ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سانپ فاسق ہے، بچھو فاسق ہے، چوہا فاسق ہے اور کوا فاسق ہے ۔ قاسم سے پوچھا گیا: کیا کوا کھایا جاتا ہے؟ کہا: رسول اللہ ﷺ کے فاسق کہنے کے بعد اسے کون کھائے گا؟۔
Abdullah bin Salam said: “When the Prophet ﷺ came to Al-Madinah, the people rushed to meet him, and it was said: The Messenger of Allah ﷺ has come! The Messenger of Allah ﷺ has come! The Messenger of Allah ﷺ has come! Three times. I came with the people to see him, and when I saw his face clearly, I knew that his face was not the face of a liar. The first thing I heard him say was when he said: ‘O people! Spread (the greeting of) Salam, feed others, uphold the ties of kinship, and pray during the night when people are sleeping, and you will enter Paradise with Salam.’”
Takhrij · تخریج
تفردبہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٤٩٨، ومصباح الزجاجة: ١١١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٠٩، ٢٣٨) (صحیح) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٨٢٥ )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بلی اور اس کی قیمت کھانے سے منع فرمایا ہے۔
Abdullah bin Umar used to say that the Messenger of Allah ﷺ said: "Spread (the greeting of) Salam, offer food (to the needy), and be brothers as Allah, the Mighty and Sublime, has honored you."
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٦٤ (٣٤٨٠)، سنن الترمذی/البیوع ٤٩ (١٢٨٠)، (تحفة الأشراف: ٢٨٩٤) (ضعیف) (سند میں عمر بن زید ضعیف ہیں، اسی لئے ترمذی نے حدیث کو غریب یعنی ضعیف کہا ہے، سنن ابن ماجہ کے دارالمعارف کے نسخہ میں البانی صاحب نے ضعیف کہا ہے، اور الإرواء: کا حوالہ دیا ہے، ( ٢٤٨٧ )، اور سنن أبی داود کے دارالمعارف کے نسخہ میں صحیح کہا ہے، اور احادیث البیوع کا حوالہ دیا ہے، جب کہ ارواء الغلیل میں حدیث کی تخریج کے بعد ضعیف کا حکم لگایا ہے )
عبداللہ بن سلام ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو لوگ آپ کی طرف تیزی سے بڑھے، اور کہا گیا کہ اللہ کے رسول آگئے، اللہ کے رسول آگئے، اللہ کے رسول آگئے، یہ تین بار کہا، چناچہ میں بھی لوگوں کے ساتھ پہنچا تاکہ (آپ کو) دیکھوں، جب میں نے آپ ﷺ کا چہرہ اچھی طرح دیکھا تو پہچان گیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے کا نہیں ہوسکتا، اس وقت سب سے پہلی بات جو میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنی وہ یہ کہ آپ ﷺ نے فرمایا: لوگو! سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، رشتوں کو جوڑو، اور رات میں جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز ادا کرو، (ایسا کرنے سے) تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو گے ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin ‘Amr that a man asked the Messenger of Allah ﷺ "O Messenger of Allah, which (aspect) of Islam is the best?" He said: "Offering food (to the needy) and greeting with Salam those whom you know and those whom you do not know."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب یہ سارے اچھے کام کرو گے تو ضرور تم کو جنت ملے گی، سبحان اللہ کیا عمدہ نصیحتیں ہیں، اور یہ سب اصولی ہیں، سعادت و نیک بختی اور خوش اخلاقی کے ناتے جوڑنا، یعنی اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ عمدہ سلوک کرنا، امام نووی کہتے ہیں کہ ابتداً سلام کرنا سنت ہے اور سلام کا جواب دینا واجب ہے، اگر جماعت کو سلام کرے تو بعضوں کا جواب دینا کافی ہوگا، اور افضل یہ ہے کہ جماعت میں ہر ایک ا بتداء سلام کرے، اور ہر ایک جواب ضروری دے اور کم درجہ یہ ہے کہ السلام علیکم کہے اور کامل یہ ہے کہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے، اور السلام علیکم تو اتنی آواز سے کہنا کہ مخاطب سنے، اسی طرح سلام کا فوری جواب دینا ضروری ہے، جب کوئی شخص غائب کی طرف سے سلام پہنچائے اور بہتر ہے کہ یوں کہے علیک وعلیہ السلام، السلام علیکم الف ولام کے ساتھ افضل ہے، سلام علیکم بغیر الف اور لام کے بھی درست ہے، اور قرآن شریف میں ہے: سلام عليكم طبتم فادخلوها خالدين (سورة الزمر: 73)۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سلام کو پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ، اور بھائی بھائی ہوجاؤ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے ۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: "The food of one person is sufficient for two, the food of two is sufficient for four, and the food of four is sufficient for eight."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٦٧٠، ومصباح الزجاجة: ١١١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٥٦) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: ٥٨٧ )
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا اسلام بہتر ہے ١ ؎؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کھانا کھلانا، ہر شخص کو سلام کرنا، چاہے اس کو پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو ۔
It was narrated from Umar bin Khattab that the Messenger of Allah ﷺ said: "The food of one is sufficient for two, and the food of two is sufficient for three or four, and the food of four is sufficient for five or six."
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک شخص کا کھانا دو کے لیے کافی ہوتا ہے اور دو کا کھانا چار کے لیے کافی ہوتا ہے، اور چار کا کھانا آٹھ افراد کے لیے کافی ہوتا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The believer eats with one intestine and the disbeliever eats with seven intestines."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب ایک آدمی پیٹ بھر کھاتا ہو، تو وہ دو آدمیوں کو کافی ہوجائے گا، اس پر گزارہ کرسکتے ہیں گو خوب آسودہ نہ ہوں، بعضوں نے کہا: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب کھانے کی قلت ہو، اور مسلمان بھوکے ہوں، تو ہر ایک آدمی کو مستحب ہے کہ اپنے کھانے میں ایک اور بھائی کو شریک کرے، اس صورت میں دونوں زندہ رہ سکتے ہیں اور کم کھانے میں فائدہ بھی ہے کہ آدمی چست چالاک رہتا ہے اور صحت عمدہ رہتی ہے، بعضوں نے کہا: مطلب یہ ہے کہ جب آدمی کے کھانے میں دو بھائی مسلمان شریک ہوں گے، اور اللہ تعالیٰ کا نام لے کر کھائیں گے، تو وہ کھانا دونوں کو کفایت کر جائے گا، اور برکت ہوگی، واللہ اعلم۔
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک آدمی کا کھانا دو کے لیے کافی ہوتا ہے، دو کا کھانا تین اور چار کے لیے کافی ہوتا ہے، اور چار کا کھانا پانچ اور چھ کے لیے کافی ہوتا ہے ۔
It was narrated from Ibn Umar that the Prophet ﷺ said: "The disbeliever eats with seven intestines and the believer eats with one intestine."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٥٣٥، ومصباح الزجاجة: ١١١٨) (ضعیف جدا) (سند میں عمرو بن دینار ہیں، جنہوں نے سالم سے منکر احادیث روایت کی ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ٥٦١ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن ایک آنت میں کھاتا ہے، اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Musa that the Messenger of Allah ﷺ said: "The believer eats with one intestine and the disbeliever eats with seven intestines."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ کافر کئی طرح کا کھانا کھاتا ہے، سود کا، رشوت کا، غبن کا، چوری کا، ڈاکہ کا، بددیانتی کا، ملاوٹ کا، اور مومن صرف حلال کا کھانا کھاتا ہے۔ حدیث کا مقصود یہ ہے کہ کافر بہت کھاتا ہے اور مومن کم کھاتا ہے نیز یہ بات بطور اکثر کے ہے یہ مطلب نہیں کہ بہت کھانے والے کافر ہی ہوتے ہیں بعض مسلمان بھی بہت کھاتے ہیں شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ کافر کی تمام تر حرص پیٹ ہوتا ہے اور مومن کا اصل مقصود آخرت ہوا کرتی ہے پس مومن کی شان ہے کہ وہ کھانا کم کھاتا ہے اور زیادہ کھانے کی حرص کفر کی خصلت ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے، اور مومن صرف ایک آنت میں کھاتا ہے ۔
It was narrated from Abu Hazim that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ never criticized any food. If it pleased him, he would eat it and if it did not he would leave it." Another chain from Abu Yahya from Abu Hurairah (RA) from the Prophet ﷺ with similar wording. Abu Bakr (RA) said: “We differ in it, they said: From Abu Hazim.
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو یہ پسند کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کے گھر میں خیر و برکت زیادہ کرے، اسے چاہیئے کہ وضو کرے جب دوپہر کا کھانا آجائے، اور جب اسے اٹھا کر واپس لے جایا جائے ۔
Kathir bin Sulaim narrated that he heard Anas bin Malik (RA) say: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever would like Allah to increase the goodness of his house, should perform ablution (wash hands) when his breakfast is brought to him and when it is taken away.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٤٥، ومصباح الزجاجة: ١١١٩) (ضعیف) (سند میں جبارہ بن المغلس اور کثیر بن سلیم دونوں ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١١٧ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیت الخلاء سے نکلے تو کھانا لایا گیا، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے لیے وضو کا پانی نہ لاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں نماز ادا کرنا چاہتا ہوں ؟ ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ went out to toilet, then food was brought. A man said: "O Messenger of Allah, are you not going to perform ablution? He said: Am I going to pray?"
Notes · وضاحت
١ ؎: جو وضو ضروری ہو، معلوم ہوا کہ کھانے سے پہلے وضو ضروری نہیں صرف ہاتھ دھونا ہی کافی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٢٢٩، ومصباح الزجاجة: ١١٢٠) (حسن صحیح) (سند میں صاعد بن عبید مقبول ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے )
ابوحجیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Juhaifah that, the Messenger of Allah ﷺ said: I do not eat while reclining."
Notes · وضاحت
١ ؎: تکیہ لگا کر کھانا تکبر اور گھمنڈ کی نشانی ہے، اس وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے اس سے پرہیز کیا، اور بعضوں نے کہا: عجمیوں کی نشانی ہے جو تکلف میں پھنسے ہوئے ہیں، اور آپ عرب میں پیدا ہوئے تھے بےتکلفی کو پسند کرتے تھے۔
عبداللہ بن بسر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک بکری ہدیہ کے طور پر بھیجی، آپ ﷺ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسے کھانے لگے، اس پر ایک اعرابی (دیہاتی) نے کہا: بیٹھنے کا یہ کون سا انداز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک مہربان و شفیق بندہ بنایا ہے، ناکہ مغرور اور عناد رکھنے والا ١ ؎۔
Abdullah bin Busr said: "I gave the Prophet ﷺ a gift of a sheep, and the Messenger of Allah ﷺ sat on his knees to eat. A Bedouin said: What is this sitting? He said: Allah has made me a humble and generous slave (of Allah) and has not made me arrogant and stubborn."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دونوں زانو کھڑے کر کے بیٹھنا عاجزی اور انکساری کی علامت ہے، آپ ﷺ نے اسی طرح بیٹھ کر کھانا پسند فرمایا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٢٠٢، ومصباح الزجاجة: ١١٢١)، وقد أخرج بعضہ: سنن ابی داود/الأطعمة ١٨ (٣٧٧٣) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے چھ صحابہ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) آیا، اور اس نے اسے دو لقموں میں کھالیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: سنو، اگر یہ شخص بسم الله کہہ لیتا، تو یہی کھانا تم سب کے لیے کافی ہوتا، لہٰذا تم میں سے جب کوئی کھانا کھائے تو چاہیئے کہ وہ (بسم الله ) کہے، اگر وہ شروع میں (بسم الله ) کہنا بھول جائے تو یوں کہے: بسم الله في أوله وآخره ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ was eating food with six of his Companions when a Bedouin came and ate it all in two bites. The Messenger of Allah ﷺ said: If he had said Bismillah, it would have sufficed you (all). When anyone of you eats food, let him say Bismillah, and if he forgets to say Bismillah at the beginning, let him say Bismillah fi awwalihi wa akhirih (In the Name of Allah at the beginning and at the end).
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہوں شروع اور اخیر دونوں میں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٢٦٧، ومصباح الزجاجة: ١١٢٢)، وقد أخر جہ: سنن ابی داود/الأطعمة ١٦ (٣٧٦٧)، سنن الترمذی/الأطعمة ٤٧ (١٨٥٨)، مسند احمد (٦/١٤٣، ٢٠٧، ٢٤٦، ٢٦٥)، سنن الدارمی/الأطعمة ١ (٢٠٦٣) (صحیح) (عبد بن عبید بن عمیر اور ام المؤمنین عائشہ ؓ کے درمیان سند میں انقطاع ہے، لیکن حدیث امیہ بن مخشی اور ابن مسعود ؓ کے شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٩٦٥ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں ہر شخص کو چاہیئے کہ وہ دائیں ہاتھ سے کھائے، دائیں ہاتھ سے پیئے، دائیں ہاتھ سے لے، دائیں ہاتھ سے دے، اس لیے کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے، بائیں ہاتھ سے پیتا ہے، بائیں ہاتھ سے دیتا ہے اور بائیں ہاتھ سے لیتا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Let one of you eat with his right hand and drink with his right hand, and take with his right hand and give with his right hand, for Satan eats with his left hand, drinks with his left hand, gives with his left hand and takes with his left hand,"
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٤٢٠، ومصباح الزجاجة: ١١٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٤٩) (صحیح )
عمر بن ابی سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ میں بچہ تھا اور نبی اکرم ﷺ کے زیر تربیت تھا، میرا ہاتھ پلیٹ میں چاروں طرف چل رہا تھا ١ ؎، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: لڑکے! بسم الله کہو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اور اپنے قریب سے کھاؤ۔
It was narrated from Wahb bin Kaisan that he heard Umar bin Abu Salamah say: "I was a boy in the care of the Prophet ﷺ and my hand used to wander all over the plate. He said to me: O boy! Say the Name of Allah, eat with your right hand, and eat from what is in front of you."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میں ہر طرف سے اٹھا اٹھا کر کھا رہا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ٢ (٥٣٧٦)، صحیح مسلم/الإشربة ١٣ (٢٠٢٢)، سنن النسائی/الیوم و اللیلة (٢٧٨، ٢٧٩، ٢٨٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٨٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صفة النبی ﷺ ١٠ (٣٢)، مسند احمد (٤/ ٢٦)، سنن الدارمی/الأطمة ١ (٢٠٦٢) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنے ہاتھ نہ پونچھے یہاں تک کہ وہ چاٹ لے یا کسی اور کو چٹا دے، سفیان (ابن عیینہ) کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن قیس کو عمرو بن دینار سے سوال کرتے سنا کہ عطا کی حدیث: تم میں سے کوئی اپنا ہاتھ نہ صاف کرے یہاں تک کہ وہ اسے چاٹ لے یا کسی اور کو چٹا دے کے بارے میں بتاؤ، وہ کس سے مروی ہے؟ عمرو بن دینار نے کہا: ابن عباس ؓ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: ہمیں یہ حدیث جابر ؓ سے روایت کی گئی ہے، عمرو بن دینار نے کہا: ہم نے یہ حدیث عطاء سے اور عطاء نے ابن عباس ؓ سے یاد کی ہے، اور یہ بات جابر ؓ کے ہمارے پاس آنے سے پہلے کی ہے جب کہ عطاء کی ملاقات جابر ؓ سے اس سال ہوئی جب وہ مکہ میں قیام پزیر ہوئے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ said: "When one of you eats food, let him not wipe his hand until he has licked it or has someone else to lick it." Discussion of another chain for this Hadith from Jabir.
Notes · وضاحت
١ ؎: اپنی بیوی یا بچہ یا لونڈی یا غلام کو، امام نووی کہتے ہیں کہ کھانے کی سنت میں سے یہ ہے کہ انگلیاں چاٹنا، اور تین انگلیوں سے کھانا، اور انگلیاں نہ چاٹنا کھانا ضائع کرنا ہے، اور شیطان کو دینا ہے، اور تکبر کی نشانی ہے، اسی طرح جو لقمہ دسترخوان پر گرجائے اس کا اٹھا لینا سنت ہے۔
Takhrij · تخریج
حدیث جابر تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٤٦٧)، وحدیث ابن عباس أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة ٥٢ (٥٤٥٦)، صحیح مسلم/الأشربة ١٨ (٢٠٣١)، (تحفة الأشراف: ٥٩٤٢)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأطعمة ٥٢ (٣٨٤٧)، مسند احمد (١/٢٩٣، ٣٤٦، ٣٧٠)، سنن الدارمی/الأطعمة ٦ (٢٠٦٩) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ کو صاف نہ کرے یہاں تک کہ اسے چاٹ لے، اس لیے کہ اسے نہیں معلوم کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ١ ؎۔
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ said: "None of you should wipe his hand until he has licked it, for he does not know where the blessing is in his food.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ سنت ہے گو اس زمانہ میں بعض متکبر دنیا دار اس کو تہذیب کے خلاف سمجھتے ہیں، وہ خود بےتہذیب ہیں، جب آدمی پاک صاف ہو، اور ہاتھ دھو کر کھانا کھائے، تو انگلیاں چاٹنے میں کیا قباحت ہے، البتہ ہاتھ نجس ہو اور چمچہ سے کھانا کھائے تو نہ چاٹے، اس سے پہلا ادب یہ بتلایا گیا ہے کہ بسم اللہ پڑھ کر کھانے یا پینے کا آغاز کیا جائے، دوسرا ادب یہ کہ داہنے ہاتھ سے کھایا جائے، اور تیسرا ادب یہ ہے کہ اپنے سامنے اور اپنے قریب سے کھایا جائے، اس صورت میں ہے کہ جب کھانا کسی بڑے برتن (طباق سینی یا تھالی وغیرہ) میں ہو اور بیک وقت کئی افراد مل کر کھا رہے ہوں، اور کھانا بھی ایک ہی قسم کا ہو اگر مختلف اقسام کی چیزیں ہوں، تو پھر دوسرے لوگوں کی طرف سے بھی ہاتھ بڑھا کر چیز لینا جائز ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ١٨ (٢٠٣٣)، (تحفة الأشراف: ٢٧٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠١، ٣٣١، ٣٣٧، ٣٦٥، ٣٩٣) (صحیح )