Sunan Ibne-Majah 3255

کھانوں کے ابواب

3255Sunan Ibne-Majah(3253)

ایک شخص کا کھانا دو کے لئے کافی ہوجاتا ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ: تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا اسلام بہتر ہے ١ ؎؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کھانا کھلانا، ہر شخص کو سلام کرنا، چاہے اس کو پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو ۔

It was narrated from Umar bin Khattab that the Messenger of Allah ﷺ said: "The food of one is sufficient for two, and the food of two is sufficient for three or four, and the food of four is sufficient for five or six."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسلام میں کون سا عمل بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٦ (١٢)، ٢٠ (٢٨)، الاستئذان ٩ (٦٢٣٦)، صحیح مسلم/الإیمان ١٤ (٣٩)، سنن ابی داود/الأدب ١٤٢ (٥١٩٤)، سنن النسائی/الإیمان ١٢ (٥٠٠٣)، (تحفة الأشراف: ٨٩٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٥٦) (صحیح )