ابوامامہ بن سہل بن حنیف ؓ سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان ؓ نے ان (بلوائیوں) کو جھانک کر دیکھا، اور انہیں اپنے قتل کی باتیں کرتے سنا تو فرمایا: یہ لوگ مجھے قتل کی دھمکی دے رہے ہیں، آخر یہ میرا قتل کیوں کریں گے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: کسی مسلمان کا قتل تین باتوں میں سے کسی ایک کے بغیر حلال نہیں: ایک ایسا شخص جو شادی شدہ ہو اور زنا کا ارتکاب کرے، تو اسے رجم کیا جائے گا، دوسرا وہ شخص جو کسی مسلمان کو ناحق قتل کر دے، تیسرا وہ شخص جو اسلام قبول کرنے کے بعد اس سے پھر جائے (مرتد ہوجائے) ، اللہ کی قسم میں نے نہ کبھی جاہلیت میں زنا کیا، اور نہ اسلام میں، نہ میں نے کسی مسلمان کو قتل کیا، اور نہ ہی اسلام لانے کے بعد ارتداد کا شکار ہوا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif that Uthman bin Affan looked at them and heard them when they spoke of killing. He said: "Are they threatening to kill me? Why would they kill me? I heard the Messenger of Allah ﷺ say: It is not lawful to shed the blood of a Muslim except in one of three (cases): a man who commits adultery when he is a married person, then he should be stoned; a man who kills a soul not in retaliation for murder and a man Who apostatizes after becoming Muslim. By Allah, I never committed adultery either during Ignorance days nor in Islam, and I have never killed a Muslim soul, and I have not apostatized since I became Muslim."
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ عثمان ؓ نے حجت قائم کی ان بےرحم باغیوں پر جو آپ کے قتل کے درپے تھے، لیکن انہوں نے اس دلیل کا کوئی جواب نہیں دیا، اور بڑی بےرحمی کے ساتھ گھر میں گھس کر آپ ؓ کو قتل کیا، اس وقت آپ روزے سے تھے، اور تلاوت قرآن میں مصروف تھے، إنا للہ وإنا إلیہ راجعون۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان کا جو صرف اللہ کے معبود برحق ہونے، اور میرے اللہ کا رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو، خون کرنا حلال نہیں، البتہ تین باتوں میں سے کوئی ایک بات ہو تو حلال ہے: اگر اس نے کسی کی جان ناحق لی ہو، یا شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کا مرتکب ہوا ہو، یا اپنے دین (اسلام) کو چھوڑ کر مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہوگیا ہو (یعنی مرتد ہوگیا ہو) ، (تو ان تین صورتوں میں اس کا خون حلال ہے) ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah, who is Ibn Masud, that the Messenger of Allah ﷺ said: "It is not lawful to shed the blood of a Muslim who bears witness that none has the right to be worshiped but Allah, and that I am the Messenger of Allah, except in one of the three cases: a soul for a soul; a married person who commits adultery, and one who leaves his religion and splits from the Jamaah”.
Notes · وضاحت
١ ؎: پس جہاں توحید و رسالت پر ایمان لایا، مسلمان ہوگیا، اب اس کا خون بہانا حرام اور ناجائز ٹھہرا، اگرچہ وہ دوسرے فروعی مسائل میں کتنا ہی اختلاف رکھتا ہو۔ افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس عمدہ قانون کو چھوڑ کر آپس ہی میں اختلاف و تشدد اور لڑائی جھگڑے کا بازار گرم کیا، اور مسلمان مسلمان ہی کو مارنے لگے، اور ان کے بعض جاہل مولوی فتوی دینے لگے کہ فلاں مسلمان اس مسئلہ میں خلاف کرنے سے کافر اور مرتد اور واجب القتل ہوگیا، حالانکہ صحیح حدیث سے صاف ثابت ہے کہ جو توحید اور رسالت کو مانتا ہو وہ مسلمان ہے، اس کا قتل کرنا کسی طرح جائز نہیں، اب اگر یہ کہیں کہ ابوبکر صدیق ؓ نے مانعین زکاۃ کے خلاف جہاد کیا تھا، حالانکہ وہ توحید اور رسالت کو مانتے تھے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ زکاۃ اسلام کا رکن ہے، اور اس کے ساتھ بھی ابوبکر ؓ پر صحابہ ؓ نے اعتراض کیا تھا، جب انہوں نے ان لوگوں سے لڑنا چاہا تھا، لیکن ابوبکر ؓ امام اور خلیفہ وقت تھے، اور ان کی اطاعت بموجب حدیث نبوی واجب تھی اور انہوں نے دلیل لی دوسری احادیث و آیات سے، اب ایسا واجب اطاعت امام اور خلیفہ کون ہے جس کے ماتحت ہو کر تم مسلمانوں سے لڑتے ہو اور ان کو ستاتے ہو، اور بات بات پر مار کاٹ اور زد و کو ب اور سب و شتم کا ارتکاب کرتے ہو، بھلا دوران نماز رفع یدین کرنا یا نہ کرنا، آمین زور سے یا آہستہ کہنا، ہاتھ زیر ناف یا ٍسینے پر باندھنا، یہ بھی ایسی چیزیں ہیں جن کے لئے مسلمانوں میں فتنہ و فساد ہو؟ اور ان کی عزت اور جان کو داؤ پر لگایا جائے؟ سنت نبوی پر عمل کرنے والوں کے خلاف محاذ آرائی کرنے والوں اور ان کو مارنے پیٹنے والوں کا معاملہ قاتلین عثمان کی طرح ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا مسلمان کو گالی دینا فسق ہے، اور اس سے لڑنا کفر ہے، پس مسلمانوں کو چاہیے کہ اس نکتہ کو سمجھیں اور باہم متحد ہوجائیں، مسلمانوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ جب وہ آپس میں فروعی مسائل میں اختلاف کی وجہ سے لڑتے جھگڑتے ہیں تو ان کی اس ناسمجھی پر دشمن کتنا ہنستے اور خوش ہوتے ہیں، برخلاف مسلمانوں کے نصاری میں متعدد فرقے ہیں اور ہر ایک دوسرے کو جہنمی خیال کرتا ہے، لیکن عیسیٰ (علیہ السلام) کے ماننے کی وجہ سے سب ایک رہتے ہیں، اور غیر مذہب والوں سے مقابلہ کرتے وقت سب ایک دوسرے کے مددگار اور معاون بن جاتے ہیں، مسلمانوں کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے کہ جو کوئی اللہ کی عبادت کرے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، محمد ﷺ کو سچا رسول اور آخری نبی جانے اس آدمی کو اپنا مسلمان بھائی سمجھیں، گو فروعی مسائل میں اختلاف باقی رہے۔ مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق کا سب سے آسان نسخہ یہ ہے کہ وہ اللہ کی رسی یعنی کتاب و سنت کی تعلیمات کو مضبوطی سے پکڑ لیں اور آپس میں اختلاف نہ کریں، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَتَفَرَّقُواْ (سورة آل عمران: 103) سب مل کر اللہ کی رسی۔ یعنی اس کے دین اور کتاب و سنت۔ کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو، نیز رسول اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: ترکت فيكم أمرين لن تضلوا ما إن تمسکتم بهما کتاب الله و سنة رسوله میں نے تمہارے درمیان دو چیزیں یعنی کتاب اللہ و سنت رسول چھوڑی ہیں جب تک تم ان دونوں پر عمل کرتے رہو گے ہرگز گمراہ نہیں ہو گے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اپنے دین (اسلام) کو بدل ڈالے اسے قتل کر دو ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever changes his religion, execute him."
Notes · وضاحت
١ ؎: ابوموسی اشعری ؓ کی حدیث صحیحین میں ہے کہ معاذ بن جبل ؓ یمن میں ان کے پاس گئے، وہاں ایک شخص بندھا ہوا تھا، انہوں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ ابوموسی اشعری ؓ نے کہا: یہودی تھا پھر مسلمان ہوگیا، اب پھر یہودی ہوگیا، معاذ ؓ نے کہا: میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق اسے قتل نہ کردیا جائے، اور مرتد چاہے مرد ہو یا عورت واجب القتل ہے۔ امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ عورت کو قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ اسے قید کریں گے، یہاں تک کہ دوبارہ دین اسلام میں داخل ہوجائے۔ اور فقہاء کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے مرتد کے ان شبہات کا ازالہ کریں گے جو اس کو اسلام کے بارے میں لاحق ہے، اور تین دن تک قید میں رکھیں گے، اگر اس پر بھی مسلمان نہ ہو تو اس کو قتل کردیں گے۔
معاویہ بن حیدۃ قشیری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی ایسے مشرک کا کوئی عمل قبول نہیں کرے گا جو اسلام لانے کے بعد شرک کرے، الا یہ کہ وہ پھر مشرکین کو چھوڑ کر مسلمانوں سے مل جائے ١ ؎۔
It was narrated from Bahz bin Hakim, from his father, from his grandfather that the Messenger of Allah ﷺ said: "Allah will not accept any good deed from a polytheist who committed polytheism after having become Muslim, until he leaves the polytheists and joins the Muslims."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دار الکفر سے دار الاسلام میں آجائے، مراد وہ دار الکفر ہے جہاں مسلمان اسلام کے ارکان اور عبادات بجا نہ لاسکیں، ایسی جگہ سے ہجرت کرنا فرض ہے اور بعضوں نے کہا: مسلمانوں کی جماعت میں شریک ہونے کا مقصدیہ ہے کہ کافروں کی عادات و اخلاق چھوڑ دے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ١ (٢٤٣٨)، ٧٣ (٢٥٦٩)، (تحفة الأشراف: ١١٣٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٥) (حسن )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی ایک حد کا نافذ کرنا اللہ تعالیٰ کی زمین پر چالیس رات بارش ہونے سے بہتر ہے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn’ Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Carrying out one of the legal punishments prescribed by Allah is better than if it were to rain for forty nights in the land of Allah, Glorified is He."
Notes · وضاحت
١ ؎: جیسے بارش سے خوشحالی آجاتی ہے، کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں۔ ایسے ہی رعایا کی زندگی اسلامی حدود کے نافذ کرنے سے ہوتی ہے، مجرمین کو سزا ہوتی ہے لوگوں کے جان و مال محفوظ رہتے ہیں، اور لوگوں کو راحت حاصل ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٣٨١، ومصباح الزجاجة: ٨٩٩) (حسن) (سند میں سعید بن سنان ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٣٣١ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی ایک حد جو دنیا میں نافذ ہو، اہل زمین کے لیے یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ چالیس دن تک بارش ہو ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "A legal punishment that is carried out in the land is better for the people of that land than if it were to rain for forty days."
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قطع السارق ٧ (٤٩١٩، ٤٩٢٠ موقوفاً )، (تحفة الأشراف: ١٤٨٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٦٢، ٤٠٢) (حسن) (سند میں جریر بن یزید ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو قرآن کی کسی آیت کا انکار کرے، اس کی گردن مارنا حلال ہے، اور جو یہ کہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اس پر زیادتی کرنے کا اب کوئی راستہ باقی نہیں، مگر جب وہ کوئی ایسا کام کر گزرے جس پر حد ہو تو اس پر حد جاری کی جائے گی ۔
It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever denies a Verse of the Quran, it is permissible to strike his neck (i.e., execute him). Whoever says,(None has the right to be worshiped but Allah alone, with no partner or associate, and Muhammad is His slave and Messenger), no one has any way of harming him, unless he (does something which) deserves a legal punishment, and it is carried out on him."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٠٤٢، ومصباح الزجاجة: ٩٠٠) (ضعیف) (سند میں حفص بن عمر ضعیف راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٤١٦ )
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی حدود کو نافذ کرو، خواہ کوئی قریبی ہو یا دور کا، اور اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرو ۔
It was narrated from Ubadahh bin Samit that the Messenger of Allah ﷺ said: "Carry out the legal punishments on relatives and strangers, and do not let the fear of blame stop you from carrying out the command of Allah."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٠٨٧، ومصباح الزجاجة: ٩٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٣٠) (حسن )
عطیہ قرظی ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ غزوہ قریظہ کے دن (جب بنی قریظہ کے تمام یہودی قتل کردیئے گئے) رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کئے گئے تو جس کے زیر ناف بال اگ آئے تھے اسے قتل کردیا گیا، اور جس کے نہیں اگے تھے اسے (نابالغ سمجھ کر) چھوڑ دیا گیا، میں ان لوگوں میں تھا جن کے بال نہیں اگے تھے تو مجھے چھوڑ دیا گیا ١ ؎۔
It was narrated that Abdul-Malik bin Umair said: "I heard Atiyyah Al-Qurazi say: We were presented to the Messenger of Allah ﷺ on the Day of Quraizah. Those whose pubic hair had grown were killed, and those whose pubic hair had not yet grown were let go. I was one of those whose pubic hair had not yet grown, so I was let go."
Notes · وضاحت
١ ؎: عطیہ ؓ کا تعلق یہود بنی قریظہ سے تھا، غزوہ احزاب کے فوراً بعد اس قبیلے کی غداری اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے بعد اس پر چڑھائی کا واقعہ پیش آیا، اس غزوہ میں عطیہ ؓ دیگر نابالغ بچوں کے ساتھ قتل ہونے سے بچ گئے، اور بعد میں اسلام قبول کیا، ان کا اسلام اور ان کی اسلامی خدمات بہت اعلیٰ درجے کی ہیں۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے غزوہ احد کے دن پیش کیا گیا، اس وقت میری عمر چودہ سال کی تھی، آپ ﷺ نے مجھے (غزوہ میں شریک ہونے کی) اجازت نہیں دی، لیکن جب مجھے آپ کے سامنے غزوہ خندق کے دن پیش کیا گیا، تو آپ ﷺ نے اجازت دے دی، اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی۔ نافع کہتے ہیں کہ یہ حدیث میں نے عمر بن عبدالعزیز سے ان کے عہد خلافت میں بیان کی تو انہوں نے کہا: یہی نابالغ اور بالغ کی حد ہے۔
It was narrated that Ibn Umar (RA) said "I was presented to the Messenger of Allah ﷺ on the day of Uhud, when I was fourteen years old but he did not permit me (to fight). I was presented to him on the day of Khandaq when I was Fifteeen years old and he permitted me (to fight)".
Notes · وضاحت
١ ؎: بلوغ کی کئی نشانیاں ہیں: زیر ناف بال اگنا، ڈاڑھی مونچھ کے بال اگنا، احتلام ہونا، پندرہ برس کی عمر کا ہونا۔
Takhrij · تخریج
حدیث أبي أسامة أخرجہ: صحیح البخاری/الشہادات ١٨ (٢٦٦٤)، المغازي ٢٩ (٤٠٩٧)، (تحفة الأشراف: ٧٨٣٣)، وقد أخرجہ: وحدیث عبد اللہ بن نمیر صحیح مسلم/الإمارہ ٢٣ (١٨٦٤)، (تحفة الأشراف: ٧٩٥٥)، مسند احمد (٢/١٧)، وحدیث أبي معاویہ تفردبہ ابن ماجہ، تحفة الأشراف: ٨١١٥)، سنن ابی داود/الخراج ١٦ (٢٩٥٧)، الحدود ١٧ (٤٤٠٦)، سنن الترمذی/الأحکام ٢٤ (١٣١٦)، الجہاد ٣١ (١٧١١)، سنن النسائی/الطلا ق ٢٠ (٣٤٣١)، مسند احمد (٢/١٧) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوں میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever covers (the sin of) a Muslim, Allah Will cover him (his sin) in this world and in the Hereafter."
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا، اور جو اپنے مسلمان بھائی کا کوئی عیب فاش کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کا عیب فاش کرے گا، یہاں تک کہ وہ اسے اس کے گھر میں بھی ذلیل کرے گا ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ said: "Whoever conceals the (hidden) fault of his Muslim brother, Allah will conceal his faults on the Day of Resurrection. Whoever exposes the fault of his Muslim brother, Allah will expose his faults, until (so that) He shames him, due to it, in his (own) house."
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ تجربہ کی بات ہے کہ جو کوئی اپنے بھائی مسلمان کا عیب اس کو ذلیل کرنے کے لئے ظاہر کرتا ہے وہ اس سے بڑھ کر عیب میں گرفتار ہوتا ہے، اور اس سے بڑھ کر ذلیل و خوار ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٠٤٣، ومصباح الزجاجة: ٩٠٣) (صحیح) (سند میں محمد بن عثمان جُمَحِي ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ٣٨٧ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت کے معاملے میں جس نے چوری کی تھی، قریش کافی فکرمند ہوئے اور کہا: اس کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ سے کون گفتگو کرے گا؟ لوگوں نے جواب دیا: رسول اللہ ﷺ کے چہیتے اسامہ بن زید ؓ کے علاوہ کون اس کی جرات کرسکتا ہے؟ چناچہ اسامہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے گفتگو کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو ؟ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: لوگو! تم سے پہلے کے لوگ اپنی اس روش کی بناء پر ہلاک ہوئے کہ جب کوئی اعلیٰ خاندان کا شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور حال شخص چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ اللہ کی قسم! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ چوری کرتی تو میں اس کا (بھی) ہاتھ کاٹ دیتا ۔ محمد بن رمح (راوی حدیث) کہتے ہیں کہ میں نے لیث بن سعد کو کہتے سنا: اللہ تعالیٰ نے فاطمہ ؓ کو چوری کرنے سے محفوظ رکھا اور ہر مسلمان کو ایسا ہی کہنا چاہیئے۔
It was narrated from Aisha (RA) that Quraish became concerned about the case of the Makhzumi woman who had stolen, and they said: "Who Will speak to the the Messenger of Allah ﷺ Concerning her?." They said: "Who would dare to do that other than Usama h bin Zaid, the beloved Messenger of Allah? ﷺ " So Usamah spoke to. him, and the Messenger of Allah. said "Are you interceding Concerning one of the legal punishments of Allah?". Then he stood up and addressed (the people) and said: "O people! those who came before you were only destroyed because when one of their nobles stole, they let him off but when one of the weak people among them stole, they would carry out the punishment on him. By Allah if Fatimah the daughter of Muhammad were to steal, I would cut off her hand”
مسعود بن اسود ؓ کہتے ہیں کہ جب اس عورت (فاطمہ بنت اسود) نے رسول اللہ ﷺ کے گھر سے چادر چرائی تو ہمیں اس کی بڑی فکر ہوئی، وہ قریشی عورت تھی، چناچہ ہم گفتگو کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے عرض کیا: ہم اس کے فدیہ میں چالیس اوقیہ ادا کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس عورت کا پاک کردیا جانا اس کے حق میں بہتر ہے ، جب ہم نے رسول اللہ ﷺ کی نرم گفتگو سنی تو (امیدیں لگائے) اسامہ ؓ کے پاس آئے اور ان سے کہا: رسول اللہ ﷺ سے (اس کے سلسلے میں) گفتگو کرو، جب رسول اللہ ﷺ نے یہ دیکھا (کہ اسامہ سفارش کر رہے ہیں) تو کھڑے ہو کر خطبہ دیا، اور فرمایا: کیا بات ہے تم باربار مجھ سے اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟ جو اللہ کی ایک باندی پر ثابت ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر یہ چیز اللہ کے رسول کی بیٹی فاطمہ کے ساتھ پیش آتی، جو اس کے ساتھ پیش آئی ہے تو محمد اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتے ۔
It was narrated from Aisha (RA) bint Masud bin Aswad, that her father said: "When the woman stole the Qatifah from the house of the Messenger of Allah, we regarded that as a serious matter. She was a woman from Quraish. So we came to the Prophet ﷺ and spoke to him, and he said: We will ransom her for forty Uqiyyah: The Messenger of Allah ﷺ said: Purification is better for her: When we heard the Messenger of Allah ﷺ speak so kindly, we went to Usamah and said: Speak to the Messenger of Allah: When the Messenger of Allah ﷺ saw that, he stood up to speak and said: How much do you intercede with me concerning one of the legal punishments of Allah that has befallen one of the female slaves of Allah! By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, if Fatimah the daughter of the Messenger of Allah, were to do what she has done, Muhammad would cut off her hand:"
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٢٦٣، ومصباح الزجاجة: ٩٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٠٩) (ضعیف) (محمد بن اسحاق مدلس ہیں، روایت عنعنہ سے کی ہے نیز ملاحظہ ہو: الضعیفة: ٤٤٢٥ )
ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا، اور بولا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، اللہ کی کتاب کے مطابق آپ ہمارا فیصلہ کر دیجئیے، اس کا فریق (مقابل) جو اس سے زیادہ سمجھ دار تھا، بولا: آپ ہمارا فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق فرمائیے لیکن مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: کہو اس نے بیان کیا کہ میرا بیٹا اس آدمی کے یہاں مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کرلیا، میں نے اس کی جانب سے سو بکریاں اور ایک نوکر فدیہ میں دے دیا ہے، پھر میں نے اہل علم میں سے کچھ لوگوں سے پوچھا، تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے بیٹے کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، اور اس کی بیوی کے لیے رجم یعنی سنگساری کی سزا ہے، رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب (قرآن) کے مطابق فیصلہ کروں گا، سو بکریاں اور خادم تم واپس لے لو، اور تمہارے بیٹے کے لیے سو کوڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، اور اے انیس! کل صبح تم اس کی عورت کے پاس جاؤ اور اگر وہ اقبال جرم کرلے تو اسے رجم کر دو ١ ؎۔ حدیث کے راوی ہشام کہتے ہیں: انیس صبح کو اس کے ہاں پہنچے، اس نے اقبال جرم کیا، تو انہوں نے اسے رجم کردیا۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) Zaid bin Khalid and Shibl said: "We were with the Messenger of Allah and a man came to him and said: I adjure you by Allah to judge between us according to the Book of Allah His opponent, who was more knowledgeable than him, said: Judge between us according to the Book of Allah, but let me speak first: He said: Speak: He said: My son was a servant of this man, and he committed adultery with his wife, and I ransomed him for one hundred sheep and a servant. I asked some men of knowledge and I was told that my son should be given one hundred lashes and exiled for a year, and that the wife of this man should be stoned: The Messenger of Allah ﷺ said: By the One in Whose Hand is my soul, I will judge between you according to the Book of Allah. The one hundred sheep and the servant are to be returned to you, and your son is to be given one hundred lashes and exiled for a year. Go tomorrow, O Unais, to the wife of this man and if she admits it then stone her:"
Notes · وضاحت
١ ؎: عورت شادی شدہ تھی اس لئے اسے پتھر مار مار کر ہلاک کردیا گیا، اور لڑکا شادی شدہ نہیں تھا، اس لئے اس کے لئے ایک سال جلا وطنی اور سو کوڑوں کی سزا متعین کی گئی۔
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (دین کے احکام) مجھ سے سیکھ لو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے (جنہیں زنا کے جرم میں گھروں میں قید رکھنے کا حکم دیا گیا تھا، اور اللہ کے حکم کا انتظار کرنے کے لیے کہا گیا تھا) راہ نکال دی ہے: کنوارا کنواری کے ساتھ زنا کا مرتکب ہو تو سو کوڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، اور شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ زنا کرے ہو تو سو کوڑوں اور رجم کی سزا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Ubadahh bin Samit that the Messenger of Allah ﷺ said: "Learn from me. Allah has ordained for them (women)) another way. (If) a virgin (commits illegal sexual intercourse) with a virgin, (the punishment is) one hundred lashes and exile for one year. (If) a Thayyib (commits adultery) with a Thayyib, (the punishment is) one hundred lashes and stoning."
Notes · وضاحت
١ ؎: محصن (شادی شدہ) زانی اور محصنہ (شادی شدہ) زانیہ کی سزا سو کوڑے ہیں، پھر رجم کا حکم دیا جائے گا، اور اگر کوڑے نہ مارے جائیں اور صرف رجم پر اکتفا کیا جائے تو ایسا بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے انیس ؓ کو اس عورت کے رجم کا حکم دیا، اور کوڑے مارنے کے لئے نہیں فرمایا، اسی طرح آپ ﷺ نے ماعز اسلمی، غامدیہ ؓ اور یہود کو رجم کا حکم دیا اور کسی کو کوڑے نہیں لگوائے، اسی طرح شیخین (ابوبکر و عمر ؓ) نے اپنی خلافت میں صرف رجم کیا کوڑے نہیں مارے، بعضوں نے کہا: عبادہ ؓ کی حدیث کا حکم منسوخ ہے، اور یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس میں سورة نساء کی آیت کا حوالہ ہے اور سورة نساء اخیر میں اتری۔ اور حق یہ ہے کہ امام کو اس باب میں اختیار ہے، خواہ کوڑے لگا کر رجم کرے، خواہ رجم ہی پر بس کرے۔
حبیب بن سالم کہتے ہیں کہ نعمان بن بشیر ؓ کے پاس ایک ایسا شخص لایا گیا جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کرلی تھی، تو نعمان ؓ نے کہا: میں اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، پھر کہا: اگر اس کی عورت نے اسے اس لونڈی کے ساتھ صحبت کرنے کی اجازت دی ہے تو میں اس شخص کو سو کوڑے لگاؤں گا، اور اگر اس نے اجازت نہیں دی ہے تو میں اسے رجم کروں گا ۔
It was narrated that Habib bin Salim said: "A man who had intercourse with the slave woman his wife was brought to Numan bin Bashir. He said: I will pass no other judgement than that of the Messenger of Allah ﷺ He said: if (his wife) had made her lawful for him, then I will give him one hundred lashes, but if she has not given permission, I will stone him."
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ٢٨ (٤٤٥٨، ٤٤٥٩)، سنن الترمذی/الحدود ٢١ (١٤٥١)، سنن النسائی/النکاح ٧٠ (٣٣٦٢)، (تحفة الأشراف: ١١٦١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٧٢، ٢٧٦، ٢٧٧)، سنن الدارمی/الحدود ٢٠ (٢٣٧٤) (ضعیف) (سند میں حبیب بن سالم کے بارے میں بخاری نے کہا: فیہ نظر )
سلمہ بن محبق ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص لایا گیا اس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کی تھی، آپ ﷺ نے اس پر حد نافذ نہیں کی ۔
It was narrated from Salamah bin Muhabbiq that the case of a man who had intercourse with the slave woman of his wife was referred to the Messenger of Allah, and he did not stipulate any legal punishment for him.
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ٢٨ (٤٤٦٠، ٤٤٦١)، سنن النسائی/النکاح ٧٠ (٣٣٦٥)، (تحفة الأشراف: ٤٥٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧٦، ٥/٦) (ضعیف) (سند میں حسن بصری مدلس ہیں، اور ان کی ہشام سے روایت میں کلام ہے )