Sunan Ibne-Majah 3131

قربانی کا بیان

3131Sunan Ibne-Majah

اونٹ اور گائے کتنے آدمیوں کی طرف سے کافی ہے؟

حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ الْأَضْحَى، فَاشْتَرَكْنَا فِي الْجَزُورِ عَنْ عَشَرَةٍ، وَالْبَقَرَةِ عَنْ سَبْعَةٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ اتنے میں عید الاضحی آگئی، تو ہم اونٹ میں دس آدمی، اور گائے میں سات آدمی شریک ہوگئے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: "We were with the Messenger of Allah ﷺ on a journey, and the (day of) Al-Adha came. We (sacrificed) one camel on behalf of ten (people) and one cow on behalf of seven."

Notes · وضاحت
١ ؎: اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، لیکن اور علماء کے نزدیک اونٹ میں بھی سات آدمیوں سے زیادہ شریک نہیں ہوسکتے اور ان کی دلیل جابر ؓ کی حدیث ہے جو آگے آتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث منسوخ ہے اور جابر ؓ کی ناسخ، اور نسخ کی کوئی دلیل نہیں ہے، جب تک کہ تاریخ معلوم نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٦٦ (٩٠٥)، الأضاحي ٨ (١٥٠٢)، سنن النسائی/الضحایا ١٤ (٤٣٩٧)، (تحفة الأشراف: ٦١٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٧٥) (صحیح )