Sunan Ibne-Majah 323

پاکی کا بیان

323Sunan Ibne-Majah

اس کی رخصت ہے بیت الخلاء میں اور صحرا میں رخصت نہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عِيسَى الْحَنَّاطِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفِي كَنِيفِهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، قَالَ عِيسَى: فَقُلْتُ ذَلِكَ لِلشَّعْبِيِّ، فَقَالَ: صَدَقَ ابْنُ عُمَرَ، وَصَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ، أَمَّا قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: فِي الصَّحْرَاءِ لَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا، وَأَمَّا قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ: فَإِنَّ الْكَنِيفَ لَيْسَ فِيهِ قِبْلَةٌ، اسْتَقْبِلْ فِيهِ حَيْثُ شِئْتَ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف منہ کر کے بیٹھے ہوئے ہیں۔ عیسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث شعبی سے بیان کی تو انہوں نے کہا: ابن عمر ؓ نے سچ کہا، اور ابوہریرہ ؓ نے بھی سچ کہا، لیکن ابوہریرہ ؓ کا قول یہ ہے کہ صحراء میں نہ تو قبلہ کی جانب منہ کرو نہ پیٹھ، اور ابن عمر ؓ کا قول یہ ہے کہ بیت الخلاء میں قبلہ کا اعتبار نہیں، جدھر چاہو منہ کرو۔

It was narrated that lbn ‘Umar said: “I saw the Messenger of Allah ﷺ in his (constructed) toilet, facing towards the Qiblah.”(One of the narrators) ‘Eisa said: I told that to Sha’bi, and he said: ‘Ibn ‘Umar spoke the truth and Abu Hurairah (RA) spoke the truth. As for the words of Abu Hurairah (RA) h, he said: “In the desert do not face the Qiblah nor turning one’s hack towards it.” As for the words of bn ‘Umar, he said: “In the (constructed) toilet there is Qiblah so turn in whatever direction you want.”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٢٥١، ومصباح الزجاجة: ١٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٩٧، ٩٩، ١١٤) (ضعیف جدًا) (سند میں عیسیٰ بن أبی عیسیٰ الحناط متروک الحدیث ہے ) اس سند سے بھی عبیداللہ بن موسیٰ اسی طرح بیان کرتے ہیں۔