، تو وہ مال غلام کا ہوگا ، مجھے بتاؤ تمہارے پاس کیا مال ہے؟۔
It was narrated from Ishaq bin Ibrahim, from his grandfather Umair, who was the freed slave of Ibn Masud, that Abdullah said to him: "O "Umair, I have set you free in a good way. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Any man who frees a slave and does not say anything about his(the slave’s) wealth, it belongs to him (the slave) ‘So tell me, how much wealth do you have?”’
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٤٩٣، ومصباح الزجاجة: ٨٩٦) (ضعیف) (سند میں اسحاق بن ابراہیم المسعودی مجہول راوی ہیں، امام بخاری کہتے کہ حدیث کو مرفوع روایت کرنے میں ان کی متابعت نہیں کی جائے گی، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٧٤٨ )
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٤٩٣، ومصباح الزجاجة: ٨٩٧ )
نبی اکرم ﷺ کی لونڈی میمونہ بنت سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ولد الزنا کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: جوتیوں کی ایسی جوڑی جسے پہن کر جہاد کروں، وہ ولد الزنا کو آزاد کرنے سے بہتر ہے ۔
It was narrated from Maimunah bint Sad, the freed slave woman of the Prophet ﷺ that the Messenger of Allah ﷺ was asked about illegitimate children. He said: "Two sandals in which I wage Jihad are better than freeing an illegitimate child."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٠٨٨، ومصباح الزجاجة: ٨٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٦٣)، (ضعیف) (سند میں ابویزید مجہول اور منکر الحدیث راوی ہے )