سفینہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک مد پانی سے وضو فرماتے تھے، اور ایک صاع پانی سے غسل ١ ؎۔
It was narrated that Safinah said: ’The Messenger of Allah ﷺ used to perform ablution with a Mudd (of water) and bath with a Sã’” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: صاع: ایک معروف شرعی پیمانہ ہے، یہاں مراد صاع نبوی یا صاع مدنی ہے، جس کا وزن موجودہ مستعمل اوزان سے تقریباً ڈھائی کلو گرام ہوتا ہے، اور مد: جو صاع نبوی کا چوتھا حصہ ہوتا ہے، جس کا وزن موجودہ مستعمل وزن سے تقریباً چھ سو پچیس ( ٦٢٥ ) گرام کے قریب ہوتا ہے۔
عقیل بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وضو میں ایک مد اور غسل میں ایک صاع پانی کافی ہے ، اس پر ایک شخص نے کہا: ہمیں اتنا پانی کافی نہیں ہوتا، تو انہوں نے کہا: تم سے بہتر ذات کو، اور تم سے زیادہ بالوں والے (یعنی نبی اکرم ﷺ ) کو کافی ہوجاتا تھا ١ ؎۔
‘Abdullâh bin Muhammad bin ‘Aqil bin Abu Tâlib narrated from his father that his grandfather said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘A Mudd is sufficient for the ablution and a Sd’ is sufficient for the bath.’ A mansaid: ‘It is not sufficient for us.’” He (the narrator) said: “It was sufficient for one who is better than you and had more hair” meaning the Prophet ﷺ (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: عقیل بن ابی طالب ؓ نے گویا یہ بتلایا کہ ایک مد اور ایک صاع پانی کا کافی نہ ہونا دو ہی وجہ سے ہوسکتا ہے، ایک تو احتیاط اور تقوی، دوسرے بالوں کی کثرت، تو اللہ تعالیٰ کے رسول تم سے زیادہ متقی اور محتاط تھے، اور آپ ﷺ کے بال بھی تم سے زیادہ تھے، جب آپ کو اتنا پانی کافی تھا تو تم کو کافی کیوں نہیں، سوائے اس کے کہ تم شکی مزاج ہو یا وسوسہ کا شکار، کوئی اور وجہ تو ہے نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٠١٥، ومصباح الزجاجة: ١١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٧٠) (صحیح) (حبان بن علی اور یزید بن أبی زیاد دونوں ضعیف ہیں، اس لئے یہ سند ضعیف ہے، لیکن مد و صاع سے متعلق ٹکڑا انس ؓ کی صحیح حدیث سے ثابت ہے، اور تابعی کی اس مسئلے میں صحابی سے گفتگو جابر ؓ کی حدیث سے ثابت ہے، اس لئے ان شواہد کی وجہ سے یہ صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٩٩١ - ٢٤٤٧ )
اسامہ بن عمیر ہذلی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کوئی بھی نماز بغیر وضو کے قبول نہیں فرماتا، اور نہ چوری کے مال سے کوئی صدقہ قبول کرتا ہے ۔
It was narrated that Usâmah bin ‘Umair Al-Hudhali said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Allah does not accept any prayer without purification and He does not accept any charity from Ghulul.’ (Sahih) Another chain with similar wording.
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہا رة ٣١ (٥٩)، سنن النسائی/الطہارة ١٠٤ (١٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٧٤، ٧٥)، سنن الدارمی/الطہارة ٢١ (٧١٣) (صحیح )
شعبہ سے دوسرے راویوں نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کوئی بھی نماز بغیر پاکی (وضو) کے اور کوئی بھی صدقہ چوری کے مال سے قبول نہیں کرتا ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Allah does not accept any prayer without purification, and He does not accept any charity from GhuIul.” (Sahih)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ کوئی نماز بغیر پاکی (وضو) کے اور کوئی صدقہ چوری کے مال سے قبول نہیں فرماتا ۔
It was narrated that Anas bin Mâlik said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Allah does not accept any prayer without purification, and He does not accept any charity from GhuIul.” (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: ٨٥٢، ومصباح الزجاجة: ١١٢) (صحیح) (اس سند میں سنان بن سعد ضعیف اور مجہول راوی ہیں، صرف یزید بن أبی حبیب نے ان سے روایت کی ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے، کما تقدم، نیز محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن لیث بن سعد نے ان کی متابعت کی ہے )
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کوئی نماز بغیر پاکی (وضو) کے اور کوئی صدقہ چوری کے مال سے قبول نہیں فرماتا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Bakrah said: “The. Messenger of Allah ﷺ said: ‘Allah does not accept any Salat (prayer) without purification, and He does not accept any charity from Ghulul” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: غلول: مال غنیمت میں خیانت کو کہتے ہیں، یہاں مطلق حرام مال مراد ہے، یعنی حرام مال سے دیا ہوا صدقہ اللہ کی رضامندی کا باعث نہیں ہوتا، اور نہ اس پر ثواب ملتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٦٦٨، ومصباح الزجاجة: ١١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/ ٤٦) (صحیح) (اس سند میں خلیل بن زکریا ضعیف ہیں، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے کماتقدم )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز کی کنجی طہارت (وضو) ہے، اور (دوران نماز ممنوع چیزوں کو) حرام کردینے والی چیز تکبیر (تحریمہ) ہے، اور (نماز سے باہر) امور کو حلال کردینے والی چیز سلام ہے ١ ؎۔
It was narrated from Muhammad bin Al-Hanafiyyah that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The key to prayer is purification, its operdng is to say ‘Allahu Akbar’ and its closing is to say As-salamu alailkum” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: تکبیر اولیٰ کہنے کے بعد وہ سارے افعال حرام ہوجاتے ہیں، جسے اللہ تعالیٰ نے نماز میں حرام قرار دیا ہے، اور سلام پھیرنے کے بعد وہ سارے افعال حلال ہوجاتے ہیں، جنہیں نماز کے باہر اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نماز کی کنجی پاکی (وضو) ہے، اور اس کی منافی چیزیں پہلی تکبیر تحریمہ سے حرام ہوجاتی ہیں، اور اس (یعنی نماز) سے باہر امور کو حلال کردینے والی چیز سلام پھیرنا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Messenger of Allah ﷺ said: “The key to prayer is purification, its opening is to say Allahu Akbar and its closing is to say Assalamu ‘alaikum.” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: تحریم: نماز کی حرمت میں دخول اور تحلیل: نماز کی حرمت سے خروج کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے، یعنی نماز میں داخلہ تکبیر ہی سے اور نماز سے خروج تسلیم ہی کے ذریعہ ہوسکتا ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز کا دروازہ بند ہوتا ہے بندہ اسے طہارت ہی سے کھول سکتا ہے، یعنی بغیر وضو اور طہارت کے نماز نہیں پڑھ سکتا، اسی طرح نماز میں آدمی اللہ اکبر ہی کہہ کر داخل ہوسکتا ہے، اور السلام علیکم ہی کہہ کر اس سے باہر نکل سکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلا ة ٦٢ (٢٣٨)، (تحفة الأشراف: ٤٣٥٧) (صحیح) (یہ سند ابو سفیان طریف سعدی کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن سابقہ حدیث کی بناء پر یہ صحیح ہے )
ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: راہ استقامت پر قائم رہو ١ ؎، تم ساری نیکیوں کا احاطہٰ نہیں کرسکو گے، اور تم جان لو کہ تمہارا بہترین عمل نماز ہے، اور وضو کی محافظت صرف مومن کرتا ہے ۔
It was narrated that Thawban said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Adhere to righteousness even though you will not be able to do all acts of virtue. Know that the best of your deeds is Salat (prayer) and that no one maintains his ablution except a believer.” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: راہ استقامت پر قائم رہو کا مطلب ہے کہ پوری ثابت قدمی کے ساتھ اسلام کے اوامرو نواہی پر جمے رہو، استقامت کمال ایمان کی علامت ہے، اس لئے اس مرتبہ پر بہت ہی کم لوگ پہنچ پاتے ہیں کیونکہ یہ مشکل امر ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٠٨٦، ومصباح الزجاجة: ١١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٧٧، ٢٨٢)، سنن الدارمی/الطہارة ٢ (٦٨١) (صحیح) (سند میں سالم بن ابی الجعد اور ثوبان ؓ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن دارمی اور ابن حبان میں سند متصل ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٤١٢ )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: راہ استقامت پر قائم رہو، تم ساری نیکیوں کا احاطہٰ نہیں کرسکتے، اور جان لو کہ تمہارا سب سے افضل عمل نماز ہے، اور وضو کی محافظت صرف مومن ہی کرتا ہے ۔
It was narrated that Abdullah bin ‘Amr said: “The Messenger of Allah ﷺ said: Adhere to righteousness even through you will not be able to do all acts of virtue. Know that among the best of your deeds is prayer and that no one maintains his ablution except a believer.” (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٩٢٣، ومصباح الزجاجة: ١١٥) (صحیح) (سند میں لیث بن أبی سلیم ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢ /١٣٧ )
ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم استقامت پر قائم رہو، اور کیا ہی بہتر ہے، اگر تم اس پر قائم رہ سکو، اور تمہارے اعمال میں سب سے بہتر عمل نماز ہے، اور وضو کی محافظت صرف مومن ہی کرتا ہے ۔
It was narrated that Abu Umâmah said, in a Marfu’ Hadifh:Adhere to righteousness and it is a blessing if you are able to do so. know that the best of your deeds is ryer and that no one maintains his ablution except a believer.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٣٣، ومصباح الزجاجة: ١١٦) (صحیح) (سند میں ابو حفص دمشقی مجہول ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢ /١٣٧ )
ابومالک اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مکمل وضو کرنا نصف ایمان ہے ١ ؎، اور الحمد لله میزان کو (ثواب سے) بھر دیتا ہے، اور سبحان الله، الله أكبر آسمان و زمین کو (ثواب سے) بھر دیتے ہیں، نماز نور ہے، اور زکاۃ برہان (دلیل و حجت) ہے، اور صبر (دل کی) روشنی ہے، اور قرآن دلیل و حجت ہے، ہر شخص صبح کرتا ہے تو وہ اپنے نفس کو بیچنے والا ہوتا ہے، پھر وہ یا تو اسے (جہنم سے) آزاد کرا لیتا ہے یا ہلاک کردیتا ہے ۔
It was narrated from Abu Malik Ash’ari that the Messenger of Allah ﷺ said: “Performing ablution properly’ is half of faith, saying AI-Hamdu LiIIah fills the Scale (of good deeds), saying Subhan-Allâh and AIIahu Akbar fills the heavens and the earth, prayer is light, Zakât is proof, patience is brightness and the Qur’ân is proof for you or against you. Every person goes out in the morning to sell his soul, so he either frees it or destroys it.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: وضو نصف (آدھا) ایمان ہے کیونکہ اس سے ظاہری طہارت حاصل ہوتی ہے، اور یہ طہارت نماز کے لئے شرط ہے اس لئے اسے آدھے ایمان یا آدھی نماز سے تعبیر کیا گیا اور باطنی طہارت ایمان و اقرار توحید سے حاصل ہوتی ہے، زکاۃ کی ادائیگی سے ایمان کی سچائی کا پتہ چلتا ہے، صبر باعث نور و ضیاء ہے، اور ممکن ہے صبر سے مراد یہاں روزہ ہو، کیونکہ شہوات کے توڑنے میں اس کی تاثیر قوی ہے، اور یہ دل کی نورانیت کا باعث ہوتا ہے، قرآن پر عمل کرنے سے نجات، اور اس کو چھوڑ دینے سے ہلاکت کا قوی اندیشہ ہے، ہر شخص اپنے کردار و عمل سے اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں لگا کر اس کو عذاب سے آزاد کرانے والا ہے، یا شیطان کی فرمانبرداری سے اس کے عذاب میں گرفتار کرنے والا ہے، اس حدیث سے حمد باری تعالیٰ اور تسبیح و تحمید کی فضیلت بھی معلوم ہوئی کہ اس کے اجر و ثواب سے اعمال کی میزان بھاری ہوجائے گی۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی وضو کرتا ہے، اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر مسجد آتا ہے، اور اس کے گھر سے نکلنے کا سبب صرف نماز ہی ہوتی ہے، تو اس کے ہر قدم کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کرتا اور ایک گناہ مٹاتا ہے، یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہوجائے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When anyone of you performs ablution and does it then he comes to the Masjid for no other purpose than prayer, he does not take one step hnf Allah will raise him one egree (in status) thereby, and remove one sin from him thereby, til he enters the Masjid.’(Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٥٥٢ (ألف)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ الصلاة ٨٧ (٤٧٧)، سنن ابی داود/الصلاة ٥٢ (٥٦٤)، مسند احمد (٢/٢٥٢، ٤٧٥)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٧٧٤) (صحیح )
عبداللہ صنابحی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے وضو کیا، کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا تو اس کے گناہ ناک اور منہ سے نکل جاتے ہیں، اور جب وہ اپنا منہ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے منہ سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کی پلکوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے دونوں ہاتھوں سے نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے گناہ اس کے سر سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے کانوں سے بھی نکل جاتے ہیں، اور جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے دونوں پاؤں سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں، اور اس کی نماز اور مسجد کی جانب اس کا جانا ثواب مزید کا باعث ہوتا ہے ١ ؎۔
It was narrated from ‘Abdullah As-Sunâbihi that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever performs ablution arid rinses his mouth and nose, his sins will exit through his mouth and nose. When he washes his face, his sins will exit from his face, even from beneath his eyelids. When he washes his hands, his sins will exit from his hands. When he wipes his head, his sins will exit from his head, and even from his ears. When he washes his feet, his sins will exit from his feet, even from beneath his toenails. Then his prayer and his walking towards the Masjid will earn extra merit for him.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد صغائر (گناہ صغیرہ) ہیں کیونکہ کبائر (گناہ کبیرہ) بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے، اسی طرح حقوق العباد (بندوں کے حقوق) سے متعلق گناہ اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک ان کے حقوق کی ادائیگی نہ کردی جائے، یا ان سے معاف نہ کرا لیا جائے، نیز اس حدیث سے گھر سے وضو کر کے مسجد میں جانے کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطہارة ٨٥ (١٠٣)، (تحفة الأشراف: ٩٦٧٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ٦ (٣٠)، مسند احمد (٤/٣٤٨، ٣٤٩) (صحیح )
عمرو بن عبسہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب بندہ وضو کرتا اور اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے ہاتھوں سے جھڑ جاتے ہیں، جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے چہرے سے جھڑ جاتے ہیں، اور جب اپنے بازو دھوتا ہے اور سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے گناہ بازوؤں اور سر سے جھڑ جاتے ہیں، اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے پاؤں سے جھڑ جاتے ہیں ۔
It was narrated that ‘Amr bin ‘Abasah said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When a person performs ablution and washes Ms hands, his sins exit through his hands. When he washes his face, his sins exit through his face. When he washes his forearms and wipes his head, his sins exit through his forearms and head. When he washes his feet, his sins exit through his feet.” (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٧٦٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٥٢ (٨٣٢)، سنن النسائی/الطہارة ١٠٨ (١٤٧)، مسند احمد (٤/١١٢، ١١٣، ١١٤) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو قیامت کے دن کیسے پہچانیں گے جن کو آپ نے دیکھا نہیں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وضو کے اثر کی وجہ سے ان کی پیشانی، ہاتھ اور پاؤں سفید اور روشن ہوں گے ١ ؎۔
‘Abdulláh bin Mas’ud said: It was said: ‘O Messenger of Allah ﷺ , how will you recognize Lose whom you have not seen of your Ummah?’ He said: ‘From the blazes on their foreheads and feet, like horses with black and white traces (which make them distinct m others) which are the traces of ablution.’” (Hasan) Another chain with similar wording.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات کی صریح علامت ہے کہ صحابہ کرام رسول اکرم ﷺ کو ہر وقت، ہر جگہ حاضر و ناظر نہیں سمجھتے تھے، اور خود رسول اللہ کا بھی یہ عقیدہ نہ تھا، ورنہ صحابہ یہ سوال کیوں کرتے اور آپ جواب یہ کیوں دیتے؟
اس سند سے بھی ایسی ہی حدیث مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٢٢٥، ومصباح الزجاجة: ١١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٠٣، ٤٥١، ٤٥٣) (حسن صحیح )
عثمان بن عفان ؓ کے غلام حمران کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان ؓ کو مسجد کے قریب چبوترے پہ بیٹھا ہوا دیکھا، انہوں نے وضو کا پانی منگایا، اور وضو کیا، پھر کہنے لگے میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے اسی بیٹھنے کی جگہ پر دیکھا کہ آپ نے اسی طرح وضو کیا جس طرح میں نے کیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے ، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اس بشارت سے دھوکے میں نہ آجانا (کہ نیک اعمال چھوڑ دو ) ۔
Humrân the freed slave of ‘Uthman bin ‘Affan said: “I saw ‘Uthmân bin ‘Affán sitting in Maqã’id. He called for water and he performed ablution, then he said: ‘I saw the Messenger of Allah ﷺ sitting in this place where I am sitting, performing ablution as I have done. Then he said: “Whoever performs ablution as I have done, his previous sins will be forgiven.” And the Messenger of Allah ﷺ said: “And do not be conceited (due to this great virtue).” (Sahih) Another chain with similar wording.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطہارة ٦٨ (٨٤)، (تحفة الأشراف: ٩٧٩٢، ومصباح الزجاجة: ١١٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء ٢٤ (١٥٩)، ٢٨ (١٦٤)، الصوم ٢٧ (١٩٣٤)، صحیح مسلم/الطہارة ٣ (٢٢٦)، سنن ابی داود/الطہارة ٥٠ (١٠٦) موطا امام مالک/الطہارة ٦ (٢٩)، مسند احمد (١/٦٦)، سنن الدارمی/الطہارة ٢٧ (٧٢٠)، (اور ان میں ولا تغتروا کا لفظ نہیں ہے) (صحیح )
اس سند سے بھی ایسا ہی مروی ہے۔
حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رات میں تہجد کے لیے اٹھتے تو مسواک سے دانت و منہ صاف کرتے ۔
It was narrated that Hudhaifah said: “Whenever the Messenger of Allah ﷺ got up for prayer at night to pray Tahajjud (night optional prayer), he would clean his mouth with the tooth stick.” (Sahih)