عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر دو نئی قبروں کے پاس سے ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور یہ عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے (کہ جس سے بچنا مشکل تھا) ، ایک شخص تو پیشاب (کی چھینٹوں) سے نہیں بچتا تھا، اور دوسرا غیبت (چغلی) کیا کرتا تھا ۔
. It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ passed by two new graves, and he said: They are being punished, but they are not being punished for anything major. One of them was heedless about preventing urine from getting on his clothes, and the other used to walk about spreading malicious gossip."
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور یہ عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے (جس سے بچنا مشکل تھا) ایک شخص کو تو پیشاب کی چھینٹے سے نہ بچنے کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے، اور دوسرا غیبت (چغلی) کرنے کی وجہ سے ۔
Bahr bin Marrar narrated that his grandfather Abu Bakrah said: "The Messenger of Allah ﷺ passed by two graves, and he said: They are being punished, but they are not being punished for anything major. One of them is being punished because of urine, and the other is being punished because of backbiting."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٦٥٧، ومصباح الزجاجة: ١٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥، ٣٩) (حسن صحیح )
مہاجر بن قنفذ بن عمرو بن جدعان ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ وضو فرما رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر جب آپ ﷺ وضو سے فارغ ہوئے تو فرمایا: تمہارے سلام کا جواب دینے میں رکاوٹ والی چیز یہ تھی کہ میں باوضو نہ تھا ۔
It was narrated that Muhajir bin Qunfudh bin (Umair) bin Judhan said: "I came to the Prophet ﷺ when he was performing ablution and greeted him with the Salam, but he did not return (the greeting). When he had finished his ablution he said: Nothing prevented me from returning your greeting but the fact that I did not have ablution:"
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٨ (١٧)، سنن النسائی/الطہارة ٣٤ (٣٨)، (تحفة الأشراف: ١١٥٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٤٥، ٥/٨٠)، سنن الدارمی/الاستئذان ١٣ (٢٦٨٣) (صحیح )
اس سند سے بھی سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح کی روایت ذکر کی ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ پیشاب کر رہے تھے کہ ایک آدمی آپ کے پاس سے گزرا، اس شخص نے آپ کو سلام کیا، آپ نے سلام کا جواب نہ دیا، جب آپ ﷺ پیشاب سے فارغ ہوگئے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پہ ماریں، اور تیمم کیا، پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "A man passed by the Prophet ﷺ while he was urinating, and greeted him with the Salam, but he did not return the greeting. When he finished, he struck the ground with his palms and did dry ablution (Tayamm"m), then he returned the greeting."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٤٠١، ومصباح الزجاجة: ١٤٥) (صحیح) (اس سند میں ضعف ہے اس لئے کہ مسلمہ بن علی ضعیف ہیں، ابی اور صحیحین میں الأرض کے بجائے الجدار کے لفظ سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ٢٥٦ )
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ پیشاب کر رہے تھے کہ ایک آدمی آپ کے پاس سے گزرا، اس نے آپ کو سلام کیا، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: جب تم مجھے اس حالت میں دیکھو تو سلام نہ کرو، اگر تم ایسا کرو گے تو میں جواب نہ دوں گا ۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that a man passed by the Prophet ﷺ while he was urinating, and greeted him with the Salam. The Messenger of Allah ﷺ said to him: If you see me in this situation, do not greet me with the Salam, for if you do that I will not respond to you:"
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٣٧٤، ومصباح الزجاجة: ١٤٦) (صحیح) (سوید بن سعید ضعیف راوی ہے، لیکن ان کی متابعت عیسیٰ بن یونس سے مسند أبی یعلی میں موجود ہے، اور منتقی ابن الجارود: ١ /٢٣، میں ابن عمر ؓ کا شاہد موجود ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ پیشاب کر رہے تھے کہ ایک آدمی آپ کے پاس سے گزرا، اس نے آپ کو سلام کیا، آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said: "A man passed by the Prophet ﷺ while he was urinating and greeted him with the Salam, and he did not return the greeting."
Notes · وضاحت
١ ؎: سلام کا جواب نہیں دیا کا مطلب یہ ہے کہ فوری طور پر جواب نہیں دیا، نہ کہ مطلقاً جواب ہی نہیں دیا، کیونکہ حدیث نمبر ( ٣٥١ ) پر گزر چکا ہے کہ پیشاب سے فارغ ہونے کے بعد آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلیاں زمین پر ماریں اور تیمم کیا، اس کے بعد سلام کا جواب دیا، اور سنن نسائی میں مہاجر بن قنفذ ؓ کی روایت میں ہے فلم يرد عليه السلام حتى توضأ فلما توضأ رد عليه وضو کرنے تک آپ ﷺ نے جواب نہ دیا، پھر جب وضو کرلیا تو سلام کا جواب دیا۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی بھی نہ دیکھا کہ آپ پاخانہ سے نکلے ہوں اور پانی نہ لیا ہو ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "I never saw the Messenger of Allah ﷺ come out of the toilet without first (cleansing himself) with water." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ ہمیشہ پانی سے استنجاء کرتے تھے، کیونکہ پانی سے بھر پور طہارت حاصل ہوتی ہے۔
ابوایوب انصاری، جابر بن عبداللہ اور انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ: فيه رجال يحبون أن يتطهروا والله يحب المطهرين اس میں کچھ لوگ ہیں جو پاکی کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ پاکی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے (سورة التوبة: 108) ، اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے انصار کی جماعت! اللہ تعالیٰ نے طہارت کے بارے میں تمہاری تعریف کی ہے، تو وہ تمہاری کیسی طہارت ہے ، ان لوگوں نے کہا: ہماری طہارت یہ ہے کہ ہم لوگ نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، اور جنابت ہونے سے غسل کرتے ہیں، اور پانی سے استنجاء کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ کی پسندیدگی کا) یہی سبب ہے، لہٰذا تم لوگ اس طہارت پر کاربند رہو ١ ؎۔
Abu Sufyan (RA) said: "Abu Ayyub Al-Ansari , Jabir bin Abdullah, and Anas bin Malik (RA) told me that when this Verse: "In it (the Masjid) are men who love to clean and to purify themselves. And Allah loves those who make themselves clean and pure." was revealed, the Messenger of Allah ﷺ said: O Ansar! Allah has praised you for your cleanliness. What is the nature of your cleanliness? They said: We perform ablution for prayer and we take bath to cleanse ourselves of impurity due to sexual activity, and we clean ourselves with water (after urinating). He said: This is what it is. So adhere to it.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آیت کا معنی یہ ہے کہ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ جل جلالہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے، اور ضمیر اس آیت میں مسجد قبا، یا مسجد نبوی کی طرف لوٹ رہی ہے، شاید پانی سے استنجا کرنے سے ہی ان کی تعریف کی گئی ہے، ورنہ غسل جنابت اور وضو مہاجرین بھی کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٢٦، ٢٣٣٧، ٣٤٦٠، ومصباح الزجاجة: ١٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٦) (صحیح) (یہ سند ضعیف ہے، عتبہ بن أبی حکیم ضعیف راوی ہیں، اور طلحہ نے ابو ایوب انصاری ؓ سے نہیں سنا، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ٣٤ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنے سرین کو تین بار دھوتے تھے۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے بھی ایسے ہی کیا، تو اسے دوا اور پاکی دونوں پایا۔
. It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet ﷺ used to wash his private parts three times. Ibn Umar said, "We did that and we found it to be a healing and a means of purification.”’
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٠٤٥، ومصباح الزجاجة: ١٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ٢١٠) (ضعیف) (اس سند میں زیدالعمی و جابر جعفی اور شریک القاضی ضعیف ہیں )
اس سند سے بھی اسی کے ہم معنی روایت آئی ہے۔
(مصباح الزجاجة: ٣٥٦، یہ سند بھی سابقہ سند کی طرح ضعیف ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ آیت کریمہ اہل قباء کے بارے میں نازل ہوئی: فيه رجال يحبون أن يتطهروا والله يحب المطهرين اس میں کچھ لوگ ہیں جو پاکی کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ پاکی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے (سورة التوبة: 108) ، ابوہریرہ ؓ نے فرمایا: وہ پانی سے استنجاء کرتے تھے تو ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The (following) was revealed about the people of Quba: In it (the Masjid) are men who love to clean and to purify themselves. And Allah loves those who make themselves clean and pure." He said: They used to clean themselves with water (after urinating), and this Verse was revealed concerning them."
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے قضائے حاجت کی، پھر پانی کے برتن سے استنجاء کیا پھر اپنا ہاتھ زمین پر رگڑ کر دھویا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ relieved himself, then he cleaned himself (with water) from a pot made of brass, then he wiped his hand on the ground.
Notes · وضاحت
١ ؎: ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ پاخانہ کے بعد ہاتھ مٹی سے مل کر دھونا مسنون ہے، مقصد ہاتھوں کی صفائی و ستھرائی ہے جو مٹی صابن وغیرہ کے استعمال سے ہوجاتی ہے۔
اس سند سے بھی اسی کی ہم معنی حدیث مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٢٤ (٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٨٦)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الطہارة ٤٣ (٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣١١، ٤٥٤) (حسن) (سند میں شریک ضعیف ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بناء پر حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٣٥ )
جریر بن عبداللہ بجلی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ درختوں کی ایک جھاڑی میں داخل ہوئے، اور قضائے حاجت کی، جریر ؓ آپ ﷺ کے پاس پانی کا ایک برتن لے کر آئے تو آپ ﷺ نے اس سے استنجاء کیا، اور اپنا ہاتھ مٹی سے رگڑ کر دھویا ١ ؎۔
Ibrahim bin Jarir narrated from his father that the Prophet ﷺ of Allah entered a thicket and relieved himself, then Jarir brought him a small water skin from which he cleaned himself, then he wiped his hand in the dirt.
Notes · وضاحت
١ ؎: تاکہ ہاتھ اچھی طرح سے صاف ہوجائے، اور نجاست کا اثر کلی طور پر زائل اور ختم ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطہارة ٤٣ (٥١)، (تحفة الأشراف: ٣٢٠٧)، وقد أخرجہ: دی/الطہارة ١٦ (٧٠٦) (حسن) (اس حدیث کی سند میں مذکور راوی ابراہیم کا سماع ان کے والد جریر بن عبد اللہ بجلی ؓ سے ثابت نہیں ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: اوپر کی حدیث نمبر: ٣٥٨ ، و صحیح ابی داود: ٣٥ )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اپنے مشکیزوں کے منہ باندھ کر اور برتنوں کو ڈھک کر رکھیں ١ ؎۔
It was narrated that Jabir said: "The Prophet ﷺ commanded (us) to tie up our water skins and cover our vessels."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کھانے پینے کے برتنوں کو ڈھک کر رکھنا چاہیے تاکہ کھانے پینے کی چیز میں گرد و غبار نہ آنے پائے اور کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رہے، نیز یہ حکم عام ہے، دن ہو یا رات، ٹھنڈی ہو یا گرمی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٧٩٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة ١٢ (٢٠١٣)، سنن ابی داود/الجہاد ٨٣ (٦٠٤)، مسند احمد (٣/٨٢) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٣٤١١) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے لیے رات کو تین برتن ڈھانپ کر رکھتی تھی، ایک برتن آپ کی طہارت (وضو) کے لیے، دوسرا آپ کی مسواک کے لیے، اور تیسرا آپ کے پینے کے لیے۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "I used to cover three vessels for the Messenger of Allah ﷺ at night: A vessel (of water) for his ablution, a vessel for his tooth stick and a vessel for his drink."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٢٣٧، ومصباح الزجاجة: ١٥٠) (آگے یہ کتاب الأشربہ میں آرہی ہے، (٣٤١٢) (ضعیف) (سند میں حريش بن الخريت ضعیف ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے طہارت (وضو) کے برتن کو کسی دوسرے کے سپرد نہیں کرتے تھے، اور نہ اس چیز کو جس کو صدقہ کرنا ہوتا، بلکہ اس کا انتظام خود کرتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ never entrusted his purification to anyone or his charity that he had given to anyone; he would be the one to take care of these matters himself."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اکثر عادت ایسی ہی تھی کہ وضو کرنے میں اور پانی لانے اور کپڑے پاک کرنے میں کسی سے مدد نہ لیتے، اور اگر کوئی بخوشی نبی اکرم ﷺ کی خدمت بجا لاتا تو اس کو بھی منع نہ کرتے، چناچہ اوپر کی روایت میں ابھی گزرا کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نبی اکرم ﷺ کے وضو کا پانی رکھتیں، اور عبداللہ بن مسعود ؓ صاحب اداوہ و نعلین مشہور تھے، یعنی وضو کے وقت نبی اکرم ﷺ کے لیے پانی والی چھاگل لانے اور آپ کے لیے جوتے لا کر رکھنے والے صحابی کی حیثیت سے آپ کی شہرت تھی، اور ثوبان ؓ نے نبی اکرم ﷺ کو وضو کرایا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٥٣٥، ومصباح الزجاجة: ١٥١) (ضعیف جدًا) (سند میں علقمہ مجہول اور مطہر بن الہیثم ضعیف ومتروک راوی ہے، ابن حبان کہتے ہیں کہ وہ ایسی حدیث روایت کرتا ہے، جس پر کوئی اس کی متابعت نہیں کرتا، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٢٥٠ )
ابورزین کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی پیشانی پہ ہاتھ مارتے ہوئے کہا: اے عراق والو! تم یہ سمجھتے ہو کہ میں رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھتا ہوں تاکہ تم فائدے میں رہو اور میرے اوپر گناہ ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھوئے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Razin said: I saw Abu Hurairah (RA) hitting his forehead with his hand and saying: "O people of Iraq! Do you claim that I would tell a lie against the Messenger of Allah ﷺ so that it may be more convenient for you and a sin upon me? I bear witness that I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If a dog licks the vessel of anyone of you, let him wash it seven times.
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح احادیث سے سات بار دھونا ہی ثابت ہے، تین بار دھونے کی روایت معتبر نہیں ہے، بعض لوگوں نے اسے بھی دیگر نجاستوں پر قیاس کیا ہے، اور کہا ہے کہ کتے کے برتن میں منہ ڈال دینے پر برتن تین بار دھونے سے پاک ہوجائے گا، لیکن اس قیاس سے نص کی یا ضعیف حدیث سے صحیح حدیث کی مخالفت ہے جو درست نہیں۔
عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال کر پی لے تو اسے سات مرتبہ دھو ڈالو، اور آٹھویں مرتبہ مٹی مل کر دھوؤ ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Mughaffal that the Messenger of Allah ﷺ said: If a dog licks a vessel, wash it seven times and rub it with dust the eighth time."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کے ظاہر سے ایسا معلوم ہوتا ہے آٹھویں بار دھونا بھی واجب ہے، بعض لوگوں نے تعارض دفع کرنے کے لئے ابوہریرہ ؓ کی روایت کو ترجیح دی ہے، لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ ترجیح اس وقت دی جاتی ہے جب تعارض ہو، اور یہاں تعارض نہیں ہے، عبداللہ بن مغفل ؓ کی حدیث پر عمل کرنے سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث پر بھی عمل ہوجاتا ہے۔