Sunan Ibne-Majah 3148

قربانی کا بیان

3148Sunan Ibne-Majah

ایک گھرانے کی طرف سے ایک بکری کی قربانی

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَاعَبْدُ الرَّزَّاقِ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ، قَالَ: حَمَلَنِي أَهْلِي عَلَى الْجَفَاءِ بَعْدَ مَا عَلِمْتُ مِنَ السُّنَّةِ، كَانَ أَهْلُ الْبَيْتِ يُضَحُّونَ بِالشَّاةِ وَالشَّاتَيْنِ، وَالْآنَ يُبَخِّلُنَا جِيرَانُنَا.

ابوسریحہ کہتے ہیں کہ سنت کا طریقہ معلوم ہوجانے کے بعد بھی ہمارے اہل نے ہمیں زیادتی پر مجبور کیا، حال یہ تھا کہ ایک گھر والے ایک یا دو بکریوں کی قربانی کرتے تھے، اور اب (اگر ہم ایسا کرتے ہیں) تو ہمارے ہمسائے ہمیں بخیل کہتے ہیں ١ ؎۔

It was narrated that Abu Sarihah said: "My family started to put pressure on me after came to know the Sunnah. People used to sacrifice one or two sheep, but now our neighbors call us stingy."

Notes · وضاحت
١ ؎: تو ان کے طعنہ کے ڈر سے خلاف سنت بہت سی بکریاں قربانی کرنا پڑتی ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے خاص بندے کسی کے طعن و تشنیع سے نہیں ڈرتے، اور سنت کے موافق فی گھر ایک بکری ذبح کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٣٠١، ومصباح الزجاجة: ١٠٩٠) (صحیح )