ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ پیشاب کے لیے باہر تشریف لے گئے، اور عمر ؓ پیچھے سے پانی لے کر پہنچے، آپ ﷺ نے پوچھا: عمر یہ کیا ہے؟ کہا: پانی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جب بھی پیشاب کروں، تو وضو کروں، اور اگر میں ایسا کروں تو یہ سنت واجبہ بن جائے گی ١ ؎۔
It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “The Prophet ﷺ went out to urinate, and ‘Umar followed him with water. He said: ‘What is this, O ‘Umar?’ He said, ‘Water.’ He aid: ‘I have not been commanded perform ablution every time I urinate. If I did that it would have become a Sunnah.” (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیشاب کے بعد وضو کرنا ضروری نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٢٢ (٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٩٥) (ضعیف) (تراجع الألبانی، رقم: ٢٩٦ ، حدیث کی سند میں عبد اللہ بن یحییٰ التوام ضعیف ہیں )
ابوسعید حمیری بیان کرتے ہیں کہ معاذ بن جبل ؓ ایسی احادیث بیان کرتے تھے، جو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے نہیں سنی ہوتی تھیں، چناچہ جو حدیثیں سنی ہوئی ہوتیں ان کے بیان سے خاموش رہتے، عبداللہ بن عمرو ؓ کو ان کی یہ حالت اور بیان کردہ روایات پہنچیں تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا فرماتے ہوئے نہیں سنا، قریب ہے کہ معاذ تم کو قضائے حاجت کے مسئلے میں فتنے میں مبتلا کردیں، یہ خبر معاذ ؓ کو پہنچی تو وہ ان سے جا کر ملے اور کہا: اے عبداللہ بن عمرو! رسول اللہ ﷺ کی کسی حدیث کو جھٹلانا نفاق ہے، اگر کہنے والے نے کوئی بات جھوٹ کہی تو اس کا گناہ اسی پر ہوگا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو واقعی یہ کہتے ہوئے سنا ہے: تین ایسی چیزوں سے بچو جو لعنت کا سبب ہیں: مسافروں کے وارد ہونے کی جگہوں پر، سائے دار درختوں کے نیچے، اور عام راستوں پر قضائے حاجت کرنے سے ١ ؎۔
Abu Sa’eed Al-Himyari narrated that Mu’dh bin Jabal used to narrate something that the Companions of the Messenger of Allah ﷺ had not heard, and he used to keep quiet about what they had heard. News of this report reached ‘Abdulláh bin ‘Amr, and he said: “By Allah, I never heard the Messenger of Allah ﷺ say this, and Mu’ddh will put you into difficulty with regard to relieving yourself.” News of that reached Mu’âdh, so he met with him (‘Abdullâh). Mu’âdh said: “O ‘Abdullâh Denying a Hadith from the Messenger of Allah ﷺ is hypocrisy, and its sin is upon the one who said it (if it is not true). I did indeed hear the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Beware of the three things which provoke curses: Relieving oneself in watering places, in places of shade and in the middle of the street.” (Da`if)
Notes · وضاحت
١ ؎: جن مقامات پر لوگ اپنے یا جانوروں کے پانی کے لئے جاتے ہوں، جہاں آرام کے لئے سایہ میں بیٹھتے ہوں، یا جس راستہ پر چلتے ہوں اس پر پاخانہ کرنا لعنت کا سبب ہے، کیونکہ اس سے لوگوں کو ایذاء پہنچتی ہے، اور لوگ لعن و طعن کرتے اور برا بھلا کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٤ (٢٦)، (تحفة الأشراف: ١١٣٧٠، ومصباح الزجاجة: ١٣٤) (حسن) (سند میں ابوسعید الحمیری کا سماع معاذ ؓ سے ثابت نہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن کے درجہ میں ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٦٢ )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیچ راستے میں رات کو پڑاؤ ڈالنے اور نماز پڑھنے سے بچو، اس لیے کہ وہ سانپوں اور درندوں کے باربار آنے اور جانے کا راستہ ہے، اور وہاں قضائے حاجت سے بھی بچو اس لیے کہ یہ لعنت کے اسباب میں سے ہے ۔
It was narrated that Jâbir bin ‘Abdullâh said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Beware of stopping to rest and praying in the middle of the road, for it is the refuge of snakes and carnivorous animals, and beware of relieving yourselves in the middle of the road, for this is an act that provokes curses.’” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٢٢٩، ومصباح الزجاجة: ١٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٥ ٣٠) (حسن) (اس سند میں سالم بن عبد اللہ الخیاط البصری ہیں، حافظ ابن حجر نے انہیں صدوق سئی الحفظ کہا ہے، مگر زہیر بن محمد التمیمی اور عمرو بن أبی سلمہ دونوں ضعیف ہیں، اور حسن بصری اور جابر ؓ کے درمیان انقطاع ہے، نیز اس حدیث میں والصلاة عليها کا لفظ ثابت نہیں ہے، لیکن حدیث کے جملے متفرق طور پر صحیح ہیں، پہلا جملہ إياكم والتعريس صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے، اور آخری ٹکڑے: وقضاء الحاجة عليها فإنها من الملاعن کے کافی شواہد ہیں: ملاحظہ ہو: ا لإرواء: ١ / ١٠١، وسلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٤٣٣ )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے راستے میں نماز پڑھنے یا پاخانہ پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Sâlim narrated from his father that the Prophet ﷺ forbade praying in the middle of the road, or defecating there, or urinating. (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٩٠٤، ومصباح الزجاجة: ١٣٦) (ضعیف) (سند میں ابن لہیعہ اور عمرو بن خالد ضعیف ہیں، لیکن متن صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإراوء: ١ /١٠١ - ١٠٢ - ٣١٩ )
انس ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا، آپ قضائے حاجت کے لیے الگ تھلگ ہوئے پھر واپس آئے، وضو کے لیے پانی مانگا اور وضو کیا۔
It was narrated that Anas said: “I was with the Prophet ﷺ on a journey. He went away to relieve himself, then he came and called for water and performed ablution.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٩٢، ومصباح الزجاجة: ١٣٧) (صحیح) (سند میں ضعف ہے، اس لئے کہ عمر بن المثنی الاشجعی الرقی مستور اور عطاء خراسانی تدلیس و ارسال کرنے والے ہیں، اور ان کی روایت عنعنہ سے ہے، نیز ان کا سماع انس ؓ سے نہیں ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ٣٣ )
یعلیٰ بن مرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تو دور نکل جاتے۔
It was narrated from Ya’la bin Murrah that when the Prophet ﷺ went to relieve himself, he would go far away.(Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٨٥٢، ومصباح الزجاجة: ١٣٨) (صحیح) (یونس بن خباب ضعیف ہیں لیکن حدیث مغیرہ بن شعبہ ؓ سے آئی ہے، اس لئے صحیح ہے، کما تقدم ( ٣٣١ ) نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١١٥٩ )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، آپ ﷺ قضائے حاجت کے لیے اس وقت تک نہ بیٹھتے جب تک کہ نظروں سے اوجھل نہ ہوجاتے۔
It was narrated that Jâbir said: “We went out on a journey with the Messenger of Allah ﷺ and the Messenger of Allah ﷺ would not relieve himself until he had disappeared and could not be seen by anyone.” (Da’if)
بلال بن حارث مزنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو دور نکل جاتے۔
It was narrated from Bilal (RA) bin AlHârith Al-Muzani that when the Messenger of Allah ﷺ wanted to relieve himself, he would go far away. (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٠٢٩، ومصباح الزجاجة: ١٣٩) (صحیح) (سند میں کثیر بن عبد اللہ ضعیف ہیں، لیکن سابقہ احادیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو استنجاء میں پتھر استعمال کرے تو طاق استعمال کرے، جس نے ایسا کیا اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہ کیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو خلال کرے (اور دانتوں سے کچھ نکلے) تو اسے تھوک دے، اور جو چیز زبان کی حرکت سے نکلے اسے نگل جائے، جس نے ایسا کیا اچھا کیا، اور جس نے نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو شخص قضائے حاجت کے لیے باہر میدان میں جائے تو آڑ میں ہوجائے، اگر آڑ کی جگہ نہ پائے اور ریت کا کوئی تودہ ہو تو اسی کی آڑ میں ہوجائے، اس لیے کہ شیطان انسانوں کی شرمگاہوں سے کھیل کرتا ہے، جس نے ایسا کیا اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “Whoever uses stones to clean himself, let him use an odd number of stones. Whoever does that has done well, and whoever does not, there is no harm in it. Whoever uses a toothpick should spit out (whatever he removes) and whoever removes (the particle of food) by dislodging it with his tongue should swallow it.Whoever does that has done well, and whoever does not, there is no harm in it. Whoever goes to the toilet should conceal himself, and if he cannot find anything except a pile of sand (behind which to conceal himself), then he should use that, for the Shaitan plays with the backside of the son of Adam. Whoever does that has done well, and whoever does not, there is no harm in it." (Daif) .
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٩ (٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٧١)، سنن الدارمی/الطہارة ٥ (٦٨٩) (ضعیف) (سند میں حصین حمیری اور ابو سعد الخیر مجہول ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن من استجمر فليوتر کا جملہ صحیح ہے، یہ حدیث آگے ( ٣٤٩٨ ) پر بھی آرہی ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٠٢٨ )
اس سند سے اسی کے ہم معنی حدیث مروی ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے: جو سرمہ لگائے تو طاق لگائے، جس نے ایسا کیا اچھا کیا، اور جس نے نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو کچھ زبان کی حرکت سے نکلے اسے نگل جائے ۔
. A similar report was narrated by Abdul-Malik bin As- Sabbah with a similar chain, with the additional words: "Whoever applies kohl to his eyes let him add it an odd number of tunes. Whoever does that has done well, and whoever does not, there is no harm in it. And whoever dislodges (a particle of food from between the teeth) by dislodging it with his tongue, let him swallow it."
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (ضعیف) (سابقہ علت کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، لیکن من اکتحل فليوتر کا جملہ شواہد صحیحہ کی وجہ سے صحیح ہے )
مرہ بن وہب ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ نے قضائے حاجت کا ارادہ کیا اور مجھ سے کہا: تم کھجور کے ان دونوں چھوٹے درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں باہم مل جانے کا حکم دے رہے ہیں ، چناچہ حکم پاتے ہی وہ دونوں درخت باہم مل گئے ٢ ؎، آپ ﷺ نے ان کی آڑ میں قضائے حاجت کی اور پھر مجھ سے فرمایا: ان دونوں کے پاس جاؤ اور کہو کہ اپنی اپنی جگہ واپس لوٹ جائیں ۔ مرہ کہتے ہیں: میں نے جا کر ان سے یہ کہا تو وہ دونوں درخت اپنی اپنی جگہ واپس لوٹ گئے۔
It was narrated from Yala bin Murrah that his father said: "I was with the Prophet ﷺ on a journey, and he wanted to relieve himself. He said to me: Go to those two small date-palm trees and tell them: "The Messenger of Allah ﷺ orders you to come together. So they came together and he concealed himself behind them, and relieved himself. Then he said to me: Go to them and tell them: "Go back, each one of you, to your places. So I said that to them and they went back."
Notes · وضاحت
١ ؎: مصباح الزجاجہ ( ١٣٨ ) میں اس کے بعد: قال أبوبکر القصار کا اضافہ کیا ہے، اور ایسے ہی مشہور حسن کے یہاں ہے، لیکن سند میں ابوبکر کا ذکر نہیں ہے) ٢ ؎: درخت کا نبی اکرم ﷺ کے حکم سے چلے آنا آپ کا معجزہ تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٢٤٩، ومصباح الزجاجة: ١٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٧٢) (صحیح) (سند میں ضعف ہے اس لئے کہ منہال کا سماع یعلی بن مرہ سے نہیں ہے، لیکن دوسرے شواہد اور طرق سے یہ صحیح ہے، (ملاحظہ ہو: زہد وکیع ( ٥٠٩ ) تحقیق سنن ابی داود/عبد الرحمن الفریوائی )
عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو قضائے حاجت کے وقت آڑ کے لیے ٹیلے یا کھجوروں کے جھنڈ سب سے زیادہ پسندیدہ تھے۔
It was narrated that Abdullah bin Jafar said: "The thing that the Prophet ﷺ most liked to conceal himself behind when relieving himself was a hillock or a stand of date-palm trees."
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ راستہ چھوڑ کر ایک گھاٹی کی جانب مڑے اور پیشاب کیا، یہاں تک کہ مجھے ترس آتا تھا کہ آپ ﷺ پیروں کو پیشاب کے وقت بہت زیادہ کشادہ کرتے تھے۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ turned towards a mountain pass and urinated, until I took pity on him because of the way he parted his legs when he urinated.”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٦٥٠، ومصباح الزجاجة: ١٤١) (ضعیف) (سند میں محمد بن ذکوان ضعیف و منکر الحدیث ہیں )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قضائے حاجت کے وقت دو آدمی آپس میں کانا پھوسی نہ کریں کہ آپس میں ہر ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھ رہا ہو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس سے سخت ناراض ہوتا ہے ۔
It was narrated from Abu Saeed Khudri that the Messenger of Allah ﷺ said: "No two people should converse while relieving themselves, each of them looking at the private parts of the other, for Allah, the Mighty and Sublime, hates that."
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٧ (١٥)، (تحفة الأشراف: ٤٣٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/ ١٦، ٣٦) (صحیح) (اس کی سند میں کلام ہے، کیونکہ ہلال بن عیاض مجہول راوی ہیں، اور عکرمہ بن عمار سے اس حدیث کی روایت میں سخت اضطراب کا شکار ہوئے، لیکن متابعت اور شاہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٣١٢٠ ، و صحیح ابی داود: ١١ /م، و تراجع الالبانی، رقم: ٧ )
اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے، اس میں ہلال بن عیاض کے بجائے عیاض بن ہلال ہے، محمد بن یحییٰ کہتے ہیں: یہی صحیح ہے۔
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے لیکن اس سند میں عیاض بن عبداللہ ہے۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ١ ؎۔
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ forbade urinating into standing water
Notes · وضاحت
١ ؎: ٹھہرے ہوئے پانی سے مراد وہ پانی ہے جو نہر اور دریا کے پانی کی طرح جاری نہ ہو، جیسے گڑھا، جھیل اور تالاب وغیرہ کا پانی ان میں پیشاب کرنا منع ہے، تو پاخانہ کرنا بدرجہ اولیٰ منع ہوگا۔ ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں ویسے ہی سڑاند پیدا ہوجاتی ہے اور وہ بدبودار ہوجاتا ہے، اگر اس میں مزید نجاست اور گندگی ڈال دی جائے، تو یہ پانی مزید بدبودار ہوجائے گا، اور اس کی سڑاند سے قرب و جوار کے لوگوں کو تکلیف پہنچے گی، اور صحت عامہ میں خلل پیدا ہوگا، اور ماحول آلودہ ہوگا۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ٹھہرے ہوئے پانی میں کوئی شخص ہرگز پیشاب نہ کرے ۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: No one among you should urinate into standing water."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٤٩٣، ومصباح الزجاجة: ١٤٢) (ضعیف) (سند میں اسحاق بن عبداللہ أبی فروہ متروک ہیں، لیکن ابوہریرہ ؓ سے یہ الماء الدائم کے لفظ سے صحیح اور متفق علیہ ہے، کماتقدم، نیز ملاحظہ ہو: سنن ابی داود: ٦٩ -٧٠ )
عبدالرحمٰن بن حسنہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے، اس وقت آپ کے ہاتھ میں ایک ڈھال تھی، آپ ﷺ نے اسے رکھا اور اس کی آڑ میں بیٹھ کر پیشاب کیا، کچھ لوگوں نے (بطور استہزاء) کہا کہ انہیں دیکھو ایسے پیشاب کرتے ہیں جیسے عورت پیشاب کرتی ہے، نبی اکرم ﷺ نے سنا اور فرمایا: افسوس ہے تم پر، بنی اسرائیل کے ایک شخص کو جو مصیبت پہنچی، تمہیں اس کی خبر نہیں؟ ان کے کپڑوں میں پیشاب لگ جاتا تو اسے قینچی سے کاٹتے تھے، ایک شخص نے انہیں اس عمل سے روک دیا، تو اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا ۔
. It was narrated that Abdur- Rahman bin Hasanah said: "The Messenger of Allah ﷺ came out to us holding a small shield in his hand. He put it down, then he sat down and urinated towards it. Some of the people said: Look at him, he urinates like a woman! The Prophet ﷺ heard that and said: Woe to you! Do you not know what happened to one of the Children of Israel? If any urine touched any part of their clothes, they would cut that out with scissors. He told them not to do that, so he was tormented in his grave. "
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١١ (٢٢)، سنن النسائی/الطہارة ٢٦ (٣٠)، (تحفة الأشراف: ٩٦٩٣)، مسند احمد (٤/ ١٩٦) (صحیح )
اس سند سے بھی اعمش نے ایسی ہی حدیث ذکر کی ہے۔