Sunan Ibne-Majah 324

پاکی کا بیان

324Sunan Ibne-Majah

اس کی رخصت ہے بیت الخلاء میں اور صحرا میں رخصت نہیں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْخَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمٌ يَكْرَهُونَ أَنْ يَسْتَقْبِلُوا بِفُرُوجِهِمُ الْقِبْلَةَ، فَقَالَ: أُرَاهُمْ قَدْ فَعَلُوهَا اسْتَقْبِلُوا بِمَقْعَدَتِي الْقِبْلَةَ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ، مِثْلَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں ذکر ہوا کہ کچھ لوگ بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف منہ کرنا مکروہ سمجھتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ وہ عملی طور پر بھی اجتناب کرتے ہوں گے۔ میری جائے ضرورت کا رخ قبلہ کی طرف کر دو ۔

It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “Mention was made in the presence of the Messenger of Allah ﷺ of some people who did not like to face towards the Qiblah with their private parts He said: ‘I think that they do that. Turn my seat (in the toilet) to face the Qiblah.’“(Da’if) Another chain with similar wording.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٣٣١، ومصباح الزجاجة: ١٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ١٢٧، ١٣٧، ١٨٣، ٢١٩، ٢٢٧، ٢٣٩) (ضعیف) (سند میں خالد بن ابوصلت مجہول ہیں، نیز عراک بن مالک کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ام المومنین عائشہ ؓ سے ان کا سماع نہیں ہے ) اس سند سے بھی خالد بن ابی الصلت سے اسی کے مثل مروی ہے۔