اس کی رخصت ہے بیت الخلاء میں اور صحرا میں رخصت نہیں
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمَّهُ وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: يَقُولُ أُنَاسٌ: إِذَا قَعَدْتَ لِلْغَائِطِ فَلَا تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، وَلَقَدْ ظَهَرْتُ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الْأَيَّامِ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِهَذَا حَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ جب تم قضائے حاجت کے لیے بیٹھو تو قبلہ رو ہو کر نہ بیٹھو، حالانکہ ایک دن میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ دو کچی اینٹوں پر قضائے حاجت کے لیے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے بیٹھے ہیں۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ یزید بن ہارون کی حدیث ہے۔
‘Abdullâh bin ‘Umar said: “People say: ‘When you sit to relieve yourself, do not face the Qibith.’ But one day I climbed up onto the roof of our house, and I saw the Messenger of Allah ﷺ sitting on two bricks (to relieve himself), facing the direction of Baitul-Maqdis (Jerusalem).” This is a Hadith narrated by Yarid bin Hânin. (Sahih)