ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جو تم سے بیان کرے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا تو تم اس کی تصدیق نہ کرو، میں نے دیکھا ہے کہ آپ بیٹھ کر پیشاب کرتے تھے۔
It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “If anyone tells you that the Messenger of Allah ﷺ urinated while standing, do not believe him, for I (always) saw him urinating while sitting down.” (Hasan)
Notes · وضاحت
ام المؤمنین عائشہ ؓ کا انکار ان کے علم کی بنیاد پر ہے، وہ معمول بتارہی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ٨ (١٢)، سنن النسائی/الطہارة ٢٥ (٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٦١٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٣٦) (صحیح )
عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: عمر! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو ۔ عمر ؓ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کبھی بھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔
It was narrated that ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ saw me urinating while standing, and he said: ‘O ‘Umar, do not urinate standing up.’ So I never urinated whilst standing after that.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٥٦٩، ومصباح الزجاجة: ١٢٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/ الطہارة ٨ (١٢ تعلیقًا) (ضعیف) (حدیث کی سند میں مذکور راوی عبد الکریم بن المخارق ابو امیہ ضعیف ہیں، اور عبید اللہ بن العمری ثقہ نے اس خبر کے معارض روایت کی ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٩٣٤ )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے منع فرمایا ١ ؎۔ ابوالحسن القطان کہتے ہیں: میں نے ابوعبداللہ محمد بن یزید (یعنی: ابن ماجہ) سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے احمد بن عبدالرحمٰن مخزومی سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ سفیان ثوری نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کی حدیث: أنا رأيته يبول قاعدا کے بارے میں کہا کہ: مرد اس بات کو ام المؤمنین عائشہ ؓ سے زیادہ جانتے ہیں، (احمد بن عبدالرحمٰن مخزومی کی سفیان ثوری سے ملاقات نہیں) ۔ احمد بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں: عربوں کی عادت کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی تھی، کیا تم اسے عبدالرحمٰن بن حسنہ کی حدیث میں دیکھتے نہیں ہو؟ اس میں ہے: دیکھو! وہ عورتوں کی طرح بیٹھ کر پیشاب کرتے ہیں ۔
It was narrated that Jábir bin ‘Abdullâh said: “The Messenger of Allah ﷺ forbade us to urinate while standing.” (Da’if) I heard Muhammad bin Yazid, Abu ‘Abdullâh, say: “I heard Ahmad bin ‘Abdur-Rahman Al-Makhzumi say: ‘Sufyân AthThawri said concerning the Hadith of ‘ Aisha (RA) — ‘I (always) saw him urinating whilst sitting down’ — a man knows more about that (about such matters) than she.’ Ahmad bin ‘AbdurRahmân said: ‘It was the custom of the Arabs to urinate standing up. Do you not see that in the Hadith of ‘Abdur-Rahmân bin Hasanah it was said: ‘He sits down to urinate as a woman does.’
Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اکرم ﷺ کو یہودی کہتے تھے کہ محمد ﷺ تو عورتوں کی طرح بیٹھ کر پیشاب کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣١١٣، ومصباح الزجاجة: ١٢٥) (ضعیف جدًا) (اس سند میں عدی بن الفضل متروک راوی ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٦٣٨ )
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنی شرمگاہ اپنے داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے، اور نہ اپنے داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے ١ ؎۔
‘Abdulláh bin Abu Qatâdah “My father told me that he heard the Messenger of Allah ﷺ ‘When anyone of you urinates, let him not touch his penis with his right hand nor clean himself with his right hand.” (Sahih) Another chain with similar wording.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ ناپسندیدہ کاموں کے لئے آدمی دایاں ہاتھ استعمال نہ کرے تاکہ اس کا وقار و احترام باقی رہے، امام ترمذی فرماتے ہیں کہ عام اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ انہوں نے دائیں ہاتھ سے استنجا کو مکروہ کہا ہے۔
اس سند سے بھی اوزاعی نے اس طرح کی حدیث ذکر کی ہے۔
عقبہ بن صہبان کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان ؓ کو کہتے ہوئے سنا: جب سے رسول اللہ ﷺ سے میں نے اس ہاتھ کے ذریعہ بیعت کی نہ تو میں نے گانا گایا، اور نہ جھوٹ بولا، اور نہ اپنی شرمگاہ کو داہنے ہاتھ سے چھوا ١ ؎۔
It was narrated that ‘Uqbah bin Suhbân said: “I heard ‘Uthmân bin ‘Affân say: ‘I never sang a song or told a lie or touched my penis with my right hand after I swore on oath of allegiance to the Messenger of Allah ﷺ to that effect.’” (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی داہنے ہاتھ کو رسول اکرم ﷺ کے داہنے ہاتھ پر رکھ کر بیعت کرنے کے بعد سے اس کو شرمگاہ سے نہیں لگایا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٨٣١، ومصباح الزجاجة: ١٢٦) (ضعیف جدًا) (اس کی سند میں صلت بن دینار متروک اور ناصبی الحدیث ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص استنجاء کرے تو داہنے ہاتھ سے نہ کرے، بلکہ بائیں ہاتھ سے کرے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When anyone of you cleans himself, he should not clean himself with his right hand. Let him clean himself with his left hand.” (Hassan)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے لیے ایسا ہی ہوں جیسے باپ اپنے بیٹے کے لیے، میں تمہیں تعلیم دیتا ہوں کہ جب تم قضائے حاجت کے لیے بیٹھو تو قبلے کی طرف منہ اور پیٹھ نہ کرو ، آپ ﷺ نے تین پتھروں سے استنجاء کرنے کا حکم دیا، اور گوبر اور ہڈی سے، اور دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع کیا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘I am to you like a father to his son, and I teach you. So when you go to relieve yourselves, do not face the Qiblah or turn your backs towards it.’ He ordered us to use three pebbles, and he forbade us to use dung and bones, and he forbade cleaning oneself with the right hand.” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض روایتوں میں تین سے کم پتھر پر اکتفا کرنے سے منع کیا گیا ہے جس سے تین پتھر کے استعمال کا وجوب ثابت ہوتا ہے، بعض احادیث میں اس ممانعت کی علت یہ بتائی گئی ہے کہ یہ تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہے، نیز یہاں رمَّ ۃ (بوسیدہ ہڈی) سے مراد مطلق ہڈی ہے جیسا کہ دوسری روایتوں میں آتا ہے، یا یہ کہا جائے کہ بوسیدہ ہڈی جو نجس نہیں ہوتی، جب اسے نجاست سے آلودہ کرنے کی ممانعت ہے تو وہ ہڈی جو بوسیدہ نہ ہو بدرجہ اولیٰ ممنوع ہوگی۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے گئے اور فرمایا: میرے پاس تین پتھر لاؤ، عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں دو پتھر اور گوبر کا ایک ٹکڑا لے کر آیا تو آپ ﷺ نے دونوں پتھر لے لیے اور گوبر پھینک دیا، اور فرمایا: یہ ناپاک ہے ١ ؎۔
It was narrated from ‘Abdulláh bin Mas’ud: “The Messenger of Allah ﷺ went to the toilet and said: ‘Bring me three stones.’ So I brought him two stones and a piece of dung. He took the two stones and threw the dung away, saying: ‘It is impure.’” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے فرمایا: گوبر نجس ہے، ایک اور پتھر لاؤ (ورجاله ثقات)، علامہ ابن الجوزی فرماتے ہیں: ممکن ہے رسول ﷺ نے خود ہی تیسرا پتھر اٹھا لیا ہو، ملاحظہ ہو تحفۃ الأحوذی ( ١ /٦٩)، چناچہ آگے کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ تین پتھر لینا سنت ہے۔
خزیمہ بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: استنجاء کے لیے تین پتھر ہوں جن میں گوبر نہ ہو ۔
It was narrated that Khuzaimah bin Thâbit said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘For cleaning yourself you need three stones, no one of them being dung.” (Da’if)
سلمان فارسی ؓ کہتے ہیں کہ ان سے کسی مشرک نے بطور استہزاء کے کہا: میں تمہارے ساتھی (نبی اکرم ﷺ ) کو دیکھتا ہوں کہ وہ تمہیں ہر چیز سکھاتے ہیں، یہاں تک کہ قضائے حاجت کے آداب بھی بتاتے ہیں! سلمان فارسی ؓ نے کہا: ہاں، آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف رخ نہ کریں، دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کریں، اور تین پتھر سے کم استعمال نہ کریں، ان میں کوئی گوبر ہو نہ ہڈی۔
Salman said that one of the idolaters said to him, while they were making fun of him: “I see that your companion (the Prophet) is teaching you everything, even how to relieve yourselves?” He said: “Yes indeed. He has ordered us not to face the Qiblah (prayer direction) nor to clean ourselves with our right hands, and not to be content with anything less than three stones, which are not to include any excrement or bones.” (Sahih)
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی ؓ کہتے ہیں کہ میں پہلا شخص ہوں جس نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: کوئی شخص قبلہ رو ہو کر ہرگز پیشاب نہ کرے اور میں سب سے پہلا شخص ہوں جس نے لوگوں سے یہ حدیث بیان کی۔
‘Abdullâh bin Hârith bin Jaz’ Az-Zubaidi said: “I am the first one who heard the Prophet ﷺ say: ‘No one among you should urinate facing towards the Qiblah,’ arid I am the first one who told the people of that.” (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٢٣٦، ومصباح الزجاجة: ١٢٧)، مسند احمد (٤/١٩٠، ١٩١) (صحیح )
ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا، اور فرمایا: مشرق (پورب) کی طرف منہ کرو، یا پچھم کی طرف ١ ؎۔
It was narrated that Abu Ayyub Ansãri said: “The Messenger of Allah ﷺ forbade the person who went to the Gha’it to face the Qiblah. He said: ‘Face towards the east or the west.’” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان اہل مدینہ یا ان لوگوں کے لئے تھا، جن کا قبلہ اتر یا دکھن کو تھا، مسلمان کو قبلہ رخ ہو کر قضائے حاجت کے لئے نہ بیٹھنا چاہیے۔
معقل بن ابومعقل اسدی ؓ (جن کو نبی اکرم ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل ہے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پیشاب اور پاخانے کے وقت دونوں قبلوں (مسجد الحرام اور بیت المقدس) کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated that Ma’qil bin Abu Ma’qil Al-Asadi, who was a Companion of the Prophet ﷺ said: “The Messenger of Allah ﷺ forbade us from facing either of the two Qiblah when defecating or urinating.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٤ (١٠)، (تحفة الأشراف: ١١٤٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢١٠) (ضعیف) (حدیث کی سند میں مذکور راوی أبو زید مجہول ہیں )
ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں انہوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ ﷺ نے قبلہ رو ہو کر پاخانہ اور پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated from Jâbir bin Abdullâh: “Abu Sa’eed Al-Khudri narrated to me, that he bears witness that the Messenger Allah forbade facing the Qiblah when defecating or urinating.’”(Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٩٨٤، ومصباح الزجاجة: ١٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/ ١٢، ١٥) (صحیح) (حدیث کی سند میں ابن لہیعہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ١٠ )
جابر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابو سعید خدری ؓ کو کہتے ہوئے سنا: بیشک رسول اللہ ﷺ نے مجھے کھڑے ہو کر پانی پینے سے، اور قبلہ رو ہو کر پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated that Jâbir heard Abu Sa’eed Al-khudri say: “The Messenger of Allah ﷺ forbade me from drinking while standing and from urinating while facing the Qiblah.” (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٩٨٤، ومصباح الزجاجة: ١٢٩) (صحیح) (سند میں ابن لہیعہ مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ کی ہے، لیکن شواہد کی نباء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ١٠ )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ جب تم قضائے حاجت کے لیے بیٹھو تو قبلہ رو ہو کر نہ بیٹھو، حالانکہ ایک دن میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ دو کچی اینٹوں پر قضائے حاجت کے لیے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے بیٹھے ہیں۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ یزید بن ہارون کی حدیث ہے۔
‘Abdullâh bin ‘Umar said: “People say: ‘When you sit to relieve yourself, do not face the Qibith.’ But one day I climbed up onto the roof of our house, and I saw the Messenger of Allah ﷺ sitting on two bricks (to relieve himself), facing the direction of Baitul-Maqdis (Jerusalem).” This is a Hadith narrated by Yarid bin Hânin. (Sahih)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف منہ کر کے بیٹھے ہوئے ہیں۔ عیسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث شعبی سے بیان کی تو انہوں نے کہا: ابن عمر ؓ نے سچ کہا، اور ابوہریرہ ؓ نے بھی سچ کہا، لیکن ابوہریرہ ؓ کا قول یہ ہے کہ صحراء میں نہ تو قبلہ کی جانب منہ کرو نہ پیٹھ، اور ابن عمر ؓ کا قول یہ ہے کہ بیت الخلاء میں قبلہ کا اعتبار نہیں، جدھر چاہو منہ کرو۔
It was narrated that lbn ‘Umar said: “I saw the Messenger of Allah ﷺ in his (constructed) toilet, facing towards the Qiblah.”(One of the narrators) ‘Eisa said: I told that to Sha’bi, and he said: ‘Ibn ‘Umar spoke the truth and Abu Hurairah (RA) spoke the truth. As for the words of Abu Hurairah (RA) h, he said: “In the desert do not face the Qiblah nor turning one’s hack towards it.” As for the words of bn ‘Umar, he said: “In the (constructed) toilet there is Qiblah so turn in whatever direction you want.”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٢٥١، ومصباح الزجاجة: ١٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٩٧، ٩٩، ١١٤) (ضعیف جدًا) (سند میں عیسیٰ بن أبی عیسیٰ الحناط متروک الحدیث ہے )
اس سند سے بھی عبیداللہ بن موسیٰ اسی طرح بیان کرتے ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں ذکر ہوا کہ کچھ لوگ بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف منہ کرنا مکروہ سمجھتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ وہ عملی طور پر بھی اجتناب کرتے ہوں گے۔ میری جائے ضرورت کا رخ قبلہ کی طرف کر دو ۔
It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “Mention was made in the presence of the Messenger of Allah ﷺ of some people who did not like to face towards the Qiblah with their private parts He said: ‘I think that they do that. Turn my seat (in the toilet) to face the Qiblah.’“(Da’if) Another chain with similar wording.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٣٣١، ومصباح الزجاجة: ١٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ١٢٧، ١٣٧، ١٨٣، ٢١٩، ٢٢٧، ٢٣٩) (ضعیف) (سند میں خالد بن ابوصلت مجہول ہیں، نیز عراک بن مالک کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ام المومنین عائشہ ؓ سے ان کا سماع نہیں ہے )
اس سند سے بھی خالد بن ابی الصلت سے اسی کے مثل مروی ہے۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ہم پیشاب کرنے کے وقت قبلہ کی طرف منہ کریں، پھر آپ کے انتقال سے ایک سال پہلے میں نے دیکھا قضائے حاجت کے وقت آپ ﷺ کا منہ قبلہ کی طرف ہے ١ ؎۔
It was narrated that Jabir said: “The Messenger of Allah ﷺ a forbade facing the Qiblah when urinating. But I saw him, one year before he died, facing the Qiblah (while urinating).”(Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: جابر ؓ یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ ممانعت صحراء اور بنیان (آبادی) دونوں کو عام تھی، اسی وجہ سے انہوں نے اسے نسخ پر محمول کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے آخری فعل سے ممانعت منسوخ ہوگئی، اگر ممانعت کو صحراء و میدان کے ساتھ خاص مان لیا جائے تو نہ دونوں فعلوں میں تعارض ہوگا، اور نہ ہی ناسخ منسوخ ماننے کی ضرورت پڑے گی۔
یزداد یمانی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرے تو اپنے عضو تناسل کو تین مرتبہ سونت لے (زور سے دبا کر کھینچے تاکہ اس کے اندر جو قطرات ہیں، وہ نکل جائیں) ۔
It was narrated from ‘Eisa bin Yazdãd Al-Yamani that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When anyone of you urinates, let him squeeze his three dines (to remove the remaining urine drops).” (Da`if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٢، ومصباح الزجاجة: ١٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٤٧) (ضعیف) (سند میں زمعہ بن صالح ضعیف اور عیسیٰ بن زیاد الیمانی مجہول الحال ہیں، نیز یزداد کا صحابی ہونا ثابت نہیں ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٦٢١ )
اس سند سے بھی زمعہ نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ہے۔