Sunan Ibne-Majah 3151

قربانی کا بیان

3151Sunan Ibne-Majah

نماز عید سے قبل قربانی ذبح کرنا ممنوع ہے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍأَنَّ رَجُلًا ذَبَحَ يَوْمَ النَّحْرِ يَعْنِي قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے قربانی کے دن قربانی کرلی یعنی نماز عید سے پہلے تو نبی اکرم ﷺ نے اسے دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا ١ ؎۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that a man slaughtered on the Day of Sacrifice, (meaning) before the Eid prayer, and the Prophet ﷺ ordered him to do it again.

Notes · وضاحت
١ ؎: امام ابن القیم فرماتے ہیں: اس باب میں صریح احادیث وارد ہیں کہ نماز عید سے پہلے ذبح کیا ہوا جانور کافی نہ ہوگا، خواہ نماز کا وقت آگیا ہو، یا نہ آگیا ہو، اور یہی اللہ تعالیٰ کا دین ہے جس کو ہم اختیار کرتے ہیں، اور اس کے خلاف باطل ہے، امام کی نماز عیدگاہ میں ہو یا مسجد میں اگر امام نہ ہو، تو ہر شخص اپنی نماز کے بعد ذبح کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العیدین ٢٣ (٩٥٤)، الأضاحي ٤ (٥٥٤٩)، ٧ (٥٥٥٤)، ٩ (٥٥٥٨)، صحیح مسلم/الأضاحي ١ (١٩٦٢)، سنن الترمذی/الأضاحي ٢ (١٤٩٤)، سنن النسائی/الضحایا ١٣ (٤٣٩٣)، (تحفة الأشراف: ١١٤٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١٣، ١١٧) (صحیح )