کلیب کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے بنی سلیم کے مجاشع نامی ایک شخص کے ساتھ تھے، بکریوں کی قلت ہوگئی، تو انہوں نے ایک منادی کو حکم دیا، جس نے پکار کر کہا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: (قربانی کے لیے) بھیڑ کا ایک سالہ بچہ دانتی بکری کی جگہ پر کافی ہے ۔
It was narrated from Asim bin Kulaib that his father said: "We were with a man from among the Companions of the Messenger of Allah ﷺ who was called Mujashi’, from Banu Sulaim, and sheep became scarce. He ordered a caller to call out that the Messenger of Allah ﷺ used to say: A Jadha’a suffices for whatever a two-year-old sheep suffices.’”
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الاضاحي ٥ (٢٧٩٩)، (تحفة الأشراف: ١١٢١١)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الضحایا ١٢ (٤٣٨٩)، مسند احمد (٥/٣٦٨) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صرف مسنہ (دانتا جانور) ذبح کرو، البتہ جب وہ تم پر دشوار ہو تو بھیڑ کا جذعہ (ایک سالہ بچہ) ذبح کرو ١ ؎۔
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ said: Do not slaughter anything but a Musinnah unless there is none available, in which case you, can slaughter a Jadha’a among sheep."
Notes · وضاحت
١ ؎: مسنہ: وہ جانور جس کے دودھ کے دانت ٹوٹ چکے ہوں، یہ اونٹ میں عموماً اس وقت ہوتا ہے جب وہ پانچ برس پورے کر کے چھٹے میں داخل ہوگیا ہو، گائے بیل اور بھینس جب وہ دو برس پورے کر کے تیسرے میں داخل ہوجائیں، بکری اور بھیڑ میں جب ایک برس پورا کر کے دوسرے میں داخل ہوجائیں، جذعہ اس دنبہ یا بھیڑ کو کہتے ہیں جو سال بھر کا ہوچکا ہو، اہل لغت اور شارحین حدیث میں محققین کا یہی قول صحیح ہے، (دیکھئے مرعاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح) ٢ ؎: جمہو کے نزدیک ایک سالہ بھیڑ کی قربانی جائز ہے، اور سلف کے ایک جماعت کے نزدیک جائز نہیں ہے، ابن حزم نے اس کو جائز کہنے والوں کی خوب تردید کی ہے، ابن عمر ؓ کا بھی یہی قول ہے، جمہور نے جابر کی اس حدیث کو فضل و استحباب پر محمول کیا ہے، مگر یہ بہتر ہے کہ مسنہ نہ ملنے کی صورت میں ذبح کرے، ورنہ نہیں علامہ البانی سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ میں فرماتے ہیں کہ ایک سال کی بکری کی قربانی جائز نہیں، اس کے برخلاف ایک سال کی بھیڑ کی قربانی صحیح احادیث کی وجہ سے کافی ہے ( ٦ /٤٦٣) الأختیارات الفقہیۃ للإمام الألبانی ( ١٦٢ )۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأضاحي ٢ (١٩٦٢)، سنن ابی داود/الأضاحي ٥ (٢٧٩٧)، سنن النسائی/الضحایا ١٢ (٤٣٨٣)، (تحفة الأشراف: ٢٧١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣١٢، ٣٢٧) (صحیح) (اس سند میں ابو الزبیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے اس لئے البانی صاحب نے اس پر کلام کیا ہے، مزید بحث کے، نیز ملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: ٢ /٣٧٤ و سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٦٥ و الإرواء: ٢١٤٥ ، وفتح الباری: ١٠ / ١٥ )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے جانور کی قربانی سے منع فرمایا جس کا کان آگے سے یا پیچھے سے کٹا ہو، یا وہ پھٹا ہو یا اس میں گول سوراخ ہو، یا ناک کان اور ہونٹ میں سے کوئی عضو کٹا ہو۔
It was narrated that Ali said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade sacrificing the Muqabalah the Mudabarah, the Sharqa, the Kharqa, and the jada’a’.”
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأضاحي ٦ (٢٨٠٤)، سنن الترمذی/الاضاحي ٦ (١٤٩٨)، سنن النسائی/الضحایا ٧ (٤٣٧٧)، ٨ (٤٣٧٨)، ٩ (٤٣٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٠١٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٠، ١٠٨، ١٢٨، ٩ ١٤)، سنن الدارمی/الأضاحي ٣ (١٩٩٥) (ضعیف) (اس کے راوی ابواسحاق مختلط اور مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز ان کے شیخ شریح سے ان کا سماع نہیں ہے اس لئے سند میں انقطاع بھی ہے، اور شریح شبیہ المجہول ہیں )
عبید بن فیروز کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب ؓ سے عرض کیا: مجھ سے قربانی کے ان جانوروں کو بیان کیجئیے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے ناپسند فرمایا، یا منع کیا ہے؟ تو براء بن عازب ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہوئے (جب کہ میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ سے چھوٹا ہے) فرمایا: چار قسم کے جانوروں کی قربانی درست نہیں: ایک کانا جس کا کانا پن واضح ہو، دوسرے بیمار جس کی بیماری عیاں اور ظاہر ہو، تیسرے لنگڑا جس کا لنگڑا پن نمایاں ہو، چوتھا ایسا لاغر اور دبلا پتلا جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو ١ ؎۔ عبید نے کہا: میں اس جانور کو بھی مکروہ جانتا ہوں جس کے کان میں نقص ہو تو براء ؓ نے کہا: جسے تم ناپسند کرو اسے چھوڑ دو، لیکن دوسروں پر اسے حرام نہ کرو ۔
Sulaiman bin ‘Abdur-Rahman said: “I heard ‘Ubaid bin Fairuz say ‘I said to Bara’ bin ‘Azib: Tell us of the sacrificial animals that the Messenger of Allah ﷺ disliked or forbade." He said: "Allahs Messenger said like this with his hand. And hand is shorter than his hand: There are four that will not be accepted as sacrifices: The one eyed animal that is obviously blind in one eye; the sick animal that is obviously sick; the lame animal with an obvious limp; and the animal that is so emaciated that it is as if there is no marrow in its bones." He said: "And I dislike that the animal should have some fault in its ears." He said: "What you dislike, forget about it and do not make it forbidden to anyone."
Notes · وضاحت
١ ؎: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے کہ جس قربانی میں یہ چاروں عیب ہوں ان کی قربانی جائز نہیں ہے۔
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سینگ ٹوٹے اور کن کٹے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Qatadah that he said that he heard Juray bin Kulaib narrate that he heard Ali narrate that the Messenger of Allah ﷺ forbade sacrificing animals with broken horns and ears.
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن منڈا یعنی جس جانور کی سینگ اگی نہ ہو اس کی قربانی جائز ہے، اسی طرح اگر کان آدھا سے کم کٹا ہو تو امام ابوحنیفہ نے اس کو جائز کہا ہے، لیکن حدیث مطلق ہے، اور حدیث کی اتباع بہتر ہے، اور احمد، ابوداود، حاکم اور بخاری نے تاریخ میں تخریج کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے منع کیا مصفرہ (جس کا کان کاٹا گیا ہو) سے اور مستاصلہ (جس کی سینگ ٹوٹی ہو) سے اور بخقاء سے (جس کی آنکھ میں نقش ہو) اور مشعیہ سے (جو اور بکریوں کے ساتھ چل نہ سکے کمزوری اور لاغری سے) اور کسیرہ سے (جس کی ہڈیوں میں مغز نہ رہا ہو)۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأضاحي ٦ (٢٨٠٥)، سنن الترمذی/الأضاحي ٩ (١٥٠٤)، سنن النسائی/الضحایا ١١ (٤٣٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٣، ١٠١، ١٠٩، ١٢٧، ١٢٩، ١٥٠) (ضعیف) (جری بن کلیب کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ١١٤٩ )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے قربانی کے لیے ایک مینڈھا خریدا، پھر بھیڑئیے نے اس کے سرین یا کان کو زخمی کردیا، ہم نے نبی اکرم ﷺ سے (اس سلسلے میں) سوال کیا، تو آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسی کی قربانی کریں۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "We bought a ram for sacrifice, then a wolf tore some flesh from its rump and ears. We asked the Prophet ﷺ and he told us to offer it as a sacrifice."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٢٩٨، ومصباح الزجاجة: ١٠٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٢، ٨٦) (ضعیف جدا) (سند میں جابر بن یزید الجعفی کذاب، اور اس کے شیخ محمد بن قرظہ الانصاری غیر معروف راوی ہیں )
عطا بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابوایوب انصاری ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں آپ لوگوں کی قربانیاں کیسی ہوتی تھیں؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ کے زمانے میں آدمی اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربانی کرتا تھا تو اسے سارے گھر والے کھاتے اور لوگوں کو کھلاتے، پھر لوگ فخر و مباہات کرنے لگے، تو معاملہ ایسا ہوگیا جو تم دیکھ رہے ہو۔
It was narrated that Ata bin Yasar said: "I asked Abu Ayyub Al-Ansari (RA) : How were sacrifices offered among you at the time of the Messenger Of Allah? He said: At the time of the Prophet, a man would sacrifice a sheep on behalf of himself and the members of his household, and they would eat some of it and give some to others. Then people started to compete and it became as you see (nowadays). "
ابوسریحہ کہتے ہیں کہ سنت کا طریقہ معلوم ہوجانے کے بعد بھی ہمارے اہل نے ہمیں زیادتی پر مجبور کیا، حال یہ تھا کہ ایک گھر والے ایک یا دو بکریوں کی قربانی کرتے تھے، اور اب (اگر ہم ایسا کرتے ہیں) تو ہمارے ہمسائے ہمیں بخیل کہتے ہیں ١ ؎۔
It was narrated that Abu Sarihah said: "My family started to put pressure on me after came to know the Sunnah. People used to sacrifice one or two sheep, but now our neighbors call us stingy."
Notes · وضاحت
١ ؎: تو ان کے طعنہ کے ڈر سے خلاف سنت بہت سی بکریاں قربانی کرنا پڑتی ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے خاص بندے کسی کے طعن و تشنیع سے نہیں ڈرتے، اور سنت کے موافق فی گھر ایک بکری ذبح کرتے ہیں۔
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہوجائے اور تم میں کا کوئی قربانی کا ارادہ رکھتا ہو، تو اسے اپنے بال اور اپنی کھال سے کچھ نہیں چھونا چاہیئے ١ ؎۔
It was narrated from Umm Salamah that the Prophet ﷺ said: "When the ten days (of Dhul- Hijjah) begin, and one of you wants to offer a sacrifice, let him not remove anything from his hair or skin."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بال اور ناخن وغیرہ کچھ نہیں کاٹنا چاہیے۔
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص ذی الحجہ کا چاند دیکھے، اور قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن کے قریب نہ پھٹکے ۔
It was narrated from Umm Salamah that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever among you sees the new crescent of Dhul-Hijjah and wants to offer a sacrifice, let him not take anything from his hair or nails."
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے قربانی کے دن قربانی کرلی یعنی نماز عید سے پہلے تو نبی اکرم ﷺ نے اسے دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا ١ ؎۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that a man slaughtered on the Day of Sacrifice, (meaning) before the Eid prayer, and the Prophet ﷺ ordered him to do it again.
Notes · وضاحت
١ ؎: امام ابن القیم فرماتے ہیں: اس باب میں صریح احادیث وارد ہیں کہ نماز عید سے پہلے ذبح کیا ہوا جانور کافی نہ ہوگا، خواہ نماز کا وقت آگیا ہو، یا نہ آگیا ہو، اور یہی اللہ تعالیٰ کا دین ہے جس کو ہم اختیار کرتے ہیں، اور اس کے خلاف باطل ہے، امام کی نماز عیدگاہ میں ہو یا مسجد میں اگر امام نہ ہو، تو ہر شخص اپنی نماز کے بعد ذبح کرے۔
جندب بجلی ؓ کہتے ہیں کہ میں عید الاضحی میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ موجود تھا، کچھ لوگوں نے نماز عید سے پہلے قربانی کرلی، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز عید سے پہلے ذبح کیا ہو وہ دوبارہ قربانی کرے، اور جس نے نہ ذبح کیا ہو وہ اللہ کے نام پر ذبح کرے ۔
It was narrated from Aswad bin Qais that he heard Jundub Al-Bajali say. "I was if present on Adha day with the Messenger of Allah, and some people slaughtered before the prayer. The Prophet ﷺ said. Whoever among you has slaughtered before the prayer, let him repeat his sacrifice, and whoever has not, let him offer his sacrifice in the Name of Allah."
عویمر بن اشقر ؓ کہتے کہ انہوں نے نماز عید سے پہلے قربانی کرلی، پھر نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی قربانی دوبارہ کرو ۔
It was narrated from Uwaimir bin Ashqar that he slaughtered before the prayer, and he mentioned that to the Prophet ﷺ who said. "Repeat your sacrifice."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٩٢١، ومصباح الزجاجة: ١٠٩١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الضحایا ٣ (٥)، مسند احمد (٣/٤٥٤، ٤/٣٤١) (صحیح) (سند میں عباد بن تمیم اور عویمر بن اشقر کے مابین انقطاع ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
ابوزید انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر انصار کے گھروں میں سے ایک گھر سے ہوا، تو آپ نے وہاں گوشت بھوننے کی خوشبو پائی، آپ ﷺ نے فرمایا: کس شخص نے ذبح کیا ہے ؟ ہم میں سے ایک شخص آپ کی طرف نکلا، اور آ کر اس نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! میں نے نماز عید سے پہلے ذبح کرلیا، تاکہ گھر والوں اور پڑوسیوں کو کھلا سکوں، آپ ﷺ نے اسے دوبارہ قربانی کا حکم دیا، اس شخص نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، میرے پاس ایک جذعہ یا بھیڑ کے بچہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اسی کو ذبح کرلو اور تمہارے بعد کسی کے لیے جذعہ کافی نہیں ہوگا ۔
It was narrated that Abu Zaid Al-Ansari said: "The Messenger of Allah ﷺ passed by one of the houses of the Ansar and noticed the smell of a cooking pot. He said: Who is this who has slaughtered? A man from among us came out and said: It is me, O Messenger of Allah. I slaughtered before the prayer so that I could feed my family and neighbors. He commanded him to repeat it He said: No, by the One besides Whom there is none worthy of worship, I do not have anything but a one-year-old sheep or a lamb. He said: Sacrifice it, but a one-year-old sheep will not do for anyone after you.’"
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٦٩٩، ومصباح الزجاجة: ١٠٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٧٧، ٣٤٠، ٣٤١) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے ہوئے دیکھا آپ اپنا پاؤں اس کے پٹھے پر رکھے ہوئے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ slaughter his sacrifice with his own hand placing his foot on its side.”
Notes · وضاحت
١ ؎: بہتر ہے کہ قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرے، عورت بھی اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے ذبح کرسکتی ہے، ابوموسیٰ اشعری ؓ نے اپنی بیٹیوں کو حکم دیا کہ اپنی قربانیاں اپنے ہاتھ سے ذبح کریں۔
مؤذن رسول سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی زریق کے راستے میں گلی کے کنارے اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے ایک چھری سے ذبح کی۔
Abdur-Rahman bin Sad bin Ammar bin Sad the Muadhdhin of the Messenger of Allah, told us: "My father told me, from my grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ slaughtered his sacrifice at the side of an alley, on the road of Banu Zuraiq, with his own hand, using a blade."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨٣٣، ومصباح الزجاجة: ١٠٩٣) (ضعیف) (عبدالرحمن بن سعد اور ان کے والد دونوں ضعیف ہیں )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے اونٹ کے سبھی اجزاء، اس کے گوشت، اس کی کھالوں اور جھولوں سمیت سبھی کچھ مساکین کے درمیان تقسیم کرنے کا حکم دیا۔
Ali bin Abu narrated that the Messenger of Allah ﷺ commanded him to distribute the entire sacrificial camel - its meat, skin and covers - among the poor.
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے ہر اونٹ کا ایک ٹکڑا منگایا، پھر ان سب ٹکڑوں کو ایک ہانڈی میں پکانے کا حکم دیا، تو وہ ایک ہانڈی میں رکھ کر پکایا گیا، پھر سبھی لوگوں نے اس کا گوشت کھایا، اور اس کا شوربہ پیا۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ ordered that a piece from every camel that had been slaughtered be brought and placed in a pot, then they ate from its meat and drank some of the broth.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی محتاجی اور فقر کی وجہ سے قربانی کے گوشت کی ذخیرہ اندوزی سے منع فرما دیا تھا، پھر آپ ﷺ نے اس کی اجازت دے دی۔
It Was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ only forbade storing the meat of the sacrifices because the people were facing hardship. Then later he permitted that."