انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دو چتکبرے سینگ دار مینڈھوں کی قربانی کرتے، (ذبح کے وقت) بسم الله اور الله أكبر کہتے تھے، اور میں نے آپ کو اپنا پاؤں جانور کے پٹھوں پر رکھ کر اپنے ہاتھوں سے ذبح کرتے ہوئے دیکھا ١ ؎۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA): "The Messenger of Allah ﷺ used to sacrifice two horned, black-and-white rams and he would say the Name of Allah and pronounce His greatness saw him slaughtering them with his own hand, putting his foot on their sides."
Notes · وضاحت
١ ؎: أضاحی: اضحیہ کی جمع ہے اور ضحایا جمع ہے ضحی ۃ کی اور اضحی جمع ہے اضحا ۃ کی، اسی لئے دوسری عید (عید قربان) کو عیدالاضحی کہا جاتا ہے۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عید الاضحی کے دن دو مینڈھوں کی قربانی کی، اور جس وقت ان کا منہ قبلے کی طرف کیا تو فرمایا: إني وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشرکين إن صلاتي ونسکي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلک أمرت وأنا أول المسلمين اللهم منک ولک عن محمد وأمته میں اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں، بیشک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہان کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم ہے اور سب سے پہلے میں اس کے تابعداروں میں سے ہوں، اے اللہ! یہ قربانی تیری ہی طرف سے ہے، اور تیرے ہی واسطے ہے، محمد اور اس کی امت کی طرف سے اسے قبول فرما ١ ؎۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ sacrificed two rams on the Day of Eid. When he turned them to face towards the prayer direction he said: Verily, I have turned my face towards Him Who has created the heavens and the earth, as a monotheist, and I am not of the polytheists. Verily, my prayer, my sacrifice, my living, and my dying are for Allah, the Lord of all that exists. He has no partner. And of this I have been commanded, and I am the first of the Muslims. Allah, from You and to You, on behalf of Muhammad and his nation."
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ نے دو مینڈھوں کو ذبح کیا ورنہ ایک مینڈھا یا ایک بکری سارے گھروالوں کی طرف سے کافی ہے جیسا کہ آگے آئے گا، اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک مینڈھا اپنے گھر والوں کی طرف سے ذبح کیا، اور دوسرا اپنی امت کی طرف سے، اب اور لوگ جو قربانی کریں ان کو صرف ایک مینڈھا ذبح کرنا کافی ہے، اور جس قدر عمدہ، اور موٹا تازہ ہو اتنا ہی افضل اور بہتر ہے۔
ام المؤمنین عائشہ اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو بڑے، موٹے سینگ دار، چتکبرے، خصی کئے ہوئے مینڈھے خریدتے، ان میں سے ایک اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے ذبح فرماتے، جو اللہ کی توحید اور آپ ﷺ کی رسالت کی گواہی دیتے ہیں، اور دوسرا محمد اور آل محمد ﷺ کی طرف سے ذبح فرماتے۔
It was narrated from Aisha (RA) and Abu Hurairah (RA) that when the Messenger of Allah ﷺ wanted to offer a sacrifice, he bought two large, fat, horned, black-and-white, castrated rams. He slaughtered one on behalf of his nation, for whoever testified to Allah with monotheism and that he had conveyed (the Message), and he slaughtered the other on behalf of Muhammad and the family of Muhammad.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٩٦٨، ١٧٧٣١، ومصباح الزجاجة: ١٠٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٢٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو (قربانی کی) وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے، تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ پھٹکے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever can afford it but does not offer a sacrifice, let him not come near our prayer place."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٩٣٨، ومصباح الزجاجة: ١٠٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٢١، ٦/٢٢٠) (حسن) (سند میں عبد اللہ بن عیاش ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد کی بناء پر حسن ہے )
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ سے پوچھا: کیا قربانی واجب ہے؟ تو جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کی ہے، اور آپ کے بعد مسلمانوں نے کی ہے، اور یہ سنت جاری ہے۔
It was narrated that Muhammad bin Sirin said: asked Ibn Umar about sacrifices and whether they are obligatory. He Said: The Messenger Of Allah and the Muslims after him offered sacrifices, and this is the Sunnah"
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٤٣٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الاضاحي ١١ (١٥٠٦) (ضعیف) (سند میں اسماعیل بن عیاش ہیں، جن کی روایت غیر شامیوں سے ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: ١٤٧٥ )
اس سند سے بھی ابن عمر ؓ سے اسی کے ہم مثل منقول ہے۔
سنن الترمذی/الأضاحي ١١ (١٥٠٦)، (تحفة الأشراف: ٦٦٧١ )
مخنف بن سلیم ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ عرفہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے پاس کھڑے تھے کہ اسی دوران آپ نے فرمایا: لوگو! ہر گھر والوں پر ہر سال ایک قربانی ١ ؎ اور ایک عتیرہ ہے ، تم جانتے ہو کہ عتیرہ کیا ہے؟ یہ وہی ہے جسے لوگ رجبیہ کہتے ہیں ۔
It was narrated that Mikhnaf bin Sulaim said: “e were standing with the Prophet ﷺ at ‘Arafat and he said: O people, each family, each year, must offer Udhiyah and Atirah.’ He said: Do you know what the Atirah is? It is that which the, people call Rajabiyyah.’”
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک قربانی پورے گھر والوں کی طرف سے کافی ہوگی۔ ٢ ؎: عتیرہ: وہ بکری ہے جور جب میں ذبح کی جاتی تھی، ابوداود کہتے ہیں کہ یہ حکم منسوخ ہے۔ ٣ ؎: رجب کی قربانی پہلے شروع اسلام میں واجب تھی پھر منسوخ ہوگئی، دوسری حدیث میں ہے کہ عتیرہ کی قربانی کوئی چیز نہیں ہے، اب صرف عید کی قربانی ہے، اس حدیث سے بھی عیدالاضحی میں قربانی کا وجوب نکلتا ہے، اور قائلین وجوب اس آیت سے بھی دلیل لیتے ہیں فصل لربک وانحر (سورة الکوثر: 2) کیونکہ امر وجوب کے لئے ہے، مخالف کہتے ہیں کہ آیت کا یہ مطلب ہے کہ نحر (ذبح) اللہ کے لئے کر یعنی اللہ کے سوا اور کسی کے لئے نحر (ذبح) نہ کر جیسے مشرکین بت پوجنے والے بتوں کے نام پر نحر (ذبح) کیا کرتے تھے، اس سے منع کیا، اس سے عید کی قربانی کا وجوب نہیں معلوم ہوا، ایک اور جندب کی حدیث ہے جو آگے آئے گی، وہ بھی وجوب کی دلیل ہے، اور عدم وجوب والے جابر ؓ کی حدیث سے دلیل لیتے ہیں، اس میں رسول اکرم ﷺ نے قربانی پہلے کی اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے جنہوں نے قربانی نہیں کی، ایک مینڈھے کی (احمد، ابوداود، ترمذی) لیکن یہ عدم وجوب پر دلالت نہیں کرتا اس لئے کہ مراد اس میں وہ لوگ ہیں جن کو قربانی کی قدرت نہیں ان پر وجوب کا کوئی قائل نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الضحایا ١ (٢٧٨٨)، سنن الترمذی/الأضاحي ١٩ (١٥١٨)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة (٤٢٢٩)، (تحفة الأشراف: ١١٢٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢١٥، ٥/٧٦) (حسن) (سند میں ابو رملہ مجہول راوی ہے، لیکن شاہد کی تقویت سے حسن ہے، تراجع الألبانی: رقم: ٢٦٤ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کو ابن آدم کا کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں، اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنی سینگ، کھر اور بالوں سمیت (جوں کا توں) آئے گا، اور بیشک زمین پر خون گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقام پیدا کرلیتا ہے، پس اپنے دل کو قربانی سے خوش کرو ١ ؎۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet ﷺ said: "The son of Adam does not do any deed on the Day of Sacrifice that is dearer to Allah than shedding blood. It will come on the Day of Resurrection with his horns and cloven hoofs and hair. Its blood is accepted by Allah before it reaches the ground. So be content when you do it."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس سے اجر و ثواب کی امید کرو۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأضاحي ١ (١٤٩٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٣٩) (ضعیف) (سند میں ابوالمثنیٰ ضعیف راوی ہے )
زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے والد ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت ہے ، لوگوں نے عرض کیا: تو ہم کو اس میں کیا ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی لوگوں نے عرض کیا: اور بھیڑ میں اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: بھیڑ میں (بھی) ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے ۔
It was narrated that Zaid bin Arqam said: "The Companions of the Messenger of Allah ﷺ said: O Messenger of Allah, what are these sacrifices? He said: The Sunnah of your father Ibrahim. They said: What is there for us in them, O Messenger of Allah? ﷺ He said: For every hair, one merit. They said: What about wool, O Messenger of Allah? ﷺ He said: For every hair of wool, one merit."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٦٨٧، ومصباح الزجاجة: ١٠٨٤ ؍ أ)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٦٨) (ضعیف جدا) (سند میں ابوداود النخعی متروک الحدیث بلکہ متہم بالوضع راوی ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: ١٤٧٦ )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے مینڈھے کی قربانی کی جو سینگ دار نر تھا، اس کا منہ اور پیر کالے تھے، اور آنکھیں بھی کالی تھیں (یعنی چتکبرا تھا) ۔
It was narrated that Abu Saeed said: "The Messenger of Allah ﷺ sacrificed a horned, defectless ram with a black stomach, black feet and black around its eyes."
یونس بن میسرہ بن حلبس کہتے ہیں کہ میں صحابی رسول ابوسعید زرقی ؓ کے ساتھ قربانی کے جانور خریدنے گیا، تو آپ نے ایک ایسے مینڈھے کی نشاندہی کی جس کی ٹھوڑی اور کانوں میں کچھ سیاہی تھی، اور وہ جسمانی طور پر نہ زیادہ بلند تھا، نہ ہی زیادہ پست، انہوں نے مجھ سے کہا: میرے لیے اسے خرید لو، شاید انہوں نے اس جانور کو رسول اللہ ﷺ کے مینڈھے کے مشابہ سمجھا ١ ؎۔
Yunus bin Maisarah bin Halbas said: "I went out with Abu Saeed Az-Zuraqi, the Companion of the Messenger of Allah, to buy animals for sacrifice." Yunus said: "Abu Saeed pointed to a ram that had some blackness around its ears and jaw, and was neither too big nor too small, and said to me: Buy this one for me, as it seems to resemble the ram of the Messenger of Allah.
Notes · وضاحت
١ ؎: سبحان اللہ، صحابہ کرام کا اتباع کہ قربانی کا جانور خریدنے میں بھی ویسا ہی جانور ڈھونڈھتے جیسا کہ رسول اکرم ﷺ نے کیا تھا۔
ابوامامہ باہلی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بہترین کفن جوڑا (تہبند اور چادر) ہے، اور بہترین قربانی سینگ دار مینڈھا ہے ۔
It was narrated from Abu Umamah ah Al-Bahili that the Messenger of Allah ﷺ said: "The best of shrouds is a two piece Najrani garment and the best of sacrifices is a horned ram."
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأضاحي ١٨ (١٥١٧)، (تحفة الأشراف: ٤٨٦٦) (ضعیف) (سند میں ابوعائذ ضعیف راوی ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ اتنے میں عید الاضحی آگئی، تو ہم اونٹ میں دس آدمی، اور گائے میں سات آدمی شریک ہوگئے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: "We were with the Messenger of Allah ﷺ on a journey, and the (day of) Al-Adha came. We (sacrificed) one camel on behalf of ten (people) and one cow on behalf of seven."
Notes · وضاحت
١ ؎: اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، لیکن اور علماء کے نزدیک اونٹ میں بھی سات آدمیوں سے زیادہ شریک نہیں ہوسکتے اور ان کی دلیل جابر ؓ کی حدیث ہے جو آگے آتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث منسوخ ہے اور جابر ؓ کی ناسخ، اور نسخ کی کوئی دلیل نہیں ہے، جب تک کہ تاریخ معلوم نہ ہو۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حدیبیہ میں اونٹ کو سات آدمیوں کی طرف سے نحر کیا، اور گائے کو بھی سات آدمیوں کی طرف سے ١ ؎۔
It was narrated that Jabir said: "We offered sacrifices at Al-Hudaibiyah with the Prophet, a camel on behalf of seven (people) and a cow on behalf of seven."
Notes · وضاحت
١ ؎: سات افراد کی طرف سے اونٹ یا گائے ذبح کرنے کا یہ اصول ہدی کے جانوروں کے لیے ہے، قربانی میں ایک اونٹ دس افراد کی طرف سے جائز ہے، جیسا کہ حدیث رقم: ( ٣١٣١ ) سے واضح ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنی ان ساری بیویوں کی طرف سے جنہوں نے حجۃ الوداع میں عمرہ کیا تھا، ایک ہی گائے ذبح کی ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ slaughtered a cow on behalf of all his wives who had performed Umrah, during the Farewell Pilgrimage."
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک گائے یا اونٹ میں سات آدمیوں کی شرکت ہوسکتی ہے، اس حج میں آپ کے ساتھ ہی سات ازواج مطہرات رہی ہوں گی، یا بخاری و مسلم کے لفظ ضحّی (قربانی کی) سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے بطور ہدی نہیں بلکہ بطور قربانی ذبح کیا، تو پورے گھر والوں کی طرف سے ایک گائے کافی تھی۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک شخص آیا، اور اس نے عرض کیا کہ میرے ذمہ ایک اونٹ کی (قربانی) ہے، اور میں اس کی استطاعت بھی رکھتا ہوں، لیکن اونٹ دستیاب نہیں کہ میں اسے خرید سکوں، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے سات بکریاں خریدنے اور انہیں ذبح کرنے کا حکم دیا۔
It was narrated from Ibn Abbas that a man came to the Prophet ﷺ and said: "I have to offer a sacrifice and I can afford it, but I cannot find (a camel) to buy." The Prophet ﷺ told him to buy seven sheep and slaughter them.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٩٧٣، ومصباح الزجاجة: ١٠٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣١١، ٣١٢) (ضعیف) (ابن جریج کی عطاء سے روایت میں ضعف ہے، نیز عطاء نے ابن عباس ؓ سے نہیں سنا )
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تہامہ کے ذوالحلیفہ نامی جگہ میں تھے، ہم نے اونٹ اور بکریاں مال غنیمت میں پائیں، پھر لوگوں نے (گوشت کاٹنے میں) عجلت سے کام لیا، اور ہم نے (مال غنیمت) کی تقسیم سے پہلے ہی ہانڈیاں چڑھا دیں، پھر ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، اور ہانڈیوں کو الٹ دینے کا حکم دیا، تو وہ الٹ دی گئیں، پھر آپ ﷺ نے ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر ٹھہرایا ١ ؎۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "We were with the Messenger of Allah ﷺ in Dhul-Hulaifah in (the land of) Tihamah. We acquired sheep and camels and the people hastened to put cooking pots on the fires before they had been distributed. The Messenger of Allah ﷺ came to us and ordered that they be overturned then he made one camel equivalent to ten sheep."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے یہ نہیں معلوم ہوا کہ قربانی میں اونٹ دس بکریوں کے برابر ہے یعنی ایک اونٹ میں دس آدمی شریک ہوسکتے ہیں، یہ اسحاق بن راہویہ کا قول ہے بلکہ یہ خاص تھا اس موقع سے شاید وہاں کے اونٹ بڑے اور تیار ہوں گے، بکریاں چھوٹی ہوں گی، تو آپ ﷺ نے ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر رکھا۔
عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں بکریاں عنایت کیں، تو انہوں نے ان کو اپنے ساتھیوں میں قربانی کے لیے تقسیم کردیا، ایک بکری کا بچہ بچ رہا، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی قربانی تم کرلو ١ ؎۔
It was narrated from Uqbah bin Amir Al-Juhani that the Messenger of Allah ﷺ gave him some sheep, and he distributed them among his Companions to be sacrificed. There remained an Atud. He mentioned that to the Messenger of Allah ﷺ and he said: "You sacrifice it yourself."
Notes · وضاحت
١ ؎: بیہقی کی روایت میں ہے کہ تمہارے بعد پھر کسی کے لیے یہ جائز نہ ہوگا، اس کی سند صحیح ہے، جمہور علماء اور اہل حدیث کا یہی مذہب ہے کہ دانتی بکری جس کے سامنے والے نچلے دو دانت خودبخود اکھڑنے کے بعد گر کر دوبارہ نکل آئے ہوں اس سے کم عمر کی بکری کی قربانی جائز نہیں کیونکہ ابوبردہ ؓ کی صحیحین میں حدیث ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول میرے پاس بکری کا ایک جذعہ ہے جس کو میں نے گھر میں پالا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم اسی کو ذبح کر دو اور تمہارے سوا اور کسی کو یہ کافی نہ ہوگا اور جذعہ وہ ہے جو ایک سال کا ہوگیا ہو، لیکن جمہور علماء اور اہل حدیث کے نزدیک بھیڑ کا جذعہ جائز ہے، یعنی اگر بھیڑ ایک سال کی ہوجائے تو اس کی قربانی جائز ہے، مسند احمد، اور سنن ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ بھیڑ کا جذعہ اچھی قربانی ہے، لیکن بکری کا جذعہ تو وہ بالاتفاق جائز نہیں ہے، یہ امام نووی نے نقل کیا ہے خلاصہ کلام یہ ہے کہ اونٹ، گائے اور بکری کی قربانی دانتے جانوروں کی جائز ہے، اس سے کم عمر والے جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے۔
ہلال اسلمی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بھیڑ کے ایک سالہ بچے کی قربانی جائز ہے ١ ؎۔
Umm Bilal (RA) bint Hilal narrated from her father that the Messenger of Allah ﷺ said: "It is permissible to offer a Jadh’a among sheep as a sacrifice."
Notes · وضاحت
١ ؎: جذعہ: بھیڑ کا بچہ جو ایک سال کا ہوجائے، ایک قول یہ ہے کہ جذعہ وہ بچہ ہے جو ایک سال سے کم ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٧٣٧، ومصباح الزجاجة: ١٠٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٦٨) (ضعیف) (ام محمد بن أبی یحییٰ اور ام بلال دونوں مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٦٥ )