ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Were it not that it would be too difficult for my Ummah (nation), I would have commanded them to use the tooth stick at every time of prayer.’” (sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مسواک کو واجب کردیتا، لیکن ہر نماز کے وقت مسواک کا مسنون ہونا ثابت ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ امت پر کس درجہ مشفق اور مہربان تھے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے، پھر ہر دو رکعت کے بعد لوٹتے اور مسواک کرتے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn ‘Abbâs said: “The Messenger of Allah ﷺ used to pray in the night (Qiyamul-Lail) two Rak’ah by two, then when he finished he would use the tooth stick.” (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہر دو رکعت کے بعد واپس جا کر سو جاتے، پھر اٹھ کر مسواک کرتے جیسا کہ سنن ابوداود (رقم: ٥٨ ) میں تفصیل وارد ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٤٨٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة ١٥ (٢٥٦)، سنن ابی داود/الطہارة ٣٠ (٥٥)، مسند احمد (١/ ٢١٨) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ١٣٢١) (صحیح )
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسواک کرو اس لیے کہ مسواک منہ کو پاک کرنے کا ذریعہ اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا سبب ہے، جبرائیل جب بھی میرے پاس آئے تو انہوں نے مجھے مسواک کی وصیت کی، یہاں تک کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں میرے اور میری امت کے اوپر اسے فرض نہ کردیا جائے، اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ مجھے ڈر ہے کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا تو امت پر مسواک کو فرض کردیتا، اور میں خود اس قدر مسواک کرتا ہوں کہ مجھے ڈر ہونے لگتا ہے کہ کہیں میں اپنے مسوڑھوں کو نہ چھیل ڈالوں ۔
It was narrated from Abu Umâmah that the Messenger of Allah ﷺ said: “Use the tooth stick, for the tooth stick purifies the mouth and is pleasing to the Lord. Jibril never came to me but he advised me to use the tooth stick, until I feared that it would be made obligatory for me and my Ummah. Were it not that I fear that it would be too difficult for my Ummah, I would have enjoined it upon them. And I use the tooth stick until I fear that I may make the front of my mouth sore.’ (i.e. my gums) (or cause my teeth to fall out due to brushing them so often).” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩١٧، ومصباح الزجاجة: ١١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٦٣) (ضعیف) (حدیث کی سند میں مذکور علی بن یزید منکر الحدیث ہے، نیز عثمان کی علی بن یزید سے روایت کی علماء نے تضعیف کی ہے )
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے کہا کہ آپ مجھے بتائیے کہ نبی اکرم ﷺ جب گھر میں آپ کے پاس جاتے تھے تو سب سے پہلے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ جب بھی آتے تھے پہلے مسواک کرتے تھے۔
It was narrated from Miqdâm bin Shuraih bin Hani’ that his father said: “I said to ‘ Aisha (RA) : ‘Tell me, what was the first thing that the Messenger of Allah ﷺ did when he entered upon you?’ She said: ‘The first thing he would do would be to use the tooth stick.” (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦١٤٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة ٥ (٢٥٣)، سنن ابی داود/الطہارة ٢٧ (٥١)، سنن النسائی/الطہارة ٨ (٨)، مسند احمد (٦/٤١، ١١٠، ١٨٢، ١٨٨، ١٩٢، ٢٣٧، ٢٥٤) (صحیح) (ابن ماجہ کی سند میں شریک راوی ضعیف ہیں، لیکن صحیح مسلم وغیرہ میں مسعر و سفیان کی متابعت سے یہ صحیح ہے )
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ تمہارے منہ قرآن کے راستے ہیں (تم اپنے منہ سے قرآن کی تلاوت کرتے ہو) لہٰذا اسے مسواک کے ذریعہ پاک رکھا کرو۔
It was narrated that ‘Ali bin Abu Talib said: “Your mouths are the paths of the Qur’ân, so perfume them with the tooth stick. (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: ١٠١٠٦، ومصباح الزجاجة: ١٢٠) (صحیح) (سند میں بحر بن کنیز ضعیف ہیں، اور سعید بن جبیر اور علی ؓ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن دوسرے طرق سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٢١٣ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ چیزیں فطرت ہیں ١ ؎، یا پانچ باتیں فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرانا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا، ناخن تراشنا، بغل کے بال اکھیڑنا، مونچھوں کے بال تراشنا ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The deeds connected to the Fitrah are five (or five things are connected to the Fitrak): circumcision, shaving the pubic hairs, clipping the nails, plucking the armpit hairs and trimming the mustache.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: فطرت یعنی انبیاء کرام کی سنت قدیمہ ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پسند فرمایا ہے، بعض لوگوں کے نزدیک فطرت سے مراد جبلت یعنی مزاج و طبیعت ہے جس پر انسان کی پیدائش ہوئی ہے، یہاں حصر مراد نہیں اس کے بعد والی روایت میں عشر من الفطرة (فطرت کے دس کام) کے الفاظ آئے ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دس چیزیں فطرت میں سے ہیں: مونچھوں کے بال تراشنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، بغل کے بال اکھیڑنا، موئے زیر ناف صاف کرنا، اور پانی سے استنجاء کرنا ۔ زکریا نے کہا کہ مصعب کہتے ہیں: میں دسویں چیز بھول گیا، ہوسکتا ہے وہ کلی کرنا ہو۔
It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Ten things are connected to the Fitrah: trimming the mustache, letting the beard grow, using the tooth slick, rinsing out the nostrils with water, clipping the nails, washing the joints, plucking the armpit hairs, shaving the pubic hairs, washing the private parts with water.’” (Sahih) (One of the narrators) Zakariyyâ said: “Mus’ab said: ‘I have forgotten the tenth thing, but it may have been rinsing out the mouth.” (Sahih)
عمار بن یاسر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مسواک کرنا، مونچھ کاٹنا، ناخن کاٹنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناف کے نیچے کا بال صاف کرنا، انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، اور وضو کے بعد شرمگاہ پر پانی کا چھینٹا مارنا، اور ختنہ کرانا فطرت میں سے ہیں ۔
It was narrated from ‘Ammâr bin Yasir that the Messenger of Allah ﷺ said: “Part of the Fitrah is rinsing out the mouth, rinsing out the nostrils, using the tooth slick, trimming the mustache, clipping the nails, plucking the armpit hairs, shaving the pubic hairs, washing the joints, washing the private parts and circumcision.’” (Da’if) Another chain with similar wording.
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٢٩ (٥٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٦٤) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہے )
اس سند سے علی بن زید سے اسی کے مثل مروی ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ہمارے لیے مونچھوں کے تراشنے، موئے زیر ناف مونڈنے، بغل کے بال اکھیڑنے، اور ناخن تراشنے کے بارے میں وقت کی تعیین کردی گئی ہے کہ ہم انہیں چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Mâlik said: “We were given a time limit with regard to trimming the mustache, shaving the pubic hairs, plucking the armpit hairs and clipping the nails. We were not to leave that for more than forty days.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: بال اور ناخن جب بڑے ہوں تو انہیں کاٹ لینا چاہیے، اگر کسی مجبوری سے نہ کاٹ سکیں تو زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے، اس کے بعد ضرور کاٹ دینا چاہیے۔
زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ پاخانہ جنوں کے حاضر ہونے کی جگہیں ہیں، لہٰذا جب کوئی پاخانہ میں جائے تو کہے:اللهم إني أعوذ بک من الخبث والخبائث یعنی: اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور جنیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں ١ ؎۔
It was narrated that Zaid bin Arqam said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘These Hushush (waste areas) are visited (by devils), so when anyone of you enters, let him say: ‘Allahumma inni a’udhu bika minal-khubthi wa’lkhaba”ith (O Allâh, I seek refuge with You from male and female devils).” (Sahih) Other chains with similar wording.
Notes · وضاحت
١ ؎: پاخانہ میں داخل ہونے، اور میدان میں کپڑا اوپر کرنے سے قبل یہ دعا پڑھے۔
اس سند سے زید بن ارقم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آگے انہوں نے یہی سابقہ حدیث ذکر کی، زید بن ارقم کی یہ حدیث دوسری دو سندوں سے بھی مروی ہے ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٣ (٦)، (تحفة الأشراف: ٣٦٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٦٩، ٣٧٣) (صحیح )
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٦٨١) وانظر ماقبلہ (صحیح )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنوں اور بنی آدم (انسانوں) کی شرمگاہوں کے درمیان پردہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص پاخانہ میں داخل ہو تو بسم اللہ کہے ۔
It was narrated that ‘Ali said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The screen between the hun and the nakedness of the sons of Adam is that when a person enters the Kanif he should say: Bismillah (in the Name of Allah).” (Da’if)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب پاخانہ میں داخل ہوتے تو فرماتے: أعوذ بالله من الخبث والخبائث یعنی: میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ناپاک جنوں اور جنیوں کے شر سے ۔
It was narrated that Anas bin Málik said: “Whenever the Messenger of Allah ﷺ entered the toilet, he would say: ‘A’udhu Billahi minal-khubuthi wa-l` khabaith (I seek refuge with Allah from male and female devils)” (Sahih)
ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص پاخانہ میں داخل ہو تو اس دعا کے پڑھنے میں کوتاہی نہ کرے: اللهم إني أعوذ بک من الرجس النجس الخبيث المخبث الشيطان الرجيم یعنی: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ناپاک، گندے، برے بدکار راندے ہوئے شیطان کے شر سے ۔
It was narrated from Abu Umâmah that the Messenger of Allah ﷺ said: “None of you should fail to say, when he enters his toilet: ‘AIldahumma inni a’udhu bika minar-rijsin-najis, aI-khabithil-mukhbith, ash-Shaitanir-rajim (O Allah, I seek refuge with You from the filthy and impure, the evil one with evil companions, the accursed Shaitan).’” (Da’if) Another chain with a slightly different wording from Ibn Abi Maryam who mentioned similar, but he did not say in his narration: “Minar-rijsin-najis (From the filthy and impure)” he only said: “Minalkhabithil-mukhbith, ash-Shaitãnirrajim (From the evil one with evil companions, the accursed Shaitan)”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩١٤، ومصباح الزجاجة: ١٢١) (ضعیف) (اس میں عبیداللہ بن زحر، علی بن یزید اور القاسم ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢١٨٩ )
اس سند سے ابوامامہ ؓ کی اس حدیث میں: من الرجس النجس کے الفاظ مذکور نہیں ہیں، بلکہ من الخبيث المخبث الشيطان الرجيم ہے۔
ابوبردہ ؓ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس آیا تو ان کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ جب پاخانہ سے نکلتے تو کہتے:غفرانک یعنی: اے اللہ! میں تیری بخشش چاہتا ہوں ۔
Yusuf bin Abi Burdah narrated: “I heard my father say: ‘I entered upon ‘ Aisha (RA) , and I heard her say: “When the Messenger of Allah ﷺ exited the toilet , he would say :Ghufranaka (I seek your Forgiveness). (sahih).Another chain with similar wording.
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٧ (٣٠)، سنن الترمذی/الطہارة ٥ (٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ١٥٥)، سنن الدارمی/الطہارة ١٦ (٧٧٠) (صحیح )
اس سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب پاخانہ سے نکلتے تو فرماتے: الحمد لله الذي أذهب عني الأذى وعافاني یعنی: تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھ سے تکلیف دور کی، اور مجھے عافیت بخشی ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Mâlik said: “When ever the Prophet ﷺ exited the toilet, he would say: ‘Al-hamdu lillahillahi adhhaba ‘annial-adha wa ‘ãfâni (Praise is to Allah Who has relieved me of impurity and given me good health).” (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: حقیقت میں پاخانہ و پیشاب کا بخوبی آنا بڑی نعمت ہے، اس پر بندے کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٣١، ٥٣٩، ١١٤١، ومصباح الزجاجة: ١٢٢) (ضعیف) (اسماعیل بن مسلم ضعیف ہیں، ابن السنی کے یہاں ابو ذر ؓ سے یہ موقوفاً ثابت ہے ملاحظہ ہو: تحفة الأشراف وسلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٥٦٥٨ ، والإرواء: ٥٣ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہر وقت کرتے تھے ١ ؎۔
‘Urwah narrated from ‘ Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ used to remember Allah in all circumstances. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ کا ذکر ہر وقت کرتے تھے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے باوضو ہونے یا کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہونے کی کوئی قید نہ تھی، ہر حالت میں ذکر الٰہی کرتے تھے، لیکن قضاء حاجت کے وقت ذکر کرنا منع ہے، اسی طرح جماع کی حالت میں بھی تلاوت قرآن منع ہے، یہ حدیث ان اوقات کے علاوہ کے لئے ہے، بعض لوگوں نے ذکر قلبی مراد لیا ہے۔
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تھے تو اپنی انگوٹھی اتار دیتے تھے ١ ؎۔
It was narrated from Anas bin Mâlik that when the Prophet ﷺ entered the toilet, he would take off his ring. (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کی انگوٹھی میں تین سطریں تھیں، نیچے کی سطر میں محمد، اور بیچ کی سطر میں رسول، اور اوپر کی سطر میں لفظ الجلالہ اللہ مرقوم تھا، اور اسی لفظ کی تعظیم کی وجہ سے آپ ﷺ اس کو اتار دیتے تھے، نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس میں اللہ کا نام ہو اسے پاخانے وغیرہ نجس جگہوں میں نہ لے جایا جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٠ (١٩)، سنن الترمذی/اللباس ١٦ (١٧٤٦)، الشمائل ١١ (٩٣)، سنن النسائی/الزینة ٥١ (٥٢١٦)، (تحفة الأشراف: ١٥١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٩٩، ١٠١، ٢٨٢) (ضعیف) (اس میں ابن جریج مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، امام دارقطنی کہتے ہیں کہ ابن جریج کی تدلیس سے اجتناب کرو، اس لئے کہ وہ قبیح تدلیس کرتے ہیں، وہ صرف ایسی حدیث کے بارے میں تدلیس کرتے ہیں جس کو انہوں نے کسی مطعون راوی سے سنی ہو )
عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی بھی شخص اپنے غسل خانہ میں قطعاً پیشاب نہ کرے، اس لیے کہ اکثر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں ۔
It was narrated that ‘Abdullâh bin Mughaffal said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘None of you should urinate in his wash area for most of the insinuating thoughts come from that.” (Da’if) Abu ‘Abdullâh bin Mâjah said: (“Abul-Hasan said: ‘I heard Muhammad bin Yazidm saying:) Ali bin Muhammad At-Tanâfisi said: ‘This (prohibition) applies to cases where the ground (in the place used for washing) was soft. But nowadays this does not apply, because the baths you use now are built of plaster, Saruf and tar; so if a person urinates there then pours water over it, that clears it away, and that is fine.’”
Notes · وضاحت
١ ؎: بہتر یہی ہے کسی بھی طرح کے غسل خانے میں پیشاب نہ کرے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٥ (٢٧)، سنن الترمذی/الطہارة ١٧ (٢١)، سنن النسائی/الطہارة ٣٢ (٣٦)، (تحفة الأشراف: ٩٦٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٥٦) (ضعیف) (فإن عامة الوسواس منه کے سیاق کے ساتھ یہ ضعیف ہے، لیکن حدیث کا پہلا ٹکڑا: لا يبولن أحدکم في مستحمه شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: ٦ ، و صحیح ابی داود: ٢١ )
ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن یزید کو کہتے سنا: وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے علی بن محمد طنافسی کو کہتے ہوئے سنا: یہ ممانعت اس جگہ کے لیے ہے جہاں غسل خانے کچے ہوں، اور پانی جمع ہوتا ہو، لیکن آج کل غسل خانہ میں پیشاب کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس لیے کہ اب غسل خانے چونا، گچ اور ڈامر (تارکول) کے ذریعے پختہ بنائے جاتے ہیں، اگر ان میں کوئی پیشاب کرے اور پانی بہا دے تو کوئی حرج نہیں ١ ؎۔
(ضعیف) (ملاحظہ ہو: المشکاة: ٣٥٣ )
مغیرہ بن شعبہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک قوم کے کوڑا خانہ پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔
Shu’bah narrated from ‘Asim, from Abu Wa’il, from Mughirah bin Shu’bah that the Messenger of Allah ﷺ came to the garbage dump of some people and urinated standing up. (Hasan) Shu’bah said: “That day, ‘Asim said: ‘Amash reported this from Abu Wâ’il, from Hudhaifah) but he did not remember it (correctly). So I asked Mansur about it, and he narrated it to me from Abu Wasil from Hudhaifah, that the Prophet ﷺ came to a dump of some people and urinated standing.”
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کی عادت کریمہ یہی تھی آپ اکثر بیٹھ کر پیشاب کرتے تھے، گذشتہ باب میں حذیفہ ؓ کی حدیث میں جس کا ذکر ہے اس کی بہت سی تو جیہات علماء کرام نے کی ہیں، جو اکثر تکلف سے خالی نہیں، یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہاں آپ ﷺ نے بیان جواز، یا ضرورت شدیدہ کے سبب ایسا کیا، ورنہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنا منع ہے، ام المؤمنین عائشہ ؓ کا انکار ان کے علم کی بنیاد پر ہے، وہ معمول بتارہی ہیں، اور حذیفہ ؓ نے اپنا مشاہدہ بتایا، جو ایک بار کا واقعہ ہے، جو جواز کی دلیل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٥٠٢، ومصباح الزجاجة: ١٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٤٦)، سنن الدارمی/الطہارة ٩ (٦٩٥)، وانظر ما قبلہ (صحیح )
شعبہ نے کہا کہ عاصم نے اپنی روایت میں يومئذ کے لفظ کا اضافہ کیا ہے، اور یوں کہا ہے: آپ ﷺ ایک قوم کے کوڑا خانہ پر آئے، اور کھڑے ہو کر اس دن پیشاب کیا۔ اور یہ اعمش اس حدیث کو عن أبي وائل عن حذيفة کے طریق سے روایت کرتے ہیں وہ يومئذ کو ذکر نہیں کرتے تو میں نے منصور سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے مجھ سے عن أبي وائل عن حذيفة کے طریق سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک قوم کے کوڑا خانہ پر آئے، اور آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ١ ؎۔
انظر حدیث رقم: ٣٠٥ (تحفة الأشراف: ١١٥٠٢، ومصباح الزجاجة: ١٢٣ )